عہد حاضر میں فکر رضا کی معنونیت

in Tahaffuz, December 2013, ا د ا ر یے, متفرقا ت

مفکر و مجدد امام احمد رضا قدس سرہ العزیز (متوفی 1921ء) اپنے عہد میں بر صغیر کے سب سے بڑے دینی پیشوا اور ملی رہ نما تھے، انھوں نے اسلام و سنیت کے تحفظ اور فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ امتِ مسلمہ کا اتحاد اور اس کی فلاح و نجات ان کی فکر کا خاص محور تھا، وہ عشقِ رسول کے نقطہ اتحاد پر عالمِ اسلام کو ہم قدم اور ہم فکر کرنا چاہتے تھے۔ وہ بھٹکے ہوئے آہو کو سوے حرم لے جانے کے زبردست داعی تھے، وہ امتِ مسلمہ کی کامیابی کا راز دینِ مصطفی، علمِ مصطفی اور عشقِ مصطفیﷺ میں مضمر سمجھتے تھے۔ اسی فکر کے داعی شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال بھی تھے۔
بمصطفیٰ بہ رساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بو لہبی است
امام احمد رضا بلا شبہہ عظیم مجدد، عظیم فقیہ اور عظیم دانش ور تھے۔ وہ امتِ مسلمہ کے داخلی اور خارجی مسائل و مشکلات پر حساس نظر رکھتے تھے۔ ، مسلمانوں کی حالتِ زار پر آنسو بھی بہاتے تھے۔ اور ان کی فلاح و نجات کے لیے تدبیریں بھی پیش کرتے تھے۔ان کی فکر و نظر کا محور یہی تھا کہ اسلامی تہذیب دنیا کی ہر تہذیب پر غالب ہو اور مسلم قوم دنیا کی ہر قوم سے بلند تر ہو۔ دین و مذہب ، سیاست و صحافت، معیشت و معاشرت، تعلیم و تجارت، وہ ہر میدان میں مسلمانوں کو سرخ رو اور پیش رو دیکھنا چاہتے تھے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے انھوں نے مسلسل جد و جہد کی۔ امتِ مسلمہ کو بار بار جھنجھوڑا، علماء اور قائدین کو بیدار کیا اور انھیں ان کی منصبی ذمہ داریوں سے باخبر کیا، ان کی کوتاہیوں پر زجر و توبیخ فرمائی، منصوبے بنائے، خطوطِ عمل طے کیے، باہمی اتحاد کے لیے قرآن و احادیث سے دلائل دیے۔ نفرت و بے زاری کا ماحول ختم کرنے کے لیے شرعی احکام سپردِ قلم کیے۔ امام احمد رضا کے افکار و نظریات پر اب ایک صدی مکمل ہونے کو ہے، مگر اس دور اندیش مفکر کے افکار کی معنویت آج بھی اسی طرح باقی ہے، جس طرح ان کے عہد میں تھی، بلکہ بعض نظریات کی معنویت تو آج عہدِ رضا سے بھی سِوا نظر آتی ہے، امام احمد رضا کے افکار ونظریات گرد و پیش کے حالات کا نتیجہ نہیںتھے کہ عشرے دو عشرے میں اپنی معنویت کھو دیتے بلکہ ان کے افکار و نظریات قرآن و حدیث سے کشید تھے، جن پر حوادثِ روز گار کے گرد کی پرتیں بے اثر ہوتی ہیں بلکہ قرآن و سنت کے حقیقی جلوے جب عمل کے میدان میں درخشاںہوتے ہیں تو حوادثِ روزگار خوداپنا رخ بدل دیتے ہیں۔
اس وقت اہلِ سنت و جماعت کے درمیان سخت انتشار ہے، علمائے کرام اتحادکی فضا ہم وار کر سکتے تھے، لیکن ان کا ایک طبقہ خود اختلافات کو ہوا دے رہا ہے۔ایک دوسرے کے خلاف زبان و قلم کا بے جا استعمال کیا جا رہا ہے۔ حالاں کہ آج اہلِ سنت کے درمیان اتحاد و اتفاق کی سخت ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر اسلام کے خلاف منظم اور مسلسل سازشیں ہو رہی ہیں، دوسری جانب غیر اہلِ سنت اہل سنت کے خلاف پیہم شر انگیزی کر رہے ہیں۔امام احمد رضا کے عہد میں امت مسلمہ کی جو حالت تھی، آج بھی اس سے بہتر نظر نہیں آتی۔امام اہل سنت قدس سرہ کو بھی اس کا شدید احساس تھا۔ آپ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے رقم طراز ہیں :
’’خالص اہل سنت کی ایک قوت اجتماعی کی ضرور ضرورت ہے ، مگر اس کے لیے تین چیزوں کی سخت حاجت ہے۔
(۱) علماء کا اتفاق ،(۲) تحمل شاق قدربالطاق،(۳) امراکا انفاق لوجہ الخلاق۔ یہاں یہ سب مفقود ہیں‘‘،(فتاویٰ رضویہ،ج:۱۲،ص:۱۳۲)
علمائے کرام کے عدم اتفاق کی بنیادی وجہ امام احمد رضا حسد قرار دیتے ہیں ، اور ہم سمجھتے ہیں کہ آج بھی علماء کے اختلاف و انتشار کی بنیادی وجہ حسد ہی ہے۔ فلاںشخص عوام وخواص میں مقبول ہے، ہم کیوں نہیں۔ فلاں تحریک و ادارہ عوام و خواص کا مرکزِ توجہ ہے، ہمارا کیوں نہیں۔ ظاہر سی بات ہے ان چیزوں کا برسرِ عام اظہار تو کیانہیں جائے گا،لیکن جب سینے کی آگ سے دل کے پھپھولے جلتے ہیں تو نفرتوں کی لپٹیں اٹھتی ہی ہیں اور پھر شروع ہو جاتا ہے ایک دوسرے کی شخصیتوں،تحریکوں اور اداروں پر طرح طرح کے الزامات عائد کرنے کا سلسلہ۔
امام احمد رضا قدس سرہ علماء کے انتشار کی وجہ بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’تفاقِ علماء کا یہ حال کہ حسد کا بازار گرم، ایک کا نام جھوٹوں بھی مشہور ہوا تو بہتیرے سچے اس کے مخالف ہوگئے، اس کی توہین تشنیع میں گم راہوں کے ہم زبان بنے کہتے  ہیں لوگ اسے پوچھتے ہیں اور ہمیں نہیں پوچھتے۔ اب فرمائیں کہ وہ قوم کہ اپنے میں کسی ذی فضل کو نہ دیکھ سکے، اپنے ناقصوں کو کامل ،قاصروں کو ذی فضل بنانے کی کیا کوشش کرے گی۔حاشا یہ کلیہ نہیں مگرللاکثر حکم الکل‘‘ ( فتاویٰ رضویہ، ج:۱۲، ص:۱۳۳)
امام احمد رضا کی اس تحریر کی روشنی میں ہم اپنے عہد کے علماء کا اختلافی چہرہ بخوبی پہچان سکتے ہیں۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ اگر بد مذہبوں سے لغزشیں صادر ہوں تو انھیں چھپایا نہ جائے تاکہ عوام ان سے بیزار ہوںاور اسی بہانے مسلم سماج ان کے گم راہ کن عقائد و نظریات سے بھی محفوظ رہے۔ لیکن اگر علمائے اہلِ سنت میں سے کسی سے کوئی لغزش فاحش صادر ہو تو اسے بالمشافہ یا دیگر ذرائع سے باخبر کیا جائے، شرعی نزاکتوں سے آگاہ کر کے تو بہ و رجوع کی تلقین کی جائے،نہ یہ کہ صاحبِ معاملہ سے تو کچھ نہ کہا جائے، بلکہ اس کی مقبولیت ختم کرنے کے لیے اس کے خلاف بے سرو پا محاذ کھول دیا جائے۔ اندھیرے اجالے اس کی حیثیت عرفی مجروح کرنے کے لیے نت نئے ہت کنڈے استعمال کیے جائیں۔ عہدِ حاضر کی اس پوری صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے ہم ذیل میں امام احمد رضا قدس سرہ کے چند اقتباسات نقل کرتے ہیں اور فیصلہ اور آپ کے ضمیر اور ایمان کی آواز پر چھوڑتے ہیں۔ امام احمد رضا فرماتے ہیں:
’’باطل کا اعدام و افنا چاہیے نہ کہ تحفظ وا بقا،بدمذہبوںگم راہوں سے جو اباطیل خارج از مسائل مذہب واقع ہوں ان کی اشاعت مصلحتِ شرعی ہے کہ مسلمانوں کا ان پر سے اعتبار اٹھے۔ ان کی ضلالات میں بھی اتباع نہ کریں۔حدیث شریف میں ہے :
اترغبون عن ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکرواللفاجر بما فیہ یحذرہ الناس
کیا فاجر کی برائیاں بیان کرنے سے پرہیز کرتے ہو، لوگ اسے کب پہچانیں گے، فاجر میں جو برائیاںہیں بیان کرو کہ لوگ اس سے حذر کریں۔
اور اہل سنت سے بتقدیرِ الٰہی جو ایسی لغزش ِ فاحش واقع ہو، اس کا اخفا واجب ہے کہ معاذ اﷲ لوگ ان سے بداعتقاد ہوں گے تو جو نفع ان کی تقریر اور تحریر سے اسلام و سنیّت کو پہنچتا تھا اس میں خلل واقع ہوگا۔ اس کی اشاعت اشاعت ِ فاحشہ ہے۔ اور اشاعتِ فاحشہ بنصِ قرآن عظیم حرام۔قال اﷲ  تعالیٰ:
ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین آمنوالہم عذاب الیم فی الدنیا والاخرۃ
جو لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں فاحشہ کی اشاعت ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔
خصوصاً جب کہ وہ بندگانِ خدا حق کی طرف بے کسی عذرو تامل کے رجوع فرماچکے۔ رسول اﷲﷺفرماتے ہیں :
من عیراخاہ بذنب لم یمت حتی یعملہ قال ابن المنیع وغیرہ المرادذنب تاب عنہ، قلت وقد جاء کذا مقید اًفی الروایۃ کما فی الشرعۃ ثم فی الحدیقۃ الندیۃ۔
جس نے اپنے بھائی کو کسی گناہ کی وجہ سے عار دلایا، وہ مرنے سے قبل اسی گناہ میں ضرور مبتلا ہوگا۔ابن منیع وغیرہ کہتے ہیں کہ گناہ سے مراد وہ ہے کہ اس سے توبہ کرلی گئی ہو۔ میں کہتا ہوں شرعہ اور حدیقہ میں روایت میں ہی توبہ کی قید لگی ہوئی ہے۔
ولہٰذا بتاکید گزارش کہ عمائد و مشاہیر علمائے اہل سنت و جماعت جس امر میں متفق ہیں، یعنی عقائد مشہورہ متداولہ ان میں ہمارے عام بھائی بلادغدغہ ان کے ارشادات پر عامل ہوں۔ یوں ہی وہ فرعیات جو اہل سنت اور ان کے مخالفین میں مابہ الامتیاز ہو رہے ہیں جیسے مجلس مبارک و فاتحہ و عرس واستمداد و ندا وامثالہا — باقی رہیں فرعیات فقہیہ جن میں وہ مختلف ہوسکتے ہیں، خواہ بسبب اختلاف روایات ، خواہ بوجہ خطا فی الفکر یا بسبب عجلت وقلتِ تدبر یا بوجہ کمی ممارست ومزاولتِ فقہ ، ان میں فقیر کیا عرض کرے
مرا سوزیست اندر دل اگر گویم زباں سوزد
وگردم درکشم ترسم کہ مغز استخواں سوزد
(فتاویٰ رضویہ، ج:۱۲، ص:۱۳۰)
اس عبارت کا حاصل یہ ہے کہ بد مذہبوں کی تردید اور ان کی خامیوں کو طشت از بام کرنا بہر صورت لازم ہے کہ عوام و خواص ان سے دور رہیں۔ بفضلہ تعالیٰ علمائے اہل سنت ان پر آج بھی کار بند ہیں۔
امام احمد رضا نے دوسری بات بطور خاص یہ تحریر فرمائی ہے کہ علمائے اہلِ سنت سے اگر بہ تقدیرِ الٰہی لغزشِ فاحش سرزد ہو جائے تو اس کی پردہ پوشی ضروری ہے، کیوں کہ علمائے اہلِ سنت جو تحریر و تقریر سے دعوتِ دین اور فروغِ سنت کی خدمت انجام دے رہے ہیں، ان کی لغزشوں کو مشتہر کرنے کی صورت میں لوگ ان علماء سے کنارہ کش ہوں گے، اس طرح ان کی باتوں سے اعتماد اٹھے گا، اور وہ تحریر اور تقریر کے ذریعہ جو خدمت انجام دے رہے ہیں سخت متاثر ہو گی۔ لہٰذا مسلکِ اعلیٰ حضرت یہی ہے کہ معمولی معمولی لغزشوں کو لے کراہل سنت کے علما ء و مشائخ کی پگڑیاں نہ اچھالی جائیں۔
بلکہ اعلیٰ حضرت نے حدیثِ رسول سے یہ بھی بیان فرمایا کہ جو لوگ کسی ایسے گناہ کی وجہ سے جس سے وہ توبہ کر چکا ہو،اپنے سنی بھائی کی مضحکہ خیزی کرتے ہیں مرنے سے پہلے وہ خود بھی اس گناہ میں مبتلا ہوں گے۔ الامان والحفیظ۔ آج بہت سے علماء بے تحقیق دوسرے علماء کی لغزشوں کا اعلان کرتے پھرتے ہیں، یہ بھی انتہائی شنیع حرکت ہے۔ ہمیں اس قسم کی حرکتوں سے باز رہنا چاہیے۔امام احمد رضا ایک مقام پر فرماتے ہیں:
امام محمد غزالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کو کسی کبیرہ کی طرف بے تحقیق نسبت کرنا حرام ہے۔  (فتاویٰ رضویہ، ج:۵،ص:۵۸۲)
اسی طرح امام احمد رضا قدس سرہ نے دعوت و تبلیغ کی تخفیف اور تضحیک کرنے والوں کے لیے شریعتِ اسلامیہ کی سخت وعید سنائی ہے۔ امام اہل سنت فرماتے ہیں۔
’’امر بالمعروف، نہی عن المنکر کے بارے میں اگر کوئی یہ کہے کہ اس میں رہا ہی یہ کیا ہے تو اسے تجدید اسلام اور تجدید نکاح کرنا چاہئے (فتاویٰ رضویہ، ج:۵،ص:۷۱۱)
سنی سنائی باتوں پر بلا تحقیق کسی کو مجرم مان کر اس پر سخت حکم شرعی نافذ کر دینا فتویٰ نویسی کے تقاضوں کے منافی ہے اور ذمہ دار علماء کو یہ زیب نہیں دیتا۔ ہم اس حوالے سے بھی امام احمد رضا قدس سرہ کے چند اقتباسات نقل کرتے ہیں۔ امام اہلِ سنت فرماتے ہیں:
’’فرض قطعی ہے کہ اہل کلمہ کے ہر قول وفعل کو اگر چہ بظاہر کیسا ہی شنیع وفظیع ہوحتی الامکان کفر سے بچائیں اگر کوئی ضعیف سے ضعیف، نحیف سے نحیف تاویل پیدا ہو، جس کی رْو سے حکمِ اسلام نکل سکتا ہوتو اس کی طرف جائیں، اور اس کے سوا اگر ہزار احتمال جانبِ کفر جاتے ہوں خیال میں نہ لائیں۔‘‘(فتاویٰ رضویہ، ج:۱۲، ص:۳۱۷)
اعلیٰ حضرت مزید فرماتے ہیں:
حدیث میں ہے حضورﷺ فرماتے ہیں ’’کفوا من اہل لا الہ الا اﷲ لا تکفرو ہم بذنب فمن اکفر اہل لا الہ الا اﷲ فہو الی الکفر اقرب‘‘
’’لا الٰہ الا اللہ کہنے والوں سے زبان روکو، انھیں کسی گناہ پر کافر نہ کہو، لاالٰہ الااﷲکہنے والوں کوجو کافر کہے وْہ خود کفر سے نزدیک تر ہے۔‘‘(المعجم الکبیر،ج:۱۲،ص:۲۷۲)
امام احمد رضا قدس سرہ اس کے بعد ایک دوسری حدیث نقل فرماتے ہیں :
’’ حدیث میںہے، تین باتیں اصل ایمان میں داخل ہیں، لاالٰہ الااﷲکہنے والے سے باز رہنا اور اسے گناہ کے سبب کافر نہ کہاجائے اور کسی عمل پر اسلام سے خارج نہ کہیں۔‘‘(فتاویٰ رضویہ، ج:۱۲، ص:۳۱۸)
اعلیٰ حضرت مزید فرماتے ہیں:
’’ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ وغیرہ ائمہ دین فرماتے ہیں، جوکسی مسلمان کی نسبت یہ چاہے کہ اس سے کفر صادر ہو، وہ کفر کرے یا نہ کرے، یہ ابھی کافر ہو گیا کہ مسلمان کو کافر ہونا چاہا۔‘‘(فتاویٰ رضویہ،ج:۱۲،ص:۴۰۳)
مجدد اعظم اعلیٰ حضرت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ان باتوں کی روشنی میں اب ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔ اس مقام پر ہم ایک بار پھر یہ وضاحت کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارے اکابر نے جن کلمہ گو لوگوں کی تکفیر کی ہے، اس کی وجہ ان کا ضروریاتِ دین میں سے کسی کا انکار ہے۔ اس لیے حسام الحرمین کی حقانیت و صداقت اپنی جگہ مسلم ہے۔
شاید ہم عہدِ حاضر کے ایک انتہائی حساس مسئلہ کو لے کر دیر تک الجھے رہے گفتگو ہو رہی تھی، اہل سنت و جماعت کے اتحاد اور ان کی اجتماعی قوت کی، یہ ایک سچائی ہے کہ اہل سنت کا کوئی مضبوط پلیٹ فارم نہیں۔ دین و دانش اور دعوت و تبلیغ کے مختلف صیغوں میں با صلاحیت افراد کی بھی ضرورت ہے اور کثیر سرمائے کی بھی۔ امام احمد رضا نے بھی اپنے عہد میں اسی کا رونا رویا ہے۔ اور عوام و خواص کو ان کی ذمہ داریوں کو بار بار یاددلایا ہے، امام احمد رضا اپنے سائل سے خطاب کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’جو آپ چاہتے ہیں اسی قوت متفقہ پر موقوف ہے جس کا حال اوپر گزارش ہوا۔ بڑی کمی امرا کی بے توجہی اور روپے کی ناداری ہے، حدیث کا ارشاد صادق آیا کہ وہ زمانہ آنے والا ہے کہ دین کا کام بھی بے روپیہ کے نہ چلے گا۔کوئی باقاعدہ عالی شان مدرسہ تو آپ کے ہاتھ میں نہیں ، کوئی اخبار پرچہ آپ کے یہاں نہیں، مدرسین ، واعظین ، مناظرین، مصنفین کی کثرت بقدرِ حاجت آپ کے پاس نہیں۔ جو کچھ کرسکتے ہیں فارغ البال نہیں۔ جو فارغ البال ہیں وہ اہل نہیں۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، ج:۱۲، ص:۱۳۳)
امام احمد رضا نے اہلِ سنت کے فروغ کے لیے جن چیزوں کی کمی کا احساس دلایا تھا،مکمل ایک صدی بیتنے کے باوجود بھی ہم ان خلائوں کی مکمل بھرپائی نہ کر سکے۔۔ میڈیا کی ضرورت و اہمیت جتنی آج ہے اتنی اعلیٰ حضرت کے عہد میں ہرگز نہیں تھی، مگر واہ رے مردِ دور اندیش۔ امام اہل سنت نے ایک صدی قبل میڈیا کی ضرورت و اہمیت کو محسوس کیا تھا۔ آج ایک صدی گزرنے کے بعد بھی اہلِ سنت کا کوئی قابلِ ذکر ملکی اور عالمی سطح کا اخبار نہیں۔ خیر پہلے کے مقابل بیداری ضرورآئی ہے۔ چند رسائل بڑی پابندی سے اعلیٰ معیار کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں، دو ایک سنی چینل بھی شروع ہوئے ہیں ،مگر غیر مسلم اور غیر اہلِ سنت پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میںاب کافی آگے جا چکے ہیں۔ ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑی جد و جہد کی ضرورت ہوگی۔ امام اہل سنت نے اپنے عہد میںایک عظیم دار العلوم اور مختلف میدانوں کے مردانِ کار کی کمی کا بھی شدت سے احساس کیا تھا۔بفضلہ تعالیٰ جلالۃ العلم حضور حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی نے فکرِ رضا کی روشنی میں بڑی حد تک اس خلا کو پْر کیا۔ آج الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اہل سنت کی سب سے عظیم اور با فیض درس گاہ کی حیثیت سے عالمِ اسلام میں متعارف ہے اور فرزندانِ اشرفیہ تصنیف و تالیف ،تدریس و تحقیق ، خطابت و مناظرہ ، سیاست و صحافت اور دعوت و تبلیغ کے میدانوں میں ملکی اور عالمی سطح پر گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں مگرکاموں کے پھیلائو اور حالات کے دبائو کا تقاضا ہے کہ جامعہ اشرفیہ جیسے درجنوں ادارے قائم ہوں۔ میری مراد اداروں کی کثرت سے نہیں بلکہ معیار سے ہے۔
امام اہل سنت نے اہل سنت کی اجتماعی قوت کے استحکام اور فروغ اہل سنت کے لیے جو دس نکاتی فارمولہ سپردِ قلم فرمایا تھا۔ اس کی جتنی اہمیت عہدِ رضا میں تھی آج اس سے بھی زیادہ ہے۔ امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں:
اول عظیم الشان مدارس کھولے جائیں باقاعدہ تعلیمیں ہوں۔
ثانیاً طلبہ کو وظائف ملیں کہ خواہی نخواہی گروید ہ ہوں۔
ثالثاً مدرسوں کی بیش قرار تنخواہیں ان کی کارروائیوں پر دی جائیں کہ لالچ سے جان توڑ کر کوشش کریں۔
رابعاً طبائع طلبہ کی جانچ ہو جو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھا جائے معقول وظیفہ دے کر اس میں لگایا جائے۔ یوں ان میں کچھ مدرسین بنائے جائیں، کچھ واعظین، کچھ مصنفین، کچھ مناظرین، پھر تصنیف و مناظرہ میں بھی توزیع ہو، کوئی کسی فن پر کوئی کسی پر۔
خامساً ان میں جو تیار ہوتے جائیں، تنخواہیں دے کر ملک میں پھیلائے جائیں کہ تحریراً وتقریراً وعظا و مناظرۃ اشاعت دین و مذہب کریں۔
سادساً حمایت ( مذہب) وہ رَدِّ بد مذہباں میں مفید کتب و رسائل مصنفوں کو نذرانے دے کر تصنیف کرائے جائیں۔
سابعاً تصنیف شدہ اور نو تصنیف رسائل عمدہ اور خوش خط چھاپ کر ملک میں مفت شائع کیے جائیں۔
ثامناً شہروں شہروں آپ کے سفیرنگراں رہیں جہاں جس قسم کے واعظ یا مناظر یا تصنیف کی حاجت ہو آپ کو اطلاع دیں۔ آپ سر کوبیِ اعدا کے لیے اپنی فوجیں، میگزین، رسالے بھیجتے رہیں۔
تاسعاً جو ہم میں قابل کار، موجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں وظائف مقرر کرکے فارغ البال بنائے جائیں اور جس کام میں انہیں مہارت ہو لگائے جائیں۔
عاشراً آپ کے مذہبی اخبار شائع ہوں اور وقتاً فوقتاً ہر قسم کے حمایتِ مذہب میں مضامین تمام ملک میںبہ قمیت و بلا قیمت روزانہ یا کم از کم ہفتہ وار پہنچاتے رہیں۔میرے خیال میں تو یہ تدابیر ہیں، آپ اور جو کچھ بہتر سمجھیں افادہ فرمائیں۔ (فتاویٰ رضویہ، ج:۱۲، ص:۱۳۳-۱۳۴)
امام احمد رضا قدس سرہ کی یہ دس تدبیریں جماعت اہل سنت کی فلاح و بہبود کے لئے رہ نما خطوط ہیں۔ امام احمد رضا قدس سرہ نے ایک سوال کے جواب میں یہ دس نکاتی فارمولہ سپرد قلم فرمایا تھا۔ اس مکمل ایک صدی میں ہم نے ان تدابیرِ رضا پر کتنا عمل کیا، ہمیں انتہائی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔حالات کاتقاضا یہی ہے کہ ہم ان تدابیر پر عمل کریں۔ ہم یہاں تفصیل و تجزیہ سے گریز کرتے ہوئے اتنا ضرور عرض کریں گے کہ امام احمد رضا قدس سرہ نے اس دس نکاتی فارمولے میں پیری مریدی کے تعلق سے کوئی تدبیر نہیں رکھی کہ پیرانِ طریقت تیار کر کے ملک کے گوشے گوشے میں بھیجے جائیں۔ لیکن آج علمائے کرام اور مشائخِ عظام کی اولین ترجیح پیری مریدی بن گئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج اہلِ سنت میں ۹۹ فی صد اختلافات حلقہ مریداںکے حوالے سے ہیں۔ میرے اس ریمارک پر کوئی یہ نہ سمجھے کہ امام احمد رضا پیری مریدی کے مخالف تھے، یا ہم معاذ اللہ احسان و تصوف سے گریزاں ہیں۔مسئلہ در اصل ان پیرانِ عصر کا ہے جو احسان و تصوف کے حقیقی تقاضوں سے بہت دور دولت و عشرت کے گلیاروں میں ہا و ہو کی ضربیں لگا رہے ہیں، جن کا مطمحِ نظر ارشاد و تبلیغ سے زیادہ طلبِ زر ہے۔
امام احمد رضا کسی معمولی فکر و دانش کی حامل شخصیت کا نام نہیں تھا۔ لیکن افسوس ہم نے اپنی معمولی فکر و دانش کی روشنی میں امام احمد رضا کو پڑھا اور اسی نہج پر قوم تک قوم کے درمیان ان کا تعارف کرایا بلکہ عام طور پر ہمارے اسٹیجوں پر امام احمد رضا کے حوالے سے جو خطابات ہوتے ہیںان کا عام طور پر لازمی تاثر یہ ہوتا ہے کہ امام احمد رضا کی پوری زندگی صرف ردِ بد مذہباںسے عبارت تھی، انھوں نے اس کے علاوہ کچھ کیا ہی نہیں۔ اور پھر یہی تاثر مخالفین بھی عوام و خواص میں پہنچاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اہل علم و دانش کے درمیان امام احمد رضا کی فکر و شخصیت کا وہ تعارف نہیں ہو سکا جس کی وہ متقاضی تھی۔
امام احمد رضا بلا شبہ عظیم مجدد و مفکر تھے۔ ان کی حساس نظر جماعتی مسائل پر بھی تھی اور مسلمانوں کے عالمی منظر نامے پر بھی، وہ ملی فلاح و بہبود کے بھی زبردست داعی تھے۔ ایک سچے قائد و پیشوا کی نظر صرف مسجد و مدرسے تک محدود نہیں ہوتی۔ اس کی نظر میں مسلمانوں کاملی، سماجی، اقتصادی اور سیاسی منظر اور پس منظر بھی ہوتا ہے۔ ایک عظیم مجدد اور مخلص مفکر کی منصبی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کے ہر گوشۂ حیات پر نظر رکھے اور ان کے لیے بہتر خطوط فکر و عمل طے کرے۔مسلمانوں کی اقتصادی صورت حال کے پیشِ نظر امام احمد رضا نے چار نکاتی پروگرام پیش کیا تھا، جسے ہم بلا تبصرہ ذیل میں نقل کرتے ہیں۔ امام احمد رضا فرماتے ہیں:
اولاً:باستثنا ان معدود باتوں کے جن میں حکومت کی دست اندازی ہو اپنے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لیتے ،اپنے سب مقدمات اپنے آپ فیصل کرتے، یہ کروڑوں روپے جو اسٹامپ ووکالت میں گھسے جاتے ہیں گھر کے گھرتباہ ہوگئے اور ہوئے جاتے ہیں محفوظ رہتے۔
ثانیاً : اپنی قوم کیسوا کسی سے کچھ نہ خرید تے کہ گھر کا نفع گھر ہی میں رہتا، اپنی حرفت وتجارت کو ترقی دیتے کہ کسی چیز میں کسی دوسری قوم کے محتاج نہ رہتے، یہ نہ ہوتا کہ یورپ و امریکہ والے چھٹانک بھر تانبا صناعی کی گھڑنت کرکے گھڑی وغیرہ نام رکھ کر کہ آپ کو دے جائیں اوراس کے بدلے پائو بھر چاندی آپ سے لے جائیں۔
ثالثاً: بمبئی، کلکتہ، رنگون، مدراس، حیدرآباد وغیرہ کے تو نگر مسلمان اپنے بھائیوں کے لیے بنک کھولتے، سود شرع نے حرام فرمایاہے، مگرا ور سو طریقے نفع لینے کے حلال فرمائے ہیں جن کا بیان کتب فقہ میں مفصل ہے اور اس کا ایک نہایت آسان طریقہ کتاب کفل الفقیہ الفاھم میں چھپ چکاہے، ان جائز طریقوں پر بھی نفع لیتے کہ انھیں بھی فائدہ پہنچتا اور ان کے بھائیوں کی بھی حاجت برآتی اورآئے دن جو مسلمانوں کی جائدادیں بنیوں کی نذر ہوتی چلی جاتی ہیں، ان سے بھی محفوظ رہتے، اگر مدیونی کی جائداد ہی لی جاتی تو مسلمان ہی کے پاس رہتی، یہ تو نہ ہوتا کہ مسلمان ننگے اور بنئے چنگے۔
رابعاً :سب سے زیادہ اہم، سب کی جان، سب کی اصل اعظم وہ دین متین تھا جس کی رسی مضبوط تھامنے نے اگلوں کو ان مدارج عالیہ پر پہنچایا، چار دانگ عالم میں اس کی ہیبت کا سکہ بٹھایا، نان شبینہ کے محتاجوں کوبلند تاجوں کا مالک بنایا۔ اور اسی کے چھوڑنے نے پچھلوں کویوں چاہِ ذلت میں گرایا۔ (فتاویٰ رضویہ، ج:۱۲، ص:۱۷۷ -۱۷۸)
سماجی اور اقتصادی بساط پر مسلمانوں کی فلاح و ترقی کے لیے امام احمد رضا کا یہ چار نکاتی فارمولا آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کل تھا۔ بلکہ آج جب کہ غیر اہل سنت اور غیر مسلم ان میدانوں میں شب خون مار کے بہت آگے بڑھ گئے ہیں، فکرِ رضا کی معنویت آج ماضی سے بھی زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ بلا شبہ آج ضرورت ہے کہ
(۱)مسلمان اپنے فیصلوں کے لیے دار القضا قائم کریں
(۲) مسلمان صرف مسلمانوں سے خریدیں
(۳) مسلمان اسلامک بینکنگ نظام قائم کریں
(۴) مسلمان دینِ اسلام پر مکمل عمل کریں۔
امام احمد رضا قدس سرہ العزیز ایک عبقری مفکر و مجدد تھے۔ امتِ مسلمہ کے سچے ہم درد اور مخلص رہ نما تھے۔ عصرِ حاضر کا تقاضا ہے کہ امام احمد رضا کی فکروں اور تدبیروں کو عام کیا جائے۔ ملت کا کارواں ان کے پیش کردہ خطوط کی روشنی میں آگے بڑھایا جائے، اسی میں ہماری دینی اور دنیاوی فلاح و کامرانی ہے، اور یہی امام احمد رضا سے سچی محبت اور ان کی بارگاہ میں سچا خراجِ عقیدت ہے۔