انبیاء کرام اور اولیاء عظام سے دنیاوی اور اخروی حاجتوں کے پورا کرنے کے لئے توسط استغاثہ اور استعانت شرعاً جائز ہے۔ اس پر مسلمانوں کے جمہور اور سواداعظم اہلسنت و جماعت کا اجماع ہے اور ان کا اجماع حجت ہے‘ کیونکہ وہ خطاء سے محفوظ و مامون ہے۔
نوٹ: توسل کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی محبوب ہستیوں کے ذکر سے برکت حاصل کی جائے کیونکہ یہ امر ثابت ہوچکا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ان بندوں پر رحم فرماتا ہے۔ ان سے توسط کا مطلب یہ ہے کہ حاجتوں کے پورا کرنے اور مطالب کے حاصل ہونے کے لئے انہیں اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ اور واسطہ بنایا جائے کیونکہ انہیں اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہماری نسبت زیادہ قرب حاصل ہے۔ اﷲ تعالیٰ ان کی دعا پوری فرماتا ہے اور ان کی شفاعت قبول فرماتا ہے۔ استغاثہ اور استعانت کا مطلب ہے بندے کا کسی مصیبت اور مشکل میں واقع ہونے کے وقت کسی ایسی ہستی سے امداد اور دستگیری طلب کرنا جو اس کی حاجت پوری کرے اور مشکل آسان کرے
نبی اکرمﷺ سے دنیا میں توسط پیدائشی سے پہلے
دنیا میں نبی اکرمﷺ سے توسط مدت حیات اور وفات کے بعد ہر حال میںجائز ہے اور ان میں سے ہر ایک کے بارے میں صحیح حدیث وارث ہے۔
امام محمد حاکم نیشاپوری المتوفی ۴۰۵ھ نے المستدرک میں روایت کی۔ اس کی سند امیر المومنین‘ غیظ المانفقین‘ حق کے ترجمان‘ زمانہ کے معتبر انسان‘ تاجدار عدالت حق کے ثبوت حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ تک پہنچتی ہے۔ آپ نے فرمایا: رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: جب آدم علیہ السلام نے خطا کا ارتکاب کیا۔ ’’یارب اسائلک بحق محمد‘‘ اے رب  میرے میں تجھ سے محمدﷺ کے حق توسل سے سوال کرتاہوں کہ تو مجھے بخش دے۔
اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’یاآدم و کیف صرفت محمداً ولم اعلقہ‘‘ اے آدم علیہ السلام تم نے محمدﷺ کو کیسے پہچانا حالانکہ میں نے اسے ابھی پیدا نہیں کیا۔ عرض کی اے میرے رب اس لئے کہ جب تو نے مجھے اپنی قدرت سے پیدا کیا اور اپنی روح مجھ میں پھونکی تو میں نے اپنا سر اٹھالیا۔ بس میںنے عرش کے پایوں پر لکھا ہوا دیکھا ’’لاالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ تو میں جان گیا کہ تو نے اپنے نام کے ساتھ وہی نام ملایا جو مخلوق میں سب سے زیادہ تجھے محبوب تھا۔ لہذا اﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے آدم تونے سچ کہا۔ کیونکہ مجھے مخلوق میں سب سے زیادہ ہی پیارا ہے ’’واذ سالتنی بحقہ فقد غفرت لک ولولا محمد ما خلقتک‘‘ اور ججب تم نے مجھ سے آپ کے حق کے وسیلہ سے بخشش کا سوال کیا تو میں نے تجھے بخش دیا اور اگر حضرت محمدﷺ نہ ہوتے تو میں تجھے بھی پیدا نہ کرتا۔ امام حاکم فرماتے ہیں ’’ہذا حدیث صحیح الاسناد‘‘ اور امام بیہقی نے بھی اس کو دلائل النبوۃ میں روایت کیا اور امام طبرانی نے اضافہ کے ساتھ ذکر کیا کہ یہ تیری اولاد سے آخری نبی ہوگا۔
پیدائش کے بعد مدت حیات میں وسیلہ:
امام ابو عیسٰی ترمذی رضی اﷲ عنہ اپنی جامع ترمذی کتاب الدعوات میں حضرت عثمان بن حنیف رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا کہ ایک نابینا صحافی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یارسول اﷲ! دعا فرمائیں کہ اﷲ تعالیٰ میری بینائی پر پڑے ہوئے پردے کو دور فرمادے۔ آپﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو ،میںدعا کروں اور اگر چاہو تو صبر کرو اور صبر تمہارے لئے بہتر ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ آپ دعا فرمائیں۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں حکم دیا کہ اچھی طرح وضو کرو اور یہ دعا مانگو:
اللہم انی اسائلک واتوجہ الیک بینک محمدﷺ نبی الرحمۃ یامحمد انی اتوججہ بک الیٰ ربی فی حاجتی ہذہ لتقضی لی اللہم فشعفہ فی‘‘
’’اے اﷲ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف تیرے نبی محمدﷺ نبی رحمتﷺ کے  وسیلے سے متوجہ ہوتا ہوں۔ یارسول اﷲ میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت کے سلسلے میں متوجہ ہوں تاکہ برلائی جائے۔ اے اﷲ اپنے حبیبﷺ کی شفاعت میرے بارے میں قبول فرما‘‘
(جامع ترمذی جلد 3‘ ص 1675‘ ابواب الدعوات)
وہ صحافی چلے گئے پھر وہ اس حال میں واپس آئے کہ ان کی بینائی بحال ہوچکی تھی۔
امام بیہقی کی روایت میں ہے ’’فیقام وقد ابصر‘‘ وہ صحابی اٹھ کھڑے ہوئے تو ان کی بینائی بحال ہوچکی تھی۔
علماء فرماتے ہیںکہ اس حدیث میں نبی اکرمﷺ سے توسط بھی ہے اور آپ کو ندا بھی ہے۔
اپنی حاجتوں کے پورا کرنے کے لئے صحابہ کرام تابعین اور سلف و خلف نے اس دعا کو اپنا معمول بنایا ہے۔
اگر معترض اعتراض کرے کہ یہ وسیلہ کہ حیات (ظاہری) میں تھا۔ کیونکہ آپ نے اسی بندے کے بارے میںشفاعت کی تھی اسی وجہ سے فرمایا تھا ’’انی اسائلک واتوجہ الیک بینک‘‘
جواب نمبر 1:
حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ اور آپ کے علاوہ نے یہ وسیلہ آپﷺ کی وفات کے بعد استعمال کیا اور یہ دلیل ہے کہ ان صحابہ نے ظاہری حیات کی شرط نہ سمجھی۔
جواب نمبر 2:
اس حدیث پاک میں یہ بیان نہیں کہ صرف اسی کے ساتھ خاص ہے۔
جواب نمبر 3:
اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ اسی صحابی کے ساتھ کاص ہے تو حصول مقصد میں مضر نہیں۔ جیسا کہ نبی کریمﷺ نے اس کی تعلیم دی۔ اگر اس میں کوئی فائدہ نہ ہوتا تو آپﷺ اس کی تعلیم نہ  دیتے۔
وفات کے بعد توسل:
طبرانی نی اسے معجم کبیر میں روایت کیا اور اس کی سند حضرت عثمان بن حنیف تک پہنچتی ہے کہ آپ نے ایک بندے کو دیکھا کہ وہ اپنی کسی حاجت کے لئے حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کے پاس جاتا ہے تو حضرت عثمان اس کی طرف توجہ نہیں فرماتے اور نہ اس کی حاجت کے بارے میں سوچا۔ چنانچہ وہ بندہ ابن حنیف سے ملا تو یہی شکایت آپ سے کی۔پڑھو پھر یہ دعا پڑھو:
اللہم انی اسالک واتوجہ الیک بنینا محمد نبی الرحمۃﷺ یامحمد انی اتوجہ بک الی ربک فیقضی حاجتی
’’اے اﷲ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف ہمارے نبی محمد مصطفی نبی رحمتﷺ کے وسیلے سے متوجہ ہوتا ہوں۔ اے محمدﷺ میں تیرے وسیلے سے تیرے رب کی طرف متوجہ ہوں تاکہ میری حاجت پوری کی جائے اور اپنی حاجت کا ذکر کر۔ چلو میں بھی آپ کے ساتھ جاتا ہوںاور حاجت ذکر کرو۔ پس وہ بندہ گیا اور اس نے وہی عمل کیا جو آپﷺ نے فرمایا پھر عثمان بن عفانﷺ رضی اﷲ عنہ کے دروازے پر آئے۔ دربان آپ کے پاس آیا اور حضرت عثمان بن عفان کے پاس لے گیا۔ پھر دربان نے اس بندے کو حضرت عثمان کے پاس بٹھا دیا اور اس کی حاجت پوری کی پھر آپ نے اس سے فرمایا جو آپ کی ہاجت ہے اس کو اسی وقت ذکر کرو۔ اور وہ بندہ آپ کے پاس سے نکلا تو عثمان بن حنیف سے ملا تواس نے آپ سے کہا ’’جزاک اﷲ خیرا‘‘ اﷲ تعالیٰ تجھے زیادہ بہتر بدلہ دے۔ پہلے میری حاجت میں نظر نہ فرماتے تھے اور نہ میری طرف تویجہ کر میںآپ سے اپنے بارے میں کلام کروں تو حضرت عثمان بن حنیف نے جواباً ارشاد فرمایا ’’واﷲ ماکلمتہ ولکنی شہدت‘‘اﷲ کی قسم! میں نے آپ سے کلام نہیںکی بلکہ میںرسول اﷲﷺ کے پاس حاضر تھا تو ایک نابینا آیا۔ اس نے اپنی بینائی جانے کی شکایت کی۔
الحدیث: ابن حنیف رضی اﷲ عنہ نے کہا۔ اﷲ کی قسم! ہم مجلس سے جدا نہ ہوئے اور ہماری گفتگو لمبی ہوگئی۔ یہاں تک کہ وہ ہی بندہ ہمارے پاس آیا گویا کہ وہ کبھی نابینا ہوا ہی نہ تھا (العلامقوحمید الزمان الحیدر آبادی‘ نزل الابرار من فقہ النبی المختار‘ التماتر جمعیت اہلحدیث برنس روڈ کراچی)
التوسل الی اﷲ تعالیٰ یا نبیناثہ والصالحین من عبادہ جائز ویستوی فیہ الاحیاء والاموات
اﷲ تعالیٰ کی طرف اس کے بندوں سے انبیاء اور صالحین سے توسط جائز ہے اور اس میں زندہ اور مردہ برابر ہیں یعنی زندہ اور فوت شدہ سے وسیلہ جائز ہے۔
(نزل الابرار من فقہ النبی المختار ص 5‘ کتاب الایمان)
اعتراض:
وہ کیا ہے جو نہیں ملتا خدا سے
جیسے تم مانگتے ہو اولیاء سے
جواب:
وہ چندہ ہے جو نہیں ملتا خدا سے
جیسے تم مانگتے ہو اغنیاء سے
توسل کر نہیں سکتے خدا سے
اسے ہم مانگتے ہیں اولیاء سے
٭٭٭