حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, December 2013, خان آصف, متفرقا ت

’’جو پیر و مرشد کا حکم ہو‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے عرض کیا۔
’’اگر کبھی کوئی دوست یہ سوال کرے تو اس کے سامنے یہ شعر پڑھ دینا‘‘ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے فرمایا۔
’’تو میرا ہم سفر نہیں ہوسکتا‘ اس لئے اپنا راستہ پکڑ۔ تجھے تیری خوش بختی مبارک ہو اور مجھے میری شکستہ حالی‘‘
اس کے بعد حضرت شیخ نے حکم دیا کہ مختلف اقسام کے کھانے ایک خوان میں سجائو اور پھر اسے اپنے سر پر رکھ کر دوست کے پاس لے جائو۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے ایسا ہی کیا۔ پھر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ دہلی کا محفل شکن‘ بوسیدہ لباس میں سر پر خوان رکھے ہوئے اجودھن کے بازار سے گزر رہا تھا۔ لوگ تماشائی تھے مگر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اس اعزاز پر نازاں تھے۔ جیسے سر پر خوان نہیں‘ تاج شاہی رکھا ہو۔
دوست نے یہ منظر دیکھا تو روتا ہوا دوڑا اور حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے سر سے خوان اتارا ’’مولانا! تم نے کیا کیا؟‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے سارا واقعہ بیان کردیا۔
’’تمہارے شیخ بڑے زبردست ہیں کہ انہوں نے تمہیں چند دنوں میں نفس کشی کے اس مقام پر پہنچا دیا ہے‘‘ دوست نے بے اختیار کہا ’’واﷲ! تمہارے شیخ عارف ہیں۔ مجھے بھی ان کے پاس لے چلو‘‘
کھانے کے بعد دوست نے اپنے ملازم سے کہا کہ ’’یہ خوان اٹھائو اور ہمارے ساتھ چلو‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے انکار کردیا۔ ’’جس طرح اس خوان کو اپنے سر پر رکھ کر لایا تھا‘ اسی طرح واپس لے جائوں گا‘‘
پھر وہ فاضل دوست جسے اپنے علم پر بڑا ناز تھا‘ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے خدمت گاروں میں شامل ہوگیا۔
ساڑھے سات ماہ کے قیام کے بعد حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ پیرومرشد کی اجازت سے دوبارہ دہلی تشریف لائے۔ اجودھن سے رخصت ہوتے وقت حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے محبوب الٰہی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا۔
’’جس طرح بھی ممکن ہو‘ اپنے دشمنوں کو خوش رکھنے کی کوشش کرنا اور جس کسی سے قرض لو‘ اس کی ادائیگی سے غافل نہ ہونا۔ حق تعالیٰ تم پر منزل آسان فرمائے‘‘ (واضح رہے کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کا لقب محبوب الٰہی ہے)
غرض پیرومرشد کی دعائوں کے سائے میں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ دہلی کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک گھنا اور تاریک جنگل پڑتا تھا۔ اتفاق سے اس روز بارش بھی ہوگئی تھی جس نے فضا کو مزید تاریک اور پرہول بنادیا تھا۔ اچانک پانچ چھ قزاق بے نیام تلواریں لئے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی طرف بڑھے۔ اس وقت آپ بارش سے بچنے کے لئے ایک تناور درخت کے سائے میں بیٹھے تھے۔ قزاقوں کو دیکھ کر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے دل میں سوچا۔
’’میں ایک غریب مسافر ہوں۔ میرے پاس مال و متاع نام کی کوئی شے نہیں۔ اگر کچھ ہے تو بس پیرومرشد کا یہ عطیہ‘‘ اس وقت حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کا عطا کردہ پیرہن زیب تن کئے ہوئے تھے اور کمبل اوڑھے ہوئے تھے ’’اگر ان قزاقوں نے پیرومرشد کی یہ نشانیاں مجھ سے چھین لیں تو میں ہرگز کسی آبادی میں نہیں جائوں گا اور زندگی بھر کسی کو منہ نہیں دکھائوں گا‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ دل ہی دل میں سوچ رہے تھے اور قزاق تیزی سے آپ کی طرف بڑھتے چلے آرہے تھے۔ پھر وہ قزاق چند قدم کے فاصلے پر ٹھہر گئے۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ ان کے سامنے تھے۔ آپ کو یقین ہوچلا تھا کہ قزاقوں کی دست برد سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے… مگر اچانک قزاقوں نے اپنا رخ بدلا اور تیزی سے بھاگتے ہوئے تاریک جنگل کے کسی گوشے میں گم ہوگئے۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے ’’یہ پیرومرشد کے بخشے ہوئے پیرہن اور کمبل کی برکت تھی کہ یا تو وہ قزاق اندھے ہوگئے تھے یا پھر میں انہیں نظر نہیں آیا‘‘
دہلی پہنچ کر حضرت محبوب الٰہی‘ حضرت شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پیرومرشد کی بے پناہ نوازشات کا ذکر کیا۔
حضرت شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ یہ تمام ماجرا سن کر بہت خوش ہوئے اور بے اختیار فرمایا ’’نظام الدین محمد! تم خوش نصیب ہو کہ بہت جلد آسودۂ منزل ہوگئے ورنہ اس راستے میں تو عمریں تمام ہوجاتی ہیں اور منزل کا دھندلا سا نشان تک نظر نہیں آتا‘‘
دہلی پہنچتے ہی حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو پیرومرشد کی نصیحتیں یاد آئیں۔ آپ دوسرے ضروری کاموں کو نظر انداز کرکے سب سے پہلے اپنے ایک دوست کے مکان پر تشریف لے گئے۔ یہ وہی دوست تھا جس سے کچھ عرصے قبل حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے ایک کتاب پڑھنے کے لئے مستعار لی تھی۔ جیسے ہی اس دوست سے ملاقات ہوئی‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے فرمایا۔
’’اے مخدوم! تمہیں یاد ہوگا کہ ایک بار میں نے تم سے ایک کتاب عاریتاً لی تھی۔ اتفاق سے وہ کتاب گم ہوگئی اور میں اس دوران حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے اجودھن چلا گیا‘‘
’’پھر تم کیا چاہتے ہو مولانا نظام الدین!‘‘ دوست نے پوچھا۔
’’وہ کتاب دوبارہ تو مل نہیں سکتی… اور میری مالی حیثیت بھی اس قابل نہیں کہ میں دوسری کتاب خرید کر تمہیں دے سکوں‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے فرمایا۔
’’میرے ذہن و دل پر ایک بوجھ سا ہے اور اس بار گراں کو اتارنے کی ایک ہی صورت ہے کہ میں اس کتاب کو دوبارہ صفحات پر منتقل کردوں۔ بس ذرا مجھے کچھ کاغذات میسر آجائیں۔ مجھے چند دنوں کی مہلت اور دے دو‘‘
دوست نے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی بات بہت غور سے سنی۔ کچھ دیر تک وہ گہرے سکوت کے عالم میں حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے چہرۂ مبارک کو دیکھتا رہا پھر نہایت پرسوز لہجے میںکہنے لگا۔ ’’مولانا نظام الدین! تم جس جگہ سے آئے ہو‘ وہاں کی یہی برکت ہے کہ انسان کو اﷲ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور دل سے دنیا کی محبت رخصت ہوجاتی ہے۔ اب تم اس کتاب کو بھول جائو۔ وہ ایک دوست کی طرف سے دوسرے دوست کے لئے تحفہ تھا‘‘
اس واقعہ سے دو تاریخی حقیقتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اپنی غربت کے سبب چند کاغذات بھی نہیں خرید سکتے تھے۔ دوسرے یہ کہ حضرت محبوب الٰہی اپنے غیر معمولی حافظے کے سہارے پوری کتاب دوبارہ تحریر کرسکتے تھے۔
اس کے بعد حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو ایک اور شخص یاد آیا جس کی کچھ رقم آپ پر قرض تھی۔ وہ شخص کپڑے کا ایک تاجر تھا جس سے حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے کچھ کپڑا خریدا تھا۔ اس سلسلے میں اس دکاندار کے بیس جیتل (سکے) آپ پر قرض تھے۔ اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔
’’جب میں اجودھن سے دہلی روانہ ہوا تھا تو پیرومرشد نے مجھے دس جیتل عنایت کئے تھے۔ میں نے دکاندار سے ملاقات کی اور تمام حالات بیان کرتے ہوئے کہا ’’اے عزیز! میں نے ایک بار تم سے جو کپڑا خریدا تھا‘ اس کے بیس جیتل مجھ پر واجب الادا ہیں۔ فی الوقت میں مکمل ادائیگی نہیں کرسکتا۔ بس یہی دس جیتل میرا کل سرمایہ ہیں۔ تم انہیں رکھ لو۔ باقی رقم ان شاء اﷲ جلد ازجلد ادا کرنے کی کوشش کروں گا‘‘
کپڑے کا تاجر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے اس طرز عمل سے بہت خوش ہوا اور پرجوش لہجے میں کہنے لگا ’’سید! تم جس دربار سے آرہے ہو‘ اس کی یہی شان ہے اور جن بزرگ نے تمہیں بیعت کی سعادت بخشی ہے ان کی صحبت کا یہی اثر ہوتا ہے‘‘ یہ کہہ کر اس نے باقی رقم معاف کردی‘‘
٭…٭…٭
اجودھن سے واپس آکر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ  نے دہلی کی ایک سرائے میں قیام کیا۔ کچھ دنوں کے بعد امیر خسرو علیہ الرحمہ کے نانا راوت عرض کا مکان خالی ہوا۔ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ اس مکان میں منتقل ہوگئے۔ اس کی تین منزلیں تھیں۔ پہلی منزل میں سید محمد کرمانی علیہ الرحمہ اپنے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔ سید محمد علیہ الرحمہ، حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کی شہرت سن کر اجودھن سے حاضر ہوئے تھے اور پھر حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے تھے۔ جب حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ دہلی تشریف لائے تو سید محمد کرمانی علیہ الرحمہ بھی اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ اس تاریخی شہر میں چلے آئے۔ راوت عرض کے مکان کی دوسری منزل میں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ قیام فرما تھے۔ تیسری منزل میں مرید اور دوسرے عقیدت مند رہتے تھے اور اسی جگہ کھانا وغیرہ پکتا تھا۔
کچھ روز بعد راوت عرض کے بیٹے (حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ کے ماموں) اپنی جاگیروں سے واپس آگئے اور حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ سے مکان خالی کرنے کے لئے کہا۔
’’مجھے تھوڑی سی مہلت دو‘‘ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ ’’مناسب جگہ ملتے ہی ہم لوگ یہاں سے چلے جائیں گے‘‘
’’تم بہانہ سازی کررہے ہو‘‘ راوت عرض کے بیٹے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے مقام سے ناواقف تھے۔ اس لئے گستاخانہ طرز عمل کے مرتکب ہوئے۔
حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے بار بار اپنی معذوری ظاہر کی مگر وہ دنیادار لوگ تھے۔ ایک درویش کی مجبوری کو نہ سمجھ سکے۔ یہاں تک کہ راوت عرض کے بیٹوں نے اپنا اثرورسوخ استعمال کیا اور حکومت کے کارندے اس طرح سر پر آکر کھڑے ہوگئے جیسے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ مکان پر غاصبانہ قبضہ کرنا چاہتے ہوں (معاذ اﷲ)
حضرت محبوب الٰہی نے حکومت کے کارندوں سے بھی مہلت طلب کی، مگر آپ کی بات کسی نے نہیں سنی۔ آخر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اس مکان سے باہر نکل آئے۔ کتابوں کے سوا گھر میں کوئی دوسرا سامان نہیں تھا۔ سید محمد کرمانی علیہ الرحمہ اور دوسرے عقیدت مندوں نے کتابیں اپنے سروں پر اٹھائیں اور ان خانہ بدوشوں کی طرح چل دیئے جن کا بظاہر کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔
(باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)