فاروق اعظم کا انداز حکمرانی اور ہمارے حکمران

in Tahaffuz, November 2013, ا د ا ر یے, متفرقا ت, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

ماہ محرم الحرام شریف سے کئی بزرگان دین کی یادیں وابستہ ہیں۔ ان بزرگوں میں سے سب سے افضل ہستی امیرالمومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کی ذات ہے۔ آپ کو ذو الحجہ کے آخری عشرہ میں زخمی کیا گیا اور یکم محرم الحرام شریف کو آپ کا وصال ہوا۔ آپکی ساری زندگی اسلام قبول کرنے سے لیکر شہادت تک کا ہر ہر لمحہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ ہم آپ کے کن کن فضائل کو بیان کریں، چنانچہ اس مضمون میں ہم آپ کے سامنے سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کا انداز حکمرانی بیان کریں گے، جسے پڑھ کر آپ سوچیں کہ اگر آج ہمارے حکمران اپنی شاہ خرچیاں، عیش و عشرت، ٹھاٹ باٹھ اور کرپشن چھوڑدیں تو ہمیں نہ کسی ملک سے قرض لینا پڑے گا اور نہ ہی مہنگائی کے بوجھ تلے عوام دبتی چلی جائے گی۔
فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کے اخراجات
ابن سعد نے احنف بن قیس کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ہم لوگ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک لونڈی گزری۔ لوگوں نے کہا یہ امیر المومنین کی باندی ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ یہ امیر المومنین کی باندی نہیں ہے اور یہ کیسی باندی کیسی کنیز؟ جبکہ امیرالمومنین کے لئے بیت المال (اﷲ تعالیٰ کے مال) سے ان کو کنیز رکھنا حلال بھی نہیں ہے۔ ہم نے عرض کیا پھر اﷲ تعالیٰ کے مال (بیت المال) سے آپ کے لئے کیا حلال ہے؟
آپ نے جواب دیا، عمر کے لئے بس دو جوڑی کپڑے، ایک جوڑا موسم سرما کے لئے اور ایک موسم گرما کے لئے، حج و عمرہ کا خرچ، میری اور میرے گھر کے لوگوں کی غذا جیسی کہ عام طور پر قریش استعمال کرتے ہیں (نہ فقیروں جیسی غذا اور نہ امیروں جیسی بلکہ درمیانی درجہ کی) کہ میں بھی ایک معمولی مسلمان جیسی حیثیت رکھتا ہوں (تاریخ الخلفائ، ص 296)
امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ اپنی کتاب تاریخ الخلفاء کے صفحہ نمبر 298 پر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے کرتے میں شانے کے قریب چار پیوند لگے دیکھے۔ آپ کے پائجامے میں چمڑے کا پیوند لگا ہوا تھا۔ آپ سفر کے دوران منزل پر خیمہ یا شامیانہ نہ لگاتے، بلکہ درخت کے نیچے سائبان ڈالتے۔ کسی کی عیادت کے لئے جاتے تو اس کو گلاب کی پنکھڑیاں (ہدیتاً) دے دیتے۔ خوف خدا میں گریہ کرنے کی وجہ سے چہرۂ انور پر دو سیاہ لکیریں پڑ گئی تھیں۔ تنہائی میں کہتے عمر، خطاب کا بیٹا، امیر المومنین کا منصب! واہ کیا خوب! اے عمر، اﷲ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، ورنہ تم کو سخت عذاب دے گا۔
اولاد کا مشورہ قبول نہ کیا
حضرت عکرمہ بن خالد رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ آپ کی صاحبزادی سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا اور صاحبزادے حضرت عبداﷲ رضی اﷲ عنہ نے ایک روز عرض کیا کہ اگر آپ عمدہ غذا کھائیں تو امور خلافت اور زیادہ مستعدی سے انجام دیں اور امرحق پر بھی اور زیادہ قوی ہوجائیں۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا! بچوں! اس مشورے کا شکریہ! لیکن میں نے اپنے دونوں دوستوں رسول پاکﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو ایک خاص دستور کا پابند دیکھا ہے۔ اگر میں ان کی روش اور دستور کے مطابق عمل نہیں کروں گا تو ان کی منزل کس طرح پاسکوں گا۔
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن فرقد رضی اﷲ عنہ نے سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ سے (اسی زمانہ میں) اچھی غذا کھانے کو کہا تو آپ نے جواب دیا کہ افسوس اس چند روزہ زندگی میں اچھی غذا کھانے اور اس سے متمتع ہونے کی کیا ضرورت ہے (تاریخ الخلفائ)
انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے درد کا احساس
حضرت اسلم رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ تازہ مچھلی کھانے کو دل چاہتا ہے، چنانچہ آپ کے غلام یرفا نے اونٹ دوڑایا اور ایک مچھلی خرید کر لائے۔ واپسی میں اونٹ کو بھی نہلایا۔ آپ نے فرمایا، مچھلی ابھی رکھ دو۔ میں پہلے اونٹ کو دیکھ لوں۔ اونٹ کو دیکھا تو کان کے نیچے پسینہ بہتا ہوا دیکھ لیا۔ غلام سے فرمایا تم اس کو دھونا بھول گئے؟ افسوس میں نے اپنی خواہش کے لئے غریب جانور کو تکلیف دی۔ اس صورت میں بخدا میں اس مچھلی کو چکھ بھی نہیں سکتا (تاریخ الخلفائ، ص 297)
بیت المال میں دیانت داری
امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ اپنی کتاب تاریخ الخلفاء کے صفحہ نمبر 316 پر نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کو کبھی رقم کی ضرورت ہوتی تو بیت المال سے قرض لے لیتے۔ جب رقم آتی تو پھر جمع کروادیا کرتے۔ ایک مرتبہ آپ کو مرض لاحق ہوا جوکہ شہد سے کم ہوتا ہے۔ بیت المال میں شہد موجود ہونے کے باوجود آپ نے لوگوں سے اجازت لے کر شہد حاصل کیا۔ حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار حج کے خرچ میں سے سولہ اشرفیاں (دینار) خرچ ہوگئیں۔ والد محترم نے مجھ سے فرمایا اے عبداﷲ! ہم نے بیت المال سے فضول خرچ کی ہے۔
گورنروں کے لئے شرائط
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ جب کسی شخص کو والی مقرر فرماتے تو یہ شرائط رکھتے اور ان شرائط کو ضبط تحریر میں لے آتے تھے۔ وہ ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہو، اعلیٰ درجہ کی غذا نہ کھائے، باریک ریشمی کپڑا نہیں پہنے گا، اہل حاجت کیلئے اپنے دروازے کو بند نہیں کرے گا۔ اگر ایسا کرے گا تو سزا کا مستحقہوگا (آپ والیوں کو بھی احکامات کی خلاف ورزی پر سزا دیتے تھے) (تاریخ الخلفاء ص 296)
عہدہ دینے سے قبل اثاثوں سے آگاہی
حضرت شعبی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا یہ معمول تھا کہ آپ جب کسی عامل کو کسی صوبہ پر مقرر فرماتے (یعنی عہدہ پر فائز کرتے) تو اس کے تمام مال (اثاثے) کی فہرست لکھ لیا کرتے تھے (تاریخ الخلفاء ص 320)
تکفین و تدفین کے سلسلہ میں وصیت
امام ابن ابی الدنیا، یحییٰ بن راشد بصری سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اپنے صاحبزادے کو وصیت فرمائی کہ میرے کفن میں بے جا خرچ نہ کرنا کیونکہ میں اگر اﷲ تعالیٰ کے نزدیک بہتر ہوں تو وہ اس (معمولی کفن) کو بدل دے گا اور اگر میں اس کے نزدیک بہتر نہیں ہوں تو یہ کفن بھی چھن جائے گا۔ پس اس میں تکلف کیوں کیا جائے۔ میری قبر لمبی چوڑی نہ کھدوانا کہ اگر میں خدا تعالیٰ کے نزدیک بہتر ہوں تو وہ میری قبر کو حد نگاہ تک وسیع کردے گا ورنہ خواہ کتنی ہی وسیع قبر ہو، وہ اتنی تنگ کی جائیگی کہ پسلیاں ٹوٹ جائیں گی۔
میرے جنازے کے ساتھ کوئی عورت نہ چلے، جو صفات مجھ میں نہیں ہیں، ان صفات سے مجھ کو بعد از وصال یاد نہ کیا جائے کیونکہ خداوند عالم الغیب ہے۔ وہ مجھے اچھی طرح جانتا ہے۔ جب میرا جنازہ گھر سے لے کر چلو تو چلنے میں جلدی کرنا کیونکہ اگر میں خدا تعالیٰ کے نزدیک اچھا ہوں تو جتنی جلد ممکن ہو، مجھے اس کے پاس پہنچا دو اور اگر میں برا ہوں تو ایک برے آدمی کا بوجھ دیر تک کیوں اٹھائے رہو۔ جلد اپنے کندھوں سے اتار پھینکو (تاریخ الخلفائ، ص 329/328)
بعد از وصال خواب میں دیکھا گیا
ابن سعد نے حضرت عالم بن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ میں نے سنا ہے کہ ایک انصاری نے اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ مجھے خواب میں حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا دیدار ہوجائے۔ دس سال کے بعد میں نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو خواب میں دیکھا۔ آپ کی پیشانی پسینے سے تر تھی، میں نے اس حال میں آپ کو دیکھ کر کہا اے امیر المومنین! آپ کا کیا حال ہے۔ فرمایا کہ حساب کتاب سے ابھی فرصت ملی ہے۔ اگر رب تعالیٰ کی رحمت شامل نہ ہوتی تو میں برباد ہوجاتا (تاریخ الخلفائ، ص 329)
محترم قارئین کرام! آپ نے سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کا انداز حکمرانی ملاحظہ فرمایا۔ اب اس کے برعکس ہمارے حکمرانوں کا کیا حال ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
1۔ تقریب حلف برداری پر لاکھوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔
2۔ ایوان صدر، وزیراعظم ہائوس، گورنر ہائوس اور وزیراعلیٰ ہائوس کی تعمیرات پر کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔
3۔ صدر، وزیراعظم، گورنروں اور وزراء اعلیٰ کی گاڑیوں پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔
4۔ حکمرانوں کی گاڑیوں میں ایئرکنڈیشن، محلوں میں ایئرکنڈیشن اور دفاتر میں ایئرکنڈیشن۔
5۔ حکمرانوںکے صرف کھانے پینے پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔
6۔ حکمرانوں کے ہر اجلاس، ہر پارٹی اور ہر تقریب کے لئے الگ الگ لباس تیار کئے جاتے ہیں، جن کی مالیت لاکھوں روپے ہے۔
7۔ حکمرانوں کے بیرون ممالک دوروں پر اور وہاں ان کی اور ان کی بیگمات کی شاپنگ پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔
8۔ لنگر کی طرح عہدے تقسیم کرتے ہیں صدر (اس کا مشیر، سیکریٹری، پرسنل سیکریٹری، معاون خصوصی) وزیراعظم (اس کا مشیر، سیکریٹری، پرسنل سیکریٹری، معاون خصوصی) کئی وزیر، کئی مشیر، کئی سینیٹر وغیرہا جن کی تنخواہیں، مراعات، شاہ خرچیاں اور اخراجات کروڑوں روپے ماہانہ ہیں۔
محترم قارئین کرام! یہ تو ایک مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے ورنہ اخراجات کی تو فہرست بہت لمبی ہے۔ حکمران اگر اپنے اخراجات میں کمی اور ان عہدوں کے ذریعے ہونے والی کرپشن کو روک لیں تو نہ انہیں آئی ایم ایف سے قرضے لینے پڑیں، نہ کسی کے پاس جاکر مالی امداد مانگنی پڑے، نہ بے جا ٹیکس لگانے پڑیں، نہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالنا پڑے اور نہ ہی دیگر مسائل کا سامنا کرناپڑے۔
حکمران سوچیں! آدھی دنیا پر حکومت کرنے والے عادل اور خدا ترس امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ دس سال تک حساب و کتاب کے مراحل سے گزرنا پڑا تو موجودہ حکمران جن کے زیر سایہ اربوں روپے کی کرپشن ہوتی ہے، روزانہ سینکڑوں افراد قتل ہوتے ہیں، روزانہ سینکڑوں افراد کو لوٹ لیا جاتا ہے، روزانہ مسلمانوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔ ظلم و بربریت کا بازار گرم ہے۔ یہ کیسے ان معاملات کا حساب و کتاب دیں گے؟