بحث مسئلہ ضاد و ظاد کی تحقیق

in Tahaffuz, November 2013, علامہ سعید اللہ خان صاحب, متفرقا ت

نحمدہ و نصلی و نسلم علی رسولہ الکریم
ضاد کو ظاء یا مشابہ ظاء کرکے پڑھنا غلط ہے اور اس طرح پڑھنے سے نماز ٹوٹ جائے گی۔ ایسا شخص امامت کا اہل نہیں ہے اور ایسے امام کے پیچھے جو نماز پڑھی ہیں، اس کا اعادہ واجب ہے۔ قرآن کریم کے حروف کے ہر حرف کو اس کے مخرج سے ادا کرنا ضروری ہے اور تمام حروف کے مخارج جدا جدا معین ہیں۔
عن حذیفۃ قال رسول اﷲﷺ اقرؤوا القرآن بلحون العرب
(الکامل ابن عدی، ج 2،ص 78، مطبوعہ دارالفکر بیروت)
ایک حرف کو دوسرے حرف کی طرح پڑھنا ناجائز ہے۔ ض اور ظاء دونوں حرف جدا جدا ہیں۔ ان کے مخارج بھی جدا ہیں۔ لہذا جو شخص قصداً یہ جان کر ض کو ظاء پڑھتا ہے کہ قرآن کریم میں اس جگہ یہ حرف اس طرح ہے، کافر ہے۔
امام قاضی عیاض رحمتہ اﷲ علیہ لکھتے ہیں۔
وقد اجمع المسلمون… من نقص منہ حرفاً قاصداً لذلک او بدلہ بحرف آخر مکانہ او زاد فیہ حرفاً مما لم یشتمل علیہ المصحف الذی وقع الاجماع علیہ واجمع علی انہ لیس من القرآن عامدا لکل ہذا انہ کافر
ترجمہ: بے شک اہل اسلام کا اجماع ہے… کہ جس نے قرآن کا کوئی حرف عمداً گھٹایا یا اس کے عوض دوسرا بڑھایا یا کوئی ایسا حرف زائد کیا جو مصحف شریف کا نہیں اور عمداً ایسے کیا تو وہ شخص بالاتفاق کافر ہے (الشفاء شریف حقوق المصطفیٰ فصل فی بیان ما ہو من المقالات کفر الخ، ج 2 ص 182، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
ملا علی قاری رحمتہ اﷲ علیہ لکھتے ہیں:
وفی المحیط سئل الامام الفضلی ممن یقراء الظاء المعجمۃ او یقرء اصحاب الجنۃ مکان اصحاب النار او علی العکس فقال لاتجوز امامۃ ولو تعمد یکفر
ترجمہ: اور محیط میں ہے کہ امام فضلی رحمتہ اﷲ علیہ سے سوال کیا گیا کہ اس شخص کا کیا حکم ہے جو ضاد کی جگہ ظاء یا اصحاب جنت کی جگہ اصحاب النار پڑھے۔ فرمایا اس شخص کی امامت جائز نہیں اور اگر قصداً ایسا کرے تو کافر ہے (شرح فقہ اکبر، ص 167 مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)
جامع الفصولین میں ہے:
یقراء الظآء الضاد ویقراء کیف شاء اصحاب الجنۃ مکان اصحاب النار لم تجز امامتہ ولو نعمد یکفر
ترجمہ: جو آدمی ضاد کی جگہ ظاء پڑھے اور اصحاب الجنۃ کی جگہ اصحاب النار پڑھے۔ اس کی امامت جائز نہیں اور اگر قصداً ایسا کرے تو کافر ہے (جامع الفصولین کلمات کفریہ، ص 316)
منیۃ المصلی میں ہے۔
اما اذا قراء مکان الذال ظاء او مکان الضاد ظاء او علی القلب تفسد الصلوۃ وعلیہ اکثر الائمہ
ترجمہ: بہرحال جب ذال کی جگہ ظاء یا ضاد کی جگہ ظاء پڑھے تو نماز فاسد ہوجائے گی اور اسی پر اکثر ائمہ کا مسلک ہے (منیتہ المصلی)
امام نووی رحمتہ اﷲ علیہ لکھتے ہیں:
ولو قال ولا الضالین بالظاء بطلت صلاتہ ارجع الوجہین الا ان یعجز عن الضاد بعد التعلیم فیعذرہ
ترجمہ: جو ولا الضالین کو ظاء کے ساتھ پڑھے تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی، زیادہ راجع کی وجہ پر، مگر اس صورت میں کہ تعلیم کے باوجود ضاد کو صحیح ادا کرنے سے عاجز ہے تو پھر معذور سمجھا جائے گا (الاذکار المنتحبۃ من کلام سید الابرار، ص 46، مطبوعہ بیروت)
فتاویٰ قاضی خان میں ہے
ولو قرء والعدیت ظبحاً بالظاء تفسد صلاتہ
ترجمہ: اور اگر کوئی والعدیت ضبحاً کی بجائے ظبحاً ظاء سے پڑھے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے (فتاویٰ قاضی خان، ج 1ص 141) (کبیری ص 349)
نیز اسی فتاویٰ قاضی خان میں ہے
وکذا لو قرء غیرا المغظوب باظاء او بالذال تفسد صلاتہ
ترجمہ: اور اسی طرح اگر غیر المغضوب کی بجائے غیر المغظوب ظاء یا ذال سے پڑھے تو نماز ٹوٹ جائے گی (فتاویٰ قاضی خان، ج 1ص 142) (کبیری ص 349)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
قال القاضی الامام ابوالحسن والقاضی الامام ابو عاصم ان تعمد فسدت
ترجمہ: قاضی امام ابوالحسن رحمتہ اﷲ علیہ اور قاضی امام ابو عاصم رحمتہ اﷲ علیہ نے کہا اگر عمداً ضاد کو ظاء پڑھے تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ (فتاویٰ عالمگیری، ج 1، ص 79) (فتاویٰ عالمگیری مترجم امیر علی دیوبندی ج 1،ص 122، مطبوعہ دارالاشاعت کراچی) (فتاویٰ بزاریہ ج 1ص 32)
مولوی قطب الدین اپنی تفسیر میں تحت آیت وماہو علی الغیب بضنین میں لکھتے ہیں۔
کہ حرمین شریفین وغیرہما اکثر ممالک میں تو سب (ضاد کو) دال مفحم کی طرح پڑھتے ہیں اور دہلی وغیرہ یا اکثر ہند کے ممالک میں بھی پہلے اسی طرح پڑھتے تھے مگر اب ان ایام میں بعض دنیا سازوں نے ظاء کے طور پر پڑھنے کا فتویٰ دیا جوکہ سراسر غلط ہے۔ ایک مجلس بھی اس کی تحقیق کے لئے منعقد ہوئی، اکثر وکل قراء کی رائے بطور سابق کے ضاد پڑھنے پر غالب رہی (جامع التفاسیر ص )
یہ وہی مولوی ہیں جنہوں نے مظاہر حق لکھی ہے اس پر دیوبندیوں کو اعتماد ہے کیونکہ مولوی محمد اسحاق کے شاگرد ہیں۔ ان سے یہ پتہ چلا کہ اکابر دیوبند بھی ظاء نہیں پڑھتے تھے۔
بانی دارالعلوم دیوبند قاسم نانوتوی لکھتے ہیں:
سوال: خدمت میں علماء دین کی عرض ہے کہ ایک شخص کوہ لنڈھرہ پرنگینہ ضلع بحبور کا رہنے والا آیا ہے، کہتا ہے کہ ضاد مخرج ظاء پڑھنے سے نماز باطل ہوجائے گی، جواب ہر ایک امر کا اپنی مہر سے مزین فرماکر ارسال کریں کہ اس شخص کو جواب دیا جائے۔
جواب: جناب من جیسے بے کے بجائے ت اور دال کی جگہ ڈال اور جا کے بدلے خاک اور شین کے عوض سین اور عین کے مقام غین اور لام کے مقام میم نہ کوئی پڑھتا ہے اور نہ کوئی جائز سمجھتا ہے اور ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ تک ہر کوئی اسی کو سمجھتا ہے۔ ایسے ہی ضاد کو چھوڑ کر ضاء پڑھنا بھی خلاف عقل و نقل ہے۔ یہ بات عقل و نقل کی رو سے منجملہ تحریف ہے جس کی برائی خود کلام اﷲ میں موجود ہے پھر معلوم نہیں آج کل کے عالم کس وجہ سے ایسی نامعلوم بات کہہ دیتے ہیں اور اہل اسلام کیوں ایسی بات تسلیم کرلیتے ہیں مگر شاید عوام فتوئوں کی مہروں کو دیکھ کر مچل جاتے ہیں اور یہ کون جانے کہ کتابوں کا سمجھنا اور فتوئوں کا لکھنا ہر کسی کو نہیں آتا (تصفیۃ العقائد، ص 43-42، مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)
اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:
سوال : ضاد کو کس طرح پڑھنا چاہئے اور اکثر فقہاء کا قول کیا ہے اور اکثر کتب دینیات میں اس ذکر میں کیا لکھتے ہیں:
جواب: فی الجزریۃ والضاد من حافتہ اذا لی الاصنداس من اسیر ولیناہا
جب مخرج معلوم ہوگیا تو ضاد کے ادا کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ اس کے مخرج سے نکالا جاوے۔ اب اس نکالنے سے بوجہ عدم مہارت خواہ کچھ ہی نکلے، عفو ہے اور اگر قصداً دال یا ظاء پڑھے وہ جائز نہیں۔ جیسا بعض نے دال پڑھنے کی عادت کرلی ہے اور بعض نے فقہاء کے کلام میں یہ دیکھ کر کہ ضاد مشابہ ظاء ہے ظائر پڑھنا شروع کردیا۔ حالانکہ مشابہت کی حقیقت صرف مشارکت فی بعض الصفات ہے اور مشارکت فی بعض الصفات سے اتحاد ذات لازم نہیں آتا رہا قاضی خان کی اس جزئی سے لو قراء الضالین لاتفسد صلٰوۃ ظاء پڑھنے کی اجازت سمجھ لینا، اس کو دوسری جزئیات قاضی خان کی رد کرتی ہے۔
وہی ہذا ولو قرأ والعادیات ظبحاً بالظاء تفسد صلواتہ اہ وکذا لوقرا غیر المغضوب علیہم بالظاء اور بالذال تفسد صلواتہ وامثال ذالک من الفروع المتعددۃ۔ واﷲ اعلم (فتاویٰ امدادیہ، ج 1،ص 127 ربیع الاول باب تجوید 1322ھ)
رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں:
یہ قول قاری صاحب کا درست ہے کہ جو شخص باوجود قدرت کے ضاد کو ضاد کے مخرج سے ادا نہ کرے، وہ گنہ گار بھی ہے اور اگر دوسرا لفظ بدل جانے سے معنی بدل گئے تو نماز بھی نہ ہوگی اور اگر باوجود کوشش سعی ضاد اپنے مخرج سے ادا نہیں ہوتا تو معذور ہے۔ اس کی نماز ہوجاتی ہے اور جو شخص خود صحیح پڑھنے پر قادر ہے ایسے معذور کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے مگر جو شخص قصداً دال یا ظاء پڑھے اس کے پیچھے نماز نہ ہوگی۔ فقط (فتاویٰ رشیدیہ ص 57)
نیز دوسری جگہ لکھتے ہیں:
اصل حرف ضاد ہے اس کو اصل مخرج سے ادا کرنا واجب ہے۔ اگر نہ ہوسکے تو بحالت معذوری دال پر کی صورت سے بھی نماز ہوجائے گی۔ فقط واﷲ اعلم بندہ رشید احمد گنگوہی الجواب صحیح عزیز الرحمن، خلیل احمد، عنایت الٰہی، محمود، اشرف علی، غلام رسول (فتاویٰ رشیدیہ، ص 51)
عوام جو مخارج اور صفات سے واقف نہیں بوجہ ناواقفیت کے حرف ضاد کے بجائے ظاء پڑھے تو نماز فاسد ہوگی یا نہیں۔ یہ الگ مسئلہ ہے کہ جان بوجھ کر باوجود قادر بالفعل ہونے کے ایسا کرے تو جمہور فقہاء کے نزدیک ان کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ ہمارے زمانہ میں اکثر دیوبندی خصوصا پنج پیری قصداً ضاد کے بجائے ظاء پڑھتے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ جھگڑتے اور فساد پھیلاتے ہیں۔ ان پنج پیری دیوبندیوں کو اپنے مستند عالم مفتی زرولی خان کے اس قول پر عمل کرنا چاہئے۔ مفتی زرولی خان دیوبندی سی ڈی کیسٹ آپ کے مسائل اور ان کے حل میں کہتے ہیں:
اے قاریوں (جو نماز میں ظاد پڑھتے ہیں) دوسروں کی نمازیں خراب نہ کرو (یعنی اپنی نماز تو ہے ہی خراب مگر دوسروں کی نمازیں تو خراب نہ کرو) عرب ظاد کو جانتے تک نہیں۔ اس کے بعد محیط برہانی والی عبارت بیان فرمائی ہے اور ظاد کو بالکل غلط ثابت کیا ہے۔
MP3) سی ڈی آپ کے مسائل اور ان کا حل جمعتہ المبارک کے موقع پر سوال و جواب کی صورت میں شائع کردہ شاپ نمبر 8، اسلام کتب مارکیٹ، بنوری ٹائون کراچی)
ہم بھی ان ضاد کے بجائے ظاد پڑھنے والوں کو یہی کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں فساد نہ پھیلائو اور مسلمانوں کی نمازیں خراب نہ کرو۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ پھر تم کیوں وضوئ، ضرورت، فضل الرحمن، ضیاء الدین، حضور وغیرہ الفاظ کہتے ہو۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عجمی لفظ ہیں اور قرآن عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
ان انزلناء قرآنا عربیا لعلکم تعقلون
ترجمہ: بے شک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا تاکہ تم سمجھو
یہ عجمی الفاظ ہیں اور اردو زبان میں اس کو ظاء پڑھا جاتا ہے جبکہ قرآن عربی میں نازل ہوا ہے لہذا اس کو عجمی طریقہ اور تلفظ کے ساتھ نہیں بلکہ عربی تلفظ اور عربی مخارج کے ساتھ پڑھا جائے گا۔
واﷲ تعالیٰ و رسولہ الاعلی اعلم بالصواب