پیر طریقت ، رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا سید شاہ تراب الحق قادری الجیلانی زید مجدہ، حفظہ اﷲ حیات و شخصیت

in Articles, Tahaffuz, June 2011, شخصیات, مفتی محمد عطاء اﷲ نعیمی

قادری الجیلانی زید مجدہ، حفظہ اﷲ

حیات و شخصیت

از قلم: مفتی محمد عطاء اﷲ نعیمی (رئیس دارالافتاء جمعیت اشاعت اہلسنت)

نحمدہ و نصلی ونسلم علی رسولہ الکریم

اما بعد فاعوذ باﷲ من الشیطن الرجیم

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

زندہ قومیں اپنے محسنین کو یاد رکھتی ہیں اور ان کی تابندہ درخشندہ زندگی سے ضیاء حاصل کرتی ہیں، ان کی کاوشوں، کوششوں، دین متین کے لئے ان کی قربانیوں کا مطالعہ کرکے اپنی سستیوں اور کوتاہیوں کو زائل کرتی ہیں، ان کی تحریریں پڑھ کر اپنی اصلاح کا سامان کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہل علم حضرات اسلاف کے حالات قلمبند کرنے کا اہتما م کرتے آئے ہیں۔ اسماء رجال و تراجم کے عنوان سے لکھی گئیں کتب اس پر شاہد عادل ہیں، پھر مشاہدہ یہ ہے کہ جن جن محدثین، فقہائ، علماء صوفیاء کے تذکرے نہ لکھے گئے ان کی تحریریںاگر آج موجود بھی ہیں یا ان صوفیاء کے سلسلائے طریقت اگر آج بھی چل رہے ہیں، باوجود اس کے خود ان کی تحریروں کو پڑھنے والے یا ان کے سلسلہ سے وابستگان ان کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے، بسا اوقات ایسی کتب بھی دکھائی دیتی ہیں جن کے بارے میں تحقیق کرنے والے آج تک وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ فلاں کی تصنیف ہے۔

بعض ایسی کتب بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں جو اپنے موضوع پر اکمل اور لکھنے والے کی اس فن میں مہارت کی خبر دیتی ہیں مگر لکھنے والا کون… کس کا بیٹا… کس خاندان، قوم و قبیلہ سے تعلق… کس علاقے کا رہنے والا… کہاں پیدا ہوا… کہاں پرورش پائی… حصول علم اور ترویج و اشاعت دین کی خاطر کتنے اور کہاں کہاں سفر کئے… کن شخصیات سے اکتساب فیض کیا… کن لوگوں نے اس کے سامنے زانوئے تلمیذ خم کئے… کب اور کہاں داعی اجل کو لبیک کہا… اور کیا کیا علمی روحانی ورثہ چھوڑ کر گیا… کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا۔

لہذا علماء و مشائخ کے حالات زندگی اور ان کے دینی و ملی کارناموں پر تحریری کام ہونا ایک ضروری امر ہے۔ علماء ومشائخ میں سے جو حیات ہیں یا وفات فرماگئے اگر متعلقین کے تعاون سے حالات و واقعات و معاشرتی سرگرمیوں کو قلمبند کرنے کا اہتمام نہ کیا گیا تو یہ اہلسنت و جماعت کا بہت بڑا نقصان ہوگا جس کے ازالے کی پھر کوئی صورت نہ ہوگی۔ بزرگان دین عجز و انکساری کے پیش نظر اپنے حالات و واقعات کو ضبط تحریر پر رضامندی کا اظہار نہیں فرماتے۔ چنانچہ سلسلہ عالیہ قادریہ نقشبندیہ (سندھ) کے ایک بزرگ قطب وقت منبع جودو سخا پیر طریقت الٰہی بخش میندھرو علیہ الرحمہ سے جب حالات زندگی لکھنے کے لئے کچھ پوچھا جاتا تو آپ یوں ارشاد فرماتے ’’مٹی تھا، مٹی ہوں اور مٹی ہوجائوں گا‘‘ ایسی صورت میں متعلقین کا کام ہے کہ وہ بزرگوں کے حالات لکھنے کا اہتمام کریں، یا لکھنے والوں سے تعاون کریں اور انہیں معلومات بہم پہنچائیں۔

مجھے جن کی حالات زندگی اور تاثرات جمع کرنے کا موقع نصیب ہوا ہے، وہ خاندان اہل بیت کے چشم و چراغ، جماعت اہلسنت کے روح رواں، مسلک اعلیٰ حضرت کے نقیب، میدان خطابت کے شہسوار، متعدد کتب کے مصنف، یادگار سلف، افتخار خلف، پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری دامت برکاتہم العالیہ ہیں، جو سچے عاشق رسولﷺ، سچے محب وطن، نہایت فعال، نہایت بیدار مغز، وسیع النظر، معاملہ فہم، فراست و بصیرت، حکمت و تدبر سے کام لینے والے، جرأت و ہمت اور شجاعت کی خوبیوں سے آراستہ، عظیم مبلغ اسلام ہیں۔ آپ کی راست بازی اور حق گوئی مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایسی ذات ستودہ صفات کے حالات و واقعات کو قلمبند کرنا مجھ جیسے انسان کے لئے آسان نہیں مگر کچھ ایسے دوستوں کا حکم ہے کہ جن کو ٹالنا میرے لئے مشکل ہے۔

ولادت

27 ماہ رمضان سن 1946ء

آپ قیام پاکستان سے ایک سال قبل 1946ء میں ماہ رمضان کی 27 تاریخ کو ہندوستان کی اس وقت کی ایک ریاست حیدرآباد دکن کے ایک شہر ناندھیڑ کے مضافات میں موضع کلمبر میں پیدا ہوئے۔

نسب

آپ کے والد ماجد کا نام حضرت سید شاہ حسین قادری بن سید شاہ محی الدین قادری بن سید شاہ عبداﷲ قادری بن سید شاہ مہراں قادری تھا اور آپ کی والدہ ماجدہ کا نام اکبر النساء بیگم تھا اور آپ والد ماجد کی طرف سے سید ہیں اور والدہ ماجدہ کی طرف سے فاروقی ہیں یعنی سلسلہ نسب امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے ملتا ہے۔ اپنے وقت کے جید عالم، مدیر المہام امور مذہبی حیدرآباد دکن حضرت علامہ مولانا انوار اﷲ خان صاحب فاروقی علیہ الرحمہ سے آپ کا ننھیال ہے۔ حضرت علامہ مولانا انوار اﷲ خان صاحب ایک متبحر عالم دین تھے جن کی تبحر علمی کا اندازہ ان کی تصانیف ’’کتاب العقل‘‘اور ’’مقاصد الاسلام‘‘ کے مطالعے سے لگایا جاسکتا ہے۔

پاکستان آمد

تقسیم ہند، سقوط حیدرآباد دکن کے بعد 1951ء میں ہندوستان سے ہجرت فرما کر پاکستان تشریف لائے۔ سقوط حیدرآباد دکن میں آپ کے تایا محترم سید شاہ امیر اﷲ قادری کو شہید کردیا گیا تھا اور پاکستان تشریف لاکر آپ نے کراچی میں قیام فرمایا۔ کچھ عرصہ پی آئی بی کالونی میں، پی آئی بی کے قریب لیاقت بستی نامی آبادی میں رہے۔ اس کے بعدکورنگی منتقل ہوگئے۔

تعلیم

ابتدائی تعلیم مدرسہ تحتانیہ دودھ بولی بیرون دروازہ نزد جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن میں حاصل کی۔ پاکستان آنے کے بعد پی آئی بی کالونی (کراچی) میں قیام کے دوران ’’فیض عام ہائی اسکول‘‘ میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے رشتے کے خالو اور سسر پیر طریقت رہبر شریعت ولیٔ نعمت قاری مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ سے گھر پر کتابیں پڑھیں، پھر ’’دارالعلوم امجدیہ‘‘ میں داخلہ لے لیا جہاں زیادہ تر اسباق قاری صاحب علیہ الرحمہ کے پاس پڑھے اور سند صدر الشریعۃ بدر الطریقہ حضرت علامہ امجد علی اعظمی (متوفی 1367ھ) علیہ الرحمہ کے صاحبزادے شیخ الحدیث حضرت علامہ عبدالمصطفی ازہری علیہ الرحمہ سے حاصل کی جو اس وقت ’’دارالعلوم امجدیہ‘‘ کے شیخ الحدیث تھے جبکہ اعزازی سند وقار الملت سرمایہ اہلسنت حضرت علامہ مفتی محمد وقار الدین قادری رضوی حنفی علیہ الرحمہ سے حاصل کی جو اس وقت ’’دارالعلوم امجدیہ‘‘ کراچی کی مسند افتاء پر فائز تھے۔

شادی خانہ آبادی

آپ کا نکاح 1966ء میں پیر طریقت ولی نعمت حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ کی دختر نیک اختر سے ہوا۔ جس سے اﷲ تعالیٰ نے تین فرزند سید شاہ سراج الحق، سید شاہ عبدالحق اور سید شاہ فرید الحق اور چھ بیٹیاں عطا ہوئیں جن میں سے ایک کا تین سال کی عمر میں ہی وصال ہوگیا۔ باقی الحمدﷲ بقید حیات ہیں۔

آپ کے بڑے صاحبزادے سید شاہ سراج الحق نے درس نظامی کی اکثر کتب کا سبقاً سبقاً مطالعہ کرنے کے بعد موقوف کردیا جبکہ منجھلے صاحبزادے سید شاہ عبدالحق قادری نے بفضلہ تعالیٰ ’’دارالعلوم امجدیہ‘‘ سے سند فراغت حاصل کی۔ ان کے بارے میں حضرت سید شاہ تراب الحق قادری مدظلہ فرماتے ہیں ’’جب سید عبدالحق کی پیدائش ہوئی تو پیر طریقت حضرت علامہ قاری مصلح الدین علیہ الرحمہ نے فقیر سے فرمایا کہ ان کا نام محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی کی نسبت سے شاہ عبدالحق رکھو۔ شاید عالم دین بن جائے۔ لہذا قاری صاحب علیہ الرحمہ کے ارشاد کے مطابق شاہ عبدالحق رکھا گیا۔ خدا کا کرنا دیکھئے یہی بیٹا میرا عالم دین بنا۔ الحمدﷲ! موصوف عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے مقرر بھی ہیں اور اپنے والد بزرگوار کی جگہ اکثر آپ ہی وعظ فرمانے تشریف لے جاتے ہیں۔ حضرت کے قائم کردہ دینی ادارے ’’دارالعلوم مصلح الدین‘‘ کا انتظام بھی انہی کے سپرد ہے اور ’’آخوند مسجد‘‘ کھارادر میں خطابت کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ چھوٹے صاحبزادے سید شاہ فرید الحق قادری اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ شاہزادیوں میں آپ کی چھوٹی لخت جگر بھی عالمہ ہے۔

شرفِ بیعت

1962ء میں بذریعہ خط اور 1968ء میں بریلی شریف حاضر ہوکر امام اہلسنت امام احمد رضا محدث بریلوی (متوفی 1340ھ) کے چھوٹے فرزند مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مصطفی رضا خان صاحب کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔ اس سفر میں آپ تیرہ روز حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے دولت خانے پر قیام پذیر رہے اور آپ سے تعویذات کی تربیت اور اجازت بھی حاصل کی۔ اسی دوران ’’مسجد رضا‘‘ میں نمازوں میں امامت فرماتے اور حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ ان کی اقتداء میں نمازیں ادا فرماتے، نیز کئی جلسوں میں حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی موجودگی میں تقریر فرمائی اور داد تحسین حاصل کی۔

خلافت

سلسلہ عالیہ قادری، برکاتیہ،اشرفیہ، شاذلیہ، منوریہ، معمریہ اور دیگر تمام سلاسل میںآپ کو اپنے پیر حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ، اپنے استاد و سسر پیر طریقت حضرت علامہ قاری مصلح الدین علیہ الرحمہ اور قطب مدینہ شیخ عرب و عجم حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ کے صاحبزادے زینت العلماء مولانا فضل الرحمن مدنی علیہ الرحمہ سے خلافت و اجازت حاصل کی۔ ’’ماہنامہ مصلح الدین‘‘ کی اشاعت خاص ’’مصلح الدین نمبر‘‘ (اگست 2002/ جمادی الاخر 1223ھ) کے صفحہ 65  میں ہے کہ قبلہ قاری صاحب علیہ الرحمہ نے مورخہ 27 جمادی الثانی 1402ھ بمطابق 22 اپریل 1982ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء بمقام میمن مسجد مصلح الدین گارڈن بتقریب خرقہ خلافت سند اجازت اور محفل نعت بروانگی عمرہ حاضری دربار مدینہ میں حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری صاحب کو سند خلافت اور اجازت بیعت عطا فرمائی۔

اس سے قبل جب آپ 1977ء میں تبلیغی دورے پر نیروبی (کینیا) تشریف لے گئے۔ واپسی پر فریضہ حج ادا فرمایا۔ اسی سفر حرمین شریفین میں ضیاء الملت والدین حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ کی صحبت میں کئی روز تک رہنے کی سعادت حاصل ہوئی۔

امامت و خطابت

1965ء تا 1970ء چھ سال ’’محمدی مسجد‘‘ کورنگی کراچی میں اور 1970ء تا 1982ء بارہ سال ’’اخوند مسجد‘‘ کھارادر کراچی میں امامت و خطابت فرماتے رہے پھر جب 1983ء میں آپ کے استاد و سسر قاری مصلح الدین علیہ الرحمہ (جوکہ اپنی نیابت و خلافت آپ کو پہلے ہی عنایت فرماچکے تھے) نے اپنے وصال سے دو سال قبل ’’میمن مسجد‘‘ مصلح الدین گارڈن سابقہ کھوڑی گارڈن کراچی کی امامت و خطابت آپ کے سپرد فرمائی۔ اس وقت سے تاحال آپ قاری صاحب علیہ الرحمہ کی دی ہوئی ذمہ داری کو بحمدہ تعالیٰ آج تک نبھا رہے ہیں۔

جس وقت ’’اخوند مسجد‘‘ کھارادر کراچی میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اس وقت نوجوانوں کی خاصی تعداد آپ کے حلقہ درس میں شامل ہوئی اور کئی تنظیمیں قائم ہوئیں جن میں سنی باب الاشاعت، تحریک عوام اہلسنت، انجمن اشاعت الاسلام، جمعیت اشاعت اہلسنت (1)، حقوق اہلسنت اور دعوت اسلامی (2) وغیرہا معرض وجود میں آئیں۔

تقاریر

تقاریر کا سلسلہ آپ نے 1962ء میں شروع کیا جبکہ آپ ابھی طالب علم تھے، فراغت کے بعد مادر علمی ’’دارالعلوم امجدیہ‘‘ کراچی سے مبلغ کے طور پر خدمات انجام دیں، ہر جلسہ میں ’’دارالعلوم امجدیہ‘‘ کی جانب سے خطیب کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ ایسا دور تھا کہ آپ ایک دن میں بارہ بارہ تقاریر بھی کرتے تھے۔

وہ دور جب مولوی احتشام الحق تھانوی نے سرکاری و نجی دفاتر میں ہونے والے میلاد شریف کے جلسوں میں اپنا سکہ بٹھا دیا تھا۔ اس وقت حضرت نے اپنی مصروفیات کے باوجود سرکاری، نیم سرکاری ونجی اداروں، بینکوں اور دیگر دفاتر میں ہونے والے میلاد شریف کے جلسوں میں جاکر مسلک حق اہلسنت کے فروغ کے لئے تبلیغ فرمائی اور اس کا سلسلہ اڑتیس سال سے زائد عرصہ تک چلتا رہا پھر آپ نے طبیعت کی ناسازی اور مصروفیت کی زیادتی کی بناء پر تقاریر کا سلسلہ تقریبا موقوف کردیا۔ اب صرف جہاں جانا نہایت ضروری ہوتا ہے، وہیں تقریر کے لئے تشریف لے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی مسجد میں باقاعدگی سے جمعہ کا خطاب فرماتے ہیں اور جلسوں پر اکثر اپنے فرزند ارجمند حضرت علامہ مولانا سید شاہ عبدالحق قادری مدظلہ کو بھیج دیتے ہیں۔

مناظرے

آپ نے کئی مناظرے بھی کئے ہیں جن میں سے ایک مشہور مناظرہ ’’دارالعلوم کورنگی کراچی‘‘ کے ایک مولوی ’’محمد فاضل‘‘ سے ہوا جس میں آپ کے ساتھ مفتی اعظم سندھ مفتی محمد عبداﷲ نعیمی شہید علیہ الرحمہ صدر مناظرہ تھے۔ نیز ایک مناظرہ ’’حزب اﷲ کراچی‘‘ کے سربراہ گستاخ اولیاء ڈاکٹر کمال عثمانی سے ہوا جس میں ڈاکٹر عثمانی ہار گیا باوجود شکست کے اپنی دائمی شقاوت کے سبب یہ لوگ تائب نہ ہوئے۔

1980ء میں روزنامہ جنگ کے جمعۃ المبارک ایڈیشن میں عنوان ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ کے تحت مولوی یوسف لدھیانوی نے ایک سوال کے جواب میں لکھ دیا کہ قبروں پر پھول ڈالنا ناجائز ہے تو آپ نے اس کا تعاقب کیا اور اس کا جواب لکھ کر اگلے جمعہ کے اخبار میں شائع کرایا۔ اس طرح دو سے تین ماہ تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ آخرکار جنگ اخبار کے ایڈیٹر نے معذرت کرکے اس کی اشاعت بند کردی لیکن مولوی یوسف لدھیانوی نے بددیانتی یہ کی کہ جنگ اخبار میں دیئے گئے جوابات کو جب ’’اختلاف امت اور صراط مستقیم‘‘ کے نام سے کتابی شکل دی گئی تو قبر پر پھول ڈالنے والے مسئلہ میں صرف اپنے جوابات شائع کئے اور حضرت کے جوابات کو شائع نہیں کیا۔

بیرون ملک تبلیغ

دین متین کی تبلیغ و اشاعت میں آپ نے بھرپور حصہ لیا۔ اپنی تقاریر اور مواعظ حسنہ کے ذریعے کونے کونے میں اسلام کی دعوت کو عام کیا۔ یہ سلسلہ 1977ء سے شروع ہوا، جب آپ نے پہلا دورہ نیروبی کینیا کا فرمایا اور لوگوں کی دعوت پر کئی بار عرب امارات، سری لنک، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، ہالینڈ، جرمنی، بیلجیم، امریکہ، سائوتھ افریقہ، کینیا، تنزانیہ، زمبابوے، عراق، زنزیبار، زمبیا، فرانس، اردن اور مصر تشریف لے گئے اور سرکاری وفد کے رکن کی حیثیت سے آپ نے اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو مرحوم کے ہمراہ عوامی جمہوریہ چین کا دورہ کیا اور ’’کنزالایمان‘‘ اور اہلسنت و جماعت کا لٹریچر وہاں کے مسلمانوں تک پہنچایا، نیز سرکاری وفد کے رکن کی حیثیت سے اردن اور مصر کا بھی دورہ فرمایا۔

جن ممالک میں آپ تشریف لے گئے، ان میں سے کچھ کی صورتحال بتاتے ہوئے آپ نے فرمایا ’’دنیا کے بعض ممالک ایسے ہیں جہاں علماء کرام تشریف نہیں لے جاتے کیونکہ وہاں کے لوگ بہت غریب ہیں اور علماء کرام کو سارا خرچ خود برداشت کرنا پڑتا ہے اور یہ کام منظم جماعت کا ہے۔ ایک شخص اسے برداشت نہیں کرسکتا‘‘ آپ مزید فرماتے ہیں … ’’میں کینیا کے ایک جزیرے زنزیبار گیا، لسانی فسادات میں وہاں بہت نقصان ہوا، ہم وہاں ایک مسجد میں پہنچے تو چند ہی لوگ جلسہ میں شریک ہوئے۔ ہمیں بہت حیرانی ہوئی۔ ہم نے باہر نکل کر معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ وہاں کے مقامی لوگوں نے اپنے تئیں یہ گمان کرلیا کہ کوئی تبلیغی درود وفاتحہ کا منکر ہی آیا ہوگا جو کم و بیش پچاس سال سے لگاتار بدلتے چہروں کے ساتھ نام نہاد مذہب کا پرچار کرنے چلے آتے ہیں، آج سے پچاس سال قبل مبلغ اسلام حضرت علامہ مولانا عبدالعلیم صدیقی علیہ الرحمہ تشریف لائے تھے۔ ان کے بعد آپ یہاں تشریف لائے ہیں۔

چنانچہ ہم نے لوگوںکو اکھٹا کرکے دن میں جلسہ رکھا۔ الحمدﷲ عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کچھ عرصے بعد اسی علاقے میں ہندوستان کے ایک عالم دین کو بھیجا اور وہاں مدرسہ بھی قائم کیا۔

امریکہ کے بارے میں حضرت فرماتے ہیں کہ ’’امریکہ میں مسلمانوں کی اکثریت اب بھی اردو زبان سمجھ لیتی ہے، نوجوان نسل تقریبا انگریزی ہی جانتی ہے۔ امریکہ کے لوگوں کے دو سوالات ہیں؟ Why?، What? کیا اور کیوں؟ وہاں کے لوگ اگر کوئی مسئلہ پوچھیں اور بتقاضائے بشریت عالم دین بروقت جواب نہ دے سکے تو وہ سمجھتے ہیں کہ اس مسئلہ کا حل دین اسلام میں نہیں ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ذہین علماء کرام کو تربیت دے کر بیرون ممالک بھیجا جائے۔

دوسری بات یہ کہ تبلیغ کے اثرات اس وقت مرتب ہوتے ہیں جب عالم دین یا مذہبی اسکالر عوام میں رہ کر عوام کے مسائل کو حل کرے۔ اگر کوئی عالم دین وہاں جاکر اچھے ہوٹل میں بیٹھ جائے، تقریر کرنے آئے، تقریر کرکے دوبارہ ہوٹل میں چلا جائے، رات کو سوتا رہے، اس سے تبلیغ کے اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ میں جب بھی تبلیغی دورہ پر گیا، کبھی رات کو نہیں سویا، بعد نماز فجر ہی سویا، لوگوں میں رہ کر لوگوں کے مسائل کو حل کرتا ہوں کیونکہ لوگوں میں مسائل کی پیاس ہے۔ ان کے مسائل حل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ یورپ عریانی و فحاشی کا گڑھ ہے، وہاں کے لوگ لادینیت میں مبتلا ہیں۔ وہ کسی مذہب کو نہیں مانتے، ایسے ملکوں میں بھی مسلمان مذہبی گھرانے ہیں۔ پورے کے پورے خاندان مذہبی ہیں۔ ایک پادری نے مجھ سے کہا! آپ یہاںکچھ سال رہ جائیں۔ آپ اپنی تیس فیصد ایمانی حلاوت کھو بیٹھیں گے۔ آپ کی دوسری نسل پچاس فیصد مسلمان رہ جائے گی، آپ کی تیسری نسل بیس فیصد مسلمان رہ جائے گی۔ آخرکار آپ کی چوتھی نسل پر ہمارا قبضہ ہوگا۔

نہ جانے لوگ کیونکر امریکہ کو جنت سمجھتے ہیں اور گرین کارڈ کی تمنا کرتے ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جس کا نام گرین کارڈ ہے۔ اس کا رنگ گرین نہیں ہے۔ اس گرین کارڈ کو حاصل کرنے میں لوگ اپنے ایمان تک بیچ دیتے ہیں۔ مسلمان کو اس کام سے بچنا چاہئے، اسپین میں مسلمانوں کی زندگی بہت کٹھن ہے وہاں کوئی کرایہ تک نہیں دیتا، جو خدمت کرنی ہے اپنے طور پر کرے۔ اسپین کے شہر ویلنسیا میں پہلے صرف بیس پاکستانی تھے لیکن اب چار سو پاکستانی وہاں موجود ہیں۔

اسپین کا سقوط 1691ء یا 1492ء میں ہوا۔ پانچ سو سال قبل اس ملک کو حضرت طارق بن زیاد علیہ الرحمہ نے فتح کیا تھا۔ اسپین فتح کرنے کے بعد مسلمانوں کے دو اصول تھے۔ اسلام قبول کرلو یا جزیہ دو، جزیہ دینے کے بعد غیر مسلموں کی جان و مال کی حفاظت مسلمانوںکے ذمے ہوتی ہے، یعنی جزیہ دینے کے بعد وہ ذمی ہوجاتا ہے۔ مسلمان عیاش ہونے لگے لہذا اسپین مسلمانوں کے ہاتھوں سے چھین لیا گیا۔

ہم نے ویلنسیا میں ایک مسجد کی جگہ لی۔ اس کا نام میں نے ’’فیضان مدینہ‘‘ رکھا۔ ہم نے اس مسجد میں جمعہ بھی پڑھایا ہے، اسپین میں لفظ مسجد استعمال نہیں کرسکتے لہذا اس کا نام فیضان مدینہ کلچر سینٹر وغیرہ رکھے جاتے ہیں۔

اسپین میں کئی مقامات کے نام اب بھی عربی ہیں جیسے جبل الطارق، قرطبہ وغیرہ، ہم نے مسجد قرطبہ کا دورہ کیا۔ اسے دیکھ کر ہمارا دل رنجیدہ ہوا۔ اتنی عظیم الشان مسجد جوکہ بالکل مسجد نبویﷺ کے ماڈل پر تیار کی گئی تھی، آج اس کو گرجا گھر بنادیا گیا ہے۔ محرابوں میں بت نصب کئے گئے ہیں، جگہ جگہ شیر کی تصاویر لگی ہوئی ہیں۔ مسجد کے اندر بنچ لگائے گئے ہیں جس میں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر عیسائی اپنی عبادت کرتے ہیں، مینار کے اندر جہاں موذن اذان کہتا تھا وہاں گھنٹانصب کیا گیا ہے، مینار کے اوپر صلیب نصب کئے گئے ہیں تاکہ کوئی یہ جان ہی نہ سکے کہ یہ پہلے مسجد تھی۔ اس کا نام اب بھی قرطبہ ہی ہے، جگہ جگہ قرطبہ کے بورڈ لگے ہوئے ہیں۔ جب اس مسجد کو گرجا بنایا گیا تو اسلامی ممالک میں سے کسی نے بھی اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی۔

جماعت اہلسنت

1956ء میں ضرورت محسوس کی گئی کہ تبلیغ دین اور اشاعت مسلک اہلسنت کی انفرادی کوششوں کو اجتماعی طور پر منظم کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے کراچی میں خالص مذہبی جماعت ’’جماعت اہلسنت‘‘ کی داغ بیل ڈالی گئی۔ خطیب پاکستان حضرت علامہ محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ کے امیر شیخ محمد اسماعیل اس کے ناظم اعلیٰ اور حاجی محمدصدیق خازن مقرر ہوئے۔ اور اس جماعت کا قیام سے مقاصد اور جو اہداف طے کئے گئے، وہ مندرجہ ذیل ہیں۔

فکری ہدف

بین الاقوامی سطح پر کفر کا زور توڑنا اور غلبہ اسلام کی منظم تحریک اٹھانا

روحانی ہدف

اﷲ تعالیٰ اور اس کے حبیبﷺ کی محبت کی دعوت تمام انسانوں حلقوں تک پہنچانا

سیاسی ہدف

استحکام پاکستان اور نفاذ نظام مصطفیﷺ کے لئے ذہن سازی کرنا

سماجی ہدف

معاشرتی برائیوں کے خاتمے اور خدمت خلق کے فروغ کی کوشش کرنا

اصلاحی ہدف

گمراہ کن عقائد کی اصلاح، فرقہ واریت کی بیخ کنی، جاہلانہ رسوم کی تطہیر اور اﷲ تعالیٰ اور رسول اﷲﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں عامۃ الناس کے لئے دینی دعوت کا اہتمام کرنا

تعلیمی ہدف

قدیم و جدید علوم کے مدارس، اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیاں قائم کرنے کی سعی کرنا، ماہرین تعلیم سے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نصاب تیار کروانا

عملی ہدف

باطل اور طاغوت کے خلاف جہاد کرنا

تنظیمی و تحریکی ہدف

وطن عزیز کے گائوں گائوں، قریہ قریہ، بستی بستی اور شہر شہر میں جماعت اہلسنت کی تنظیم سازی کرنا، پاکستان بھر کی تمام سنی تنظیموں اور تحریکوں کا عملی اشتراک کرنا۔

عالمی ہدف

دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا، دنیا بھر میں کام کرنے والی سنی تنظیموں اور تحریکوں سے رابطہ کرنا

1967ء میں آپ کو جماعت اہلسنت (پاکستان) کراچی کے حلقہ کورنگی کا امیر منتخب کیا گیا اور جماعت اہلسنت (پاکستان) کے زیر اہتمام شائع ہونے والا ماہنامہ ’’ترجمان اہلسنت‘‘ بھی آپ ہی چلاتے تھے اور ’’ماہنامہ افق‘‘ کے ’’روحانی کالم‘‘ میں شرعی مسائل کے جوابات بھی آپ ہی تحریر کرتے تھے۔

جماعت اہلسنت (پاکستان) کو کراچی میں فعال رکھنے میں آپ کا بڑا کردار ہے۔ چنانچہ 1992ء میں جب کراچی میں ’’جماعت اہلسنت (پاکستان)‘‘ کا کام کچھ نہ رہا اور جماعت اہلسنت کا ایک دفتر جو (محمدی مینشن،جوبلی مارسٹن روڈ پرتھا) عدالتی فیصلہ کی بناء پر جماعت کا سامان باہر پھینک کر خالی کروالیا گیا۔ اس وقت کے موجودہ عہدیداران نے کچھ خبر نہ لی تو آپ نے جماعت اہلسنت کے کام کا بیڑا اٹھایا اور ایک دفتر خریدا اور جماعت اہلسنت (پاکستان) کی تنظیم سازی فرمائی۔

آپ ’’جماعت اہلسنت (پاکستان)‘‘ کے حلقہ کراچی کے امیر ہونے کے ساتھ ساتھ ’’جماعت اہلسنت‘‘ کے ناظم کے ناظم الامور بھی تھے۔ آپ نے بفضلہ تعالیٰ دنیا کے کئی ممالک میں ’’جماعت اہلسنت‘‘ کی تنظیم سازی اور دینی اداروں کے قیام کے سلسلے میں کوششیں کیں اور الحمدﷲ وہاں بھی ’’جماعت اہلسنت‘‘ کا کام جاری و ساری ہے۔

عوام اہلسنت کا ایک دیرینہ خواب ایک سیکریٹریٹ کے قیام کا تھا جو ہماری پہچان ہو، جس کے ذریعے دنیائے اہلسنت سے رابطہ ہو جس سیکریٹریٹ میں ہمارے تحقیقاتی ادارے، مہمان خانے، اسکول، یونیورسٹیاں، تجارت اور اسلامی بینکنگ نظام ہو، تاکہ ہمارا بھی سر دنیا میں فخر سے بلند ہو۔

اکیسویں صدی کے آغاز میں الحمدﷲ، ثم الحمدﷲ ’’جماعت اہلسنت (پاکستان)‘‘ نے انٹرنیشنل سنی سیکریٹریٹ‘‘ کی صورت میں عوام اہلسنت کا دیرینہ خواب پورا کردیا جس کے قیام میں حضرت پیش پیش رہے۔ الحمدﷲ آج انٹرنیشنل سنی سیکریٹریٹ نزد کالا شاہ کاکو جی ٹی روڈ لاہور پر ترقیاتی منازل طے کررہا ہے اور اس سیکریٹریٹ کے شعبہ جات یہ ہیں۔

1: ادارہ تحقیقات اہلسنت

2: بیت الاحسان والحکمت

3: سنی انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹیڈیز

4: دارالاقامت

5: عالمی تربیتی ادارہ برائے علمائ

6: مہمان خانے

7: سنی انسٹیٹیوٹ آف ماڈرن لینگویجز

 8: مرکز خدمت خلق

9: رابطہ عالم اہلسنت

 10: ادارہ برائے تربیت خواتین

11: آن لائن اسلامی یونیورسٹی

 12: سنی تعلیمی بورڈ

13: مشاورتی بورڈ برائے اسلامی تجارت

 14: ٹیچر ٹریننگ اسکول

15: ادارہ برائے تربیت واعظین و مناظرین

 16: سنی مساجد

17: سنی دارالاشاعت

 18: سنی ڈیٹا بیس

19: بینک الخیر

تحریک ختم نبوت و تحریک نظام مصطفیﷺ

تحرک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفیﷺ میں بھی حضرت نے بھرپور کردار ادا فرمایا، تحریک ختم نبوت میں حکومت کی جانب سے جب بہت زیادہ سختی کی گئی، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہورہی تھیں، اس وقت آپ مختلف مساجد اور جلسوں میں تقاریر کے ذریعے نوجوانوں میں جوش و ولولہ پیدا کرتے۔ کئی دفعہ پولیس نے آپ کو گرفتار کرنے کی کوشش کی مگر گرفتار نہ کرسکی۔ تحریک ختم نبوت میں علماء اہلسنت نے بڑی قربانیاں دیں، بالآخر شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفیٰ ازہری، علامہ شاہ احمد نورانی، علامہ عبدالستار خان نیازی علیہم الرحمہ اور دیگر علماء اہلسنت جن میں آپ بھی شامل تھے۔ حکومت پاکستان سے 7 ستمبر 1974ء کے مبارک دن قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا۔

جب تحریک ختم نبوت کا گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تو علامہ عبدالستار خان نیازی علیہ الرحمہ کو بھی گرفتار کیا گیا اور ایک دن ایک رات قید خانہ میں رکھا گیا۔ جب آپ باہر آئے تو صحافیوں نے آپ سے پوچھا، آپ کی عمر کتنی ہے؟ تو آپ نے جواب میں فرمایا۔ ایک رات اور ایک دن، صحافی یہ سن کر مسکرا دیئے اور کہنے لگے  آپ ہم سے مذاق کیوں کررہے ہیں؟

چنانچہ علامہ نیازی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ جو قربانی میں نے تحفظ ختم نبوت کے لئے دی ہے، اس کی سزا مجھے ایک دن اور ایک رات قید خانے میں ڈال کر دی گئی۔ یہی تو میری اصل عمر ہے جو میں نے دین کے لئے قربانی دی۔ باقی عمر فضول ہے۔ جب علماء اہلسنت نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک اٹھائی تو قومی اسمبلی (پاکستان) کے ایک رکن نے علماء اہلسنت سے کہا کہ آپ کیوں قادیانیوں کے پیچھے پڑھے ہیں تو اس وقت رکن قومی اسمبلی شیخ الحدیث حضرت علامہ عبدالمصطفیٰ ازہری اور شاہ صاحب قبلہ وہاں موجود تھے، آپ فرماتے ہیں کہ ’’یہ سن کر شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفیٰ ازہری علیہ الرحمہ فرمانے لگے، ٹھہر جائو، ابھی فیصلہ ہوجائے گا‘‘

علامہ عبدالمصطفیٰ ازہری نے قادیانیوں کے ذمے دار شخص کو بلوایا اور اس سے پوچھا کہ اگر کوئی مرزا غلام قادیانی کو نہ مانے تو آپ اس کو کیا کہیں گے؟

قادیانی نے جواب دیا کہ ہم اس کو کافر مانتے ہیں ۔یہ سن کر قومی اسمبلی کے رکن جو یہ کہہ رہے تھے کہ آپ قادیانیوں کے پیچھے کیوں پڑے ہیں، کھڑے ہوکر کہنے لگے۔ یہ تو ہم سب کو کافر کہہ رہا ہے۔ الغرض قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے میں حضرت شاہ صاحب کا بھی حصہ ہے۔

اسی طرح آپ نے تحریک نظام مصطفی میں بھی بھرپور حصہ لیا اور اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اسلام منافی پالیسیوں کے خلاف بھرے جلسوں میں آپ نے اس کی مخالفت کی اور آپ کے ایک ذومعنی جملے نے لوگوں کو بڑا محظوظ کیا۔ جب آپ نے فرمایا کہ بھٹو کا زوال قریب ہے۔ اب نصرت (یعنی فتح) ہماری ہوگی جبکہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیوی کا نام بھی نصرت تھا۔

سیاسی خدمات

پیر طریقت حضرت سید شاہ تراب الحق صاحب قادری مدظلہ نے دین متین کی ہر شعبہ میں خدمت انجام دی ہے، جس طرح آپ مساجد میں ممبر پر بیٹھ کر اور دینی جلسوں اور جلوسوں میں تشریف لے جاکر حق کو بلند فرمایا کرتے ہیں۔ اسی طرح آپ نے اسمبلی میں بیٹھ کر وزرائ، امرائ، و اراکین پارلیمنٹ کے سامنے بھی کلمہ حق بلند فرمایا ہے۔ جس طرح آپ اپنے حجرے میں اپنی مسند پر بیٹھ کر مسلک حق اور عوام اہلسنت کی خدمت کرتے ہیں۔ اسی طرح قومی اسمبلی میں پہنچ کر بھی مسلک حق اور عوام اہلسنت کی خدمت فرمائی ہے۔ آپ 1985ء میں کراچی کے حلقہ این اے 190سے جماعت اسلامی کراچی کے محمد حسین محنتی کو بھاری اکثریت سے ہرا کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ یاد رہے کہ 1985ء میں انتخابات غیر جماعتی بنیاد پر ہوئے جس میں جمعیت علماء پاکستان نے ان انتخابات کے طریقہ کار سے اختلاف کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا جبکہ شاہ صاحب قبلہ اور ان کے چند رفقاء نے اس فیصلہ کے برعکس الیکشن لڑا جس پر جے یو پی کی قیادت کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔

اس کے بارے میں جب قبلہ شاہ صاحب سے پوچھا گیا کہ ان غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لینے کا آپ کا اقدام کیا درست تھا اور اس سے مسلک اہلسنت کو کہاں تک تقویت ملی؟ تو آپ نے جواب میں فرمایا ’’دیکھیں جی! آدمی اختلاف اس فلور پر کرے جہاں اس کی بات سنی جائے، نہ یہ کہ ادھر ملک میں عام انتخابات کا اعلان ہوچکا ہو، پوری قوم اس میں حصہ لے رہی ہو اور ادھر محض کھارادر کی گلیوں میں یہ شور مچایا جائے کہ صاحب! انتخابات غیر جماعتی نہیں، جماعتی ہونے چاہئے، ہمارے نزدیک یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے نقارخانے میںطوطی کا آوازہ…

اگر 1985ء کے انتخابات میں ہم یا ہمارا پورا گروپ جسے نظام مصطفی گروپ کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے، حصہ نہ لیتا تو وہاں سے کوئی فرشتے تو منتخب ہوکر نہیں آجاتے، ظاہر ہے وہی دنیادار لوگ آگے آجاتے ہیں جو اس الیکشن میں حصہ لیتے ہیں اور اگر ہم جے یو پی کے فیصلہ کے مطابق ان انتخابات کا بائیکاٹ کرتے تو ہمارا یہ فعل پورا شہر کراچی جماعت اسلامی کے حوالے کرنے کے مترادف ہوتا اور جیسا کہ ہم اس کا ماضی قریب میں مشاہدہ کرچکے ہیں۔ یہاں مسلسل دوبارہ ان کا منسٹر منتخب ہوا، اب اگر ایک بار پھر پیچھے ہٹ جاتے تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ ہم نے پورا کراچی جماعت اسلامی کے حوالے کردیا ہے۔ ان حالات میں جمعیت علماء پاکستان، جماعت اہلسنت یا ہمارے عقیدے کی جتنی تنظیمیں ہیں ان میں ہر شخص یہ محسوس کررہا تھا کہ اس وقت یہاں پر جماعت اسلامی اپنا اثرورسوخ آگے بڑھانے کے لئے بہت ہاتھ پائوں مار رہی ہے اور اگر ان حالات میں ہم الیکشن میں حصہ نہ لیتے تو اس کا مطلب یہی نکلتا کہ ہم نے یہاں کی تمام سیٹیں تھالی میں سجاکر جماعت اسلامی کی پیش کردی ہیں اور مجھے سو فیصد یقین تھا کہ اگر ہم اپنے انتخاب میں حصہ نہیں لیتے تو یہاں جماعت اسلامی کا امیدوار کامیاب ہوجائے گا۔ اسی طرح دیگر حلقوں کی صورتحال بھی کچھ کچھ اسی کے قریب تھی چنانچہ ہم نے بحیثیت سنی جماعت اسلامی کے مقابلہ میں میدان عمل میں اتر آنے کو ترجیح دی۔ ہم نے انفرادی طور پر الیکشن لڑا اور کراچی کی سطح پر بہت بڑی کامیابی حاصل کی اور آپ نے دیکھا تھا کہ ان انتخابات کے حوالے سے پورے پاکستان میں کراچی ہی وہ واحد شہر تھا جس سے کچھ علماء منتخب ہوکر آئے اور عوام نے ہمارا خیر مقدم کیا۔ ہم نے 47 ہزار ووٹ لے کر پورے کراچی میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور ہماری حکمت عملی بھی اسی سلسلہ میں یہی تھی کہ جب الیکشن ہورہا ہے تو اس میں حصہ لے کر منتخب ہوکر اور اسمبلی میں جاکر اپنے مسلک کے اجتماعی مسائل کے لئے آواز اٹھائی جائے اور ہم نے اٹھائی اور کافی معاملات پر زیر بحث لائے بھی گئے اس لئے ہمارے خیال کے مطابق ہمارا الیکشن 1985ء میں حصہ لینے کا فیصلہ بالکل درست تھا۔

رہا آپ کے سوال کا بقیہ حصہ تو اس ضمن میں اعتراضات ہم پر کئے گئے جن کا جواب دینا میں یہاں ضروری نہیں سمجھتا۔ ایک تو یہ کہ الیکشن مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کرارہا تھا اور دوسرے یہ کہ الیکشن غیر جماعتی تھے؟

پہلے اعتراض کا جواب تو یہ ہے کہ اگر مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی طرف سے کرائے جانے والے انتخابات میں حصہ لینا فی الواقع گناہ ہی ٹھہرا، جنرل یحییٰ خان بھی تو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ہی تھا۔ پھر اس کے دور میں الیکشن میں حصہ لینا مکروہ تحریمی ہوجائے گا۔ یہی سوچ بہرحال ان کی اپنی ہے۔ دوسرا اعتراض یہ کہ ہم نے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیا۔ اس لئے معتوب ٹھہرے تو یہاں ہم پوچھتے ہیں کہ اسمبلی توڑنے کے بعد یہ جو 1988ء کے انتخابات کا ضیاء الحق نے اعلان کیا تھا وہ غیر جماعتی نہیں تھے؟ پھر اس وقت یہ فیصلہ کیوں کیا گیا کہ جو بس ہم نے 1985ء میں مس نہیں کریں گے اور وہی گناہ جو ہمارے متھے لگایاجاتا رہا۔ آخر اسی کا ارتکاب خود کرنے کا ارادہ کیوں باندھ لیا گیا؟

یہ تو بعد میں غلام اسحق خان نگراں صدر کے دور میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں طے پایا کہ انتخابات جماعتی ہوں گے، ضیاء الحق نے تو اعلان غیر جماعتی کا ہی کیا تھا، جن میں حصہ لینے کے لئے اصولی طور پر رضامندی تو ظاہری کردی گئی اور اب کی بار پوزیشن یہ تھی کہ اس ودفعہ بس کو مس نہ کیا جائے بلکہ بیٹھ جایا جائے تو ہمارا قصور تو صرف اتنا ہی ٹھہرا کہ ہم اس بس میں ساڑھے تین سال قبل کیوں سوار ہوگئے تھے؟

تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس اعتبار سے بھی 1985ء کے انتخابات میں حصہ لینا ہماری اعلیٰ سیاسی بصیرت تھی اور یہ کوئی غلط فیصلہ نہیں تھا اور اگر اس وقت دیگر سیاسی جماعتیں بھی ہماری طرح فیصلہ کرکے اسمبلی میں پہنچ جائیں تو ہمارا مارشل لاء کی گرفت جلد ہی کمزور کی جاسکتی تھی اور اسمبلی میں بیٹھ کر بہتر طورپر مسائل حل کئے جاسکتے تھے۔ گویا ہمارا 1985ء کے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ ہر لحاظ سے درست تھا۔

آپ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کہا جاتا ہے کہ آپ کے گروپ (یعنی نظام مصطفی گروپ) کے اندر بھی وزارتیں لینے پر اتفاق رائے نہیں ہوا تھا۔ اگر آپ وزارتیں نہ لیتے تو شاید بہتر طور پر کام کرسکتے تھے۔ تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا ’’اس معاملہ میں ہمارے درمیان قطعی طور پر کوئی اختلاف رائے نہیں تھا، بلکہ جب ہمارے گروپ کو وزارت کی پیشکش کی گئی اس پر ہم نے باقاعدہ اکھٹے بیٹھ کر سوچ بچار کی کہ براہ راست ’’حکومت سے جنگ‘‘ کی پالیسی کہاں تک ملکی مفاد میں ہوگی، اس پر ہم نے اس بات کو ترجیح دی کہ اگر کوئی وزارت ملکی خدمت کے پیش نظر قبول کرکے اس محکمہ کو انتہائی دیانت داری سے چلایا جائے تو کم از کم ایک محکمہ سے تو کرپشن کو روکا جاسکتا ہے اور یہ بات چونکہ ملکی مفاد میں تھی۔ اس لئے ہم نے وزارت کی پیشکش قبول کرلی اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ شجر ممنوعہ تھا۔ پھر آپ نے ہاتھ کیوں بڑھایا تو میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر یہ سیاسی جماعتیں الیکشن لڑتی پھر کس لئے ہیں؟ کیا سب کے پیش نظر یہی نہیں ہوتا کہ انتخابات میں کامیاب ہوکر وہ اقتدار حاصل کرکے اپنے اپنے پارٹی پروگرام کو عملی جامہ پہنائیں، پھر وہی پہلے والی بات آگئی تاکہ جونیجو حکومت میں وزارت کیوں لی، کوئی دوسری حکومت ہوتی تو لے لی جاتی، بھائی اگر جونیجو حکومت میں وزارت لینا ناجائز ہے تو کسی دوسری حکومت میں کیونکر جائز ہے؟ جہاں تک کام کرنے کا تعلق ہے تو ریکارڈ ملاحظہ کرلیجئے۔ وزارت پیٹرولیم کا پورا ریکارڈ آپ کو گواہی دے گا کہ اس میں ہماری وزارت کے دوران زرمبادلہ ضائع ہونے سے کس طرح بچالیا گیا۔ کتنے ہی ایسے معاملات تھے جن پر ملکی دولت اور زرمبادلہ ضائع ہورہا تھا جسے ہم نے الحمدﷲ بطور احسن محفوظ کرایا اور میں چیلنج کرتا ہوں کہ اس دور میں ہمارے پاس یعنی حاجی حنیف طیب کے پاس جو بھی وزارت رہی، اس میں کسی قسم کی کرپشن کا کوئی ثبوت لے آئیں ہم ہر سزا بھگتنے کو تیار ہیں۔

اس دور میں آپ کے گروپ پر یہ الزام بھی لگا کہ اس گروپ کو وزارت جنرل ضیاء الحق کی خصوصی نوازش سے دی گئی ہے تو آپ نے اس الزام کے جواب میں ارشاد فرمایا ’’اگر کسی کا خیال ہے تو ہمارے نزدیک بالکل لغو اور بے بنیاد الزام ہے، نوازش تو اس پر کی جاتی ہے جو کسی کے اشارے پر چل رہا ہو، ہمارے ہاں تو ابتداء ہی میں جنرل ضیاء الحق سے تلخی پیدا ہوگئی تھی اور ہم کسی مرحلہ پر جنرل ضیاء الحق کے اشارے پر نہیں چلے اور پہلی میٹنگ ہی میں جونیجو صاحب کو وزیراعظم نامزد کرنے کے سلسلے میںبلائی گئی تھی جس میں جنرل ضیاء الحق نے تمام صوبوں کے ایم این اے حضرات کو الگ الگ بلایا۔ جب سندھ کی باری آئی تو سب سے زیادہ خطرناک ہماری جنرل ضیاء الحق سے ہوئی جس پر ہمارے سندھ کے ایم این اے حضرات گواہ ہیں۔ اس موقع پر جنرل ضیاء الحق تقریر کررہے تھے اور کوئی ان کے سامنے بولنے کی ہمت نہ کرتا تھا اور جب ہم نے ان کی قرینے سے کھنچائی کردی تو وہ سخت ناراض ہوئے۔ انہوں نے ہمیں نہ تو ناشتہ دیا نہ چائے پلائی، بس خالی ہاتھ ملا کر رخصت کردیا۔ ہمارے سندھ کے معروف سیاست دان اور سابق پارلیمنٹرین جناب عبدالمجید جتوئی جو قیام پاکستان سے لے کر اس وقت تک ایم این اے منتخب ہوتے چلے آرہے تھے، بطور خاص میرے پاس آئے اور مجھے مبارکباد دیتے ہوئے کہنے لگے کہ ’’سائیں‘‘ آپ نے سندھ کی عزت رکھ لی۔

تو جہاں ابتداً ہی اس قدر تلخی آگئی ہو وہاں نوازش کیسے ہوسکتی ہے؟ یہ تو ہمارا سندھ کے حوالے سے میرٹ بنتا تھا جس کی بناء پر ہمیں وزارت دی گئی اس میں ضیاء الحق کی کوئی نوازش تھی، نہ عنایت یہ ہمارا حق تھا جو ہم نے لیا۔ نوازش و عنایت اﷲ تعالیٰ کی تھی اور اﷲ تعالیٰ کے بعد عوام کی جنہوں نے ہمیں منتخب کیا۔

جونیجو حکومت زیادہ عرصہ نہ چل سکی۔ جنرل ضیاء الحق نے اسمبلیاں توڑ دیں۔ اس طرح 1988ء میں انتخابات وقوع پذیر ہوئے اور یہ انتخابات جماعتی بنیاد پر تھے۔ ان میں نظام مصطفی گروپ نے باقاعدہ حصہ لینے کا پروگرام بنایا اور باضابطہ طور پر درخواستیں بھی طلب کی گئیں پھر یکایک تمام حقوق سے دستبرداری کا اعلان کردیا گیا۔ جب آپ کے گروپ کی طرف سے اچانک دستبرداری کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا ’’سیاسی آدمی کا کام یہ ہے کہ معاملات کو بھانپ کر اور اچھی طرح سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے۔ صورتحال کچھ یوں ہے کہ ہمارے گروپ نے چونکہ اہلسنت کے حوالے سے اپنا علیحدہ تشخص قائم کیا تھا اور ہمارا پارٹی پروگرام بھی محض نفاذ نظام مصطفی تھا مگر جب ہم نے دیکھا کہ جمعیت علماء پاکستان نے بھی نظام مصطفی پارٹی کے نام سے ہر سیٹ پر اپنا امیدوار کھڑا کردیا ہے، تو ہم نے محسوس کیا کہ اب اگر ہم بھی اپنے امیدوار یہاں کھڑے کرتے ہیںتو ایک طرف تو ہمارے ووٹ تقسیم ہوں گے اور دوسرے ہم میں انتشار پیدا ہوجائے گا۔ بایں حالات محض اہلسنت کے وقار اور اتحاد کی خاطر الیکشن سے دستبردار ہوگئے کہ اہلسنت کی طرف ایک پارٹی کے امیدوار یہاں سے الیکشن میں حصہ لیں۔ حالانکہ ہمارے گروپ کے امیدوار جے یو پی کے امیدواروں سے کہیں زیادہ مضبوط تھے اور کراچی سے ایک دو سیٹیں ہم لے سکتے تھے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ لسانی تنظیموں کی کم از کم ان حلقوں سے تو حوصلہ شکنی ہوتی اور عوام اہلسنت کی حوصلہ افزائی ہوتی لیکن ہم نے پھر بھی جے یو پی کو موقع فراہم کیا اور ہر سطح پر غیر مشروط تعاون کیا تاکہ اہلسنت میں مزید انتشار نہ پھیل جائے۔

1985ء کے انتخابات میں حصہ لینے اور 1988ء کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کے بارے میں آپ سے جو سوال کیا گیا اس کا جواب سننے کے بعد نتیجہ یہ سامنے آیا کہ حصہ لینے کی وجہ صرف اہلسنت کی نمائندگی اور ملک کا تحفظ اور عوام اہلسنت کی خدمت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ 1988ء میں جب اہلسنت کے نمائندے متعدد حلقوں سے الیکشن لڑرہے تھے تو آپ اپنے گروپ کے ساتھ انتخابات سے دستبردار ہوگئے اور دستبرداری سے دوسرا مقصد اہلسنت کو انتشار سے بچانا بھی تھا۔ اس لئے آپ نے اس کے بعد کبھی کسی الیکشن میں حصہ نہ لیا چونکہ متعدد حلقوں سے اہلسنت کے نمائندے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں جن میں سے چند ایک کامیاب بھی ہوتے ہیں اسی طرح اسمبلی میں اہلسنت کی نمائندگی کرنیوالاکوئی نہ کوئی ضرور موجود رہتا ہے جبکہ 1985ء میں حالت یہ تھی کہ اگر آپ اپنے ساتھیوں سمیت انتخابات میں حصہ نہ لیتے تو ایوان بالا میں اہلسنت کی نمائندگی کرنے والا کوئی بھی نہ ہوتا کیونکہ اہلسنت کی نمائندہ جماعت جے یو پی انتخابات کا بائیکاٹ کرچکی تھی۔ اس لئے اس وقت انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ اپنی جگہ درست تھا اور بعد میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ اپنی جگہ درست ہے۔

عہدے

اہلسنت و جماعت کی خدمت کے حوالے سے آپ متعدد عہدوں پر فائز ہوئے جن میں چند مندرجہ ذیل ہیں

1: کونسلر، کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن

2: چیئرمین، تعلیمی کمیٹی کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن

3: رکن،لاء کمیٹی کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن

4: رکن ، انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی

5: رکن قومی اسمبلی، 1985ء میں حلقہ NA-190 کراچی سائوتھ، جماعت اسلامی کراچی کے محمد حسین محنتی کو بھاری اکثریت سے ہرا کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پھر قومی اسمبلی میں نظام مصطفی گروپ قائم فرمایا

6: چیئرمین، انسداد جرائم کمیٹی کراچی

7: ڈائریکٹر، جاویداں سیمنٹ فیکٹری (سرکاری نامزدگی)

8: رکن ، مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان

9: چیئرمین، مدرسہ انور القرآن قادریہ رضویہ کراچی

10: چیئرمین، جامعہ انوار القرآن قادریہ رضویہ گلشن اقبال کراچی

11: چیئرمین، مصلح الدین ویلفیئر سوسائٹی کراچی

12: چیئرمین، المسلم ویلفیئر سوسائٹی کراچی

13: ٹرسٹی / ناظم تعلیمات، دارالعلوم امجدیہ عالمگیر روڈ کراچی

14: امیر، جماعت اہلسنت پاکستان کراچی

15: ناظم، جماعت اہلسنت ورلڈ

16: رکن، کمیٹی برائے سنی سیکریٹریٹ لاہور

17: پہلے رکن سنی تحریک علماء بورڈ

18: سرپرست اعلیٰ تحریک عوام اہلسنت

19: سرپرست اعلیٰ تحریک اتحاد اہلسنت

20: سرپرست اعلیٰ بزمِ رضا

21: سرپرست اعلیٰ دارالعلوم مصلح الدین

22: سرپرست اعلیٰ جمعیت اشاعت اہلسنت

23: رکن سنی رہبر کونسل

24: رکن سنی اتحاد کونسل

25: سرپرست انجمن اشاعت اسلام

(جو 1986ء میں تقریبا ختم ہوگئی، پھر 1991ء میں حضرت علامہ مولانا عرفان صاحب ضیائی مدظلہ نے جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کے نام سے حضرت شاہ صاحب قبلہ کی سرپرستی میں قائم فرمائی جو بحمدہ تعالیٰ اب تک کام کررہی ہے)

ان میں سے بعض عہدوں پر آپ فائز رہے اور بعض پر اب بھی فائز ہیں۔ اس کے علاوہ کراچی کے متعدد مدارس ومساجد کے آپ سرپرست ہیں۔

تصانیف

حضرت شاہ صاحب قبلہ نے متعدد موضوعات پرقلم بھی اٹھایا اور کتابی صورت میں اہلسنت و جماعت کو تفسیر، حدیث شریف، فقہ حنفی، عقائد، تصوف اور فضائل وغیرہا عنوانات پر بہترین مواد فراہم فرمایا۔ حضرت کی جو کتب اب تک منظر عام پر آچکی ہیں، وہ مندرجہ ذیل ہیں

1: تصوف و طریقت

 2: خواتین اور دینی مسائل

3: ضیاء الحدیث

 4: جمال مصطفیﷺ

5: امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمہ

 6: مزارات اولیاء اور توسل

7: فلاح دارین

 8: رسول خدا کی نماز

9: مبلغ بنانے والی کتاب

 10: حضورﷺ کی بچوں سے محبت

11: دینی تعلیم

 12: تفسیر سورۂ فاتحہ

13: مبارک راتیں

 14: اسلامی عقائد

15: تبلیغی جماعت کی نقاب کشائی

 16: جنتی لوگ کون؟

17: مسنون دعائیں

 18: فضائل شعبان المعظم

19: فضائل صحابہ و اہلبیت

  20: تفسیر سورۂ والضحیٰ تا سورۂ ناس

جو بعد میں بنائی گئی اس کے قیام میں بھی حضرت کا بڑا کردار ہے، بقول مدیر ’’ماہنامہ تحفظ‘‘ محترم جناب محمد شہزاد قادری ترابی کے کہ رئیس التحریر علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کا آخری انٹرویو (آڈیو کیسٹ کی صورت میں) میرے پاس محفوظ ہے۔ جس میں آپ سے سوال کیا گیا تو کہ دعوت اسلامی بنانے میں کن علماء کا کردار ہے تو علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ نے دیگر علماء اہلسنت کے ساتھ حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری مدظلہ کا نام بھی ذکر کیا۔