اسلامی کلینڈر کی ضرورت و اہمیت

in Tahaffuz, November 2013, حافظ سید عزیز الرحمن, متفرقا ت

ہجری تقویم اسلام کی چند اہم خصوصیات میں سے ایک ہے۔ اس کا شمار شعائر اسلام میں بھی ہوتا ہے، یہ تقویم عہد نبویﷺ کے اہم واقعہ کی جانب منسوب ہے، جسے مورخین اور اہل سیر ہجرت مدینہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
ہجرت مدینہ
ہجرت مدینہ، غزوات اور فدائیت کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ سرفروشی اور جانثاری کی نہ جانے کس قدر قیمتی داستانیں اس واقعہ سے مربوط ہیں۔ قسام ازل نے ہجرت مدینہ کو ان گنت شرف عطا فرمائے ہیں۔ یہ شرف بھی ازل سے اسی کی قسمت میں لکھا تھا کہ آئندہ لیل و نہار کی گردشوں کاشمار بھی اسی سے ہوگا۔
آنحضرتﷺ کی مکہ مکرمہ سے ہجرت اور مکہ سے مسلمانوں کی انتقال آبادی اگرچہ ظاہری طور پر قریشی مکہ کی ایذا رسانیوں کے سبب سے تھی، مگر درحقیقت خالق کائنات نے اپنے پسندیدہ دین، دین اسلام کی عظمت و شوکت اور سیادت کا سکہ بٹھانے اور اس کی ضیاء پاش کرنوں سے سارے عالم کو منور کرنے کے لئے جو وقت متعین کیا تھا اس کا آغاز اسی ہجرت مدینہ سے ہوا۔
ہجرت مدینہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اسلام اپنی دیگر خصوصیات کے علاوہ ایک مکمل سیاسی نظام بھی رکھتا ہے جو اسلامی ریاست و سلطنت کی بنیاد ہے، نیز اس کی تعلیمات دیگر مذاہب اور دنیا میں معروج نظاموں کی طرح محض تخیلاتی یا کاغذی و کتابی نہیں بلکہ ہر طرح سے قابل قبول، قابل عمل اور لائق نفاذ ہیں۔
ہجرت سے قبل مسلمان مکے میں کمزور حالت میں تھے، انہیں نہ مذہبی آزادی حاصل تھی، نہ ان کے پاس سیاسی اقتدار موجود تھا اور نہ معاشی اعتبار سے ان کو بے فکری، اطمینان اور سکون حاصل تھا۔ ہر طرح کا اختیار اور مکمل اقتدار دشمنوں اور مخالفین کے پاس تھا۔ تمدن اور معاشرت کے لوازم سے بھی مکہ کے مسلمان محروم تھے۔ اس لئے یہاں رہ کر وہ اسلام کے سیاسی و معاشرتی نظام کی تشکیل کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس کے برعکس مدینہ منورہ میں خالق کائنات نے ایسے اسباب مہیا کردیئے تھے جو اس کام کے لئے ضروری اور مناسب تھے۔ مدینہ منورہ میں جو لوگ ابتداء میں مسلمان ہوئے، وہ ان قبائل سے تعلق رکھتے تھے جن کے پاس اس ریاست کی زمام کار پہلے ہی سے موجود تھی اور ان پر کسی دوسرے کا کوئی تسلط نہ تھا۔ اس لئے ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوںکو مکمل انداز میں یہ موقع ملا کہ وہ ایک نئے معاشرے کی تشکیل دیں جس کی بنیاد خالص اسلامی اصولوں پر استوار ہو اور جو زندگی کے تمام مراحل میں دور جاہلیت سے یکسر مختلف اور ہر لحاظ سے منفرد و ممتاز ہو۔ وہ معاشرہ اس عالم گیر دعوت کا نمائندہ ہو جس کی خاطر مسلمان گزشتہ 13 سال سے مخالفین اسلام اور دشمنان دین کی مختلف الجہت اور مختلف النوع سازشیں، مصیبتیں اور مشقتیں برداشت کرتے چلے آرہے تھے۔ یہ تھا تقویم اسلام کے ہجرت مدینہ سے آغاز کا تاریخی پس منظر، اگر دیکھا جائے تو اسلامی تقویم کے آغاز کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی اور مناسب واقعہ یا موقع ہو ہی نہیں سکتا۔
تقویم اسلامی کی اہمیت
تقویم اسلامی کے معاملے کا فیصلہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے کافی غوروخوض اور دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان سے طویل مشورے کے بعد کیا تھا۔ مہتم بالشان معاملات میں حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا یہی طریقہ کار ہوتا تھا۔ تقویم دراصل کسی قوم کی شناخت اور تعارف کا ٹائٹل ہوتا ہے۔ ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں ’’قومی زندگی کے مقدمات میں سے ایک نہایت اہم چیز سنہ اور تاریخ ہے جو قوم اپنا سنہ نہیں رکھتی وہ گویا اپنی بنیاد کی ایک اینٹ نہیں رکھتی، قوم کا سن اس کی پیدائش اور ظہور کی تاریخ ہوتا ہے۔ یہ اس کی قومی زندگی کی روایات قائم رکھتا اور صفحہ عالم پر اس کے اقبال و عروج کا عنوان ثبت کردیتا ہے، یہ قومی زندگی کے ظہور و عروج کی ایک جاری و قائم یادگار ہے۔ ہر طرح کی یادگاریں مٹ سکتی ہے لیکن یہ نہیں مٹ سکتی، کیونکہ سورج کے طلوع و غروب اور چاند کی غیر متغیر گردش سے اس کا دامن بندھ جاتا ہے اور دنیا کی عمر کے ساتھ ساتھ اس کی عمر بھی بڑھتی رہتی ہے (۱)
عربوں میں تقویم کا رواج
عربوں میں چونکہ لکھنے پڑھنے کا زیادہ رواج نہ تھا، اس لئے تقویم اور ماہ و سال کے حساب کا بھی کوئی خاص طریقہ مقرر نہ تھا، نہ ان کا کوئی خاص سن تھا۔ اس لئے اگر کوئی بات بیان کرنی ہوتی تو کسی اہم واقعہ سے ماہ و سال کا حساب کرلیا کرتے تھے۔ ابن الجوزی، عامر الشعبی کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ جب روئے زمین پر آدم کی اولاد کی تعداد زیادہ ہوگئی اور وہ اطراف و اکناف میں پھیل گئے تو انہوں نے ہبوط آدم علیہ السلام سے تاریخ شمار کی، یہ سلسلہ طوفان نوح علیہ السلام تک جاری رہا۔ وہاں سے نار خلیل تک تاریخ کا حساب کرتے رہے پھر یوسف علیہ السلام کے واقعہ سے تاریخ کا حساب کیا گیا وہاں سے حساب بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے کے واقعہ سے تاریک شمار ہوئی پھر حضرت عیسٰی علیہ السلام کے زمانے کو بنیاد بنایا گیا (۲)
واقدی کا قول یہ ہے کہ تاریخ کا شمار پہلے حضرت آدم علیہ السلام سے طوفان نوح تک تھا، پھر نار خلیل تک، وہاں سے بنو اسماعیل نے تعمیر کعبہ سے تاریخ شمار کی، وہاں سے معد بن عدنان کے زمانے تک پھر وہاں سے کعب بن لوی کے عہد تک اور وہاں سے عام الفیل تک تاریخ شمار کی گئے (۳)
نیز حمیر والے اپنے بادشاہ تبع کے عہد سے تاریخ کا حساب کرتے تھے، غسان والے سد مآرب کے پھٹنے سے اور صنعت والے یمن پر حبشیوں کی فتح اور بعد ازاں ایرانیوں کے غلبے سے، بعد میں عرب اپنی لڑائیوں سے حساب تاریخ رکھا کرتے تھے، مثلا بسوس، واحس اور غبرا کی لڑائی سے اور ذی قار اور حرب فجار جیسے معرکوں سے (۴)
اسلام آجانے کے بعد بھی مسلمانوںکا یہی طرز عمل قائم رہا اور اب سورتوں کے نزول کی نسبت سے واقعات یاد رکھے جانے لگے، ہجرت کے بعد جن منکرین سے قتال کی اجازت ملی اور سورۂ حج نازل ہوئی تو کچھ عرصے تک یہ واقعہ بطور سن استعمال ہوا پھر جب سورۂ براۃ کا نزول ہوا تو سنہ براء ۃ تو چل پڑا، آخر میں سنتہ الوداع مشہور ہوا جو حجۃ الوداع کے بعد رائج ہوا (۵)
یہ بھی کہا گیا کہ سن ہجرت کے آغاز سے قبل لوگ ہر سال کو اس واقعہ کا نام دیتے تھے جو اس میں وقوع پذیر ہوتا تھا اور اسی سے تاریخ بتاتے تھے۔ چنانچہ حضور اکرمﷺ کے مدینہ منورہ میں قیام کا پہلا سال مکہ سے ہجرت کی اجازت کا سال کہلاتا تھا، دوسرا سال جنگ کے اذن کا اور تیسرا التمحیص (آزمائش) کا (۶)
یہی وجہ ہے کہ اس دور کی تاریخیں گڈمڈ ہیں اور انبیائے کرام علیہم السلام اور دیگر تاریخی واقعات کے بارے میں بڑے اختلاف تاریخ پایا جاتا ہے۔
اسلامی تقویم کی ضرورت
اسلامی تقویم کی ضرورت کب، کیسے اور کیوں پیش آئی؟ اس کے متعلق کئی روایات ملتی ہیں جن کا تذکرہ ذیل میں علیحدہ علیحدہ کیا جاتا ہے۔
1… حاکم نے ’’اکلیل‘‘ میں ابن شہاب زہری سے روایت نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں (لما قدم النبیﷺ المدینۃ امربالتاریخ فکتب فی ربیع الاول) (۷)
جب نبی کریمﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپﷺ نے تاریخ لکھنے کا حکم فرمایا۔ سو ربیع الاول سے اس کا آغاز ہوا۔
یہی روایت ابو جعفر بن نحاس نے اپنی کتاب ’’ضاعتہ الکتاب‘‘ میں بھی ذکر کی ہے (۸) اور قلقشندی نے بھی ابن شہاب زہری ہی سے روایت نقل کی ہے (۹) لیکن حافظ ابن حجر نے اس روایت کو معفل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشہور قول اس کے خلاف ہے (۱۰) اس کے برعکس یہی روایت یعقوب بن سفیان نے ان الفاظ سے نقل کی ہے (التاریخ من یوم قدم النبیﷺ المدینۃ مہاجراً) (۱۱) اسلامی تاریخ کا آغاز اس روز سے ہوا جب حضورﷺ ہجرت فرماتے ہوئے مدینہ منورہ تشریف لائے تھے۔
ابن عساکر نے بھی اسی کو درست قرار دیا ہے اور زیادہ صحیح بات بھی یہی ہے کہ تقویم اسلامی کا آغاز حضرت عمر بن الخطاب رضی اﷲ عنہ کے حکم اور صحابہ کرام کے مشورہ سے ہوا (۱۲) البتہ آغاز کے لئے ہجرت مدینہ کے اہم واقعہ کو بنیاد بنایا گیا۔
2… ابو طاہر بن محمش الزیادی نے ’’تاریخ الشروط‘‘ میں ذکر کیا اور اسے علامہ جلال الدین سیوطی نے بھی نقل کیا ہے کہ (ان رسول اﷲﷺ ارخ بالہجرۃ حین کتب الکتاب لنصاری نجران وامر علیا ان یکتب فیہ حین کتبہ عنہ) (۱۳)
رسول اﷲﷺ نے سب سے پہلے اسلامی تاریخ کا ہجرت مدینہ سے آغاز کیا، جب آپ نے نجران کے نصاریٰ کو خط ارسال کیا اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو اس خط پر تاریخ ڈالنے کا حکم دیا۔
3… امام احمد نے سند صحیح کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے۔ کہ (اول من ارخ التاریخ یعلی بن امیہ حیث کان بالیمن) (۱۴)
سب سے پہلے ہجرت تاریخ کا آغاز یعلی بن امیہ نے کیا، جب وہ یمن میں تھے۔
4… اس روایت میں ذکر ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ نے جب وہ یمن کے گورنر تھے، اپنے ایک خط میں حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی وجہ اس جانب مبذول کرائی تھی۔ خط کی عبارت یہ تھی (انہ تاتینا منک کتب لیس لہا تاریخ) (۱۵)
ہمارے پاس آپ کے خطوط آتے ہیں ان پر کوئی تاریخ درج نہیں ہوتی۔
5… (رفع لعمر صک محلہ شعبان، فقال ای شعبان، الماضی، اولذی نحن فیہ، او الآتی؟ ضعوا الناس یعرفونہ من التاریخ) (۱۶)
حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے سامنے ایک چیک لایا گیا، اس پر شعبان تحریر تھا۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کون سا شعبان؟ جو گزر گیا یا جو جاری ہے یا جو آنے والا ہے؟ لوگوں کی سہولت کے لئے کوئی نظام طے کرو کہ وہ تاریخ کا صحیح علم رکھیں۔
یہ روایت امام احمد بن حنبل اور ابو عروبہ نے ’’الاوئل‘‘ میں، امام بخاری نے ’الادب المفرد‘‘ میں اور حاکم نے بھی ’’میمون بن مہران‘‘ سے نقل کی ہے (۱۷)
6… اس سلسلے کی ایک روایت ابن خثیمہ کی ابن سیرین سے ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص یمن سے آیا۔ اس نے بتایا کہ میں نے ایک چیز دیکھی ہے جسے تاریخ کہا جاتا ہے۔ اس میں یوں لکھتے ہیں (من عام کذا و بشہر کذا)
یعنی فلاں سال اور فلاں مہینہ۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اسے پسند فرمایا اور اسلامی تقویم، تقویم ہجری کا آغاز فرمادیا (۱۸)
اس روایت کو ابو دائود وطیالسی نے بھی نقل کیا ہے (۱۹) اور سخاوی کے ہاں بھی یہ روایت موجود ہے (۲۰)
روایات پر ایک نظر
آگے بڑھنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان روایتوں پر جن میں کسی قدر اختلاف اور تضاد پایا جاتا ہے، سند و متن اور روایت کے اعتبار سے ایک نظر ڈالتے چلیں تاکہ درست نتائج تک پہنچنا ہمارے لئے آسان ہوسکے۔
1… پہلی روایت میں یہ ذکر ہے کہ حضور اکرمﷺ نے آغاز تاریخ کا حکم دیا اور ربیع الاول سے آغاز ہوا لیکن اس روایت کو معطل قرار دیا گیاہے۔ نیز یہی روایت اس کے برعکس یعقوب بن سفیان نے ان الفاظ میں نقل کی ہے کہ اسلامی تاریخ کا آغاز واقعہ ہجرت سے ہوا۔ ان الفاظ سے بھی اس روایت کا مفہوم واضح اور متعین و تعارض ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ ابن حجر اور سخاوی وغیرہ نے بھی یہی لکھا ہے کہ مشہور اور محفوظ روایت یہ ہے کہ تاریخ کا آغاز حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے زمانے سے ہوا (۲۱)
2… دوسری روایت میں یہ ذکر ہے کہ اہل نجران کو آنحضورﷺ نے جو خط تحریر کیا تھا اس میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو تاریخ تحریر کرنے کا حکم دیا تھا۔ مگر یہ بات بھی غور طلب ہے کیونکہ اہل نجران کے نام آپﷺ کے خطوط جن کتب میں تحریر ہیں، ان میں کہیں بھی تاریخ کا ذکر نہیں ہے، تمام بغیر تاریخ کے ہیں (۲۲) نیز آپﷺ کے چھ خطوط مبارکہ دستیاب ہوگئے ہیں جن کے عکس متعدد کتب میں شائع ہوچکے ہیں (۲۳) یہ تمام خطوط 5 ہجری کے بعد کے تحریر کردہ ہیں۔ ان میں بھی کسی میں تاریخ موجود نہیں ہے۔ اس بارے میں تفصیلی بحث مضمون کے آخر میں آئے گی۔
3… تیسری روایت امام احمد کی ہے۔ اس میں یعلی بن امیہ کے بارے میں ذکر ہے کہ انہوں نے یمن میں تاریخ اسلامی کا آغاز کیا تھا۔ اگرچہ یہ روایت سند صحیح کے ساتھ کی گئی ہے مگر اس میں عمرو بن دینار اور یعلی بن امیہ کے مابعد انقطاع ہے۔
4 تا 6… چوتھی، پانچویں اور چھٹی روایات معناً قریب تر ہیں۔ ان میں زیادہ فرق نہیں ہے، یہ عین ممکن ہے کہ یہ تمام اسباب اس موقع پر جمع ہوگئے ہوں (واﷲ اعلم)
حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے کب تاریخ کا آغاز کیا؟
اسلامی تاریخ کے آغاز کے سلسلے میں حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے مشورے کے بارے میں تین اقوال مذکور ہیں۔ 16 ہجری، 17 ہجری، 18 ہجری (۲۴)
جبکہ شبلی نعمانی نے ’’الفاروق‘‘ میں 21 ہجری کا قول نقل کیا ہے۔ (۲۵)
ابو موسیٰ اشعری اور ابن سیرین سے 17 ہجری کا قول نقل کیا گیا ہے۔ (۲۶)
محمد بن اسحاق نے زہری اور شعبی سے بھی 17 ہجری کا ہی قول نقل کیا ہے (۲۷)
ابن عساکر نے حضرت سعید بن المسیب سے نقل کیا ہے کہ بار خلافت سنبھالنے کے ڈھائی برس کے بعد محرم میں حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اس کا فیصلہ کیا (۲۸)
اس اعتبار سے بھی 16 ہجری ہی بنتا ہے کیونکہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی خلافت کا آغاز 13 ہجری، جمادی الآخر میں ہوا تھا (۲۹)
یعقوبی نے بھی 16 ہجری کا قول اختیار کیا ہے۔ وہ 16 ہجری کے واقعات میں لکھتا ہے: اسی زمانے (16ہجری) میں حضرت عمررضی اﷲ عنہ نے ارادہ کیا کہ ضبط کتابت کے لئے ایک تاریخ قرار دے دی جائے۔ پہلے انہیں خیال ہوا کہ آنحضرتﷺ کی ولادت سے شروع کریں۔ پھر خیال آیا کہ آپﷺ کی بعثت مبارکہ سے ابتداء کی جائے لیکن حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے مشورہ دیا کہ ہجرت سے آغاز کیا جائے، سو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے ان کا مشورہ قبول کرتے ہوئے ہجرت نبویﷺ سے اسلامی تقویم کے آغاز کافیصلہ فرمادیا (۳۰)
ابن سعد کا بیان ہے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ربیع الاول 16 ہجری سے اسلامی تقویم کا آغاز کیا، چنانچہ تاریخ لکھنے کے سلسلے کا آغاز انہوں نے نبی کریمﷺ کے مکہ سے ہجرت فرمانے کے واقعہ سے کیا (۳۱)
ان تمام روایات کے تتبع سے بھی یہی بات درست معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے دور میں 16 ہجری میں اسلامی ہجری تقویم کاآغاز ہوا (واﷲ اعلم)
حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے سامنے یہ مسئلہ پیش ہوا تو انہوں نے حسب عادت صحابہ کرام علیہم الرضوان کو جمع کرکے اس میں ان کا مشورہ چاہا، مختلف باتیں سامنے آئیں جس کی تفصیل کتب تاریخ میں موجود ہے۔ مشورے میں ہر ہرمزان کو بھی طلب کیاگیا۔ وہ ایران شہنشاہ کی جانب سے خوزستان کے گورنر تھے اور مسلمان ہونے کے بعد مدینہ منورہ میں مقیم تھے۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ ان سے بھی اہم معاملات میں مشورے کرتے تھے۔ ہرمزان نے بتایا کہ ہمارے یہاں ایک حساب موجود ہے جسے ماہ روز کہتے ہیں۔ اسی کو عربی میں مورخہ بنالیا گیا اور تاریخ کو اس کا مصدر قرار دیا گیا۔ بعض دوسرے حضرات کے خیال میں جن میں اہل لغت کی ایک بڑی جماعت شامل ہے، یہ لفظ عربی الاصل ہے اور ’’الارخ‘‘ سے مشتق ہے جو نیل گائے کے نر بچے کو کہا جاتا ہے۔اس کی جمع آراخ اور اراخ آتی ہے۔ ابو منصور جوالیقی کے بقول الارض وقت کو کہتے ہیں اور التاریخ توقیت کو (۳۲)
بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ ہجرت مدینہ سے اسلامی تقویم کا آغاز کیا جائے، اس بارے میں روایات مختلف ہیں کہ کس کی رائے سے ہجرت کے آغاز تقویم کا فیصلہ ہوا؟ امام محمد بن یوسف الصالحی الشامی لکھتے ہیں کہ جن امکانی صورتوں پر اتفاق ہوا اور جن سے آغاز تقویم ہوسکتی تھی، وہ چار تھیں۔
1۔ آپﷺ کی ولادت باسعادت سے
2۔ بعثت مبارکہ سے
3۔ ہجرت مبارکہ سے
4۔ پردہ فرما جانے سے
ان میں سے ولادت اور بعثت کے وقت کے بارے میں اس قدر اختلاف تھا کہ ان کا سال متعین نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لئے انہیں چھوڑ دیاگیا۔ وفات سے اس لئے آغاز تقویم نہیں کیاگیا کہ وہ واقعہ رنج و الم اور افسوس و صدمے کا باعث تھا۔ اب صرف ہجرت مدینہ باقی رہ گئی، چنانچہ اسی سے آغاز کردیا گیا (۳۳)
حاکم نے سعید بن المسیب سے بیان کیا ہے کہ جب حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو جمع کیا اور ان سے مشورہ کیا کہ تاریخ کا آغاز کس واقعہ سے کیا جائے تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: (من یوم ہاجر النبیﷺ و ترک ارض الشرک) اس روز سے آغاز کریں جب نبی کریمﷺ نے ہجرت فرمائی تھی اور سرزمین مکہ کو چھوڑا تھا۔
چنانچہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے یہ تجویز قبول کرلی (۳۴) ابن عساکر نے بھی سعید بن المسیب سے اسی طرح نقل کیا ہے (۳۵)
مقریزی نے بھی حضرت سعید بن المسیب سے یہی ذکر کیا ہے وہ لکھتا ہے: حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو جمع کیا اور ان سے مشورہ کیا کہ کس روز سے اسلامی تاریخ کا آغاز کیا جائے۔ پس حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ اس روز سے جس روز رسول اﷲﷺ نے ہجرت فرمائی تھی اور مکہ کو چھوڑا تھا۔ سو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اسی طرح کیا (۳۶)
یعقوبی کے بیان سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ تجویز، حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی پیش فرمودوہ تھی جبکہ ابونعیم نے شعبی کے طریق سے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے یہ روایت کی ہے کہ یہ تجویز خود حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی تھی اور ان کا استدلال یہ تھا کہ چونکہ ہجرت مدینہ حق و باطل کے مابین فرق کرنے کا سبب بنی ہے۔ اس لئے اسی کو تقویم اسلامی کے آغاز کی بنیاد بنایا جائے (۳۷)
ایک خیال کے مطابق یہ تجویز ہرمزان کی طرف سے پیش کی گئی تھی (۳۸) لیکن عام طور پر حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا نام ہی آتا ہے۔ ان میں بھی زیادہ تر روایات حضرت علی رضی اﷲ عنہ ہی کے بارے میں ہیں، اس لئے اس تجویز کی نسبت ان ہی کی جانب سے درست معلوم ہوتی ہے اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی جانب اس تجویز کو اس لئے منسوب کردیا گیا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی تجویز کی تائید کی تھی اور اس پر عمل درآمد بھی ان ہی کے حکم سے ہوا۔
(حوالہ جات)
(۱) ابوالکلام آزاد (رسول رحمت) ترتیب غلام رسول مہر، شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور ص 203
(۲) شمس الدین محمد بن عبدالرحمن السخاوی (الاعلان بالتوبیخ) اردو ترجمہ ڈاکٹر سید محمد یوسف، ص 175
(۳) ایضاً
(۴) ایضاً ص 176
(۵) شاہ مصباح الدین شکیل (سیرت احمد مجتبیٰ) پاکستان اسٹیٹ آئل، کراچی 1996، ج 2، ص 56
(۶) (الاعلان) ص 174
(۷) ابو جعفر محمد بن جریر طبری (تاریخ الرسل والملوک) ج 2، ص 388، (ابن الحجر العسقلانی) (فتح الباری) ج 7، ص 341/ محمد بن عبدالباقی الزرقانی (شرح المواہب اللدنیہ) ج 1، ص 352، محمد بن یوسف الصالحی الشامی سبل الہدی والرشاد) ج 12،ص 36
(۸) شیخ عبدالحئی الکتانی (نظام الحکومۃ النبویۃ المسمیٰ التراتب الادرایہ) ص 180
(۹) قلقشندی (صبح الاعشیٰ) ج 6، ص 240
(۱۰) ابن حجر (فتح الباری) ج 7، ص 341،ص 36
(۱۱) (سبل الہدیٰ والرشاد) ج 12، ص 36
(۱۲) (طبری) ج 2، ص 388
(۱۳) (التراتب الاداریہ) ص  181
(۱۴) (فتح الباری) ص 342، ابو القداء اسماعیل بن کیرم (البدایہ والنہایہ) ج 3، ص 217، یہ روایت تلاش بسیار کے باوجود راقم کو مسند احمد میں نہیں مل سکی، مگر حاکم نے مستدرک میں اس کے الفاظ نقل کئے ہیں۔ ابوعبداﷲ بن عبداﷲ حاکم (المستدرک) ج 3، ص 479، رقم 1388, 5790
(۱۵) ڈاکٹر حمید اﷲ (الوثائق السیاسیہ) ص  521، رقم 368
(۱۶) (ابن حجر) ص 342، (سبل الہدیٰ والرشاد) ص 38 (الاعلان) 171
(۱۷) (الاعلان) ایضاً ابو الیقظان نے بھی حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے اس طرح نقل کیا ہے۔ دیکھئے الاعلان محولہ بالا
(۱۸) (ابن حجر) ص 342 (سبل الہدیٰ والرشاد) محولہ بالا
(۱۹) (البدایہ) ج 3، ص 217
(۲۰) (الاعلان) ص 171
(۲۱) (فتح الباری) ص 341 (طبریٰ) ج 2،ص 388 (الاعلان) ص 168
(۲۲) ان خطوط کیلئے ملاحظہ کیجئے۔ ڈاکٹر حمید اﷲ (الوثائق السیاسیہ) ص 165 تا 180
(۲۳) ان خطوط کے لئے ملاحظہ کیجئے، سید فضل الرحمن (خطوط بادی اعظمﷺ)
(۲۴) (البدایہ والنہایہ) ج 3،ص 216
(۲۵) شبلی نعمانی (الفاروق) ص 460
(۲۶) (زرقانی) ج 1،ص 352
(۲۷) (ابن کثیر) ج 3،ص 216
(۲۸) (شامی) ص 38
(۲۹) (البدایہ والنہایہ) ج 8،ص 18
(۳۰) احمد بن ابی یعقوب (تاریخ یعقوبی) ج 2،ص 145
(۳۱) محمد بن سعد (الطبقات الکبریٰ) ج 3،ص 213
(۳۲) (شامی) ص 41
(۳۳) (فتح الباری) ج 7،ص 342
(۳۴) ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ الحاکم (المستدرک علی الصحیحین) ج 3،ص 15، رقم 4287، 31، ذہنی نے اس روایت کی موافقت کی ہے اور اسے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔
(۳۵) (الفاروق) ص 460
(۳۶) مقریزی (امتاع الاسماع) ج 2،ص 56
(۳۷) (زرقانی) ج 1،ص 352، (فتح الباری) ج 7، ص 342
(۳۸) یہ خیال اردو دائرہ معارف اسلامیہ، دانش گاہ پنجاب کے مقالہ نگار نے ظاہر کیا ہے مگر اس کی تائید کسی دوسری کتاب اور مورخ کے قول سے نہیں ہوتی۔
دیکھئے ج 6، ص 39