تفسیرسورۃ العلق (قسط 3)
اس آیت میں لیعبدون کا معنی ہے۔ لیعرفون، کہ وہ مجھے پہچانیں
حدیث قدسی ہے: لولاک کما خلقت الا فلاک ولما اظہرت الربوبیۃ
’’اے حبیب! اگر تمہیں پیدا نہ کرتا تو کائنات پیدا نہ کرتا اور نہ ہی اپنا رب ہونا ظاہر کرتا‘‘
دوسری حدیث قدسی میں رب تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
کنت کنزاً مخفیاً فاحببت ان اعرف فخلقت الخلق
’’میں مخفی خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ میں پہچانا جائوں تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا‘‘
یہاں مخلوق سے مراد انسان ہے اور اس کی عظمت و شرافت کا اظہار مقصود ہے۔
یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اس آیت میں ’’الانسان‘‘ سے مراد حضور اکرمﷺ کی ذات ہو۔ آپ کا ذکر اس لئے فرمایا تاکہ آپ کے خصوصی فضل و شرف کا اظہار ہو۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ان آیات میں آپﷺ ہی مخاطب ہیں۔
من علق
’’علق‘‘ کا معنی ہے ’’جما ہوا خون‘‘ یہ تخلیق انسانی کا درمیانی مرحلہ ہے اور درمیانی مرحلہ کا ذکر ہونا سب مراحل کی طرف اشارہ ہے۔ سب سے پہلے انسان کی غذا سے خون بنتا ہے پھر خون سے مادہ تولید بنتا ہے پھر اس سے رحم میں نطفہ قرار پاتا ہے۔ پھر چالیس دن بعد نطفہ، علقہ یعنی جما ہوا خون بنتا ہے۔ پھر چالیس دن گزرنے کے بعد گوشت کی شکل اختیار کرتا ہے، پھر چالیس دن بعد اس میں روح پھونکی جاتی ہے اور پھر مخصوص مدت گزار کر انسان پیدا ہوتا ہے۔ ارشاد ہوا۔
1
’’پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹک کیا، پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں، پھر ان ہڈیوں پر گوشت پہنایا، پھر اسے اور صورت میں اٹھان دی، تو بڑی برکت والا ہے اﷲ سب سے بہتر بنانے والا‘‘ (المومنون)
اقراء و ربک الاکرم
اس آیت میں دوسری بار پڑھنے کا حکم تاکید کے لئے ہے۔ یا پہلے ’’اقرائ‘‘ سے مراد ہے ’’اپنے لئے پڑھو‘‘ اور دوسرے ’’اقرائ‘‘ سے مراد ہے ’’دوسروں کو تبلیغ و تعلیم کے لئے پڑھو‘‘
’’الاکرم‘‘ یا توربک کی صفت ہے یا اس کی خبر ے۔ ’’اکرم، میں کریم سے زیادہ مبالغہ ہے۔ اکرم اسے کہتے ہیں جو ہر کریم سے بڑھ کر ہو کیونکہ ’’اکرم‘‘ بغیر کسی غرض کے احسان فرماتا ہے اور اس قدر زیادہ احسانات کرتا ہے کہ اس کے احسانات کو مقدار اور کیفیت کے اعتبار سے شمار نہیں کیا جاسکتا۔
ہر مخلوق کو زندگی کی بقاء کے لئے جو جو چیزیں درکار ہیں، رب کریم نے ہر ہر چیز اسی مخلوق کی ضرورت کے اعتبار سے مہیا فرمادی ہے۔ ہوا، فضا، پانی، مٹی، کھیت، صحرا، بادل، پہاڑ، چشمے، دریا، سورج، چاند، روشنی، حرارت، غرض یہ کہ کائنات میں جس طرف نگاہ ڈالیئے، رب کریم کی شان ربوبیت کے جلوے نظر آرہے ہیں۔ ارشاد ہوا۔
2
’’اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کو۔ اور خود تم میں، تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں‘‘ (الذٰریٰت: ۲۰،۲۰ کنزالایمان)
یعنی زمین و آسمان میں، تمہاری پیدائش اور تمہارے ظاہر و باطن میں اﷲ تعالیٰ کی قدرت کے ایسے بے شمار عجائب و غرائب ہیں جن سے اس کی شان معلوم ہوتی ہے۔
درحقیقت اﷲ تعالیٰ ہی کریم ہے۔ اس کی ذات و صفات میں کوئی شریک نہیں۔ کریم، رحیم، سمیع، بصیر یا اس جیسی دوسری صفات کا جب اﷲ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور پر اطلاق کیا جائے تو وہ بطور مجاز ہوتا ہے کیونکہ دوسرا شخص تو صرف اﷲ تعالیٰ کی صفت کرم اور رحمت وغیرہ کا مظہر یاآئینہ ہوتا ہے (تفسیر مظہری)
توحید و شرک کے متعلق تفصیلی گفتگو ان شاء اﷲ سورۃ اخلاص کے تحت تحریر ہوگی۔
الذی علم بالقلم
اس سورت کے آغاز میں رب کریم نے دو بار پڑھنے کا حکم ارشاد فرماکر مسلمانوں کو علم و دانش کی درس گاہ کا طالب علم بننے اور جہالت کے اندھیروں سے نکل کر علم کی روشنی کی طرف آنے کا حکم دیا ہے۔ قرآن حکیم علم کی برتری کا علمبردار ہے اور علم مومن کا ہتھیار ہے۔ علم کی بغیر دنیا میں کوئی کمال حاصل نہیں ہوتا۔
اگر اﷲ تعالیٰ کے نزدیک کوئی شے علم سے بہتر ہوتی تو ملائکہ کے مقابلے میں حضرت آدم علیہ السلام کو دی جاتی، جب فرشتوں کی تسبیح و عبادت حضرت آدم علیہ السلام کے علم اسماء کے برابر نہ ٹھہری تو علم دین کا کس قدر اعلیٰ مقام ہوگا! ارشاد باری تعالیٰ ہے:
3
’’اور اﷲ تعالیٰ نے آدم کو تمام نام سکھائے پھر سب (اشیائ) کو ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا، سچے ہو تو ان کے نام تو بتائو‘‘ (البقرۃ: 31، کنزالایمان)
قرآن کریم میں یہ بھی فرمایا گیا کہ جاہل اور عالم ہرگز برابر نہیں ہیں۔ ارشاد ہوا۔
4
’’تم فرمائو کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان، نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں‘‘ (الزمر: 9، کنزالایمان)
مزید فرمایا
5
’’اﷲ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا، درجے بلند فرمائے گا‘‘ (المجادلۃ، 11، کنزالایمان)
علم کی اہمیت ہی کی بناء پر سرکار دوعالم، رحمت عالمﷺ نے فرمایا۔
’’علم دین سیکھنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے‘‘ (مسند امام اعظم، ابن ماجہ)
معلوم ہوا کہ دینی علم کا سیکھنا، سکھانا، نوافل پڑھنے اور دیگر نفل عبادات سے افضل ہے کیونکہ نوافل اور تسبیحات تو نفل ہیں مگر علم دین سیکھنا فرض ہے۔
حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہا نے فرمایا۔ ایک لمحہ رات میں علم دین پڑھنا پڑھانا ساری رات عبادت سے افضل ہے (دارمی، مشکوٰۃ)
ایک دن رسول کریمﷺ مسجد میں تشریف لائے تو دیکھا کہ وہاں صحابہ کرام دو گروہوں کی صورت میں بیٹھے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا:
دونوں مجسلیں اچھی ہیں، اور ایک دوسری سے افضل ہیں۔ یہ لوگ اﷲ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں اور اس کی طرف رغبت کرتے ہیں۔ وہ چاہے تو ان کو دے اور چاہے تو منع فرمادے اور یہ دوسری مجلس والے علم سیکھتے ہیں اور دوسروں کو سکھاتے ہیں۔ یہ افضل ہیں اور میں بھی معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں‘‘
یہ فرماکر حضورﷺ اس مجلس میں تشریف فرما ہوگے (دارمی، مشکوٰۃ)
حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ’’اﷲ تعالیٰ کا بڑا کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو ان چیزوں کا علم دیا جن کو وہ نہ جانتے تھے۔ اور ان کو جہالت کے اندھیروں سے علم کی روشنی کی طرف نکالا اور علم کتابت کی ترغیب دی۔
اس میں بے شمار فائدے ہیں جن کا اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔ تمام علوم و احکام کی تدوین، اولین و آخرین کی تاریخ اور اﷲ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی کتابیں سب قلم ہی کے ذریعے لکھی گئیں۔ اگر قلم نہ ہو تو دنیا کے تمام کام معطل ہوجائیں‘‘
قلم اﷲ تعالیٰ کی ظیم نعمت ہے۔ باری تعالیٰ نے (والقلم وما یسطرون) فرماکر قلم اور اس کی تحریروں کی قسم ارشاد فرمائی تاکہ مسلمان علم کے حصول سے اور قلم کی طاقت سے غافل نہ رہیں اور اپنے سینوں کو علم و حکمت سے لبریز کرنے کی مبارک سعی سے تھک نہ جائیں۔
مبارک ہیں وہ ہستیاں جنہوں نے اپنے اقلام سے قرآن کریم اور اس کی تفاسیر لکھیں، احادیث رسولﷺ اور آثار صحابہ محفوظ کئے فقہاء کے اقوال اور فتاویٰ تحریر کئے اور اپنی تحریروں کے ذریعے محبت و عظمت مصطفیﷺ کا نور تقسیم کیا۔ یہی وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے اپنے قلم کی سیاہی سے دین حق کو روشنکردیا۔
سورۃ العلق کی دوسری آیت میں انسان کی ادنیٰ حالت بیان ہوئی اور پھر شان کریمی کے ذکر کرکے آخری حالت علم والی بیان فرمائی۔ گویا رب تعالیٰ نے فرمایا:
میں نے انسان کو ادنیٰ سے اعلیٰ مرتبہ تک پہنچایا۔ تخلیق کرنا، زندگی دینا، قدرت و رزق دینا کرم اور ربوبیت ہے لیکن ’’اکرم‘‘ وہ ذات ہے جس نے تمہیں علم عطا کیا کیونکہ علم انتہائی افضل و اشرف صفت ہے (تفسیر کبیر، ملخصاً)
اس آیت سے علم اور قلم دونوں کی فضیلت ثابت ہوئی ہے۔ لوگوں کو قلم جیسی بے جان چیز سے علم کی دولت سے مالا مال کردینا بلاشبہ رب تعالیٰ کی شان کرم ہی کا جلوہ ہے۔ ہاں! جس قادر مطلق نے انسانوں کو قلم اور معلمین کے ذریعے علم عطا کیا ہے، اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ اپنے حبیبﷺ کو قلم اور معلم کے بغیر علوم و معارف کا سرچشمہ اور منبع بنادے۔ پس اس آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ:
’’اﷲ تعالیٰ نے ہر پڑھنے والے کو قلم کے ذریعے علم سکھایا، مگر اے حبیبﷺ آپ کارب آپ کو قلم کی تحریر کے بغیر ہی علم کا سمندر بنادے گا۔ اور اس کی یہ عطا اس کا بہت بڑا کرم ہے‘‘ (تفسیر روح المعانی)
علم الانسان مالم یعلم
قلم کے ذریعے علم سکھانے کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ’’آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا‘‘ یعنی انسان کو قلم کے ذریعے بھی اور قلم کے بغیر بھی جو کچھ سکھایا ہے وہ اﷲ تعالیٰ ہی نے سکھایا ہے۔
تعلیم کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کسی درسگاہ میں معلم و کتاب کے ذریعے سکھایا جائے۔ اس طریقہ تعلیم میں قلم کی بڑی اہمیت ہے جو مذکور ہوئی۔
تعلیم کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انسان ظاہری و باطنی حواس اور عقل و خرد کے ذریعے کسی قلم یا معلم کے بغیر فکرونظر سے علم حاصل کرے۔ یہ صلاحیتیں رب تعالیٰ کی طرف سے سب کو عطا ہوتی ہیں۔ ارشاد ہوا ’’پھر اس (انسان) کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری اس کے دل میں ڈالی‘‘ (الشمس: 8)
تعلیم کا تیسرا طریقہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کرام اور اولیائے کاملین کے لئے مخصوص ہے۔ اس طریقہ تعلیم میں کوئی انسان معلم نہیں ہوتا بلکہ رب تعالیٰ خود علم لدنی تعلیم فرماتا ہ ے۔ اس میں وحی انبیاء کرام کے لئے مخصوص ہے جبکہ الہام، سچے خواب اور فراست وغیرہ سے خاص اولیاء کرام کو رحمت عالمﷺ کے وسیلے سے فیض ملتا ہے۔
حضرت خضر علیہ السلام کے متعلق ارشاد ہوا (وعلمنہ من لدنا علما)
’’اور اسے اپنا علم لدنی عطا کیا‘‘ (الکہف: 65، کنزالایمان)
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں