حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, November 2013, خان آصف, متفرقا ت

’’مولانا نظام الدین! پیرومرشد کا اشارہ تمہاری طرف ہے‘‘
یہ سنتے ہی حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی حالت غیر ہوگئی۔ بے اختیار اپنی نشست سے اٹھے۔ سر برہنہ کیا اور حضرت شیخ علیہ الرحمہ کے سامنے خم ہوگئے۔
’’معاذ اﷲ! میرا یہ مقصد ہرگز نہیں تھا۔‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ پیر ومرشد کے ہاتھ پکڑ کر رو رہے تھے ’’سیدی! میں تو حضرت کی ذات گرامی پر اعتراض کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ بہت دیر تک گریہ وزاری کرتے رہے مگر حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے چہرہ مبارک پر عکس ملال نمایاں رہا۔ یہاں تک کہ آپ درس گاہ سے اٹھ کر اپنے حجرۂ خاص میں تشریف لے گئے۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے اپنے ہم سبق ساتھیوں کی طرف دیکھا اور نہایت رقت آمیز لہجے میں فرمایا ’’اب میں کیا کروں؟ مرشد خفا ہوگئے دنیا بھی گئی اور آخرت بھی‘‘
تمام ساتھی خاموش رہے ۔ کسی میں اظہار رائے کی جرأت نہیں تھی۔ کوئی کیسے مداخلت کرتا؟ اسے بھی راندۂ درگاہ ہوجانے کا اندیشہ تھا۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اپنے حجرے میں چلے آئے مگر ایک لمحے کے لئے بھی قرار حاصل نہیں تھا۔ ساری رات جاگتے اور روتے گزار دی۔
دوسرے دن درس میں حاضر ہوئے مگر حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے کوئی توجہ نہیں دی۔ بیتابانہ اپنی نشست سے اٹھے اور پیرومرشد کے سامنے رو رو کر عرض کرنے لگے۔
’’واﷲ! اس میں میرے ارادے کو کوئی دخل نہیں تھا۔ یہ زبان کی لغزش تھی، دل اور دماغ کی نہیں‘‘
حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آپ کے چہرہ مبارک پر عکس ملال اب بھی نمایاں تھا۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اٹھے اور الٹے قدموں چلتے ہوئے درس گاہ سے نکل کر جنگل کی طرف چلے گئے۔ دیوانہ وار روتے تھے اور بار بار اپنے آپ کو مخاطب کرکے کہتے تھے۔
’’نظام الدین! اس دنیا میں تجھ سے زیادہ بدنصیب کون ہوگا؟‘‘
یہ اضطراب حد سے بڑھا تو ایک کنویں کے قریب پہنچے اور چاہا کہ اپنے آپ کو پانی میں غرق کرکے اس جان لیوا کرب سے نجات حاصل کرلیں۔ پھر خیال آیا کہ خودکشی حرام ہے… اور اگر خودکشی جائز بھی ہوتی تو جرم اپنی جگہ پھر بھی برقرار رہتا۔ اس کے ساتھ یہ خیال بھی آیا کہ اگر تو کنویں میں ڈوب گیا تو کتنے افسانے بنیں گے پتا نہیں اس جرم میں کتنے بے گناہ لوگوں سے باز پرس کی جائے۔
الغرض حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ عجیب دور وحشت سے گزر رہے تھے۔ کئی دن تک کھانا نہیں کھایا۔ آخر حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے ایک صاحبزادے حضرت شیخ شہاب الدین علیہ الرحمہ آپ کو تلاش کرتے ہوئے جنگل پہنچے۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی شکستہ حالت دیکھ کر خود بھی رونے لگے۔
’’مولانا! یہ کیا حال بنا رکھا ہے؟‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ بس آنکھیں اشک برساتی رہیں۔ گویا آنسو ہی آپ کے غم کے ترجمان تھے۔
حضرت شیخ شہاب الدین علیہ الرحمہ اور حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ میں گہری دوستی تھی۔ پیر ومرشد کی ناراضگی کے خوف سے دوسرے مرید تو پرسش حال نہ کرسکے مگر حضرت شیخ شہاب الدین علیہ الرحمہ اپنے ساتھ کھانا لے کر گئے تھے۔
’’مولانا! کب تک فاقے کرو گے؟‘‘
’’اب کچھ اچھا نہیں لگتا‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے فرمایا۔
’’میری خاطر چند لقمے ہی کھالو‘‘ حضرت شیخ شہاب الدین علیہ الرحمہ نے کہا ’’میں بابا جان سے عرض کروں گا‘‘
یہ نوید سنتے ہی ایسا لگا جیسے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے تن مردہ میں جان پڑگئی ہو۔
پھر ایک دن تنہائی میں شیخ زادہ شہاب الدین علیہ الرحمہ نے حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ سے عرض کیا۔
’’مخدومی! مولانا نظام الدین کا بہت برا حال ہے۔ اب آپ انہیں معاف فرمادیجئے… ورنہ آپ کے قدموں سے یہ دوری انہیں ہلاک کر ڈالے گی‘‘
’’شہاب الدین! میں بھی اس کی جدائی میں مضطرب ہوں‘‘ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے لہجے سے اداسی کا رنگ نمایاں تھا ’’لوگ اسے معتوب نہ سمجھیں۔ وہ میرا محبوب ہے مگر عشق میں ایک ایسا مقام بھی آجاتا ہے کہ جس سے گزرے بغیر انسان کی تکمیل نہیں ہوتی‘‘
’’پھر مولانا نظام الدین کے لئے کیا حکم ہے؟‘‘ شیخ شہاب الدین نے عرض کیا۔
’’اسے میرا سلام پہنچائو اور کہو کہ درس گاہ اس کی منتظر ہے‘‘ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے فرمایا۔
جب حضرت شیخ شہاب الدین علیہ الرحمہ نے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو یہ مژدہ سنایا تو آپ شدت جذبات میں رونے لگے۔
’’اب کیوں روتے ہو مولانا؟‘‘ شیخ زادہ شہاب الدین نے پوچھا۔
’’اس وقت بدبختی کے احساس نے رلایا تھا۔ اب خوش بختی پر آنسو بہاتا ہوں‘‘
بہت دیر تک حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ پر وارفتگی کا عالم طاری رہا۔
پھر خانقاہ میں حاضر ہوئے اور حضرت شیخ کے سامنے اتنا روئے کہ حاضرین مجلس کی آنکھیں بھی نم آلود ہوگئیں ’’اگر باب کرم وا نہ ہوتا تو یہ سوالی کہاں جاتا؟‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے ہچکیوں کے درمیان عرض کیا۔
’’ہم نے تمہیں دہلی سے اس لئے تو نہیں بلایا تھا کہ کہیں اور چلے جانے دیتے‘‘
حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کا دست مہربان سایہ فگن تھا اور زبان مبارک سے محبت کے چشمے پھوٹ رہے تھے۔ ’’ایک بار آگئے تو بس آگئے۔ اب جہاں بھی رہو گے، ہمارے ہی رہو گے‘‘
پھر جب آتش فراق بجھ گئی تو حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ پیرومرشد کے سامنے دو زانو ہوکر بیٹھے۔
’’مولانا نظام! میں نے یہ سب کچھ تمہاری تکمیل کے لئے کیا۔ ’’حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے اپنے مرید باصفا کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’شکر ہے اس مالک حقیقی کا جس نے اپنے بندے کی دستگیری کی اور اس وادی خارزار میں مسافر عشق کو ثابت قدم رکھا‘‘ اس کے بعد حضرت بابا فرید نے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو اپنے پیرہن خاص سے سرفراز فرمایا۔
دراصل یہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی آزمائش تھی۔ ان کی محبت اور ظرف کو دیکھنا بھی تھا اور دوسروں کو دکھانا بھی۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ ایک عالم و فاضل شخص تھے اور پوری دہلی میں ’’محفل شکن‘‘ کے نام سے مشہور تھے۔ نوعمری کے باوجود علمائے وقت آپ کا احترام کرتے تھے۔ ایک ذرا سی بات پر پیرومرشد کا ناراض ہوجانا اور حاضرین مجلس کے سامنے برہمی کا اظہار کرنا کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اگر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی عقیدت سطحی ہوتی تو عرض کرسکتے تھے کہ صرف اس اطلاع پر کہ شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ کے پاس بہتر نسخہ موجود ہے۔ اس قدر غیظ و غضب کیوں؟ ظاہر کی نگاہ میں یہ کوئی گستاخی نہیں تھی مگر عشق کی نظر میں یہ جرم عظیم تھا کہ حضور شیخ لب کشائی کیوں کی؟ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کا عشق سچا تھا۔ اس لئے غلطی کے احساس نے آپ کو کئی دن تک رلایا۔ پیرومرشد کی ناراضگی کو دین و دنیا کی بربادی سمجھا۔ احساس کی یہی گہرائی حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے عشق کی صداقت پر گواہی دیتی ہے۔ امتحان یہ تھا کہ دہلی کا ’’محفل شکن‘‘ انا پرست ہے یا نیازمند۔ اگر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ انا پرست ہوتے تو پیرومرشد کے انداز تغافل سے دلبرداشتہ ہوکر دہلی واپس جاچکے ہوتے… مگر چونکہ نیازمند تھے، اس لئے دامن پھیلائے مرشد کے در پر پڑے رہے… اور پھر یہی کاسہ لیسی آپ کے کام آگئی۔ پہلے پیرومرشد کے محبوب ہوئے اور بعد میں ’’محبوب الٰہی‘‘ بن گئے۔
٭…٭…٭
اسی زمانے میں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے ایک فاضل دوست کسی کام سے اجودھن آئے۔ جب حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو خبر ہوئی تو آپ ملاقات کے لئے تشریف لے گئے۔ وہ دوست اپنے کسی شناسا کے مکان پر ٹھہرے تھے اور یہ مکان اجودھن کے بازار میں واقع تھا۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے پھٹے پرانے کپڑے دیکھ کر دوست کو شدید تکلیف پہنچی۔
’’مولانا نظام الدین علیہ الرحمہ! یہ کیا حال بنا رکھا ہے؟‘‘ دوست نے انتہائی افسردہ لہجے میں کہا۔
’’اﷲ اپنے بندے کو جس حال میں بھی رکھے، مقام شکر ہے‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے ٹالنے کی کوشش کی ’’تم کیسے ہو؟ اہل خانہ عافیت سے ہیں؟‘‘ اس کے بعد دہلی کے دوسرے دوستوں کی خیریت پوچھتے رہے۔
دوست نے کوئی جواب نہیںدیا۔ وہ اداس نظروں سے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی ظاہری حالت کو دیکھتا رہا۔ ’’مولانا نظام! تمہیں وہ دن یاد ہیں جب میں اور تم دہلی کی علمی مجلسوں میں مناظرے کیا کرتے تھے؟‘‘
’’ہاں! یاد ہے‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے فرمایا۔
’’پھر تم نے یہ کیسی زندگی اختیار کی ہے؟‘‘ دوست نے افسوس کرتے ہوئے کہا
’’اگر تم دہلی میں قیام کرتے اور درس و تدریس میں مشغول ہوتے تو مجتہد زمانہ کہلاتے اور بڑی شان و شوکت سے زندگی گزارتے‘‘
’’تمہارا حسن ظن اپنی جگہ، مگر میں اس طرز زندگی سے راضی ہوچکا ہوں‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے فرمایا اور دوست سے گزرے زمانے کی باتیں کرتے رہے۔
پھر جب خانقاہ میںواپس پہنچے تو پیرومرشد نے طلب کرکے فرمایا۔ ’’مولانا نظام! اگر کسی دوست سے تمہاری ملاقات ہو اور وہ تم سے کہے کہ یہ کیا حال بنا رکھا ہے… اور درس و تدریس کا وہ سلسلہ کیوں چھوڑ دیا جو فارغ البالی اور خوش حالی کا ذریعہ بنتا… اور تم یہ کیسی زندگی بسر کررہے ہو؟‘‘
پیرومرشد کے ارشادات سن کر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ حیرت زدہ رہ گئے۔ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے دوست سے ملاقات کا حال اس طرح بیان کردیا جیسا آپ بہ نفس نفیس یہاں موجود تھے۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو حیران پاکر پیرومرشد نے فرمایا’’مولانا تم اپنے اس دوست کے سوالوں کا کیا جواب دو گے؟‘‘
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں