کچھ عرصہ سے بعض لوگوں نے یزید بن معاویہ کو جنتی ثابت کرنے کا پروپیگنڈہ شروع کررکھا ہے اور اس کے لئے بخاری شریف کی حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے۔ یوںیزید کو امیرالمومنین اور رحمتہ اﷲ علیہ کہنے کی دلیل بنائی جاتی ہے۔ لہذا قارئین کرام کے سامنے اس حدیث سے متعلق گزارشات پیش خدمت ہیں۔
سب سے پہلے بخاری شریف کی حدیث ملاحظہ فرمایئے۔
قال النبیﷺ اول جیش من امتی یعزون مدینۃ قیصر مغفور لہم
ترجمہ: حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر روم کے شہر پر حملہ کرے گا اس کی مغفرت فرمادی گئی ہے (۱)
بخاری شریف کی درج ذیل حدیث سے بھی استدلال کیا جاتا ہے:
قال محمود بن الربیع فحدثنہا قوما فیہم ابو ایوب الانصاری صاحب رسول اﷲﷺ فی غزوتہ التی توفی فیہا ویزید بن معاویۃ علیہم بارض الروم (۲)
ترجمہ: حضرت محمود بن ربیع رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک قوم کو حدیث بیان کی جس میں حضورﷺ کے صحابی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ بھی تھے جو ارض روم کے غزوات میں انتقال فرماگئے تھے اور یزید بن معاویہ اس غزوہ کا امیر تھا۔
جوابا گزارش ہے کہ ان روایات سے یزید کے جنتی ہونے کا استدلال کرنا کئی وجوہ سے باطل ہے
1:مغفرت کی بشارت والی حدیث میں قسطنطنیہ کے الفاظ کسی کتاب میں نہیں
2: بشارت والی حدیث میں ہے کہ جو پہلا لشکر قیصر روم کے شہر پر حملہ کرے گا، وہ مغفور لہم ہوگا
3۔ یزید بن معاویہ اس لشکر میں شامل تھا جس میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ شامل تھے اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔
4۔ یہ لشکر آخری غزوہ کا تھا جو ۵۲ ہجری کو ہوا۔
5۔ محدثین نے اس کی شرح کرتے ہوئے کیا یزید کو مغفور لہم میں شامل کیا؟
قیصر روم پر پہلا غزوہ اور بشارت مغفور لہم
1۔ حافظ ابن کثیر دمشقی لکھتے ہیں: ۳۲ ہجری میں سیدنا معاویہ رضی اﷲ عنہ نے بلاد روم پر چڑھائی کی۔ یہاں تک کہ قسطنطنیہ تک پہنچ گئے (۳)
حافظ ابن کثیر دوسرے مقام پرلکھتے ہیں: خلیج قسطنطنیہ کی جنگ سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کی امارت میں ۳۲ ہجری میں ہوئی اور وہ خود اس سال لوگوں پر امیر تھے۔
اسی طرح درج ذیل کتابوں میں بھی ہے کہ وہ غزوہ ۳۲ ہجری میں ہوا۔
1۔ المنظم از ابن جوزی 19/5
2۔ تاریخ طبری 304/4
3۔ العبر از امام ذہبی 24/1
4۔ تاریخ اسلام امام ذہبی (یزید کی اس وقت عمر تقریبا چھ سال تھی) (۴)
امام ذہبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
فیہا کانت وقعۃ المضیق بالقرب من قسطنطنیۃ وامیرہا معاویۃ
اس سن میں مضیق کا واقعہ ہوا جو کہ قسطنطنیہ کے قریب ہے اور اس کے امیر ’’معاویہ‘‘ رضی اﷲ عنہ تھے۔(۵)
حضرت امیر معاویہ نے یہ حملہ دور عثمان غنی رضی اﷲ عنہ میں کیا۔
2۔ اس حدیث میں مدینۃ قیصر سے مراد ’’حمص‘‘ ہے نہ کہ قسطنطنیہ لہذا بشارت مغفرت کے امین حمص پر حملہ کرنے والے مجاہدین ہیں نہ کہ مجاہدین قسطنطنیہ اور حمص پر حملہ ۱۵ ہجری میں ہوا جوکہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا دور خلافت تھا۔
حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں:
’’پندرہ ہجری میں حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ کی قیادت میں ایک لشکر حمص روانہ کیا اور بعد میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بھی اس کے ساتھ شامل ہوگئے۔ سخت سردیوں کے موسم میں مسلمانوں نے حمص کا محاصرہ کیا۔ سردیوں کے اختتام تک محاصرہ جاری رہا۔ بالاخر حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے حمص فتح کرلیا۔ حضرت بلال حبشی حضرت مقداد رضی اﷲ عنہم اور دیگر امراء کے ذریعے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے پاس فتح کی خوشخبری اور حمس روانہ کیا (۶)
شیخ الاسلام محمد صدر الصدور نے بھی ’’مدینۃ قیصر‘‘ سے مراد ’’حمص‘‘ لیا ہے۔ فرماتے ہیں: بعضے تجویز کنندہ کہ مراد ’’بمدینۃ قیصر‘‘ مدینہ باشد کہ قیصر در آنجابود روزی کہ فرمود ایں حدیث را آنحضرت و آں حمص است کہ در آن وقت دار مملکت او بود واﷲ اعلم۔
بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ شہر قیصر سے مراد وہی شہر ہے کہ جہاں قیصر اس روز تھا جس روز حضورﷺ نے یہ حدیث فرمائی اور یہ شہر حمص تھا جو اس وقت قیصر کا دارالسلطنت تھا۔ واﷲ اعلم (۷)
عامہ حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
وجوز بعضہم ان المراد بمدینۃ قیصر المدینۃ التی کان بہا یوم قال النبیﷺ تلک المقالۃ وہی حمص و کانت دار مملکتہ اذ ذاک
اور بعض علماء کے نزدیک مدینہ قیصر سے مراد وہ شہر جہاں قیصر اس دن تھا (یعنی جو اس کا دارالسلطنت تھا) جس دن حضورﷺ نے یہ فرمان فرمایا: وہ حمص ہے جو اس وقت انکار دارالسلطنت تھا (۸)
اس وقت ۱۵ ہجری میں یزید پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ بعض مورخین محدثین نے یزید بن معاویہ کو اول جیش کا امیر لکھا ہے۔ یہ سہواً ہوا ہے کہ کیونکہ وہ امیر یزید بن فضالہ بن عبید تھے یہاں یزید بن معاویہ کا نام راوی کی غلطی ہے۔
حافظ ابن کثیر دمشقی فرماتے ہیں: عمران بن اسلم کہتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب انصاری بھی ہمارے لشکر میں شامل تھے۔
وکنا بالقسطنطنیہ وعلی اہل مصر عقبۃ بن عامر و علی اہل الشام رجل یزید ابن فضالۃ ابن عبید
اور ہم قسطنطنیہ میں تھے۔ اہل مصر پر عقبہ بن عامر اور اہل شام پر یزید بن فضالہ بن عبید امیر تھے (۹)
سنن ابو دائود کی یہ روایت بھی ملاحظہ ہو:
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح ناابن وہب نا حیوۃ بن شریح و ابن لہیہ عن یزید بن ابی حبیب عن اسلم ابی عمران قال غزونا من المدینۃ یزید القسطنطنیۃ وعلی الجماعۃ عبدالرحمن بن خالد بن ولید
ابو عمران کا بیان ہے کہ ہم جہاد کرنے کے لئے مدینہ منورہ سے قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہوئے اور سپہ سالار عبدالرحمن بن خالد بن ولید تھے (۱۰)
اس کے علاوہ ایک اور روایت بھی یہ اشارہ کرتی ہے کہ عبدالرحمن بن خالد بن ولید لشکر کے امیر تھے۔
حدثنا سعید بن منصور ثنا عبداﷲ بن وہب قال اخبرنی عمر بن الحارث عن بکیر بن الاشجع عن ابن الاشج عن ابن تفلی قال غزونا من عبدالرحمن بن خالد بن الولید فاتی باربعۃ اعلاج من العدود فامرہم فقتلوا صبرا قال ابو دائود قال لنا غیر سعید عن ابن وہب فی ہذا الحدیث قال بالنبل صبرا فبلغ ذالک ابا ایوب الانصاری قال سمعت رسول اﷲﷺ ینہی عن قتل الصبر فوالذی نفسی بیدہ لو کانت دجاجۃ ماصبرتہا فبلغ ذالک عبدالرحمن ابن خالد بن الولید فاعتق اربع رقاب
بکیر بن اشجع نے ابن تفلی سے روایت کی ہے کہ ہم نے عبدالرحمن بن خالد بن ولید کی معیت میں جہاد کیا تو دشمن کے چار قیدی لائے گئے جن کے متعلق آپ نے حکم دیا تو انہیں باندھ کر قتل کیا گیا۔ امام ابو دائود نے فرمایا کہ سعید کے علاوہ دوسروں نے ابن وہب کے واسطے سے یہ حدیث ہم سے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ باندھ کر تیروں کے ساتھ۔ جب یہ بات ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا۔ میں نے رسول اﷲﷺ کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرماتے ہوئے سنا۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ اگر مرغی بھی ہو تو اسے نہ باندھوں گا۔ جب یہ بات عبدالرحمن بن خالد بن ولید کو پہنچی تو انہوں نے چار غلام آزاد کئے (۱۱)
بشارت والی حدیث اور محدثین
بشارت والی حدیث کی شرح کرتے ہوئے محدثین کرام نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں وضاحت فرمائی ہے کہ یزید قطعاً اس بشارت کا مصداق نہیں ہے اور مغفرت عموم سے بالکل خارج ہے۔ مگر افسوس کہ اکثر غیر مقلدین اور دیوبندی مکتبہ فکر کے علماء نے اس حدیث سے یہی باور کرایا ہے کہ یزید جنتی ہے اور اس پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جیسے ’’رشید ابن رشید‘‘ نامی کتاب پر ان دونوں مکاتب فکر کے علماء کی تصدیقات ہیں۔ اسی طرح دیگر کئی کتب جو یزید کو امیر المومنین اور رحمتہ اﷲ علیہ ثابت کرنے کے لئے لکھی گئی ہیں۔ ان میں محدثین کی نامکمل عبارات لکھ کر لوگوں کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ محدثین کی تصریحات ملاحظہ فرمایئے۔
قولہ قد اوجبوا فعلوا وحبت لہم بہ الجنۃ قولہ مدینۃ قیصر ای ملک الروم قال قسطلانی کان اول من غزا مدینۃ قیصر یزید ابن معاویۃ وجماعۃ من سادات الصحابۃ کابن عمروابن عباس وابن الزبیر وابی ایوب انصاری وتوفی بہا ابو ایوب اثنتین وخمیسن من الہجرۃ انتہیٰ کذا قالہ فی الخیر الباری و فی الفتح قال المہلب فی ہذا الحدیث منقبۃ لمعاویۃ لانہ اول من غزا البحر ومنقبۃ لو لدہ لانہ من غزا مدینۃ قیصر وتعقبہ ابن التین وابن المنیر بما حاصلہ انہ لایلزم من دخولہ فی ذالک المعموم ان لا یخرج بدلیل خاص اذ لا یختلف اہل العلم ان قولہﷺ مغفور لہم مشروط بان تکونوا من اہل المغفرۃ حتی لو ارند واحد ممن غزا ہا بعد ذالک لم یدخل فی ذالک العموم اتفاقاً فدل علی ان المراد مغفور لمن وجد شرط المغفرۃ فیہ منہم
ترجمہ: قولہ قد اوجبوا‘‘ ان کے لئے جنت واجب ہے۔ مدینہ قیصر یعنی ملک روم، قسطلانی فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے مدینہ قیصر پر یزید بن معاویہ نے جہاد کیا۔ اس کے ساتھ سادات صحابہ کی ایک جماعت تھی۔ مثلا حضرت ابن عمر، ابن عباس، ابن زبیر اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہما۔ اور آپ کا انتقال بھی ۵۲ ہجری میں وہیں پر ہوا۔ خیرالباری اور فتح الباری میں ہے کہ مہلب نے کہا کہ اس حدیث میں حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کی منقبت ہے کیونکہ انہوں نے سب سے پہلے بحری لڑائی کی اور آپ کے بیٹے (یزید) کی منقبت ہے کہ اس نے قسطنطنیہ میں جنگ کی ابن تین اور ابن منیر نے مہلب کا تعاقب کیا اور انہوں نے کہا کہ اس عموم میں داخل ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کسی دلیل خاص سے اس بشارت سے خارج نہ ہوسکے کیونکہ اہل علم کا اس میں ہرگز کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حضورﷺ کا یہ فرمان اہلیت مغفرت کے ساتھ مشروط ہے حتی کہ اگر ان (مجاہدین) میں سے کوئی مرتد ہوجائے تو وہ اس (بشارت) کے عموم سے ہرگز داخل نہیں ہوگا۔ پس ثابت ہوا کہ مغفور لہم کی بشارت انہی کے لئے ہے جن میں شرط مغفرت پائی جائے گی (۱۲)
علامہ قسطلانی نے بھی یہی کچھ لکھا اور مزید فرمایا کہ (یزید) بنو امیہ کی حمیت کی وجہ سے اس غزوہ پر گیا تھا (۱۳)
حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ نے بھی تقریبا یہی بات لکھی ہے (۱۴)
علامہ بدرالدین عینی علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
وکان فی ذالک الجیش ابن عباس وابن عمرو ابن زبیر وابو ایوب الانصاری قلت الاظہروا ان ہؤلاء السادات من الصحابۃ کانوا مع سفیان ہذا فلم یکونوا مع یزید لانہ لم یکن اہلاً ان یکون ہولاء السادات فی خدمتہ قال المہلب فی ہذا الحدیث منقبۃ لمعاویۃ کان اول من غزا البحر ومنقبۃ لولدہ یزید لانہ اول من غزا مدینۃ قیصر قلت ای منقبۃ لیزید وحالہ مشہور فان قلت قالﷺ فی حق ہذا الجیش مغفور لہم قلت قیل لا یلزم من دخولہ فی ذالک العموم ان لا یخرج بدلیل خاص اذالا یختلف اہل العلم ان قولہﷺ مغفور لہم مشروط بان یکوانو من اہل المغفرۃ حتی لو ارتد واحد ممن غزاہا بعد ذالک لم یدخل فی ذالک العموم فدل علی انا المراد مغفور لمن وجد شرط المغفرۃ منہم
ترجمہ: اور اس لشکر میں ابن عباس، ابن عمر، ابن زبیر اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہم تھے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ سادات صحابہ حضرت سفیان بن عوف رضی اﷲ عنہ کی قیادت میں تھے۔ نہ کہ یزید بن معاویہ کی سرکردگی میں کیونکہ یزید ہرگز اس قابل نہ تھا کہ سادات صحابہ اس کی سرکردگی میں ہوں۔ مہلب نے کہا اس حدیث میں حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کی منقبت ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے جنگ لڑی اور ان کے بیٹے یزید کی منقبت ہے جبکہ اس کا حال مشہور ہے۔ اگر تم کہو کہ رسولﷺ نے اس لشکر کے لئے ’’مغفور لہم‘‘ فرمایا تو ہم کہتے ہیں کہ عموم میں داخل ہونے کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ دلیل خاص سے خارج نہ ہوسکے، کیونکہ اس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں کہ رسول اﷲﷺ کا ارشاد مغفور لہم مشروط ہے کہ وہ آدمی مغفرت کا اہل ہو۔ حتی کہ اگر غازیوں میں کوئی مرتد ہوجائے تو وہ اس عموم میں داخل نہیں رہتا۔ پس ثابت ہوا کہ مغفرت اسی کے لئے ہے جو مغفرت کا اہل ہوگا۔ (۱۵)
یزید بن معاویہ جس لشکر میں شامل تھا وہ ۵۲ ہجری میں قسطنطنیہ پر حملہ آور ہوا تھا۔ جبکہ پہلا حملہ اس سے بہت پہلے ہوچکا تھا۔ جیسا کہ پچھلے اوراق میں تفصیلاً ذکر کی گئی۔ یزید والا لشکر ۵۲ ہجری میں حملہ آور ہوا تھا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس لشکر میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ بھی شامل تھے اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ۵۲ ہجری میں ہوا۔
1۔ علامہ ابن کثیر دمشقی فرماتے ہیں۔
وذالک سنۃ ۵۲ہ اثنتین وخمسین ومعہم ابو ایوب فمات ہناک
اسی سال ۵۲ ہجری میں ان کے ساتھ ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ بھی تھے اور آپ کا انتقال بھی وہیں ہوا تھا (۱۶)
2۔ علامہ ذہبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔
وکان ابو ایوب سنۃ ۵۲ ہجری
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ۵۲ ہجری میں ہوا (۱۷)
3۔ علامہ ابن اثیر نے ۵۲ ہجری کے حوادث میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ کی وفات کا ذکر کیا ہے۔ (۱۸)
4۔ یزید کے حامی محمود احمد باسی نے بھی طبقات ابن سعد کے حوالے سے لکھا:
وتوفی ابو ایوب انصاری عام غزا یزید ابن معاویۃ القسطنطنیۃ خلافۃ ابیہ سنۃ ۵۲ھ (۱۹)
5 علامہ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
وکانت غزوۃ یزید المذکورۃ فی سنۃ اثنتین فی خمیس من الہجرۃ وفی تلک الغزوۃ مات ابو ایوب الاناصری فاوحی ان یدفن عند باب القسطنطنیۃ
ترجمہ: اور یزید کا مذکورہ غزوہ ۵۲ ھ میں ہوا۔ اسی غزوہ میں ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا اور انہوں نے وصیت فرمائی کہ مجھے قسطنطنیہ کے دروازے کے پاس دفن کیا جائے۔
ان تمام حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ یزید کے لشکر میں شامل تھے اور وہ لشکر ۵۲ھ میں قسطنطنیہ پر حملہ آور ہوا اور اسی حملہ میں صحابی رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ کی وفات ہوئی اور یہ قسطنطنیہ پر آخری حملہ تھا۔ جبکہ مغفرت کی بشارت والی حدیث میں صراحت ہے کہ ’’پہلا لشکر جو ہوگا اس کی مغفرت ہوگی‘‘ دوسری طرف دیکھئے کہ یزید اس غزوہ میں شوق یا جوش جہاد سے نہیں گیا بلکہ مجاہدین کو پہنچنے والی تکالیف پر خوشی کا اظہار کرنے کی وجہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے اسے جبراً بھیجا تھا۔
علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں: ۵۰ ہجری میں حصرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے ایک بہت بڑا لشکر حضرت سفیان بن عوف کی قیادت میں بلاد روم پر حملے کے لئے بھیجا اور اپنے بیٹے یزید کو بھی اس میں شریک ہونے کو کہا لیکن اس نے بڑی گرانی محسوس کی تو اسے آپ نے چھوڑ دیا۔ پھر لوگوں کو یہ اطلاع ملی کہ اس لشکر کے مجاہدین سخت بھوک اور بیماری کا شکار ہوئے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو اطلاع ملی کہ یزید نے اس لشکر کا حال سن کر یہ اشعار پڑھے۔
مان ابا لی بمالاقت جمود عہم بالفد قد البید من الحمیٰ ومن شوم اذا اتطات علی الانماط مرتفقا بدید مران عندی ام کلثوم وہی امراتہ بنت عبداﷲ ابن عامر فخلف لیخلفن بہم فسار فی جمع کثیر
ترجمہ: مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ بخار اور بدقسمتی کی وجہ سے اس کھلے صحرا میں ان لشکروں پر کیا بیتی۔ جبکہ میں نے دیر مران میں بلند ہوکر قالینوں پر تکیہ لگالیا۔ اور میرے پہلو میں ام کلثوم موجود ہے۔ یہ عبداﷲ بن عامر کی بیٹی (اور یزید کی بیوی تھی) تو حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے قسم کھائی کہ یزید کو اس لشکر کے ساتھ بھیجیں گے چنانچہ جماعت کثیرہ کے ساتھ وہاں چلا گیا(۲۰) علامہ ابن اثیر نے بھی یہی بات لکھی ہے (۲۱)
اگر بالفرض یزید کو بشارت والی حدیث کا مصداق مان لیا جائے تو اس حدیث کا مفاد صرف یہ ہے کہ یزید کے اس وقت تک جتنے گناہ تھے، وہ بخش دیئے گئے۔ بعد میں یزید کے افعال قبیحہ نے اسے اس بشارت سے محروم کردیا کیونکہ جہاد ایک عمل خیر ہے جس سے سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں، لیکن بعد والے معاف نہیں ہوتے۔ چنانچہ شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’حضورﷺ کی اس حدیث پاک ’’مغفور لہم‘‘ سے بعض لوگوں نے یزید کی نجات پر استدلال کیا ہے کیونکہ وہ اس دوسرے لشکر میں شریک تھا بلکہ اس کا افسر و سربراہ تھا۔ جیسا کہ تاریخ گواہی دیتی ہے اور صحیح بات یہ ہے کہ اس حدیث سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس غزوہ سے پہلے جو اس نے گناہ کئے وہ بخش دیئے گئے، کیونکہ جہاد کفارات میں سے ہے اور کفارات کی شان یہ ہے کہ وہ سابقہ گناہوں کے اثر کو زائل کرتا ہے۔ بعد میں ہونے والے گناہوں کے اثر کو نہیں۔ ہاں اگر اسی کے ساتھ یہ فرما دیا ہوتا کہ قیامت تک کے لئے اس کی بخشش کردی گئی ہے تو بے شک یہ حدیث اس کی نجات پر دلالت کرتی۔ اور جب یہ صورت نہیں تو نجات بھی ثابت نہیں، بلکہ اس صورت میں اس کا معاملہ اﷲ تعالیٰ کے سپرد ہے اور اس غزوہ کے بعد جن جن برائیوں کا وہ مرتکب ہوا ہے، جیسے امام حسین رضی اﷲ عنہ کو شہید کروانا، مدینہ طیبہ  کو تاخت و تاراج کرانا، شراب نوشی پر اصرار کرنا، ان سب گناہوں کا معاملہ اﷲ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے۔ چاہے تو معاف کرے، چاہے تو عذاب دے۔ جیسا کہ تمام گناہ گاروں کے حق میں یہ ہی طریقہ رائج ہے‘‘  (۲۲)
یہی مفہوم علامہ قسطلانی نے ’’ارشاد الساری ۵/۱۲۵، اور علامہ بدرالدین عینی نے ’’عمدۃ القاری ۱۲/۱۰‘‘ میں فرمائی ہے۔
غیر مقلدین کے حافظ زبیر علی زئی نے ماہنامہ ’’الحدیث‘‘ شمارہ ۶ ص ۴ اور عبداﷲ دامانوی نے ماہنامہ ’’محدث‘‘ جنویر ۲۰۱۰ء ص ۴۸ میں اور مولانا ارشاد الحق نے بھی ماہنامہ ’’محدث‘‘ اگست ۱۹۹۹ء میں یہی موقف اپنایا ہے کہ یزید اس حدیث کا مصداق نہیں اور نہ اس حدیث سے اس کی نجات ثابت ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی ذات غفور الرحیم ہے۔ وہ مالک یوم الدین ہے۔ وہ اگر یزید کو بخشنا چاہے تو اس کی مرضی، لیکن قواعد شرعیہ کی رو سے عترت پیغمبر کے قاتل ، مدینۃ الرسول کو تاخت و تاراج کرنے والے اور حرم کعبہ پر سنگ بازی کے مجرم یزید کو جنتی کہنا بہت بڑی جہالت، سخت لادینیت ہے۔
وماتوفیقی الا باﷲ العلی العظیم
حوالہ جات
۱۔صحیح بخاری کتاب الجہاد ما قیل فی قتال الروم رقم الحدیث ۲۹۲۴، صحیح بخاری مترجم ۲/۱۰۷ باب نمبر ۱۳۷، کتاب الجہاد والسیر رقم الحدیث ۱۸۴ طبع لاہور ترجمہ عبدالحکیم خان اختر شاہجہانپوری، صحیح بخاری مترجم وحید الزماں ۲/۱۸۸ باب نمبر ۱۳۷ کتاب الجہاد والسیر پارہ نمبر ۱۱ رقم ۱۸۵ طبع لاہور، البدائیہ والنہایہ ص ۹۶۹ باب نمبر ۷۲ ما قیل فی قتال الروم مکتبہ بیت الافکار، المستدرک حاکم ۴/۵۹۹ رقم الحدیث ۸۶۶۸، سلسلۃ الحادیث الصحیحہ ۱/۷۶ رقم ۲۶۸، حلیۃ الاولیائ، ابو نعیم اصفہانی، مسند الشامین طبرانی
۲۔ صحیح بخاری ۱/۱۵۸ کتاب التہجدباب صلوٰۃ النوافل جماعۃ
۳۔ البدایہ والنہایہ ۷/۱۵۹
۴۔ دیکھئے تقریب التہذیب ۲/۳۳۲
۵۔ تاریخ اسلام: امام ذہبی، عہد خلفائے راشدین ص ۳۷۱
۶۔ البدایہ والنہایہ ۷/۵۲
۷۔ شرح فارسی صحیح بخاری، برحاشیہ تیسر القاری ۴/۶۶۹
۸۔ فتح الباری۱۲/۶۱
۹۔ تفسیر ابن کثیر ۱/۲۱۷
۱۰۔ سنن ابو دائود مع احکام البانی ص ۴۴۱ باب فی قولہ عزوجل ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکہْ کتاب الجہاد رقم ۲۵۱۲ (صحیح)، سنن ابو دائود مترجم ۲/۲۸۱ طبع لاہور، مستدرک حاکم ۲/۱۴۰ رقم ۴۸۹ طبع قاہرہ، جامع البیان فی تفسیر القرآن ۲/۱۱۸،۱۱۹، احکام القرآن از حصاص ۱/۳۲۶، تفسیر ابن ابی حاتم رازی ۱/۳۳۰،۳۳۱
۱۱۔ سنن ابو دائود مترجم ۲/۳۴۳ ، مصنف ابن ابی شیبہ ۵/۳۹۸، مسند احمد ۵/۴۲۳، برقم ۲۳۹۸۷، صحیح ابن حباب ۸/۴۵۰، طبرانی ۴/۴۹، رقم ۴۰۰۲، الطحاوی ۳/۱۸۲، السنن الکبریٰ بیہقی ۹/۷۱، سنن دارمی ۲/۱۱۳، رقم ۱۹۷۴، سنن سعید بن منصور ص ۶۶۷
۱۲۔ بخاری شریف کی حدیث کا حاشیہ جلد اول ص ۴۰
۱۳۔ دیکھئے: ارشاد الساری شرح بخاری ۵/۱۲۵
۱۴۔ فتح الباری شرح بخاری ۱۲/۶۱
۱۵۔ عمدۃ القاری شرح بخاری ۱۲/۱۰ مطبوعہ مصر
۱۶۔ البدایہ والنہایہ ۸/۵۹
۱۷۔ تذکرۃ الحفاظ ۱/۲۹
۱۸۔ ابن اثیر ۳/۴۹۲
۱۹۔ خلافت معاویہ ویزید ص ۷۹
۲۰۔ تاریخ ابن خلدون ۳/۱۹،۲۰
۲۱۔ ابن اثیر ۳/۴۵۸
۲۲۔ شرح تراجم ابواب البخاری ص ۳۱،۳۲