امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا توہین رسالت پر فیصلہ

in Articles, Tahaffuz, June 2011, متفرقا ت

الآن عز الاسلام…آج اسلام غالب (معزز) ہوگیا

ترجمہ: بحرین میں چند بچے ہاکیوں سے کھیل رہے تھے اور بحرین کے عیسائیوں کا (بڑا پادری) بشپ بھی (قریب ہی) بیٹھا ہوا تھا۔ دوران کھیل گیند اس کے سینے پر جالگی۔ اس نے گیند اٹھا کر (اپنے پاس رکھ لی اور) منت سماجت کے باوجود (گیند) دینے سے انکار کردیا۔ بچوں میں سے ایک نے آگے بڑھ کر گیند واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ’’سالتک بحق محمدﷺ الا رددتھا علینا‘‘ تمہیں نبی کریمﷺ کا واسطہ گیند ہمیں واپس کردو۔ اس ملعون نے گیند واپس دینے کی بجائے رسول اﷲﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کردی۔ (پادری کی طرف سے توہین رسالت ہوتے ہی) غیرت اسلامی سے سرشار ننھے منے محمدی شیروں نے اس ملعون پادری کو ہاکیوں ہی سے مار مار کر واصل جہنم کردیا۔

(المستطرف فی کل فن مستظرف، امام شہاب الدین محمد بن احمد ابیالفتح الاشہبی، باب 75، صفحہ 689، مطبع موسستہ المختار قاہرہ، مصر)

یہ مقدمہ خلیفہ وقت سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کی عدالت میں پیش کیا گیا (تو اس وقت آپ کی کیفیت دیدنی تھی) راوی کہتے ہیں کہ اس واقعہ سے قبل سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو بڑی بڑی فتوحات حاصل ہوئیں اور بیش قیمت مال غنیمت بھی ملا لیکن آپ ان سب چیزوں سے اتنا خوش نہ ہوئے جتنا ان بچوں کے ہاتھوں گستاخ رسول عیسائی پادری کے قتل پر خوش تھے۔ اس موقع پر آپ نے تاریخ ساز جملہ ارشاد فرمایا ’’الآن عزالاسلام‘‘ یعنی (گستاخ رسول کے ناپاک وجود سے زمین کو پاک کرنے کی برکت سے) آج اسلام غالب (معزز) ہوگیا۔

پھر عیسائیوں کو مخاطب ہوکر فرمایا جب ان بچوں کے آقا و مولا نبی کریمﷺ کے متعلق گندی زبان استعمال کی گئی تو کیا پھر بھی وہ غصے میں نہ آتے؟ اور اپنے آقا و مولاﷺ کے ساتھ وفاداری کا ثبوت نہ دیتے؟ (اس کے بعد سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے اس گستاخ پادری کے قتل کو درست قرار دیتے ہوئے بچوں کے حق میں فیصلہ صادر کیا اور فرمایا… سنو! اس (گستاخ) عیسائی پادری کے خون کی کوئی قیمت نہیں۔

چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے

رفعت شان و رفعنالک ذکرک دیکھے

٭٭٭