وعہدنا الیٰ ابراہیم واسمٰعیل ان طہرا بیتی للطآئفین والعٰکفین والرکع السجود O

۱۲۶۔ واذ قال ابراہیم رب اجعل ہذا بلداً اٰمناً وارزق اہلہ من الثمرٰت من امن منہم باﷲ والیوم الآخر، قال ومن کفر فامتعہ قلیلا ثم اضطرہ الی عذاب النار، وبئس المصیر O

۱۲۷۔ واذیرفع ابراہیم القواعد من البیت

اور تاکیدی حکم بھیجا ہم نے ابراہیم و اسمٰعیل کی طرف کہ تم دونوں پاک و صاف رکھو میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع والوں، سجدہ والوں کیلئے

اور جبکہ دعا کی ابراہیم نے کہ اے پروردگار کردے اس کو پناہ دینے والا شہر اور روزی دے یہاں والوں کو پھلوں سے، جو مان گیا ان میں سے اﷲ اور پچھلا دن۔ فرمایا، لو اور جس نے انکار کیا، تو برتنے دوں گا اسے کچھ، پھر مجبور کردوں گا اسے عذاب جہنم کی طرف۔ اور وہ برا ٹھکانہ ہے

اور جب کہ اٹھا رہے ہیں ابراہیم بنیادوں کو، اس گھر کی،

… پھر حضرت ابراہیم ایک دن آئے اور حضرت اسماعیل سے ملے، عجیب منظر تھا جب باپ بیٹے ملے تھے۔ حضرت ابراہیم نے کہا کہ بیٹا مجھے ایک کام کرنا ہے، جس کا اﷲ تعالیٰ نے حکم دیاہے۔ تم اس میں مدد کرو گے؟ عرض کی کہ ضرور، مدد میں حاضر ہوں۔ فرمایا: یہاں بیت اﷲ شریف بنانا ہے (اور) ہمارے حکم کا لب و لہجہ یہ تھا کہ بڑا ہی (تاکیدی حکم بھیجا ہم نے ابراہیم و اسماعیل کی طرف) دونوں کو تاکیدی حکم دیا کہ کعبہ شریف بنا کر (تم دونوں) ہر قسم کی نجاست اور مجرمانہ حرکت سے (پاک صاف رکھو) اپنی نسل کو تاکید کردو کہ وہ بھی پاک رکھیں (میرے) اس (گھر) کعبہ شریف (کو) عام طور پر (طواف کرنے والوں اور) نماز میں (رکوع) کرنے والوں (سجدہ) کرنے (والوں کے لئے) ہمارے تمام پجاری ہماری پوجا یہاں آزادی سے کرتے رہیں۔

(اور) عجیب منظر تھا (جب کہ) مکہ کی سوکھی پہاڑیوں اور بے آب و گیاہ وادیوں اور ناقابل کاشت اراضیوںکو دیکھ کر (دعا کی) تھی حضرت ابراہیم نے کہ (اے) میرے (پروردگار) تو اپنے کرم سے (کردے اس) آبادی (کو) بے پناہوں کے لئے ایک (پناہ دینے والا شہر) سارا جہاں یہاں پناہ پائے (اور) خوب (روزی دے) فراغت کے ساتھ (یہاں) بسنے (والوں کو) ہر قسم کے عمدہ (پھلوں سے) میں سرکشوں کے لئے نہیں کہتا، میں اس کے لئے کہتا ہوں (جو مان گیا ان) یہاں کے رہنے والوں (میں سے اﷲ) تعالیٰ کو (اور) مان گیا (پچھلا دن) روز قیامت کو۔ اﷲ تعالیٰ کو مان کر اس کے سارے انبیاء وغیرہم جن کے ماننے کا اس نے حکم دیا ہے، سب کو ماننا پڑے گا۔ عذاب و ثواب، روز حشر کو مان کر، نیک راہ پر چلنا پڑے گا۔ غرض جو پکا مسلمان ہو اس کے لئے میری دعا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے (فرمایا) کہ مسلمانوں کے حق میں تمہاری دعا بالکل مقبول ہے (اور) یہاں بس کر (جس نے انکار کیا) اور کفر ہی کمایا (تو) اس مقام کی برکت سے اس کو بالکل محروم نہ رکھوں گا۔ اس کو کھانے پینے (برتنے) کا موقع (دوں گا اسے کچھ) نہ کچھ زندگی کا سہارا عطا کروں گا۔ مگر بس اسی زندگی تک یہ کرم رہے گا۔ جب وہ مر جائے گا تو (پھر مجبور کردوں گا اسے) کہ اپنے کفر کا مزا چکھے اور (عذاب جہنم کی طرف) کھینچ کر اس طرف لائوں گا کہ اس کا کوئی قابو بچنے کے لئے نہ ہوسکے گا (اور وہ) جہنم، اﷲ محفوظ رکھے، بہت ہی (برا ٹھکانہ ہے)

(اور) قابل تذکرہ ہے وہ وقت (جب کہ) تعمیر کعبہ کے لئے (اٹھا رہے ہیں) حضرت (ابراہیم بنیادوں) اور دیواروں (کو) (اس) خدا کے (گھر) کعبہ شریف (کی)…