ہمیں بھی دین کے تحفظ کے لئے قربانی دینی ہوگی

in Tahaffuz, October 2013, ا د ا ر یے

اسلامی سال کا اختتام حرمت والے مہینے ذو الحجہ پر ہوتا ہے اور پھر اس کی ابتداء محرم الحرام شریف سے ہوتی ہے۔ اسلامی سال کا آخری مہینہ ہمیں حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام کی لازوال قربانی کی یاد دلاتا ہے اور پھر پہلا مہینہ حضرت سیدنا فاروق اعظم اور حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہم اجمعین کی عظیم شہادت کی یاد دلاتا ہے۔ مطلب یہ کہ اسلامی سال کا اختتام بھی قربانی اور ابتداء بھی قربانی۔
قربانی اور اسلام ان دونوں کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔ یہی وہ قربانی ہے جو اسلام کے رگ و پے میں بسی ہوئی ہے۔ سرور کائنات رحمت عالم نور مجسمﷺ جیسی ذات جن کے لئے کائنات بنائی گئی اور سجائی گئی، سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔ آپﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کا سوشل بائیکاٹ کیا گیا، شعب ابی طالب کی دشوار گزار گھاٹیوں میں قید کیاگیا، کھانا بند کیا گیا، طائف میں پتھر برسائے گئے، حتی کہ مکۃ المکرمہ جیسا بابرکت شہر چھوڑنے پر مجبور کیا۔
صحابہ کرام علیہم السلام نے بھی اس دین کے لئے بڑی بڑی قربانیاں دیں، تپتی ہوئی ریت پر لٹایا گیا، کھولتے ہوئے تیل کے کڑائو میں ڈالا گیا، جسموں پر تشدد کیا گیا، پورے جسم کو زخموں سے چھلنی کیا گیا، آگ کے انگاروں پر لٹایا گیا، قید کیا گیا، حتی کہ خاک و خون میں تڑپایا گیا۔
غزوۂ بدر و احد و خندق و حنین میں اپنی جانوں کو قربان کیا۔ نواسۂ رسول اور ان کے رفقاء نے معرکہ کربلا میں بھوکے پیاسے رہ کر اپنی جانوں کی قربانیاں دیں، پھر یہ سلسلہ چلتا رہا حتی کہ ہر دور میں خاصانِ خدا نے اپنے رب کے حضور طرح طرح کی قربانیاں پیش کیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج شجر اسلام ہرا بھرا نظر آرہا ہے، مگر موجودہ دور میں قربانیوں کا جذبہ سرد پڑگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ موجودہ نازک دور ہم سے بھی قربانیوں کا تقاضا کررہا ہے
1۔ وقت کی قربانی، 2۔ مال کی قربانی، 3۔ نفس کی قربانی،  4۔ اولاد کی قربانی،  5۔ جان کی قربانی
1۔ وقت کی قربانی:
موجودہ نازک دور میں وقت کی قربانی نہایت ضروری ہے۔ دین ہم سے اپنے وقت کی قربانی مانگتا ہے۔ اگر کسی سے دین کی خدمت کے لئے وقت مانگا جائے تو فورا گھر کے کام، کاروباری مصروفیات اور ضروری کام آڑے آجاتے ہیں۔ اسی طرح دینی خدمت کو پس پشت ڈال کر اپنے ذاتی، گھریلو اور کاروباری معاملات کو فوقیت دی جاتی ہے، حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ دین کے کام کو اپنے تمام کاموں پر فوقیت دیں تاکہ دین کی خدمت کی برکت سے اس قربانی کی برکت سے ہمارے تمام کام باآسانی ہوجائیں۔
2۔ مال کی قربانی:
سید عالمﷺ کا ارشاد ہے کہ آخری وقت میں دین کو بھی دام و درہم کی ضرورت ہوگی۔ مطلب یہ کہ دین کے فروغ اور اس کی ترویج کے لئے بھی مال و دولت کا ہونا لازم ہوگا۔ مال و دولت کہاں سے آئے گا۔ ظاہر ہے ہمیں ہی دینا ہوگا۔ ہمیں جو مال اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے، اس میں سے جہاں ہم اپنے اوپر، اپنے گھر والوں کے اوپر خرچ کرتے ہیں، وہیں اس کا کچھ حصہ دین کی ترویج و اشاعت میں قربان کریں۔ اگر آپ نوکری پیشہ ہیں تو اپنی تنخواہ میں سے کم از کم صرف ایک فیصد ہر ماہ دین کی ترویج و اشاعت کے لئے قربان کریں اور اگر آپ کاروباری ہیں تو اپنی آمدنی کا کم از کم دو یا تین فیصد ہر ماہ دین کی ترویج و اشاعت کے لئے قربان کریں اور یہ کام پابندی سے کریں۔ اس قربانی کی برکت سے آپ کی بقیہ آمدنی میں بھی برکت ہوگی۔ آپ کے رزق میں اضافہ ہوگا۔ یہ سستا سودا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی راہ میں ایک روپیہ دینے پر ستر سے سات سو تک کا وعدہ ہے۔
3۔ نفس کی قربانی:
دین کے فروغ کے لئے نفس کی قربانی دیں۔ اپنی انا کو فنا کردیں۔ یہ سوچ بنالیں کہ میں سب سے کم تر ہوں اور سب مجھ سے افضل و اعلیٰ ہیں۔ نفس کی قربانی دیتے ہوئے اپنی تھکاوٹ اور پریشانیوں کو ٹھکرا کر اپنے حصے کا کام کریں۔ دین کی خدمت کی برکت سے اﷲ تعالیٰ آپ کی پریشانیوں کو دور فرمادے گا۔ لوگ چاہے آپ کی بھرپور مخالفت کریں، حوصلہ افزائی نہ کریں مگر آپ اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنے حصے کا کام ضرور کریں۔
4۔ اولاد کی قربانی:
اپنی اولاد میں سے کم از کم ایک ذہین بیٹے کو عالم دین بنائیں۔ اسے دین کے لئے وقف کردیں تاکہ آپ کا یہ بیٹا آپ کے لئے سرمایہ آخرت بنے۔ یہ کام بہت مشکل ہے مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کی قربانی کو مدنظر رکھ کر آپ بھی یہ قربانی دیں۔ اگر عوام اہلسنت میں یہ سوچ پیدا ہوگئی تو پھر دیکھئے کہ ہر سمت سے یارسول اﷲﷺ کی صدائیں آئیں گی۔
5۔ جان کی قربانی:
نڈر، بہادر اور موت سے محبت کرنے والے مجاہد کی طرح زندگی گزاریں اور ہمہ وقت اپنی جان کو اپنے پیارے دین کی سربلندی کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار رہیں اور یہ سوچ بنالیں کہ یہ زندگی بے وفا ہے، اس کا کوئی بھروسہ نہیں، کیوں نہ میں اس زندگی کو اپنے رب جل جلالہ کے حضور قربان کردوں۔ یاد رہے گھر میں چھپ کر بیٹھیں گے اور موت مقدر ہوئی تو گھر میں بھی قتل کردیاجائے گا۔ کتنی ہی تدبیریں اختیار کرلیں، موت تو آئے گی مگر ہمیں حق بات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔ بدمذہبوں کے گستاخانہ عقائد سے عوام کو آگاہ کرتے رہنا چاہئے اور اگر اسی خدمت کے عوض قتل بھی کردیا گیا تو ہمیشہ کی حیات نصیب ہوگی۔ اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کا قرب نصیب ہوگا۔
یہ موت بھی اک دن آنی ہے

یہ جان بھی اک دن جانی ہے
پھر کرلے جو بھی تھانی ہے

پھر پتھر دل بھی پانی ہے
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے

پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
آیئے! اس قربانی کے مبارک موقع پر عہد کریں کہ ہم دین کی سربلندی کے لئے اس کی ترویج و اشاعت کے لئے اپنا وقت، اپنا مال،اپنی اولاد، اپنا نفس حتی کہ ضرورت پڑی تو اپنی جان بھی قربان کردیں گے۔
اﷲ تعالیٰ ہم سب کو مخلص مسلمان بنائے اور اپنے دین کی خدمت کا جذبہ عطا فرمائے اور اس خدمت کو ہمارے لئے ذریعہ نجات بنائے۔ آمین ثم آمین