علامہ محمد سلیم عباس نقشبندی شہید

in Tahaffuz, October 2013, محمد عباس علی قادری

تاریخ ولادت:4 مارچ 1976، 2 ربیع الاول 1395 ہجری
تاریخ قاتلانہ حملہ: 16 اگست 2012ء بروز پیر، 17 رمضان المبارک
تاریخ شہادت: 26 اگست 2012ء بروز جمعرات 27 رمضان المبارک
تدفین و نماز جنازہ: 27 اگست 2012ء بروز جمعتہ الوداع رمضان المبارک 1433 ہجری
فن خطابت: علامہ صدیق ملتانی،مرید و خلیفہ: مفتی احمد علی شاہ سیفی نقشبندی
مزار شریف: جامع مسجد حنفیہ عالمگیر، لانڈھی نمبر 3، بابر مارکیٹ کراچی
شہید اہلسنت علامہ سلیم عباس نقشبندی شہید اس عظیم ہستی اور گوہر نایاب کا نام ہے جنہوں نے حق گوئی اور بے باقی کا حق ادا کردیا اور اسلاف کی یادوں کو پھر سے تازہ کردیا۔ ہمارے اسلاف کہ جنہوں نے باطل کے سامنے حق کہنے میں کسی قسم کی کوئی عار محسوس نہیں کی اور نہ وہ باطل قوتوں کے قوت اقتدار سے ڈرے اور نہ دشمنوں کا قوت اسلحہ سے لیس ہونا انہیں حق بات کہے سے روک سکا اور نہ انہوں نے حق بات کہنے میں کبھی اپنی جان کی پرواہ کی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف ہر موقع پر حق گوئی کا مظاہرہ کرتے رہے اور اپنے عقائد و نظریات کا بڑے مدلل انداز میں بیان کرتے رہے۔ اگرچہ حق بات کہنے اور حق پر رہنے کی وجہ سے باطل قوتوں نے ہر دور میں اہل حق کو اذیتوں سے دوچار رکھا۔ کبھی اسیری، کبھی ملک بدری اور کبھی بے دردی کے ساتھ جان تک لینے سے دریغ نہیں کیا۔ لیکن اہل حق کی یہ شان ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ حق پر قائم رہتے ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت ان کے راستے کی دیوار نہیں بن سکی۔
کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’بے شک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اﷲ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان پر غم، وہ جنت والے ہیں، ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ ان کے اعمال کا انعام ہے (القرآن)
یہی جرات اور بہادری اﷲ تعالیٰ نے علامہ سلیم عباس نقشبندی کو عطا فرمائی تھی جس کا اظہار علامہ سلیم عباس نقشبندی کی زندگی کے ہر پہلو میں ہوتا ہے۔ موصوف بہت جراتمندی سے گفتگو فرماتے اور اپنا موقف بیان کرنے میں کسی بھی مصلحت پسندی سے کام نہ لیتے تھے اور موصوف کی زندگی میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ جب بھی باطل قوتوں میں سے کسی نے مذہب حق اہلسنت و جماعت کے خلاف لب کشائی کرنے کی ناپاک جسارت کی تو اس کے دفاع کے لئے علامہ سلیم عباس نقشبندی شہید ایک بپھرے ہوئے شیر کی طرح آتے تھے۔ گستاخوں کو دندان شکن جواب دیتے اور قرآن و حدیث اور اقوال صحابہ و ائمہ کی روشنی میں مسلک اہلسنت کا حق ہونا ثابت فرماتے۔ علامہ سلیم عباس نقشبندی مسلک رضا کے لئے ایک عظیم مبلغ تھے۔ علامہ موصوف نے بلامبالغہ ہزاروں جلسوں سے سینکڑوں موضوعات پر بیانات فرمائے ہیں۔ آپ ان کا کوئی بھی بیان سن لیں وہ آپ کو عقائد اہلسنت کی تبلیغ سے خالی نہیں ملے گا۔
علامہ سلیم عباس نقشبندی نے اپنے بیانات کے ذریعے ایوان باطل میں تہلکہ مچایا ہوا تھا۔ علامہ موصوف کے پاس دلائل کے انبار ہوا کرتے تھے۔ آج تک ان کے ایک بھی حوالے کا کسی بھی بدمذہب اور بے دین سے جواب نہیں بن پڑا۔ علامہ موصوف نے سینکڑوں جلسوں میں مخالفین اہلسنت کے علم کی کتاب سے عقیدہ اہلسنت بیان کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔
محترم قارئین! ظالم دہشت گردوں نے ہم میں سے ایک ایسے عالم کو چھین لیا ہے جن پر عوام اہلسنت ہی کو نہیں بلکہ علماء اہلسنت کو بھی فخر تھا۔ آج علامہ سلیم عباس نقشبندی بظاہر ہم میں نہیں ہیں لیکن علامہ موصوف کے بیانات ویڈیو اور آڈیو کیسٹس، سی ڈی، ڈی وی ڈی کی صورت میں عوام اہلسنت کے پاس علامہ موصوف کی طرف سے ایک علمی تحفہ موجود ہے اور ان شاء اﷲ عوام اہلسنت تا قیامت علامہ سلیم عباس نقشبندی شہید کے بیانات سے استفادہ حاصل کرتے رہیں گے۔
علامہ سلیم عباس نقشبندی شہید کی شہادت سے اگرچہ اہلسنت و جماعت کی صف میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے لیکن ہم علامہ موصوف کی اس انداز میں اپنے آقا نبی کریمﷺ کی عظمت و ناموس کی خاطر اپنی جان دینے اور جام شہادت نوش کرنے پر پوری دنیا اہلسنت کو فخر ہے۔ اس لئے کہ ہمیں اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے یہی درس دیا ہے۔
حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائش مولیٰ کی دھوم
مثل فارس نجد کے قلعہ گراتے جائیں گے
خاک ہوجائیں گے عدو جل کر مگر ہم تو رضا
دم میں جب تک دم ہے ذکر ان کا سناتے جائیں گے
علامہ سلیم عباس نقشبندی شہید اعلیٰ حضرت کے اسی فکر کی عملی تفسیر تھے۔
اﷲ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب نبی کریمﷺ کے صدقہ و طفیل علامہ سلیم عباس نقشبندی شہید کی تربت انور پر تاقیامت رحمت اور رضوان برسات نازل فرمائے (آمین)
علامہ محمد سلیم عباس نقشبندی (شہید) کے بیانات حاصل کرنے کے لئے رابطہ کریں
طیب حسینی:03242685107
کلیم عباس (علامہ سلیم عباس کے بھائی)03233270409
خراج تحسین: محمد عدنان قادری شہید، غازی ملک ممتاز حسین قادری
بفیضان نظر: پیر سید غلام حسین شاہ بخاری المعروف قمبر والی سرکار
شہید کا مشن جاری رکھنے میں میرا ساتھ دیں (طیب حسینی)