تفسیرسورۃ العلق (قسط 2)
تقریبا ایسا ہی مضمون عتبہ بن عبدالسلمی رضی اﷲ عنہ نے روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے (مسند احمد، سنن دارمی، مجمع الزوائد)
حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ عنہ نے بھی شق صدر کا واقعہ روایت کیا ہے اور اس میں تصریح ہے کہ وہ دو فرشتے حضرت جبریل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام تھے۔ حافظ ہیثمی نے اس حدیث کے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے (دلائل النبوۃ لابی نعیم، مجمع الزوائد)
ہمارے آقا و مولیٰ امام الانبیاﷺ منصب نبوت پر کب فائز ہوئے؟ اس بارے میں امام ترمذی علیہ الرحمہ نے صحیح سند سے درج ذیل حدیث روایت کی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا۔ متٰی وجبت لک النبوۃ۔ یا رسول اﷲﷺ آپ کے لئے نبوت کب ثابت ہوئی؟ رحمت عالم نور مجسمﷺ نے ارشاد فرمایا۔
واٰدم بین الروح والجسد
’’اس وقت جبکہ آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے‘‘ (ترمذی، مسند احمد، مستدرک للحاکم)
امام تقی الدین سبکی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں جس نے اس حدیث کا یہ مطلب بیان کیا کہ حضورﷺ علم الٰہی میں نبی تھے، وہ اس حدیث کے معنی نہیں سمجھا۔ کیونکہ اﷲ تعالیٰ کا علم تو تمام اشیاء کو محیط ہے (یعنی علم الٰہی میں تو تمام انبیاء ہی نہیں تھے پھر اس میں حضورﷺ کی کیا خصوصیت ہوئی) پس نبی کریمﷺ کو اس وقت نبوت سے موصوف کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ کی نبوت اس وقت ثابت ہوچکی تھی۔
اسی لئے حضرت آدم علیہ السلام نے عرش پر آپ کا نام یوں لکھا دیکھا۔ محمد رسول اﷲ۔ محمد اﷲ کے رسول ہیں… لہذا ضروری ہے کہ رسول کریمﷺ کی اس خصوصیت کو ثابت اور محقق مانا جائے۔ اسی بناء پر حضورﷺ نے اپنی اُمّت کو اس خصوصیت سے آگاہ فرمادیا تاکہ اُمّت کو آپ کے اس مرتبہ کی معرفت حاصل ہو جو اﷲ کے نزدیک آپ کو حاصل ہے پھر انہیں اس معرفت کے ذریعے بھلائی ملے‘‘ (الخصائص الکبریٰ)
امام بخاری و امام مسلم کے استاذ الاستاذ اور امام احمد بن حنبل کے استاذ امام عبدالرزاق رحمہم اﷲ نے اپنی کتاب المصنف میں اس حدیث کو صحیح سند سے روایت کیا۔
حضرت جابر رضی اﷲ عنہ نے بارگاہ نبوی میں عرض کی۔ یا رسول اﷲﷺ اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے کسے پیدا فرمایا؟ نور مجسم ﷺ نے فرمایا۔
’’اے جابر! اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے تیرے نبی کے نور کو اپنے نور (کے فیض) سے پیدا فرمایا۔ پھر وہ نور جہاں خدا نے چاہا سیر کرتا رہا۔ اس وقت نہ لوح تھی، نہ قلم نہ جنت نہ دوزخ، نہ فرشتے نہ آسمان نہ زمین، نہ سورج نہ چاند، نہ جن نہ انسان… الخ‘‘
امام سیوطی علیہ الرحمہ، امام سبکی علیہ الرحمہ کا مزید کلام نقل کرتے ہیں ’’پس نبی کریمﷺ کی وہ حقیقت (یعنی نور محمدی) جو آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے موجود تھی۔ اﷲ تعالیٰ نے اسے وصف نبوت عطا فرمایا اور اسے اسی وقت فیض عطا فرمایا تو آپ نبی ہوگئے۔ باری تعالیٰ نے آپ کا نام عرش پر لکھ دیا پھر ملائکہ اور دیگر مخلوق کو اس پر آگاہ فرما دیا تاکہ سب آپ کے عظیم مرتبہ کو پہچان لیں‘‘ (الخصائص الکبریٰ)
مذکورہ حدیث کے متعلق امام شعرانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ حضورﷺ کو تمام انبیاء سے پہلے نبوت دی گئی اور نبوت اسی وقت ثابت اور محقق ہوتی ہے جب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مقدر کی ہوئی شریعت کی معرفت حاصل ہوجائے (الیواقیت والجواہر)
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ایک اور حدیث پاک میں ارشاد ہے۔
کنت اول النبیین فی الخلق واٰخرہم فی البعث (دلائل النبوۃ لابی نعیم)
’’میں تخلیق میں سب نبیوں سے پہلا ہوں اور بعثت کے لحاظ سے آخری ہوں‘‘
خاتم الانبیائﷺ کو نبوت بلکہ ختم نبوت کا مرتبہ آدم علیہ السلام کی پیدائش سے قبل مل چکا تھا۔ اگرچہ اس منصب و مرتبہ کا ظہور عمر مبارک کے چالیسویں سال میں ہوا۔ بقول شخصے…
’’یہ تاخر مرتبہ ظہور میں ہے، مرتبہ ثبوت میں نہیں‘‘ (نشر الطیب)
ان تمام دلائل و براہین سے ثابت ہوگیا کہ ہر نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے۔ البتہ وہ نبوت کا اعلان حکم الٰہی کے مطابق کرتا ہے۔ نیز ہمارے آقا و مولیٰ حبیب کبریاﷺ سب انبیاء سے قبل منصب نبوت پر فائز ہوئے اور سب سے آخر میں مبعوث ہوئے۔
اقراء بسم ربک الذی خلق
رحمت عالم نور مجسمﷺ غار حرا میں مصروف عبادت تھے کہ فرشتے نے آکر عرض کی، پڑھیئے… تو آپﷺ نے انکار فرمایا۔ ایسا تین بار ہوا۔ دراصل آپ نے نہ چاہا کہ اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں خلل آئے۔ جب چوتھی بار فرشتے نے کہا… ’’اپنے رب کے نام سے پڑھیئے‘‘ تو آپ اس طرف متوجہ ہوئے کہ جس ذات کی تجلیات کے مشاہدے میں اور جس کی محبت و عبادت میں، میں مستغرق ہوں، یہ بھی تو اسی کا ذکر کررہا ہے۔ پھر آپ نے وہ آیات تلاوت فرمائیں۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ باسم ربک میں باء استعانت کے لئے ہے۔ گویا آپ نے فرشتے سے فرمایا۔ میں تیری قوت اور تیرے پڑھانے سے پڑھنے والا نہیں ہوں۔ اس پر جبریل علیہ السلام نے مذکورہ آیات تلاوت کیں۔ گویا یوں عرض کیا۔
یارسول اﷲﷺ آپ اپنے رب کی مدد اور قوت سے پڑھیئے۔ آپ کا رب فرماتا ہے، اے حبیب! میرا نام لے کر پڑھو۔ پڑھنا تمہارا کام ہے اور تمہارے سینے کو علوم و معارف سے لبریز کردینا میرا کام ہے۔
یہاں ’’بسم اﷲ‘‘ نہیں فرمایا بلکہ ’’بسم ربک‘‘ فرمایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لفظ ’’اﷲ‘‘ باری تعالیٰ کا ذاتی نام ہے۔ جبکہ معرفت ذات کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے آثار و صفات میں غوروفکر کیا جائے۔ صفات باری تعالیٰ میں انسانوں سے سب سے زیادہ نمایاں تعلق رکھنے والی صفات تخلیق اور ربوبیت کی صفات ہیں۔
یہ صفات اس پر شاہد ہیں کہ ہر مخلوق پہلے معدوم تھی۔ اسے تخلیق کیا گیا اور پھر اس کی پرورش کی گئی۔ نیز ہر مخلوق کا وجود اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا کوئی خالق بھی ہے اور جو خالق ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کی صفات زوال پذیر نہیں اور اس میں کوئی نقص یا عیب نہیں۔ لہذا ذات الٰہی کی معرفت کے لئے معرفت ربوبیت پہلی شرط ہے (تفسیر مظہری، ملخصاً)
’’بسم ربک‘‘ فرمانے کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اپنے رب کے نام کی مدد سے قرآن پڑھو۔ یعنی دین و دنیا کے تمام کاموں میں اﷲ تعالیٰ کے نام کو سہارا بنائو اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اس عمل کو محض اپنے رب کے لئے کرو۔ گویا جب عبادت اﷲ تعالیٰ کے لئے ہوگی تو اس میں شیطان تصرف نہ کرسکے گا (تفسیر کبیر، ملخصاً)
آج تعلیم تو عام ہورہی ہے مگر انسانیت زوال پذیر ہے۔ سبب یہ ہے کہ علم کا حصول محض رزق حاصل کرنے کے لئے یا کسی اور دنیاوی مفاد کی غرض سے ہے۔ جب اﷲ تعالیٰ کی یاد حصول علم کا جزو بن جائے اور ہر لمحہ یہ تصور رکھے کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے تو یقینا کردار میں پاکیزگی اور سیرت میں حسن پیدا ہوگا۔
شان ربوبیت کا تقاضا ہے کہ مخلوق کو کم درجہ سے اعلیٰ درجہ تک لے جایا جائے۔ یہاں لفظ ’’رب‘‘ سے اس طرف اشارہ ہے کہ آپ کا رب آپ کی مکمل تربیت فرمائے گا اور آپ کو نبوت و رسالت کے اعلیٰ درجات تک پہنچائے گا۔
جب جبرئیل علیہ السلام نے کہا، اپنے رب کے نام سے پڑھیئے۔ تو نبی کریمﷺ نے یہ نہ دریافت فرمایا کہ رب کون ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آقا ومولیٰﷺ کو پہلے ہی اپنے رب کی معرفت حاصل تھی ورنہ آپ ضرور دریافت فرماتے۔ پھر قابل توجہ بات یہ ہے کہ پہلی آیت میں ہی ربوبیت کی اضافت و نسبت اپنے محبوب کی طرف فرمائی۔ یہ حضورﷺ کی شان محبوبیت پر روشن دلیل ہے۔ اس سورت میں تین بار صفت ربوبیت کا ذکر آیا ہے اور ہر جگہ ’’ربک‘‘ کا ارشاد ہوا ہے۔
ضمناً عرض کردوں کہ سورۃ النساء آیت 65 میں ’’وربک‘‘ ارشاد ہوا ہے جس کے معنی ہیں ’’(اے محبوب! تمہارے رب کی قسم‘‘ یعنی اﷲ تعالیٰ نے اپنی قسم ارشاد فرمائی مگر اپنا نام نہ ذکر فرمایا بلکہ محبوب کی طرف نسبت فرمائی۔
کیا وجد آفریں کلام ہے اور کیا محبت بھرا انداز ہے۔ اس کلام کا کیف و سرور اور لطف و لذت وہی محسوس کرسکتے ہیں جن کے دل میں عشق حقیقی کی شمع فروزاں ہو۔
یہاں بھی وہی انداز ہے۔ اس انداز تخاطب کی ایک حکمت یہ ہے کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ ’’رب تعالیٰ کو مانو اور مصطفیﷺ کے وسیلے سے مانو‘‘ اسی لئے بارگاہ رسالتﷺ میں عاشق صادق امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ عرض کرتے ہیں۔
وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
امام رازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ گویا اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ’’اے حبیب! تو میرے لئے ہے اور میں تیرے لئے ہوں‘‘ اس کی تائید اس آیت کریمہ سے بھی ہوتی ہے۔
من یطع الرسول فقد اطاع اﷲ
’’جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اﷲ کا حکم مانا‘‘ (النسائ: 80)
ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں، اﷲ تعالیٰ کا اپنی ذات اقدس کی اضافت اپنے بندے کی طرف کرنا اس سے احسن ہے کہ بندے کی نسبت اس کی طرف ہو (کبیر)
حضورﷺ کی محبوبیت پر امام رازی علیہ الرحمہ نے جس آیت کو دلیل بنایا ہے اس طرح کی کئی آیات سورۃ الضحیٰ کی تفسیر میں ایک جگہ جمع کردی گئی ہیں۔
اس آیت میں اﷲ تعالیٰ جل جلالہ نے اپنی ذات کو دیگر ذوات سے ممتاز کرنے کے لئے صفت خالقیت ذکر فرمائی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس صفت میں کسی اور کی شرکت محال ہے۔ اسی سے علماء نے استدلال کیا کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی خالق نہیں، یہ اس کی صفت خاص ہے۔
خلق الانسان
پہلی آیت میں ’’خلق‘‘ مطلقاً فرمایا گیا یعنی ارشاد ہوا ’’پیدا کیا‘‘ یہ نہیں فرمایا کہ کیا پیدا کیا۔ اس لئے معنی یہ ہوئے کہ ساری مخلوق کو پیدا کیا۔ دوسری آیت میں بطور مخلوق انسان کا ذکر کیا گیا۔
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اجزاء کے اعتبار سے انسان کامل ترین مخلوق ہے کیونکہ جو چیز عالم کبیر میں ہے، وہ انسان میں موجود ہے۔ اسی لئے انسان کو عالم صغیر بھی کہا جاتا ہے۔ انسان کی تخلیق کا ذکر گویا یہ ارشاد فرمانا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے عالم خلق اور عالم امر کی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور اس میں رب تعالیٰ کی تجلیات کو اخذ کرنے کی استعداد موجود ہے۔ اس لئے یہ معرفت کا مستحق ہے اور معرفت الٰہی ہی کائنات کی تخلیق کا مقصود ہے۔ فرمان الٰہی ہے۔
وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون
’’اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری بندگی کریں‘‘ (الذریات : 56)
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں