حضرت نظام الدین اولیاء

in Tahaffuz, October 2013, خان آصف

’’سید! قاضی بن کر بھی تمہیں سکون قلوب حاصل نہیں ہوگا‘‘ حضرت شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ نے فرمایا ’’قاضی شہر کے بجائے کچھ اور بن جائو‘‘
’’کیا بن جائوں؟‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے عرض کیا۔
’’جو کچھ میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں‘‘ حضرت شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ نے فرمایا۔
’’آپ کی آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں؟‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے پرشوق لہجے میں عرض کیا۔
’’یہی کہ منصب قضا تمہارے لائق نہیں ہے‘‘ حضرت شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ ’’عنقریب اﷲ تم پر ظاہر کردے گا کہ میری آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں/‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے اضطراب میں اضافہ ہوتا رہا۔ پھر ایک دن آپ جامع مسجد میں نماز ادا کررہے تھے۔ پیش امام نے یہ آیت تلاوت کی۔
’’کیا اہل ایمان کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ ان کے دل اﷲ کے ذکر سے جھک جائیں‘‘
یہ آیت مقدسہ سن کر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی حالت غیر ہوگئی اور نماز ہی میں آپ پر گریہ طاری ہوگیا۔ نماز ختم ہوئی تو آپ مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھ کر دیر تک سوچتے رہے۔
پھر دل سے آواز آئی ’’نظام الدین! یہ ہدایت غیبی ہے۔ تجھے سکون اﷲ کے ذکر ہی سے ملے گا۔ کتابوں کے انبار میں تیری نجات نہیں ہے‘‘
یہ خیال آتے ہی آپ حضرت نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے۔ ’’شیخ! میں اجودھن جارہا ہوں۔ آپ کی آنکھیں یہی دیکھ رہی تھیں؟‘‘
حضرت نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ مسکرائے۔ ’’سید! اب تمہیں سکون قلب حاصل ہوجائے گا۔ جب تم حضرت شیخ علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس خادم کا بھی سلام عرض کرنا‘‘
’’شیخ! میرے حق میں دعا کیجئے گا کہ میری حاضری قبول ہوجائے‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء نے عرض کیا۔
حضرت نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ نے دعا فرمائی اور ایک بیس سالہ نوجوان جو دہلی میں ’’محفل شکن‘‘ کے نام سے مشہور تھا،اجودھن روانہ ہوگیا۔
٭…٭…٭
جب حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ دہلی سے روانہ ہوئے تو آپ کے پاس ایک مصلی اور پانی کے ایک برتن کے سوا کوئی زاد راہ نہیں تھا۔ اﷲ ہی جانتا ہے کہ یہ دشوار اور طویل سفر آپ نے کس طرح سے طے کیا؟
حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس مجلس عرفانی کا رنگ دیکھ کر آپ کی زبان گنگ ہوگئی اور جسم پر لرزہ طاری ہوگیا۔ آپ اہل علم کی کیسی کیسی محفلوں میں شریک ہوئے تھے مگر ایک درویش کی خانقاہ کا اندازہ ہی جداگانہ تھا۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو دیکھتے ہی حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے یہ شعر پڑھا۔
اے آتش فراقت دل ہا کباب کردہ
سیلاب اشتیاقت جاں ہا خراب کردہ
(تیرے فراق کی آگ نے دلوں کو کباب کر ڈالا اور تیرے شوق کے سیلاب نے جانوں کو برباد کردیا)
حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہونے سے پہلے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے سوچا تھا کہ اپنے شوق دیدار کو مختلف زاویوں سے بیان کروں گا مگر جب حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو آپ سب کچھ بھول گئے۔
نظر وہ ہے جو اس کون و مکاں کے پار ہوجائے
مگر جب روئے تاباں پر پڑے بیکار ہوجائے
حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے روبرو دہلی کے ’’محفل شکن‘‘ کا بھی یہی حال تھا۔ بڑے بڑے علماء کو اپنے زور بیان اور دلائل سے عاجز کردینے والا آج خود اظہار شوق کے لئے ترس رہا تھا۔ ساری منطق دھری رہ گئی تھی اور تمام لغت الفاظ سے خالی نظر آرہی تھی۔ بس اتنا ہی عرض کرسکے۔
’’‘مخدوم! مجھے آپ کی ملاقات کا بہت شوق تھا‘‘
حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ ’’ہر نئے آنے والے پر دہشت طاری ہوجاتی ہے۔ مولانا نطام الدین! تمہارا شوق اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا کہ تم بیان کرتے ہو‘‘
حضرت شیخ نے شوق جاں سوز کی تائید کی تو حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے سر عقیدت خم کردیا ’’مخدوم! میرے لئے بس یہی ارشاد گرامی کافی ہے‘‘
عقیدت و نیاز مندی کا یہ اندازہ دیکھ کر حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ ’’میری خواہش تھی کہ یہ نعمت سجادہ اور ولایت ہند کسی اور کو دوں کہ ہاتف غیبی نے صدا دی۔ ابھی ٹھہرجائو! نظام الدین بدایونی آرہا ہے‘‘
حضرت شیخ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سن کر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ پر گریہ طاری ہوگیا۔ بہت دیر تک پیرومرشد کے سامنے سر جھکائے روتے رہے‘‘ سیدی! میں کس لائق ہوں؟‘‘
٭…٭…٭
حضرت بابا فرید کے تمام مرید جماعت خانے کے فرش پر سوتے تھے مگر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے لئے چارپائی کا انتظام کیا گیا پھر جب رات آئی تو حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اپنے دیگر ساتھیوں کی طرح زمین پر لیٹ گئے۔ عشاء کے بعد خانقاہ کا ایک خادم ادھر آیا اور حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو اس حال میں دیکھا تو کہنے لگا۔
’’نظام الدین! تم چارپائی پر کیوں نہیں لیٹتے؟‘‘
’’یہاں کیسے کیسے حافظ قرآن اور بزرگ زمین پر سو رہے ہیں۔ مجھے اس خیال سے ہی شرم آتی ہے کہ میں ان محترم ہستیوں کی موجودگی میں چارپائی پر آرام کروں‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے فرمایا۔
خادم واپس چلا گیا اور سارا واقعہ مولانا بدر الدین اسحاق علیہ الرحمہ کے گوش گزار کردیا جو حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے خلیفہ بھی تھے اور داماد بھی۔
خادم کی بات سن کر مولانا بدر الدین اسحاق علیہ الرحمہ جماعت خانے میں تشریف لائے اور حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ سے کہا۔ ’’تم یہاں اپنی منطق پیش کرنے آئے ہو یا ہدایت پانے؟‘‘ مولانا کے لہجے سے کسی قدر تلخی جھلک رہی تھی۔ ’’تم اپنی من مانی کرو گے یا حکم شیخ پر عمل پیرا ہوگے؟‘‘
’’مرشد کا فرمان ہی اب میری زندگی ہے‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے انتہائی عقیدت مندانہ لہجے میں عرض کیا۔
’’تو پھر اٹھو اور حضرت شیخ کے حکم کے مطابق چارپائی پر آرام کرو‘‘ مولانا بدر الدین اسحاق علیہ الرحمہ نے فرمایا۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ پلنگ پر دراز ہوگئے۔ اگرچہ آپ کے دل میں اب بھی وہی جذبات موجزن تھے کہ میں برگزیدہ ہستیوں کی موجودگی میں آرام دہ بستر پر کس طرح لیٹ سکتا ہوں لیکن حکم شیخ نے آپ کو ایسا کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ رات بھر اس ذہنی کشمکش نے سونے نہیں دیا۔ پھر فجر کی اذان ہوئی تو آپ پر یہ راز فاش ہوا کہ طریقت میں حکم شیخ ہی سب کچھ ہے۔ یہاں عقل اور منطق کا گزر نہیں۔ اس خیال کے آتے ہی حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو سکون قلب حاصل ہوگیا۔
٭…٭…٭
حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے حلقہ ارادت میں شامل ہونے کے بعد حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے عرض کیا۔
’’شیخ کا حکم ہو تو اپنی تعلیم جاری رکھوں یا پھر اور اوراد و نوافل میں مشغول ہوجائوں؟‘‘
حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ ’’میں کسی کو تعلیم چھوڑ دینے کے لئے نہیں کہتا، وہ بھی جاری رکھو اور یہ بھی کرتے رہو۔ پھر دیکھو کہ دونوں میں سے کون سی چیز غالب آتی ہے؟ درویش کو اتنا علم ضرور ہونا چاہئے کہ وہ شریعت سے باخبر رہے، ورنہ اس کے بھٹک جانے کا اندیشہ ہوتا ہے‘‘
پیرومرشد کی یہ عنایت خاص تھی کہ حضرت نطام الدین اولیاء کو بہ نفس نفیس کچھ چیزیں پڑھایا کرتے تھے۔ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ کی شہرہ آفاق تصنیف ’’عوارف المعارف‘‘ کا درس شروع کیا اور اس کے چھ باب پڑھائے ’’ابو شکور سالمی‘‘ بھی اول سے آخر تک پڑھائی اس کے علاوہ قرآن حکیم کے چھ پارے مکمل تجوید کے ساتھ پڑھائے۔
زمانے گزر جانے کے بعد بھی حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اس درس کی لذت کو یاد کرکے فرماتے تھے۔ ’’عوارف المعارف‘‘ کے درس میں جو حقائق اور نکات حضرت شیخ کی زبان مبارک سے سنے، اب وہ کبھی سننے میں نہیں آئیں گے۔ پیرومرشد کے بیان کی تاثیر کا یہ عالم تھا کہ جب تقریر فرماتے تھے تو یہ آرزو ہوتی کہ کاش اسی حالت میں موت آجائے‘‘
حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے پاس ’’عوارف المعارف‘‘ کا جو نسخہ تھا، اس میں کچھ سقم بھی تھا اور اس کا خط بھی باریک تھا۔ ایک دن پیرومرشد درس دے رہے تھے کہ اچانک کچھ دیر کے لئے خامواش ہوگئے۔ یہ وہی مقام تھا جہاں کتابت میں کچھ غلطی ہوگئی تھی۔ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے تامل فرمایا۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اپنی سادگی اور نوعمری کے سبب خاموش نہ رہ سکے، بے اختیار آپ کی زبان سے نکل گیا۔
’’میں نے شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ کے پاس ایک اور نسخہ دیکھا تھا، جو صحیح تھا‘‘
حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے جواباً فرمایا ’’کیا فقیر میں اتنی طاقت نہین ہے کہ وہ غلط نسخے کی تصحیح کرسکے‘‘
پیرومرشد نے یہی جملہ اپنی زبان مبارک سے تین بار ادا کیا۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ شروع میں تو مجھے خیال نہیں آیا مگر جب بار بار حضرت شیخ علیہ الرحمہ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ ادا ہوئے تو میرے دوسرے ساتھی مولانا بدر الدین اسحاق علیہ الرحمہ نے مجھ سے سرگوشی میں کہا۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں