ذی الحجہ المبارکہ اور داستان خلیل و ذبیح علیہما السلام

in Tahaffuz, October 2013, مولانا قمر یزدانی

طغیان ناز ہیں کہ جگر گوشہ خلیل
خود زیر تیغ رفت و شہیدش نمی کند
(عرقی)
ماہ ذی الحج کیسا مبارک اور متبرک نام ہے۔ یہ ہمارے اسلامی سال کا آخری مبارک مہینہ ہے۔ اس ماہ مقدس میں نویں تاریخ کو بڑی شان و عظمت سے تقریب حج اور دسویں کو عید قربان منائی جاتی ہے اور حسب توفیق قربانی ادا کرکے محبت الٰہی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہمارا سال ختم ہوکر محرم الحرام سے نیا سال شروع ہوجاتا ہے۔
ذی الحج میں جگر گوشہ خلیل حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے آپ کو راہ حق میں قربان کرنے کے لئے رضائے الٰہی کے آگے سر تسلیم خم کردیا اور محرم الحرام میں جگر گوشہ سلطان رسالت، نور دیدہ خاتون جنت، امام عالی مقام حضرت حسین رضی اﷲ عنہ نے اپنے نانا جان، چودہ طبق کی کائنات کے سلطان احمد مجتبیٰ محمد مصطفی علیہ التحیتہ والثناء کی شریعت و سنت کے احیاء و بقاء کی خاطر اپنا تن من دھن حتی کہ اپنے ششماہہ نور نظر حضرت علی اصغر رضی اﷲ عنہ کو بھی قربان کرکے کمال شان عبدیت کے ساتھ بارگاہ صمدیت میں سربسجود ہوکر عرض کیا۔
’’اے خدائے سمیع وبصیر! اپنے حسین کی یہ ننھی سی قربانی بھی قبول فرما‘‘
گویا اس مقدس سال کی ابتداء بھی قربانی پر اور انتہا بھی قربانی پر ہے بلکہ یوں کہئے کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ کے بے مثل محبوبﷺ کی بے مثال اُمّت کی تاریخ بھی کیسی بے مثال ہے جس کی ابتداء حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ہوئی اور انتہا حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ پر۔ گویا اس تاریخ مقدسہ کی ہر یاد تمام تواریخ عالم سے ممتاز و نمایاں اور بے نظیر ہے۔
ترجمان حقیقت علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے اس ملت ابراہیمی کے تاریخی پس منظر کو اپنے ایک شعر میں بیان فرمایا ہے۔
غریب و سادہ و رنگین ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسین ابتداء ہے اسماعیل
قربانی کیا ہے؟ فقط قرب مولا کے حصول کی خاطر اپنی محبوب سے محبوب چیز راہ خدا میں قربان کردینے سے دریغ نہ کرنا۔
آیئے! میں اس بارے میں حضرت زید بن ارقم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی زبان سے حضور پرنور شافع یوم النشوومصلح اعظم ہادی دوعالمﷺ کے ارشاد گرامی سے آگاہ کروں۔
وہ روایت کرتے ہیں کہ ایک بار صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کیا۔ یارسول اﷲﷺ! یہ قربانی کیا ہے؟ تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا۔ یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ ہے۔ صحابہ رضی اﷲ عنہم نے مزید عرض کیا! یا رسول اﷲﷺ اس سے ہمیں کیا ثواب ملے گا؟ فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔
سبحان اﷲ العظیم! اتنی معمولی سی بات پر غیر معمولی انعام بخشا جاتا ہے۔ بدنصیب ہیں وہ لوگ جو چند درہموں کی کفالت سے ان طرح طرح کی نعمتوں سے بہرہ مند نہیں ہوتے اور ہاتھ سے ایک پیسہ بھی چلے جانے سے ہارٹ فیل ہونے لگتا ہے۔
قربانی اپنی محبوب سے محبوب چیز کو خدا کے نام پر قربان کردینے کا نام ہے۔ اس سے تقرب الٰہی حاصل ہوتا ہے، بشرطیکہ خلوص اور صدق پر مبنی ہو کیونکہ رب تعالیٰ نے کلام پاک میں ارشاد فرمایا ہے۔
لن ینال اﷲ لحومہا ولا دماء ہا ولکن ینالہ التقویٰ منکم o
اﷲ تعالیٰ کے پاس ان کا نہ گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے (117/2 الحج)
اس آیت مبارکہ سے ہم پر یہ صاف واضح ہوتا ہے کہ قربانی محض رضائے الٰہی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ادا کرنی چاہئے۔ جس میں نام و نمائش کا شائبہ تک بھی نہ ہو۔ صدق و خلوص اور پاکیزہ جذبات کو دل میں رکھ کر قربانی ادا کرنے کا نام ہی ’’تقویٰ‘‘ ہے جو اﷲ عزوجل کے ہاں مقبول و محبوب ہے۔
ان اکرمکم عنداﷲ اتقاکم (الحجرات)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ فرمایا رسول اﷲﷺ نے بقر عید کے روز ابن آدم کا قربانی کے سوا کوئی عمل بھی ایسا ہیں ہے جو خدا کے ہاں زیادہ پسندیدہ ہو اور قیامت کے دن یہی مذبوح جانور (قربانی) اپنے سینگوں، پایوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل ہی خدا کے ہاں قبول ہوجاتا ہے۔ پس تم خوش دلی سے قربانی کرو۔
سبحان اﷲ! قربانی کی اس قدر شان عظیم کہ ذبح کے وقت جانور کے خون کا پہلا قطرہ ہی زمین پر گرنے سے پہلے قربانی خالق کائنات کے ہاں مقبول و منظور ہوجاتی ہے۔ عمل کی اجابت و مقبولیت اسی کا نام ہے۔
مگر ہم لوگ تو کوڑی کوڑی پر جان دیتے ہیں اور ایک پائی بھی ہماری جیب سے نکلنے پر تکلیف ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام کو دیکھئے کہ انہوں نے رضائے الٰہی اور محض خوشنودی حق کی خاطر مال و متاع تو درکنار اپنے لخت جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بھی قربان کرنے سے دریغ نہ کیا۔ حالانکہ وہ اکلوتا بیٹا جو رب ہب لی من الصالحین کی شبانہ روز دعائوں کا حاصل ہو، جو بڑھاپے میں درد محبت کا سہارا ہو۔ اﷲ تعالیٰ کی راہ میں قربان کردینا کوئی معمولی بات نہیں ہے مگر آپ سے اس عشق خداوندی کے جوش میں جو اس وقت آپ کی رگوں میں محبت الٰہی کی آگ بھڑکا رہا تھا، نہ رہا گیا اور اپنے نور نظر کو اﷲ کی راہ میں قربان کردینے سے پروانہ کی۔ خدا کی رضا کو اپنی رضا خیال کرکے فورا تیار ہوگئے۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنی زندگی کے سفر کی ابھی تیرہ منزلیں ہی طے کر پائے تھے کہ آٹھویں ذی الحج کو آپ کے مہربان باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں سنا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے کہ ابراہیم! اگر تمہارے دل میں ہماری محبت بسی ہوئی ہے تو اٹھو اور اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ہماری خاطر قربان کردو۔
یہ عجیب و غریب خواب دیکھتے ہی چونک پڑے اور خواب کی تعبیر کی فکر ہوئی۔ صبح سے شام تک اسی غوروفکر میں رہے کہ اس خواب کی تعبیر کیا ہوگی؟ اسی وجہ سے اس دن کو یوم الترویۃ کہتے ہیں یعنی فکر کرنے کا دن۔
پھر نویں رات کو بھی یہی خواب دیکھا تو خیال کیا کہ انبیاء کے خواب حقیقی اور وحی ہوتے ہیں۔ اب اس بات کا پتا چل گیا کہ واقعی یہ خواب معبود حقیقی کی طرف سے ہے اور سارا دب تدبیر میں گزار دیا۔ اس لئے نویں ذی الحج کو یوم عرفہ کہا جاتا ہے۔
جب دسویں رات کو بھی خواب میں یہی دیکھا تو صبح ہوتے ہی اسماعیل کو ذبح کرنے کا ارادہ فرمالیا اور حضرت ہاجرہ رضی اﷲ عنہا سے ارشاد فرمایا کہ ہاجرہ! اٹھو اور اپنے پیارے بیٹے اسماعیل کو عشق محبت کے پانی سے نہلائو، آنکھوں میں تسلیم و رضا کا سرمہ لگائو، سر کے بالوں کو مشک و عنبر سے معطر کرکے صبر وتحمل کی کنھی سے سنوارو اور جسم نازک کو پاکیزہ لباس سے سجائو کہ آج اسے ایک حقیقی دوست کے ہاں مہمانی کو جانا ہے۔ یہ حکم پاکر آپ کی مہربان ماں حضرت ہاجرہ رضی اﷲ عنہا اٹھتی ہیں اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو غسل کراکے جسم اطہر کو تسلیم و رضا کا لباس پہناتی ہیں اور شفقت بھرے انداز سے سرمہ لگاتی ہیں۔ بالوں کو کنگھی کرکے سینہ سے لگاکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سپرد کرتی ہیں اور حضرت خلیل رضی اﷲ عنہ حضرت ہاجرہ رضی اﷲ عنہا سے چھری اور رسی طلب فرماتے ہیں تو حضرت ہاجرہ رضی اﷲ عنہ نے آنکھوں سے آنسو بہاکر عرض کیا۔
اے اﷲ کے خلیل! کسی دوست کے ہاں دعوت پر جاتے ہوئے چھری اور رسی کی کیا ضرورت ہے؟
تو آپ نے ارشاد فرمایا! شاید وہاں قربانی کی ضرورت پڑ جائے تو قربانی کے لئے چھری اور رسی لازمی ہے۔
یہ سنتے ہی مہربان ماں کا دل کانپ اٹھا اور سمجھ گئیں کہ آج خلیل اﷲ اسماعیل کو ذبح اﷲ کے خطاب سے سرفراز فرمانا چاہتے ہیں تو نہایت صبر و استقلال کے ساتھ لخت جگر کو رخصت فرمایا۔
یہاں سے چل کر دونوں باپ بیٹا تسلیم و رضا کے پیکر مقام منیٰ کی طرف تشریف لے جاتے ہیں، جہاں آج بھی حاجی صاحبان اس سنت ابراہیمی کو ادا کرتے ہیں۔ ادھر شیطان لعین کو بھی پتہ چلا چونکہ یہ خبیث، ابو البشر آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر ہر بنی آدم کا دشمن چلا آیا ہے اور ہر نیک کام میں روڑا اٹکانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اس طرح آج بھی اسے ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام کو مضبوط ارادے سے ہٹانے کی سوجھی اور اس کام سے باز رکھنے کی بے فائدہ کوشش شروع کردی۔ چنانچہ اس نے اخلاص و محبت کا یہ منظر دیکھ کر دل میں یہ خیال کرکے کہ ماں کا دل اولاد کے حق میں زیادہ نرم اور رحیم واقع ہوا ہے۔ پہلے حضرت ہاجرہ کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ’’ہاجرہ! تمہیں معلوم ہے آج کیا ہونے والا ہے؟ آج خلیل اﷲ تمہارے اسماعیل کے گلے پر چھری چلانے والے ہیں، یعنی وہ آپ کے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے لے گئے ہیں۔ حضرت ہاجرہ نے فرمایا۔ کیوں؟ تو شیطان ملعون کہنے لگا اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے تو آپ نے جواباً فرمایا۔ اگر یہ اﷲ کا ارشاد ہے تو سر آنکھوں پر، پھر یہاں ایک اسماعیل کی جان تو کیا اگر ہاجرہ کی ہزار جانیں اور لاکھوں اسماعیل ہوں تو پھر بھی حقیقی دوست کے حکم پر قربان ہیں۔
جب شیطان کو یہاں اپنی دال گلتی نظر نہ آئی تو خیال کیا کہ اب اسماعیل علیہ السلام کے پاس چلنا چاہئے کیونکہ وہ ابھی لڑکپن بچپنے کی نافہمی کی وجہ سے میں اسے جلدی بہکا سکوں گا۔ دوسرے یہ کہ اپنی جان ہر ایک کو پیاری ہے۔ یہ سوچ کر وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاس آیا اور کہنے لگا۔
اسماعیل! تم کہاں جارہے ہو تو آپ نے فرمایا کہ اپنے شفیق باپ کے ساتھ ایک دوست کی دعوت پر جارہا ہوں۔ شیطان نے کہا نہیں وہ تو تمہیں ذبح کرنے کے لئے لے جارہے ہیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا وہ کس لئے؟ شیطان جو دل ہی دل میں اپنی فریب کاری کی کامیابی کے خواب دیکھ رہا تھا۔ کہنے لگا کہ آج رات خدا نے انہیں تمہارے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے سن کر یہ جواب دیا۔ چل دور ہو اے لعین۔ اگر یہ واقعی فرمان خداوندی ہے تو ایک اسماعیل کیا ہے اگر اسماعیل کے پاس ہزار جانیں بھی ہوں تو رضائے الٰہی کی خاطر قربان کرنے کو میں خود تیار ہوں‘‘
ابلیس لعین نے یہاں سے بھی منہ کی کھاکر حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و التسلیم کا رخ کیا اور کہنے لگا ابراہیم! اسماعیل کو کہاں لئے جارہے ہو؟ کیا کبھی کوئی باپ بھی اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنا گوارا کرتا ہے۔ تم یہ کیا کرنے والے ہو۔ یہ سن کر آپ نے غضبناک ہوکر فرمایا ’’ہٹ دور ہو او ملعون، تیرا منتر انبیاء پر نہیں چلتا۔ میرا یہ خواب رحمانی ہے، شیطانی نہیں۔ مجھے جو حکم الٰہی ہے میں اس سے ہرگز بھی سرتابی نہیں کرسکتا۔ ادھر حکم رب جلیل ہے اور ادھر رضائے ابراہیم خلیل ہے جو رب جلیل کی رضا ہے وہی اس کے خلیل کی بھی رضا ہے۔
چنانچہ شیطان لعین نے تین جگہ جمرۃ العقبی، جمرۃ الوسطیٰ اور جمرۃ الاولیٰ پر میدان تسلیم و رضا کے شہسوار حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ التسلیم کو اپنے دام فریب میں لانے کی کوشش کی مگر ان وارفتگان محبت، اولوالعزمان دانشمنداں کے پائے استقامت میں اس مردود ملعون کی فریب کاریوں سے کب ڈگمگا سکتے تھے۔ آپ کے عزم و استقلال میں ذرہ بھر بھی لغزش نہ آئی اور آپ نے اس لعنتی علیک الی یوم الدین کے مستحق اور راندۂ درگاہ خداوندی کے ہر حیلے اور حملے کا جواب پتھر سے دیا اور اﷲ تعالیٰ کے حکم سے اس پر تینوں مقامات پر سات سات کنکریاں ماریں تو اس ملعوم کو دم دباکر بھاگنے کے سوا اور کوئی چارۂ کار نظر نہ آیا۔ چنانچہ اب بھی حاجی صاحبان اس سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے کنکریاں مارتے ہیں۔
بعد ازاں چلتے چلتے جب وادی عشق و محبت کے یہ دونوں مسافر اپنی منزل مقصود منیٰ پر پہنچے تو حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے اپنے پیارے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے جذبہ محبت کے امتحان کے طور پر ارشاد فرمایا۔
یابنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ما ذا تری (23 صفت)
بیٹا میں خواب دیکھتا ہوں کہ میں تم کو ذبح کررہا ہوں تو تم دیکھ لو تمہاری اس بارے میں کیا رائے ہے۔
اپنے پدر بزرگوار کا یہ ارشاد سن کر رہ و رسم محبت سے آشنا اور خوگر تسلیم ورضا اس بیٹے نے سوچے سمجھے بغیر اپنی جان عزیز کو بارگاہ خداوندی میں پیش کرتے ہوئے سر جھکا کر نہایت ادب و احترام سے عرض کیا۔
’’ابا جان! خد اکا شکر ہے کہ اس خالق حقیقی نے مجھے اس بہت بڑی سعادت کے لئے پسند فرمایا ہے۔ رضائے الٰہی کی خاطر ایک جان کیا ہزار جانیں بھی تصدق کرنے کو تیار ہوں کیونکہ…
اگر راہ خدا میں آج میں قربان ہوجائوں
محمد مصطفی کے دین کی میں شان ہوجائوں
اس لئے یابت افعل ماتومر ستجدنی ان شاء اﷲ من الصابرین
اباجان! جو آپ کو حکم الٰہی ہے فی الفور بلا پس و پیش اس کی تعمیل کیجئے۔ ان شاء اﷲ تعالیٰ آپ مجھ کو صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے
(یاد رہے کہ ہر کام کے شروع کرتے وقت ان شاء اﷲ کہنا انبیاء کرام کی سنت ہے) مگر تین وصیتیں ضرور یاد رکھیں۔ ایک تو یہ کہ ذبح کے وقت میرے ہاتھ پائوں مضبوط رسی سے جکڑ دیں ایسا نہ ہوکہ میں اس صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے ہاتھ پائوں مارتا اﷲ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوں اور وہ اسے میری کم ہمتی سمجھ لیں اور میرے اس تڑپتے پھڑکتے سے خون کا کوئی قطرہ آپ کے لباس اطہر پر نہ پڑجائے کہ اس سے قیامت کے دن مجھ پر اﷲ تعالیٰ کا عتاب نازل نہ ہوجائے۔
دوسری یہ کہ میرا سر زمین پر رکھ کر منہ نیچے کی طرف کرلینا تاکہ آپ کی نظر مجھ پر اور میری آپ پر پڑنے سے پدری محبت اس نیک کام میں رکاوٹ نہ بن جائے اور ہم اس امتحان میں ناکام نہ ہوجائیں۔
تیسری یہ کہ جب آپ یہاں سے فارغ ہوکر گھر واپس جائیں تو میری والدہ محترمہ کے سامنے یوں ہی نہ چلے جانا۔ ایسا نہ ہوکہ وہ آپ کے ساتھ مجھ کو نہ دیکھ کر بے چین ہوجائیں۔ اگر وہ میرے متعلق پوچھیں تو میرا محبت و نیاز بھرا سلام پہنچانے کے بعد کہہ دینا کہ میں اسماعیل کو اس محسن حقیقی کے پاس چھوڑ آیا ہوں جو اس کے لئے تم سے بہتر ہے اور میرا یہ خاک و خون سے بھرا کرتہ اس کے سامنے پیش کردیں تاکہ یہ ان کے پاس یادگار کے طور پر رہے۔
حضرت ابراہیم علیہ التسلیم نے اپنے فرزند عزیز کو ان وصیتوں کو منظور فرما کر چھری اور رسی نکال کر جب آپ کو ذبح کرنے کے لئے زمین پر لٹایا اور ہاتھ پائوں باندھنے شروع کردیئے تو زمین و آسمان کانپ اٹھے اور عرش و فرش کا ذرہ ذرہ تھرا گیا اور حورو ملائک اس منظر کو دیکھ کر دل تھامے حیران کھڑے تھے بلکہ خود خالق کائنات نے بھی دونوں باپ بیٹے کی اس شان بے نیازی کو ملاحظہ فرمایا۔
چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے اپنے سعادت مند بیٹے کے نازک حلق پر چھری چلائی، کچھ اثر نہ ہوا۔ روایت ہے کہ آپ نے ستر مرتبہ چھری چلائی تو پھر بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ایک بال بھی بیکا نہ کرسکی۔ آخر حضرت خلیل اﷲ نے غصے سے چھری کو زمین پر پھٹک دیا تو چھری نے زبان حال سے عرض کیا۔
’’خلیل اﷲ! یہاں غصے کا کیا مقام ہے۔ میں تو حیران ہوں کہ الخلیل یامرنی بالقطع والجلیل ینہانی آپ مجھے کاٹنے کا حکم دیتے ہیں اور رب جلیل مجھے کاٹنے سے منع کررہا ہے۔ اگر رب تعالیٰ نے آپ کو ایک بار ذبح کرنے کا ارشاد فرمایا ہے تو مجھے ستر بار نہ کاٹنے کا حکم فرمایا ہے‘‘
ابھی چھری اور حضرت خلیل میں یہی تنازعہ چل رہا تھا کہ حریم عرش سے ایک دلنواز آواز گونجی یاابراہیم قد صدقت الرؤیا انا کذلک نجزی المحسنین
’’اے ابراہیم! چھوڑ دو تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا، ہم احسان مندوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں۔‘‘
اس محبت بھری آواز کے ساتھ ہی پیچھے سے ہی آواز آئی اﷲ اکبر اﷲ اکبر… یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے عشق و محبت سے نگاہوں کو اٹھایا تو حضرت جبرئیل امین علیہ السلام کے ساتھ ایک دنبے کو موجود پایا۔ حضرت جبرئیل امین نے حضرت خلیل کو رب جلیل کا حکم پہنچایا۔
’’اے ابراہیم! تم اس امتحان میں کامیاب ہو۔ آپ کی اس قربانی کو قبول فرمالیا گیا ہے اور رب تعالیٰ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سلام فرماتا ہے۔ اب اسماعیل کے بدلے اس دنبے کو ذبح کرو‘‘
تو جب حکم ایزدی سے آپ نے دنبے کو ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا اور چھری چلائی تو ذبح کے وقت دنبے نے کہا۔ لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قربانی کی قبولیت کے شکریئے میں فرمایا اﷲ اکبر وﷲ الحمد اور سجدہ شکر ادا کیا۔ اس کے بارے میں ہی خداوند قدوس ارشاد فرماتا ہے۔

ان ہذا لہو البلاء امبین وفینہ بذبح عظیم کہ ’’حقیقت میں یہ بڑی آزمائش تھی سو ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچالیا‘‘
پیارے بھائیو! سیرت ابراہیمی کی روشنی میں اب ہم مسلمانوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم عید قربان کو محض گوشت کھانے کی خاطر ہی نہ منائیں بلکہ اس عید کی اصل غرض و غایت کو بھی نظر انداز نہ ہونے دیں اور حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی ملت اور رسول عربیﷺ کی امت کہلاتے ہوئے اسی محبت خداوندی کا مظاہرہ کریں۔ اس عید کا اصل مقصد یہ ہے کہ اسوۂ ابراہیم کو اپنایا جائے اور صحیح معنوں میں اس کی تقلید کی جائے۔
حقیقت میں یہ مبارک دن اسلام سے ازلی عہدوفا کی تجدید کا دن ہے کہ ہم حق کی رضاجوئی کی خاطر ناموس اسلام اور موقع آنے پر مملکت اسلامیہ کے تحفظ و بقاء کے لئے اپنی متاع عزیز و جان و مال کو بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔
یہی ہے فلسفہ اے دوست! عید قربان کا
دکھائی جائے زمانے کو شان اسماعیل
دعا ہے کہ خداوند عزوجل ہمیں اس کارخیر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
بجاہ سید المرسلین احمد مجتبٰی محمد مصطفی علیہ التحیۃ والثناء