کس سے منصفی چا ہیں ؟

in Tahaffuz, October 2013, ایس ایم عرفان طا ہر

یہ منظر کو ن سا منظر ہے ، پہچا نا نہیں جا تا
سیہ خا نو ں سے کچھ پو چھو ، شبستا نو ں پہ کیا گز ری
چلو وہ کفر کے گھر سے سلامت آگئے لیکن
خدا کی مملکت میں سو ختہ جا نو ں پہ کیا گزری ؟
حضر ت وا صف علی واصف فر ما تے ہیں آ ج ہما رے گر دو پیش خطر ات ہیں ۔ہما رے یسا ر و یمین میں خطرہ ہے ۔ہما رے دروا زے پر خطر ہ دستک دے رہا ہے ۔ ہم کرب سے گزر رہے ہیں ۔ مکینو ں کو اپنے مکان میں سکون نہیں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت میں کوئی نہ کوئی خطرہ مو جو د ہے ۔ کیا ہمیں جان کا خطرہ ہے ، ایمان کا خطرہ ہے ، عزت کا خطر ہ ہے ، ملکی سلامتی کا خطرہ ہے ملی وحدت کا خطرہ ہے ؟ بلا شبہ قانو ن وقاعدہ اور آئین و ضا بطہ ہمارے ملک میں محض کتابی دنیا تک محدو د دکھائی دیتا ہے عمل سے ان کا دور کا بھی واسطہ ، ناطہ اور تعلق دکھائی نہیں دیتا ہے ۔ لا قانونیت ، دہشت و وحشت، بے سکونی ، بے را ہ روی ، بے اعتمادی ، تباہی و بر بادی اور اضطرابی کیفیا ت ہما رے ارد گر د ما حو ل میں پو ری طر ح سے سر اعیت کر چکی ہیں آج شر پھیلا نے والا آزاد اور امن و آشتی کا پیغام عام کر نے والا غلام دکھائی دیتا ہے مثبت اور تعمیری سوچ کو نیست و نابود کر نے والے ہر قریہ قریہ اور نگر نگر دکھائی دینے لگے ہیں یہا ں حق کا ساتھ دینے والے زیادہ نہیں اور با طل سے اختلا ف رکھنے والے کم ہیں دہشتگردوں کا حامی اور معاون و مدد گا ر ہر ادارے اور ہر سمت میں دکھائی دیتا ہے جبکہ شرافت ، ایمانداری اور دیانتداری کا رویہ اختیا ر کرنے والے بے آبرو اور بر با د دکھائی دیتے ہیں ۔ بد اعتما دی کا یہ عالم ہے کہ منصف کی جان خود خطرے میں گھری ہوئی ہے دہشتگرد آزاد اور وطن پر ست قیدو بند اور صعوبتو ں کا شکا ر بنے ہو ئے ہیں عدل و انصاف اور معا شر ے میں امن قائم کرنے والے جاندار فیصلہ کیو نکر کریں گے وہ تو خود کئی قسم کی تکا لیف ، بندشوں اور مشکلا ت میں الجھے ہو ئے ہیں ۔ دہشتگردوں ، انتہا پسندوں اور معاشرتی بگا ڑ کا سبب بننے والو ں کے خلا ف آواز کون اٹھا ئے گا سر اٹھا نے والے کو یہا ں کچل دیا جا تا ہے ۔ انصا ف مہیا کر نے والے دہشتگردوں کی طا قت اور دسترس سے بہت زیادہ خو فزدہ اور بے چا رگی کی علا مت بنے ہو ئے ہیں اس قدر سیکیو رٹی کے حوالہ سے عدم تحفظ پایا جا تا ہے کہ منصف کو بذا ت خود مجرم سے ہی خطرہ لا حق ہے ۔ دہشتگردوں کے خلاف آواز اٹھا نا تو دور کی با ت اس کا خیال تک بھی تصور میں لا نے کے لیے  100 با ر سوچا جا تا ہے ۔ قانو ن نا فذ کر نے والے ادارے اور سیکیو رٹی فورسز کوئی بھی مثبت اقدام اٹھا نے سے پہلے اجا زت نامو ں کا انتظار کرتی ہیں جبکہ دہشتگرد محض اپنی من مانی کرتے ہوئے کچھ بھی کر گزرتے ہیں محکمو ں کی کمزور پالیسیو ں اور سیاست کی منافقت بھری ادائو ں نے ہر کسی کو کمزور اور کاہل کر کے رکھ دیا ہے فا ضل جج صا حبا ن کسی بھی دہشت گرد کا کیس سماعت کرنے سے پہلے دل کو کئی با ر تسلی دیتے ہو ئے دکھائی دیتے ہیں دہشتگرد کا رعب اور دبدبہ اسقدر زیا دہ ہوتا ہے کہ ڈر اور خوف کے سبب مجرم کے منہ کو ڈھانپ دیا جا تا ہے کہ وہ جج صاحبان کا چہرہ نہ دیکھ سکے اور نہ ہی عدالت میں فیصلہ سنانے والے ججز کے اصل نام بتائے جا تے ہیں بلکہ فر ضی نامو ں سے پکارا جا تا ہے تا کہ کوئی دہشت گرد نام سننے کے بعد مستقبل قریب میں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے ہما رے ہا ں تحقیقا ت کا عمل اسقدر کمزور اور ناکامی کا شکا ر ہے کہ کسی بھی دہشتگرد کے جرم کو ثا بت ہو نے سے پہلے ہی ثبوت نہ ہو نے کے با عث اور کیس جا ندار نہ بنا ئے جا نے کے بعد با عزت رہا کردیا جا تا ہے ۔ لا پتہ افراد میں موجود دہشتگرد بھی تحقیقا ت مکمل نہ ہو نے کے با عث کئی کئی سالو ں تک منظر عام پر نہیں لا ئے جا سکتے ہیں یہا ں پر جی ایچ کیو پر حملہ کر نے والو ں کو آزادی نصیب ہو جاتی ہے عام انسان کا قتل تو اپنی جگہ کسی بڑی سے بڑی شخصیت کو بھی چند لمحوں میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے ہر کوئی منفی عوامل سے سیکیو رٹی نہ ہو نے کی وجہ سے یا سیکیو رٹی فورسز پہ عدم اعتمادی کی وجہ سے خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے محکمہ پولیس جو سیکیو رٹی کے حوالہ سے سب سے بڑا ٹھیکیدار بنا ہوا ہے اس میں کرپشن اور نااہلی کا یہ عالم ہے کہ دنیا بھر میں جہا ں لوگ پولیس کو اطلا ع دینے کے بعد محفوظ اور پر اطمینان ہو جا تے ہیں ہما رے ملک میں متعلقہ پولیس کو مطلع کر نے کے بعد لوگ خود مشکل کا شکا ر ہو جا تے ہیں اور خود کو مزید غیر محفوظ اور بے امان سمجھنے لگتے ہیں گذشتہ روز خطر ناک بم دھماکو ں میں ملو ث دہشتگرد کے کیس کے فیصلہ کے لیے سیکورٹی کے ناقص انتظام کی بد ولت فا ضل جج کو خود جیل میں جا کر فیصلہ سنانا پڑا ۔دہشتگردوں کی انو سٹی گیشن کرنے والے زندگی اور مو ت کی کشمکش میں مبتلا ء ہو جا تے ہیں اور اپنی جان چھڑانے کی کوشش میں مصروف عمل رہتے ہیں پولیس یا سیکیو رٹی فورسز کو خفیہ اطلا عات باہم پہنچا نے والو ں کے ساتھ ایسے ایسے المناک واقعات پیش آتے ہیں کہ کوئی بھی پولیس یا اس سے متعلقہ اداروں کو انفارم کر نا بھی گوارا نہیں کرتا ہے ۔ چند ٹکو ں کے عوض محکمہ پولیس کے کرپٹ افسران انفارمرز کا نام صیغہ راز میں رکھنے کی بجا ئے خود دہشتگردوں اور مجرمو ں کو بتا دیتے ہیں ۔ شریف النفس اور پرامن انسان کی زندگی کا اتنا خیال نہیں رکھا جا تا جس قدر دہشتگردوں اور سفا ک قاتلو ں کے آرام ، پسند نا پسند اور نا را ضگی کا خیال رکھا جا تا ہے تا کہ یہ محافظوں کو نقصا ن نہ پہنچا سکیں اور دل میں دشمنی نہ پال لیں جو ادارے خود عدم تحفظ اور مجبوریو ں کا شکا ر ہیں وہ بھلا دوسروں کی حفاظت کس طر ح کر سکتے ہیں ؟ ہما رے ہا ں بجلی ، گیس اور پانی سمیت ہر شے چو ری حق سمجھ کر کی جا تی ہے تو پھر یہ دہشتگردوں کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ اپنا خوف ، اپنا رعب اور دبدبہ بلا معا وضہ ہما رے اندر پھیلا تے رہیں سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ ہما رے حکمران محض اپنے ذاتی مفا دات اور معاملا ت کو تر جیح دیتے ہیں یہ ملک و قوم سے مخلص نہیں جس کی بد ولت ہر طرف بر ے حالا ت کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے کراچی، بلو چستان ،خیبر پختونخواہ اور ملک بھر میں نیشنل سیکیو رٹی اور سیکیو رٹی الائنس کا محض ڈرامہ رچا یا جا رہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، یہ سب لاحاصل اور فالتو کام ہیں محض عوام کو مطمئن کرنے کے لیے یہ سب فلمی اسٹوریا ں چلائی جا رہی ہیں ہمارے ہا ں بنیا دی طو ر پر تحقیقا تی نظام نا قص ، قدیم اور غیر منصفانہ ہو نے کے باعث اور بے حساب کر پشن کی بد ولت قصور وار دہشتگردوں کو سزا ملنا تو ایک طر ف انکا جرم ہی ثابت نہیں ہو پاتا ہے ۔ ہر فر د یہا ں مہنگا ئی ، غربت ، افلاس اور بے روز گا ری کے ساتھ ساتھ موت کا ڈر لیے بڑی ما یو سی اور ناامیدی میں مبتلا ہے حکمران عوام الناس کو ریلیف پہنچا نے کی بجا ئے اور ان کے غمو ں کا حقیقی شریک بننے کی بجا ئے بجلی ، گیس ، پیٹرول سمیت ہر شے پر ٹیکس لا گو کر کے ڈرون حملے کر نے میں مصروف ہیں ۔سرکا ری  اداروں اور حکو متی ایوانو ں میں بیٹھنے والے لا شو ں اور جنا زو ں کا تما شا دیکھنے کے باوجو د بھی اپنی عیا شیو ں اور پر و ٹو کول کا مزہ اٹھا نے میں مصروف ہیں عام آدمی ایک کشمکش میں مبتلا ء ہے دنیا کا ظا ہری اور قیمتی سرمایہ زندگی بھی محفوظ دکھائی نہیں دیتی ہے ۔ غربت ، افلا س ، بے رو ز گا ری ، معا شی بحران ، فرقہ واریت ، علا قا ئی و لسانی تعصبا ت ، انتہا پسندی ، دہشتگردی ، شدت پسندی اور انا نیت کے ناسور سمیت تمام معاشی اور سیاسی برائیو ں نے ہمیں کمزور ، معذور اور مفلو ج کر کے رکھ دیا ہے ۔
غم کی تصویر کسی طو ر بنا ئے نہ بنے
زخم کھا ئے نہ بنے زخم لگا ئے نہ بنے