لباس خضر میں پھرتے ہیں سینکڑوں رہزن

in Tahaffuz, October 2013, بنت فضل بیگ مہر

آج ہمارے معاشرے میں کیا کچھ نہیں ہورہا… جدھر نگاہ اٹھتی ہے وہ کچھ دیکھنے کو ملتا ہے جو پہلے کبھی دیکھا نہ ہو۔ ہر ایک برائی ہمارے اردگرد سرعام ہورہی ہے۔ کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔ اگر کسی پہ روک ٹوک کی ذمہ داری عائد ہے تو وہ خود انہیں برائیوں کا مرتکب نظر آتا ہے۔ ذمہ داری کا سہرا سر پر سجانا تو جانتے ہیں، مگر پھر اس ذمہ داری کو نبھانا نہیں جانتے… اور اگر جانتے بھی ہوں تو اپنی ذمہ داری سے نظریں چرا لیتے ہیں۔
موجودہ صورت حال یہ ہے کہ جس طرف دیکھو، دوسروں کے حقوق دبتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کہیں بھی عدل و انصاف نظر نہیں آتا۔ ہر کوئی اپنے مفاد کے چکر میں ہے۔ اپنے مقصد کی تکمیل اور اپنے مفاد کے لئے جائز و ناجائز جو کچھ بھی کرنا پڑے، یہ کرنے کو تیار ہیں لیکن سامنے والا بے چارہ اگر سچائی پر ہے تو پھر بھی اس کا حق دبا دیں گے… دلوں میں احساس نہیں ہے۔ بس صرف اسی سوچ کو لے کر بیٹھے ہیں کہ دوسروں کا نقصان ہوتا ہے تو ہوتا رہے۔ اپنے کو کہیں سے نقصان نہ پہنچے… ایسی سوچ رکھنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ نہ تو وہ خود کامیاب ہوتے ہیں اور نہ معاشرہ ان کی وجہ سے کامیاب ہوتا ہے۔
ہمیں اس معاشرہ میں نگاہ اٹھا کر جینا ہوگا۔ اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنا ہوگا اور یہ پہچان کرنا ہوگی کہ جو ہمارے ساتھ ہیں وہ اچھے ہیں یا برے… اپنے اندر اچھے برے کی تمیز پیدا کرنا ہوگی… اگر کوئی اچھائی سے پیش آرہا ہے تو اس کی اچھائی کا مقصد کیا ہے اور اگر کوئی برائی کررہاہے تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ برائی کا ارتکاب کس وجہ سے کررہا ہے؟
بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم سامنے والے کو اپنا رہبر سمجھ لیتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم جنہیں اپنا رہبر سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ ہمیں منزل کا پتہ نہیں دیتے بلکہ دلدل کاپتہ بتا دیتے ہیں… یہ بھی سچ ہے کہ اس پرفتن دور میں اچھے اور مخلص لوگوں کی کمی نہیں ہے مگر بہت سے ایسے بھی ہیں جو انتہائی گھٹیا ہیں… برائی کرنا جن کا وطیرہ بن چکا ہے اور جنہوں نے اچھا نظر آنے کے لئے صرف اچھائی کا لبادہ اوڑھ رکھا ہوتا ہے اور اپنے اس اچھائی کے لبادے میں سامنے والے کو اپنے قریب لاکر پھر اسے اپنی اصلیت کا ایسا ڈنک مارتے ہیں کہ سانپ کا ڈسا ہوا تو ٹھیک ہوجاتا ہے لیکن ان کا ڈسا ہوا کبھی ٹھیک نہیں ہوتا۔ بے چارہ اپنی ساری زندگی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر گزارتا ہے اور ان ظاہری اچھوں کو شرم پھر بھی نہیں آتی۔
ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی اپنی کتاب پرواز خیال میں لکھتے ہیں کہ:
’’چیونٹی!
جب سیلاب آتا ہے
اور پانی اس کے بلوں میں گھسنے لگتا ہے
تو وہ اپنے اپنے سوراخوں سے باہر آتی ہیں
ایک دوسرے میں گتھ جاتی ہیں… پیوست ہوجاتی ہیں
ایک ڈھیلے کی مانند… پانی کی سطح پر وہ ڈھیلا بہتا رہتا ہے
جونہی سیلاب اترا… وہ اپنی ایک نئی دنیا
ایک نئی بستی… بسا لیتی ہیں
کوئی کسی کی چغلی… مخبری … یا راز افشا نہیں کرتی
مسلم قوم یا مسلمانوں میں یہ شعور کیوں نہیں
کیا؟
وہ چیونٹیوں سے بھی گئے گزرے ہیں؟
آج کا انسان اخلاقی قدریں کھو بیٹھا ہے دنیا کی ہوس نے اسے اندھا کردیا ہے… نفسانی خواہشوں نے اسے سفاک بنادیا ہے۔ ہماری نظروں کے سامنے بڑے بڑے ہیں جو دن کے اجالے میں درویشوں کا روپ دھار لیتے ہیں اور رات کی تاریکیوں میں اندیشوں کا جال بنتے ہیں… یہ بڑے بڑے جو نام کمانے میں مصروف ہیں، کاش کہ یہ اس حدیث مبارکہ کو پڑھ لیں۔
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ سرکار مدینہﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نظر نہیں فرماتا۔وہ تمہارے دل اور تمہارے اعمال کی طرف نظر کرتا ہے (صحیح مسلم)
ان نام کمانے والوں کو اگر کبھی چار بندوں میں گفتگو کا موقع مل جائے تو اس طرح بناوٹی گفتگو کرتے ہیں کہ بس کیا کہئے۔ مگر تنہائی میں پھر وہ کچھ ہوتا ہے کہ شرم بھی شرما جائے اور دوسروں کو حکمت بھری باتیں سکھانے والے اگر کبھی خود اپنی طرف نگاہ کریں تو انہیں یقینا محسوس ہوگا کہ حکمت تو ان کو چھو کر بھی نہیں گزری… یہ اپنا ظاہر تو اچھا رکھتے ہیں مگر باطن ان کا اچھا نہیں ہوتا۔ اپنے باطن کی صفائی بھول جاتے ہیں اور جب باطن ہی اچھا نہ ہو تو پھر ظاہری اچھا بننا بیکار ہے۔
مقام شرم ہے کہ آج کے مسلمان کو کیا ہوگیا۔ وحشی پن دیکھنا ہے تو اس میں نظر آئے گا… درندہ پن دیکھنا ہے تو اس میں نظر آئے گا… جنگلی پن دیکھنا ہے تو اس میں نظر آئے گا… ارے آج کے مسلمان میں وہ کچھ نظر آتا ہے جو اس میں تو کیا اس کے اردگرد دور دور تک نظر نہیں آنا چاہئے تھا اور وہ بھی اس میں نظر آتا ہے جس کو دوسرے نیک وپرہیز گار سمجھتے ہیں اور بھولے بھالے لوگ تو نہ جانے اس کو کیا کیا سمجھتے ہیں۔ اس نکتے پر غور کریئے گا کہ جب ایک عام آدمی برائی کی طرف بڑھتا ہے یا برائی کرتا ہے تو اس پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا اور کسی کی انگلی اتنی جلدی اٹھتی بھی نہیں ہے۔ اس کے برعکس ظاہری نیک و پرہیزگار آدمی کوئی ایسا گھنائونا فعل کرے تو پھر اٹھانے والے اس کی طرف انگلی تو کیا پورا پورا ہاتھ اٹھاتے ہیں…لعنت کے لئے… اور ساتھ میں یہ بھی کہتے ہیں کہ مولوی ہوکے ایسی گندی حرکت کرتا ہے… جو خود ایسا ہے وہ دوسروں کو کیا درس دے گا…!! اور پھر اس کی ایک یا چند ایک کی نیچ حرکت کی وجہ سے لوگوں کی زباں پر یہ جملہ بھی آجاتا ہے کہ یہ سارے مولوی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے چند برے ہوں تو ان کی وجہ سے سب کو برا نہیں سمجھنا چاہئے۔ ان میں ایسے بھی ہیں کہ بقول شاعر…
خون دل دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے
ہاں تو بات ہورہی تھی لباس خضر میں پھرنے والے رہزنوں کی…!! آج عزتوں کے لٹیرے جا بجا گھوم رہے ہیں… شیطانیت ہر جگہ ناچ رہی ہے… بوالہوس کا نعرہ زبانوں پرہے… کیا ہوگیا اس قوم کے معماروں کو… وہ جو مختلف صورتوں میں مختلف بھیس بدل کر دوسروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں… انہیں کیوں غیرت نہیں آتی… اور دوسروں کو سادگی کا درس دینے والے خود اپنے آپ کو سادگی کے سانچے میں کیوں نہیں ڈھالتے… یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سامنے والے کو بے وقوف بنا رہے ہیں … مگر کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ان نام نہاد چھوٹے مولویوں پر اندر ہی اندر ہنستے ہیں… ان نام نہاد مولویوں کا ظاہر تو ٹھیک ہے مگر ضمیر مردہ ہوچکے ہیں۔ ان کی آنکھوں پربے حیائی کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ یہ اپنے ظاہر پر مولوی کا لیبل لگاکر نہ جانے کتنوں کی زندگی خراب کرچکے اور کتنوں کی عزتوں کو پامال کرچکے ہیں… دو دو ٹکے کے لئے یہ نام نہاد مولوی اپنی آنکھوں پر بندھی بے حیائی کی پٹی کو کھول کر، اپنے گریبانوں میں جھانکیں… نظر کریں اپنی بداعمالیوں کی طرف اور دیکھیں کہ ان کی بے غیرت کس انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ علامہ اقبال نے سچ کہا ہے کہ…
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
اور وہ جو مدارس سجا کر بیٹھے ہیں اور مدارس کے نام پر آنے والی رقم سے اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں… کیوں انہیں احساس نہیں ہوتا کہ وہ اچھا نہیں کررہے… ان مدارس میں دینے والے کئی ایسے مخلص ہیں جو ماہانہ تعاون کرتے ہیں اور دونوں ہاتھوں سے بٹورنے والے سوچیں کہ کتنی رقم مدارس کے نام پر لے کر مدارس میں لگا چکے ہیں اور کتنی رقم ذاتی تجوری میں بھرچکے ہیں… یہ سوچ کر کہ یہ اپنا پیسہ ہے … آگے بچوں کے کام آئے گا… ہائے افسوس! شرم ختم ہوگئی ہے ان لوگوں کی…!!
اور وہ جو منبر رسولﷺ پر بیٹھ کر بڑی بڑی بڑھکیں لگاتے ہیں… ذرا اپنی بھڑکیوں پر غور کرتے ہوئے یہ سوچیں کہ خود انہوں نے کتنوں کے حقوق دبا رکھے ہیں اور کتنے لوگوں کے ساتھ خود انصاف کا تعاون کرتے ہیں۔
اور ہمارے ملک کے سخی حضرات جن کا بڑا نام ہے اور اپنی ایک پہچان ہے۔ جو غریبوں کے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں… جی ہاں یہ حضرات جہاں دیکھتے ہیں کہ میڈیا کا کیمرہ پہنچ گیا ہے…و ہاں ان کی سخاوت عروج پر ہوتی ہے اور غریبوں کے ساتھ نہ صرف تعاون کرتے ہیں بلکہ مزید تعاون کا یقین بھی دلاتے ہیں اور غریب بے چارہ غربت کے ہاتھوں ستایا ہوا پریشان حال اگر اس وقت ان کے پاس پہنچ جائے، جب میڈیا کا کیمرہ ان بڑوں کے سامنے نہیں ہوتا تو پھر اس کو اس قدر ذلیل و رسوا کرتے ہیں کہ بے چارہ ساری زندگی ان کے پاس دوبارہ جانے کا سوچتا بھی نہیں ہے اور خوف کی وجہ سے ان کا نام بھی زبان پر نہیں لاتا۔ اگر دیکھا جائے تو سچ یہ ہے کہ یہ کون سا اپنے پاس سے مدد کرتے ہیںان کو تو کیمپوں میں آنے والا مال ملتا ہے… یا مخیر حضرات دیتے ہیں یا پھر کسی اور ذرائع سے ان کی جیبیں بھرتی ہیں… اس کے باوجود غریبوں کو دیتے ہوئے ان کے ہاتھ کپکپاتے ہیں۔ ارے غریب بے چارہ تو تھوڑے پر بھی راضی ہوجاتا ہے… زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت ہی دے کر غریب کو خوش کردیں۔
ان نام کمانے والوں سے اور لباس خضر میں نظر آنے والوں سے تو وہ لوگ اچھے ہیں جو اپنی حلال کی کمائی سے غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور اپنے لئے واہ واہ بھی نہیں چاہتے… …صرف غریبوں کی دعا لیتے ہیں… اے کاش یہ بڑے ان اصلی غریبوں کے ساتھ چھپ چھپا کر بھی تعاون کرنے کا حوصلہ رکھتے اور ریاکاری کی تباہ کاری سے بچنے کی کوشش کرتے۔
حضرت محمود بن لبید رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ تمہارے بارے میں جس چیز سے میں بہت ڈرتا ہوں وہ شرک اصغر ہے… صحابہ نے عرض کیا… یارسول اﷲﷺ شرک اصغر کیا چیز ہے؟ فرمایا ریا (یعنی دکھاوے کے لئے کام کرنا) (احمد)
آج کہیں بھی امن کی فضا نظر نہیں آتی… انصاف کی دولت نہیں ملتی… ہر کوئی اپنے مفاد کی خاطر سب کچھ کررہا ہے۔ ایک دوسرے کی جڑیں کاٹی جارہی ہیں… دوسروں کے عہدوں پر نظر جمی ہے… رشتہ داریوں کے چکر میں ہر کوئی رہتا ہے…سفارش اور رشوت کے لین دین میں مگن ہیں… غریبوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے اور نااہل امیروں کی ان کی دولت کی وجہ سے سنی جاتی ہے… ان کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے… امیروں سے رابطے رکھے جاتے ہیں اور غریبوں کو دیکھنا پسند نہیں کرتے… بظاہر اگر غریبوں کے لئے ہمدردی کے چند لفظ بول بھی دیں تو پس پردہ امیروں کے ہی گن گائے جاتے ہیں… اور غریبوں کے لئے تو ان بڑوں کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا… یہ لوگ اسلام کے اسباق کو فراموش کرچکے ہیں… ہوس اور خود غرضی نے ان لوگوں کو اغیار کے مفادات کے تابع بنادیا ہے… ذرا سوچیں کہ… کیا یہی تہذیب ہے…؟ اور اسی کا نام انسانیت ہے…؟
یہ نام کمانے والے یاد رکھیں کہ مالی اچھا ہو تو چمن نکھر جاتا ہے اور چرواہا ذمہ دار ہو تو بھیڑیں بھی نظم وضبط کے دائرہ میں رہنے لگتی ہیں۔
نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے
قارئین! معاف کیجئے گا میری باتیں یقینا آپ کو تلخ لگی ہوں گی… بلکہ سچ تو یہ ہے کہ میرے ہر لفظ میں تلخی بھری ہوئی ہے اور یہ تو آپ جانتے ہوں گے کہ سچ ہمیشہ تلخ اور کڑوا ہی ہوتا ہے… اور مجھے سچ لکھنے کی عادت ہے۔
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند