غیر صحابہ کیلئے رضی اﷲ عنہ کہنا کیسا ہے؟

in Articles, Tahaffuz, October 2013, بنت فضل بیگ مہر

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا لفظ غیر صحابہ کے لئے استعمال کرنا کیسا ہے؟ بکر کہتا ہے کہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا لفظ بڑے بڑے علماء اور بزرگوں کے لئے بھی جائز ہے کہ یہ لفظ صحابہ کرام کے ساتھ خاص نہیں ہے اور زید کہتا ہے کہ کوئی دینی پیشوا خواہ کتنا ہی بڑا ہو، اگر صحابی نہ ہو تو اسے رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہنا جائز نہیں کہ یہ لفظ صحابہ کرام کے ساتھ خاص ہے۔ اسی لئے حضرت اویس قرنی کو جو عاشق رسول اور حضورﷺ کی بارگاہ کے مقبول تھے مگر اتنے بڑے بزرگ کو بھی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نہیں لکھا جاتا۔ تو کسی دوسرے بزرگ کو جو صحابی نہ ہوں رضی اﷲ عنہ لکھنا غلط ہے۔ لہذا اس کے بارے مں کسی کا قول صحیح ہے، مفصل جواب تحریر فرمائیں، کرم ہوگا۔
المستفتی
محمد حنیف رضوی
خطیب سنی رضوی مسجد کرلا، آگرہ روڈ، بمبئی
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
الجواب بعون الملک العزیز الوہاب
غیر صحابہ کے لئے رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا لفظ استعمال کرنا جائز ہے، جیسا کہ در مختار مع شامی جلد پنجم ص 480 میں ہے۔
غیر صحابہ کیلئے رضی اﷲ عنہ کا لفظ استعمال کرنا جائز ہے جیسا کہ در مختار مع شامی جلد پنجم ص 480 میں ہے۔
یستحب الرتضی للصحابۃ والترحم للتابعین و من بعدہم من العلماء والعباد وسائر الاخیار و کذا یجوز عکسہ وہوا الترحم للصحابۃ والترضی للتابعین و من بعدہم علیٰ الراجع اھ ملخصاً
صحابہ کے لئے رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہنا مستحب ہے اور تابعین وغیرہ کے لئے رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ مستحب ہے اور اس کا الٹا یعنی صحابہ کے لئے رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ اور تابعین وغیرہ علماء و مشائخ کے لئے راجح مذہب پر رضی اﷲتعالیٰ عنہ بھی جائز ہے۔
اور حضرت علامہ احمد شہاب الدین خفاجی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نسیم الریاض شرح شفا قاضی عیاض جلد سوم ص 509 میں تحریر فرماتے ہیں۔
ویذکر من سواہم ای من سوی الانبیاء من الائمۃ وغیرہم بالغفران والرضی فیقال غفل اﷲ لہم و رضی عنہم
اور انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے علاوہ وغیرہ علماء و مشائخ کو غفران و رضا سے یاد کیا جائے۔ تو غفر اﷲ تعالیٰ لہم و رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کہا جائے۔
لہذا بکر کا قول صحیح ہے کہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا لفظ صحابہ کرام کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ بڑے بڑے علماء اور بزرگوں کے لئے بھی جائز ہے اور زید کا یہ کہنا غلط ہے کہ کوئی دینی پیشوا خواہ کتنا ہی بڑا ہو، اگر صحابی نہ ہو تو اسے رضی اﷲ عنہ کہنا جائز نہیں اور یہ بھی غلط ہے کہ حضرت اویس قرنی کو اسی لئے رضی اﷲ عنہ نہیں لکھا جاتا کہ وہ صحابی نہیں تھے۔ اس لئے کہ محدث کبیر حضرت شیخ عبدالحق دہلوی بخاری رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ جن کو کتب خانہ رحیمیہ دیوبند نے اخبار الاخیار شریف کے ٹائٹل پیج پر سید المحققین اور برگزیدہ جناب باری لکھا ہے۔ انہوں نے اپنی مشہور کتاب اشعۃ اللمعات میں جلد چہارم ص 43 پر حضرت اویس قرنی کو رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لکھا ہے۔
اور حضرت اویس قرنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ایسے تابعی ہیں کہ جن کی ملاقات بہت سے بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ سے ہوئی ہے اور حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ایسے تابعی ہیں جن کی ملاقات صرف چند صحابہ سے ہوئی ہے۔ ان کو خاتم المحققین حضرت علامہ ابن عابدین شامی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے شامی جلد اول مطبوعہ دیوبند صفحات 37,36,35 اور صفحہ 42 پر کل چھ جگہ رضی اﷲ عنہ لکھا ہے۔
اور انہی حضرت علامہ شامی نے اپنی اسی کتاب اسی جلد مطبوعہ دیوبند صفحات 35، 38، 41 اور 43 پر کل سات جگہ حضرت امام شافعی کو رضی اﷲ عنہ لکھا ہے اور صفحہ 37 پر حضرت سہل بن عبداﷲ تستری کو رضی اﷲ عنہ لکھا ہے، حالانکہ یہ دونوں بزرگ تابعی بھی نہ تھے کہ امام شافعی کی پیدائش 150ھ میں ہوئی اور انتقال 204ھ میں ہوا اور حضرت تستری کا انتقال 283ھ میں ہوا۔
اور حضرت علامہ علائو الدین محمد بن علی حصکفی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علہ نے اپنی مشہور کتاب در مختار مع رد المحتارجلد اول مطبوعہ دیوبند ص 45 پر حضرت امام شافعی کو رضی اﷲ عنہ لکھا اور صفحہ 43 پر حضرت عبداﷲ بن مالک کو رضی اﷲ عنہ لکھا اور یہ بھی تابعی نہ تھے کہ ان کی پیدائش 118ھ میں ہوئی۔
اور حضرت علامہ امام فخرالدین رازی رحمتہ اﷲ تعالیٰ عنہ نے تفسیر کبیر جلد ششم ص 382 پر حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کو رضی اﷲ عنہ لکھا ہے۔ اور امام المحدثین حضرت ملا علی قاری رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے بھی مرقاۃ شرح مشکوٰۃ جلد اول مطبوعہ بمبئی ص 3 پر حضرت امام اعظم اور حضرت امام شافعی کو رضی اﷲ عنہ لکھا ہے۔
اور سید العلماء حضرت سید احمد طحطاوی رحمتہ اﷲ تعالیٰ نے اپنی مشہور تصنیف طحطاوی علی مراقی مطبوعہ قسطنطنیہ ص 11 پر حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کو رضی اﷲ عنہ لکھا ہے۔
اور حضرت علامہ امام غزالی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے احیاء العلوم جلد دوم ص 7 پر حضرت امام مالک اور حصرت امام شافعی کو رضی اﷲ تعالیٰ عنہم لکھا ہے۔
اور شارح بخاری علامہ ابن حجر عسقلانی نے مقدمہ فتح الباری ص 18 پر امام بخاری کو رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لکھا جن کی پیدائش 194ھ میں ہوئی۔ اور انہی علامہ ابن حجر عسقلانی نے اسی کتاب کے مقدمہ ص 21 پر حضرت امام شافعی کوبھی رضی اﷲ عنہ لکھا۔
اور حدیث کی مشہور کتاب مشکوٰۃ شریف کے مصنف حضرت شیخ ولی الدین محمد بن عبداﷲ خطیب تبریزی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے مشکوٰۃ شریف کے مقدمہ ص 11 پر صاحب مصابیح حضرت علامہ ابو محمد حسین بن مسعود فراء بغوی کو رضی اﷲ عنہ لکھا اور انہی علامہ بغوی کو تفسیر معالم التنزیل مطبوعہ مصر کے ص 2 پر بھی رضی اﷲ عنہ لکھا گیا ہے جو تبع تابعی بھی نہ تھے کہ ان کا انتقال چھٹی صدی ہجری میں ہوا ہے۔
اور حضرت علامہ احمد شہاب الدین خفاجی مصری رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی مشہور تصنیف نسیم الریاض جلد اول مطبوعہ مصر ص 5 پر حضرت علامہ قاضی عیاض کو رضی اﷲ عنہ لکھا ہے اور یہ بھی تبع تابعی نہ تھے۔ چھٹی صدی ہجری کے عالم تھے کہ ان کا انتقال  554ھ میں ہوا۔
اور سید المحققین حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاری رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اشعۃ اللمعات جلد اول ص 10 پر اور اخبار الاخیار مطبوعہ کتب خانہ رحیمیہ دیوبند کے صفحات 15، 16، 18، 21، 22، 23، 24، 209، 210، 211، 212، 213، 214 پر کل پندرہ مقامات پر حضرت غوث پاک شیخ عبدالقادر محی الدین جیلانی کو رضی اﷲ عنہ لکھا ہے جن کی ولادت 47ھ اور بقول بعض 471ھ میں ہوئی ہے۔
اور امام المحدثین حضرت ملا علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ جلد اول ص 27 پر حضرت عبداﷲ بن مبارک، حضرت لیث بن سعد، حضرت امام مالک بن انس، حضرت دائود طائی، حضرت ابراہیم بن ادہم اور حضرت فضیل بن عیاض وغیرہم کو رضی اﷲ عنہم اجمعین لکھا ہے۔ حالانکہ ان میں سے کوئی صحابی نہیں ہے۔
اور عارف باﷲ حضرت شیخ احمد صاوی مالکی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اپنی تفسیر صاوی جلد اول ص 3 پر حضرت علامہ شیخ سلیامن جمل، علامہ شیخ احمد درد پر، علامہ شیخ امیر، علامہ شمس الدین ممد بن سالم خضاوی، امام ابوالحسن، شیخ علی صعیدی عدوی، علامہ محمد بن بدیری ومیاطی، علامہ نورالدین علی شبر املسی، علامہ حلبی صاحب السیرۃ، علامہ علی اجہوری، علامہ برہان علقمی، علامہ شمس الدین محمد علقمی، علامہ امام زیادی، علامہ شیخ رملی، شیخ الاسلام علامہ ذکریا انصاری، علامہ جلال الدین محلی اور علامہ جلال الدین سیوطی، ان تمام علماء کو رضی اﷲ عنہم لکھا ہے جن میں سے کوئی صحابی نہیں۔
اور حضرت علامہ ابو الحسن نور اللمتہ والدین علی بن یوسف شطنوفی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اپنی مشہور تصنیف بہجتہ الاسرار میں غیر صحابہ کو بے شمار مقامات پر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لکھا ہے اور ہدایہ میں صاحب ہدایہ کو ان کے شاگرد نے کئی مقام پر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لکھا ہے۔
ان تمام شواہد سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا لفظ صحابہ کرام کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ اگر یہ لفظ ان کے ساتھ خاص ہوتا یعنی غیر صحابہ کو رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لکھنا جائز نہ ہوتا تو اتنے بڑے بڑے محققین جو اپنے زمانے میں علم کے آفتاب و ماہتاب تھے۔ یہ لوگ غیر صحابہ کو رضی اﷲ عنہ ہرگز نہیں لکھتے۔
یہاں تک کہ عام دیوبندی وہابی جو رضی اﷲ عنہ کو صحابہ کے ساتھ خاص سمجھتے ہیں اور غیر صحابہ کو رضی اﷲ عنہ کہنے پر لڑتے جھگڑتے ہیں ان کے پیشوا مولوی قاسم نانوتوی اور مولوی رشید احمد گنگوہی کو بھی رضی اﷲ عنہ لکھا گیا ہے جیسا کہ تذکرۃ الرشید جلد اول ص 28 پر ہے ’’مولانا محمد قاسم صاحب و مولانا رشید احمد صاحب رضی اﷲ عنہما چند روز کے بعد ایسے ہم سبق بنے کہ آخرت میں بھی ساتھ نہ چھوڑا‘‘
قرآن کریم سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا لفظ  صحابہ کرام کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ پارہ 30 سورۂ البینۃ میں ہے رضی اﷲ عنہم و رضوا عنہ، ذالک من خشی ربہ، یعنی رضی اﷲ عنہم و رضوا عنہ ان لوگوں کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈریں۔ جیسا کہ تفسیر مدارک جلد چہارم مصری ص 371 میں ہے (ذالک) ای الرضا لمن خشی ربہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رضا یعنی رضی اﷲ عنہم ورضوا عنہ، ان لوگوں کے لئے ہے جن کے دل میں رب کی خشیت ہو۔
اور اب کی خشیت علماء ہی کا خاصا ہے۔ جیسا کہ علامہ امام فخر الدین رازی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ آیت کریمہ ذلک لمن خشی ربہ کے تحت فرماتے ہیں۔
العلم والعلماء وذلک لانہ تعالیٰ قال انما یخشی اﷲ من عبادہ العلمؤ فدلت ہذہ الایۃ علی ان العالم یکون صاحب الخشیۃ
اس آیت کریمہ کو دوسری آیت سے ملانے پر علم اور علماء کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اس لئے کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ صرف اس کے بندے علماء کو ہی خشیت الٰہی حاصل ہوتی ہے تو اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ خشیت الٰہی علماء کا خاصا ہے (تفسیر کبیر، جلد ہشتم، ص 460)
اور تفسیر روح البیان جلد دہم ص 491 میں اس آیت کریمہ ذلک لمن خشی ربہ کے تحت ہے
ذٰلک الخشیۃ التی من خصائص العلماء بشئون اﷲ تعالیٰ مناط لجمیع الکمالات العلمیۃ المستتبعد للسعادات الدینیۃ والدنیویۃ قال اﷲ تعالیٰ انما یخشی اﷲ من عبادہ العلموٰ
خشیت الٰہی جو خدائے تعالیٰ کے امور و احوال جاننے والوں کا خاصہ ہے۔ اسی پر تمام کمالات علمیہ و عملیہ کا دارومدار ہے کہ جن سے دینی اور دنیوی سعادتیں حاصل ہوتی ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ رضی اﷲ عنہم و رضواعنہ اس کے لئے ہے جسے خشیت الٰہی ہو اور خشیت الٰہی خدائے تعالیٰ کے امور و احوال جاننے والوں کے لئے ہے۔ لہذا ثابت ہوا کہ رضی اﷲ عنہم و رضواعنہ خدائے تعالیٰ کے امور و احوال جاننے والوں کے لئے ہے یعنی جلیل القدر علماء و مشائخ کے لئے نہ کہ بے عمل علماء کے لئے کہ جب وہ بے عمل ہیں تو ان کو خشیت الٰہی حاصل نہیں ہے اور جب خشیت الٰہی نہیں ہے تو وہ صرف نام کے عالم ہیں، حقیقت میں عالم نہیں ہیں۔
تفسیر خازن اور تفسیر معالم التنزیل جلد پنجم ص 302 میں ہے۔
قال الشعبی انما العالم من خشی اﷲ عزوجل
امام شعبی نے فرمایا کہ عالم صرف وہ شخص ہے جسے خدائے عزوجل کی خشیت حاصل ہو۔
اور تفسیر خازن کے اسی ص 302 پر ہے۔
قال الربیع بن انس من لم یخش اﷲ فلیس بعالم
امام ربیع بن انس نے فرمایا کہ جسے خشیت الٰہی حاصل نہ ہو وہ عالم نہیں۔
ثابت ہوا کہ رضی اﷲ عنہ صرف باعمل علماء و مشائخ کے لئے ہے۔ مگریہ لفظ عرنکہ عرف میں بڑا موقر ہے، یہاں تک کہ بہت سے لوگ اسے صحابہ کرام ہی کے لئے خاص سمجھتے ہیں۔ لہذا اسے ہر ایک کے لئے نہ استعمال کیا جائے بلکہ اسے بڑے بڑے علماء و مشائخ ہی کے لئے استعمال کیا جائے، جیسے کہ ہمارے بزرگوں نے کیا ہے۔
ہذا ماظہر لی والعلم بالحق عنداﷲ تعالیٰ و رسولہ جل شانہ و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم