قربانی کے فضائل اور اہم مسائل

in Tahaffuz, October 2013, مفتی محمد اکمل

اس کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یوم ترویہ (یعنی 8 ذی الحجہ) کی رات خواب دیکھا کہ ایک کہنے والا کہہ رہا ہے کہ (اے ابراہیم) آپ کا رب آپ کے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم فرما رہا ہے… یہی خواب آپ نے اگلی دو راتوں میں مزید ملاحظہ فرمایا۔ چنانچہ اس کے اﷲ تعالیٰ کی جانب سے ہونے کا کامل یقین فرماتے ہوئے، آپ نے اپنے صاحبزادے کو اس کے بارے میں مطلع کیا۔ فرماں بردار بیٹے نے فوراً اظہار رضا مندی فرماتے ہوئے خود کو قربانی کے لئے پیش کردیا۔ آپ صاحب زادے کو ’’وادی منی‘‘ میں لے گئے اور چہرے کے بل لٹادیا، تاکہ چہرے پر نگاہ پڑنے کی صورت میں ’’شفقت پدری‘‘ کے باعث آزمائش پر پورا اترنے کے عزم مصمم میں لغزش واقع نہ ہو۔ پھر آپ نے اﷲ کا نام لے کر چھری چلادی۔ لیکن اﷲ تعالیٰ کے حکم سے چھری اور گردن کے درمیان ایک تانبے کی لپیٹ آگئی، جس کے باعث چھری اپنا کام نہ کرسکی۔ پھر اﷲ نے ایک جنتی مینڈھا صاحب زادے کے فدیئے کے طور پر بھیجا جسے آپ نے اپنے دست مبارک سے ذبح فرماکر قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو اﷲ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے اور اس کے احکام پر خوش دلی کے ساتھ عمل پیرا ہوکر اس کی بارگاہ میں مقبول ہونے کا عظیم عملی درس عطا فرمایا‘‘ (تفسیرصاوی، جلد 5، بتصرف ما)
سورہ صافات میں یہ واقعہ ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا:
ترجمہ: تو ہم نے اسے ایک عقلمند فرزند کی بشارت عطا فرمائی۔ پھر جب وہ لڑکا، والد کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا تو والد نے کہا، اے میرے بیٹے! میں نے خواب دیکھا کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں۔ اب تم غور کرکے بتائو کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے عرض کی، اے میرے والد! جس بات کا آپ کوحکم ہوا، وہ کیجئے۔ خدا نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صابر پائیں گے‘‘ چنانچہ جب ان دونوں نے ہمارے حکم کی تعمیل کی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا (تو اس وقت کی کیفیت نہ پوچھو) اور ہم نے ندا کی کہ ’’اے ابراہیم! بے شک آپ نے اپنا خواب سچ کر دکھایا، ہم نیکوں کوایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔بے شک یہ ایک واضح آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ بطور فدیہ دے کر اسے بچالیا اور ہم نے بعد والوں میں اس کی تعریف و توصیف باقی رکھی۔ ابراہیم پر سلامتی ہو، ہم نیکوںکو ایسا ہی صلہ عطا فرماتے ہیں‘‘ (ترجمہ صراط الجنان، پ 101-23)
قربانی کا شرعی حکم
سوال: قربانی کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب: قربانی کبھی واجب ہوتی ہے اور فقط سنت و نفل
سوال: یہ کس طرح معلوم ہوگا کہ ہم پر قربانی واجب ہے یا نہیں؟
جواب: درج ذیل شرائط پر خواب اچھی طرح اور ٹھنڈے دل سے غور کیجئے۔ اگر یہ تمام شرائط موجود ہوں، تو قربانی واجب ہے اور اگر ان میں سے ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو اب قربانی واجب نہیں۔ ہاں ایسی صورت میں کریں گے تو سنت و نفل ہوگی
قربانی کی شرائط
قربانی کی درج ذیل چار شرطیں ہیں۔
1۔ مسلمان ہونا، 2۔ مقیم ہونا، 3۔ مالک نصاب ہونا،  4۔ بالغ ہونا
ان کی وضاحت و تفصیل
1: مسلمان ہونا
چنانچہ غیر مسلم پر واجب نہیں
2۔ مقیم ہونا
چنانچہ مسافر پر واجب نہیں۔ یاد رکھئے کہ شرعی مسافر وہ ہے جو اپنے شہر کی حدود سے تقریبا ساڑھے ستاون میل 92) کلومیٹر) دور جانے کے ارادے کے ساتھ نکل گیا ہو۔ یا اگر کسی ساڑھے ستاون میل 92) کلومیٹر) دور مقام پر پہنچ چکا ہو تو پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کی ہو یا اگر پندرہ دن سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت کی بھی ہو تو یہ شخص کہیں آنے جانے میں اپنی مرضی کا مالک نہ ہو بلکہ کسی دوسرے شخص کی مرضی کے تابع ہو، جیسے بیوی شوہر کے تابع ہے یا نوکر اپنے مالک کے حکم کے تابع ہے اور جس کے تابع ہیں، اس نے پندرہ دن سے کم کی نیت کی ہے۔
3۔ مالک نصاب ہونا
مالک نصاب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی مالیت کی رقم یا اتنی مالیت کا تجارت کا مال یا اتنی مالیت کا ضروریات زندگی سے زائد سامان ہو اور اس پر اﷲ تعالیٰ یا بندوں کا اتنا قرضہ نہ ہو کہ جسے ادا کرکے ذکر کردہ نصاب باقی نہ رہے۔
نوٹ: (1) خیال رہے کہ ایسا شخص ’’غنی‘‘ کہلاتا ہے اور اگر کسی کے پاس مذکورہ نصاب نہ ہو، تو وہ شرعاً ’’فقیر‘‘ کہلائے گا۔
(2) ضروریات زندگی سے مراد وہ چیزیں ہیں کہ جن کی عموماً انسان کو ضرورت ہوتی ہے اور ان کے بغیر گزر اوقات میں شدید تنگی و دشواری محسوس ہوتی ہے۔ جیسے رہنے کا گھر، پہننے کے کپڑے، سواری، علم دین سے متعلق کتابیں اور پیشے سے متعلق اوزار وغیرہ۔
اس بارے میں مزید تفصیل جاننا چاہیں، تو بہار شریعت (حصہ 5) کا مطالعہ فرمائیں۔
ضروریات زندگی کی تعریف کے پیش نظر بخوبی معلوم ہوگا کہ ’’ہمارے گھروں میں بے شمار چیزیں ایسی ہیں کہ جو حقیقتاً ضروریات زندگی کے سامان میں داخل نہیں۔ چنانچہ اگر ان کی قیمت ’’ساڑھے باون تولہ چاندی‘‘ کے برابر پہنچ گئی تو قربانی واجب ہوگی۔
درج ذیل اشیاء ضروریات زندگی میں شامل نہیں۔
ٹی وی، وی سی آر، ٹیپ ریکارڈر، ڈش انٹینا، ایسا کمپیوٹر جسے فقط تفریح کی غرض سے استعمال کیا جانا ہو (چنانچہ اگر پڑھائی یا دینی معلومات کا حصول مقصود ہو تو یہ بھی دینی کتابوں کے حکم میں آئے گا) ایسے کپڑے جن کو گرمی و سردی میں پہننا ترک کردیا گیا ہے۔ ڈیکوریشن پیس، ضرورت سے زیادہ مکان یا خالی پلاٹ وغیرہ۔ گھر میں لگی ہوئی تصاویر، ڈائجسٹ و ناول وغیرہ۔ آڈیو ویڈیو کیسٹیں (بشرطیکہ دینی معلومات کے حصول کی غرض سے نہ لی گئی ہوں) کھیل کود کا سامان۔
بلکہ فقہاء اسلام نے یہاں تک لکھا ہے کہ اگر کسی کا رہائشی گھر بڑا ہے، اس کا کچھ حصہ رہنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اور کچھ حصہ سردی و گرمی ہر قسم کے موسم میں بند رہتا ہے تو اگر اس بند حصے کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا زائد ہے، تب بھی قربانی لازم ہوگی۔
(3) اﷲ تعالیٰ کے قرض سے مراد یہ ہے کہ اس شخص پر سابقہ سالوں کی زکوٰۃ یا قربانی یا کسی قسم کا کفارہ وغیرہ باقی ہو۔
(4) بالغ ہونا
نابالغ پر قربانی واجب نہیں، اگرچہ وہ صاحب نصاب ہی کیوں نہ ہو۔ یاد رہے کہ شرعی لحاظ سے مرد کی بلوغت کی کم از کم عمر 12 سال اور عورت کی 9 سال ہے۔ اس سے پہلے یہ دونوں ہرگز ہرگز بالغ نہیں ہوسکتے۔ پھر 9 یا 12 سال سے 15 سال کے درمیان جب بھی بلوغت کے علامات و آثار ظاہر ہوگئے، انہیں بالغ کہا جائے گا۔
قربانی کے وجوب پر دلائل
سوال: کیا قربانی کے وجوب پر قرآن و حدیث میں کوئی دلیل موجود ہے؟
جواب: کیوں نہیں! اس پر قرآن و حدیث سے کئی دلیلیں موجود ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔
پہلی دلیل:
اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ’’فصل لربک و انحر‘‘ یعنی پس تم اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو‘‘ (صراط الجنان، پ 30، کوثر 2)
وضاحت: اس آیت پاک میں ’’انحر‘‘ صیغہ امر ہے اور یہ ضابطہ ہے کہ جب امر کو مطلق ذکر کیا جائے تو اس سے وجوب مراد ہوتا ہے لہذا معلوم ہوا کہ قربانی واجب و ضروری ہے۔
دوسری دلیل
مخنف بن سلیم رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم عرفہ میں رسول اﷲﷺ کے پاس کھڑے تھے، آپ نے فرمایا ’’اے لوگو! ہر سال ہر گھر والے پر ایک قربانی اور قتیرہ ہے، تم جانتے ہوکہ عتیرہ کیا ہے؟ عتیرہ وہی ہے جسے تم ’’رجبیہ‘‘ کہتے ہو۔ (ابن ماجہ، باب الاضاحی وابنۃ ہی ام لا)
وضاحت: عرب لوگ رجب کے اول عشرے میں جو جانور ذبح کرتے، اسے رجبیہ کہتے تھے۔ حدیث میں رجبیہ کے بارے میں موجود حکم ایک خاص وقت تک کے لئے تھا، بعد میں خود حبیب کبریاﷺ نے اسے منسوخ فرمادیا۔ جیسا کہ مسلم شریف میں مذکور ہے۔
تیسری دلیل
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ جس میں طاقت ہو اور وہ پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہرگز ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے (ایضاً)
وضاحت: مذکورہ حدیث پاک میں رسول اﷲﷺ نے قربانی نہ کرنے والوں پر اظہار ناراضگی فرمایا ہے اور ناراضگی کا اظہار اسی مقام پر ہوتا ہے، جہاں کوئی چیز واجب و ضروری ہو لہذا ثابت ہوا کہ قربانی واجب و ضروری ہے۔
چوتھی دلیل
حضرت جندب بن سفیان رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں عیدالاضحی کے دن رسول اﷲﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ جب آپ لوگوں کو نماز پڑھا چکے، تو آپﷺ نے ایک ذبح کی ہوئی بکری کو دیکھ کر اشارہ فرمایا: جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی کی ہے، وہ اس کی جگہ دوسری بکری ذبح کرے اور جس نے ابھی تک ذبح نہیں کی، وہ اﷲ کا نام لے کر ذبح کرے (مسلم، باب وقتہا)
وضاحت: اس حدیث پاک سے وجوب اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ اگر قربانی واجب نہ ہوتی تو رسول اﷲﷺ اسے دوبارہ کرنے کا حکم صادر نہ فرماتے۔
قربانی کا وقت
سوال: قربانی کس وقت سے کس وقت کے درمیان کی جاسکتی ہے؟
جواب: قربانی کا وقت 10ذی الحجہ کے طلوع صبح صادق سے 12 ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک ہے یعنی تین دن اور دو راتیں۔ ان دنوں کو ایام نحر کہتے ہیں (در مختار، جلد دوم، کتاب الاضحیہ)
وقت سے متعلقہ چند مزید مسائل
1۔ پہلے دن قربانی سب سے افضل ہے۔ دوسرے دن اس سے کم اور آخری دن سب سے کم درجہ ہے (عالمگیری، جلد پنجم)
خواتین و حضرات کو چاہئے کہ مذکورہ مسئلہ کی روشنی میں جانور کی قیمت اور قصائی کی اجرت میں کمی پر نگاہ رکھتے ہوئے خریداری یا ذبح کو تیسرے دن تک موخر کرنے کے بجائے، پہلے دن کی برکات سے فیضیاب ہونے کو اپنے لئے سعادت مندی تصور کریں۔
2۔ دسویں کے بعد کی دونوں راتوں میں قربانی ہوسکتی ہے۔ مگر رات میں ذبح کرنا مکروہ ہے (فتاویٰ عالمگیری)
3۔ شہر میں قربانی کی جائے، تو یہ شرط ہے کہ نماز عید ہوچکے ، لہذا اگر نماز عید س پہلے قربانی کی نہ ہوئی، ہاں گائوں دیہات میں فجر کا وقت شروع ہوتے ہی قربانی ہوسکتی ہے۔
اس سلسلے میں چند احادیث کریمہ
٭ حضرت براء بن عازب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا ’’آج (یعنی عیدالاضحی) کے روز جو کام ہم سب سے پہلے کام کرتے ہیں، وہ نماز ہے۔ پھر ہم واپس لوٹتے ہیں، تو قربانی کرتے ہیں، جس نے اس طرح کیا تو اس نے ہمارے طریقے کو پالیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو وہ اس کے گھر والوں کے لئے گوشت ہے، جس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں (بخاری، کتاب الاضاحی)
٭ حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو اس نے اپنے لئے کی اور جس نے نماز کے بعد کی تو اس کی قربانی پوری ہوئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو پالیا (ایضاً)
4۔ اگر شہر میں متعدد مقامات پر نماز عید ہوتی ہے تو پہلی جگہ نماز عید ہوجانے کے بعد، قربانی جائز ہے یعنی یہ ضروری نہیں کہ عیدگاہ (یا آپ کی قریبی مسجد) میں نماز ہوجائے، تب ہی قربانی کی جائے (درمختار، جلد دوم)
عید کے دن قربانی کے بجائے صدقہ
سوال: اگر کوئی شخص ان دنوں میں قربان نہ کرے، بلکہ اتنی ہی رقم کسی غریب کو دے دے، تو کیا یہ درست ہے؟
جواب: ایسا شخص اگر غنی ہے تو یقینا صدقہ کرنے سے واجب ادا نہ ہوگا، قربانی ہی کرنی ہوگی اور اگر فقیر ہے تو اگرچہ اس پر قربانی واجب نہیں، لیکن اس کے لئے قربانی کرنا ہی افضل ہے، کیونکہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جو روپیہ عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا، اس سے زیادہ کوئی روپیہ پیارا نہیں‘‘ (طبرانی)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ ایام نحر میں قربانی کرنا، اتنی رقم صدقہ کرنے سے افضل ہے، کیونکہ قربانی واجب ہے یا سنت، جبکہ صدقہ کرنا محض نفل ہے، لہذا قربانی افضل ہوئی (جلد پنجم)
قربانی کرنے والے کا بال و ناخن کاٹنا
سوال: سنا ہے کہ جس پر قربانی واجب ہے، وہ ذی الحجہ کے پہلے دس دن تک اپنے بال وغیرہ نہیں کاٹ سکتا؟
جواب: ایسے شخص کے لئے افضل و مستحب یہی ہے کہ ان دنوں میں بال و ناخن وغیرہ بالکل نہ کاٹے۔ کیونکہ مسلم میں ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جس شخص کے پاس ذبح کرنے کے لئے کوئی ذبیحہ ہو تو جب ذوالحجہ کا چاند نظر آجائے، تو وہ قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کو بالکل نہ کاٹے (باب نہی من دخل علی عشر ذی الحجہ)
سوال: کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ قربانی کی سنت پر عمل پیرا ہونے سے معذور مسلمان بھی اس کا ثواب پالے؟
جواب: جی ہاں! نسائی شریف (باب من لم سجد الاضحیہ) میں حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاص سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ایک شخص سے فرمایا، مجھے ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو عید کرنے کا حکم ہوا۔ اﷲ نے اس دن کو میری امت کے لئے عید بنایا۔
اس شخص نے عرض کی۔ یا رسول اﷲﷺ اگر میرے پاس منیحہ کے علاوہ کوئی جانور نہ  ہو تو کیا میںاسی کی قربانی کروں؟ فرمایا، نہیں، ہاں تم اپنے بال اور ناخن اور مونچھیں ترشوائو اور موئے زیر ناف مونڈو، اسی میں تمہاری قربانی اﷲ تعالیٰ کے نزدیک پوری ہوجائے گی (یعنی قربانی کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں ان چیزوں کے کرنے سے ثواب حاصل ہوجاتا ہے)
نوٹ: منیحہ اسی جانور کو کہتے ہیں، جو کسی نے دودھ وغیرہ سے نفع اٹھانے کے لئے کچھ دنوں کی خاطر دوسرے کو دیا ہو۔ یہ چونکہ دوسرے کی امانت ہوتا ہے لہذا رسول اﷲﷺ نے اس کی قربانی سے منع فرمایا۔
قربانی کے جانور
سوال: قربانی کے جانور کون کون سے ہیں؟ اور ان کی عمریں کتنی ہونی چاہئیں؟
جواب: شرعی اعتبار سے قربانی کے جانور تین قسم کے ہیں۔
1۔ اونٹ، 2۔ گائے، 3۔ بکری
ان تینوں قسموں میں ان کی نوعیں بھی داخل ہیں۔ چنانچہ نر، مادہ، خصی وغیر خصی، سب کا حکم یکساں ہے یعنی ان سب کی قربانی ہوسکتی ہے۔
بھینس کو گائے کے ساتھ اور بھیڑ اور دنبہ کو بکری کے ساتھ شامل و شمار کیا جائے گا، چنانچہ ان کی قربانی بھی ہوسکتی ہے (فتاویٰ عالمگیری)
نوٹ: چونکہ قربانی کے جانور، شریعت کی جانب سے مخصوص ہیں، لہذا اگر ان دنوں میں کسی نے قربانی کی نیت سے خرگوش یا مرغی ذبح کی تو وہ قربانی کرنے والا نہ کہلائے گا۔
جانوروں کی عمریں
1۔ اونٹ… کم از کم پانچ سال
2۔ گائے… کم از کم دو سال
3… بکری… کم از کم ایک سال
جانور اگر مقررہ عمر سے کم ہو تو قربانی نہ ہوگی اور اگر زیادہ عمر کا ہو، تو جائز بلکہ افضل ہے۔ ہاں اگر دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ اتنا بڑا ہوکہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا لگے تو اس کی قربانی جائز ہے (درمختار)
حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا صرف مسنہ (یعنی ایک سال کی بکری، دو سال کی گائے اور پانچ سال کے اونٹ) کی قربانی کرو، ہاں اگر تم کو دشوار ہو، تو چھ سات ماہ کا دنبہ یا مینڈھا ذبح کرلو (مسلم شریف، باب سن الاضحیہ)
قربانی میں شرکاء کے مسائل
سوال: ان جانوروں میں کتنے حصے دار شامل ہوسکتے ہیں؟
جواب: بکری و بکرا دنبہ و بھیڑ وغیرہ، تو صرف ایک کی طرف سے ہی ادا ہوسکتی ہے، چنانچہ اگر اس میں دو آدمی شریک ہوئے تو کسی کی بھی نہ ہوگی۔
مثلا زید و عمرو نے پانچ پانچ سو روپے ملاکر ایک بکرا خریدا اور یہ نیت کی کہ یہ ہم دونوں کی طرف سے ہے تو کسی کی بھی قربانی نہ ہوگی۔ یونہی گھر کا سرپرست ایک بکرا لاکر اس طرح نیت کرے کہ یہ جانور میرے پورے گھر والوں کی طرف سے ہے، تو کسی کی طرف سے بھی ادا نہ ہوگی، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ قربانی تو اپنی طرف سے کرے اور اس کا ثواب تمام گھر والوں کو بخش دے۔
ہاں گائے اور اونٹ میں سات آدمی حصہ ملاسکتے ہیں۔ جیسا کہ
حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا۔ گائے سات آدمیوں کی طرف سے اور اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کرسکتا ہے (ابو دائود شریف، باب البقر والجزورعن کم تجزی)
شرکاء سے متعلق ضروری مسائل
گائے یا اونٹ میں شریک افراد کو درج ذیل مسائل کا یاد رکھنا بے حد ضروری ہے۔
٭ اگر اونٹ یا گائے کے شرکاء میں سے کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم ہوا، تو بقیہ چھ کی قربانی بھی نہ ہوگی (در مختار، رداالمحتار)
مثلا 7000 کی گائے میں پانچ نے ایک ایک ہزار روپے، چھٹے نے ڈیڑھ ہزار اور ساتویں نے پانچ سو روپے ملائے تو اب چونکہ آخری شخص کا حصہ ساتویں حصے سے کم ہے، لہذا ان میں سے کسی کی بھی قربانی نہ ہوئی۔
٭ ایک گائے میں آٹھ آدمی شریک ہوئے، کسی کی بھی قربانی نہ ہوگی (کیونکہ ان میں سے ہر ایک کا حصہ ساتویں حصہ سے کم ہے) (رداالمحتار)
٭ شرکاء میں سے کسی ایک کی نیت فقط گوشت حاصل کرنے کی ہے، قربانی کی نہیں تو بقیہ کی قربانی بھی نہ ہوگی۔
مثلا شرکاء نے زید کو گائے میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ زید جواباً کہتا ہے کہ میں تو قربانی کے لئے بکرا خرید چکا ہوں، چلو ایسا ہے کہ میں شریک ہوکر کباب وغیرہ کے لئے گوشت لے لیتا ہوں، آپ لوگ قربانی کرلیجئے گا۔ تو اس صورت میں کسی کی بھی قربانی نہ ہوگی (رداالمحتار)
نوٹ: مذکورہ مسئلہ کے پیش نظر شریک ہونے سے قبل یہ اطمینان بھی کرلیں کہ سب شرکاء کی نیت قربانی کی ہی ہے یا نہیں؟
٭ شرکاء میں سے ایک کی نیت اس سال کی قربانی کی ہے اور باقی کی گزشتہ سال کی قربانی کی، تو اس سال کی قربانی کی نیت کرنے والے کی قربانی درست اور باقی سب کی نیت باطل ہے، کیونکہ سال گزشتہ کی قربانی اس سال نہیں ہوسکتی، جیسا کہ عنقریب وضاحت کے ساتھ بیان ہوگا۔ ان شاء اﷲ عزوجل۔ ان لوگوں کی یہ قربانی نفل ہوئی اور ان پر لازم ہے کہ گوشت کو صدقہ کردیں، بلکہ ان کا ساتھی کہ جس کی قربانی صحیح ہوئی، وہ بھی گوشت صدقہ کردے (رداالمحتار)
٭ شرکاء میں سے کچھ قربانی اور کچھ عقیقہ کرنے کی نیت کریں، یہ درست ہے (رداالمحتار)
٭ قربانی کے لئے گائے خریدی (اس نیت کے ساتھ کہ بغیر شرکاء کے کرے گا) پھر اس میں چھ اشخاص کو شریک کرلیا، سب کی قربانیاں ہوجائیں گی، مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔ ہاں اگر خریدتے وقت ہی اس کا یہ ارادہ تھا کہ اس میں دوسروں کو شریک کروں گا، تو اب یہ مکروہ نہیں اور اگر خریدنے سے پہلے ہی شرکت کرلی جائے، تو یہ سب سے بہتر ہے (عالمگیری)
٭ غیر مالک نصاب (یعنی شرعی فقیر) نے قربانی کے لئے گائے خریدی تو چونکہ خریدتے ہی اس پر اس گائے کی قربانی واجب ہوجائے گی لہذا اب یہ دوسروں کو شریک نہیں کرسکتا (عالمگیری)
٭ شرکت میں گائے کی قربانی ہوئی تو ضروری ہے کہ گوشت وزن کرکے تقسیم کیا جائے، اندازے سے تقسیم نہ کیا جائے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی کو زائد اور کسی کو کم ملے اور یہ ناجائز ہے۔ یہاں یہ خیال نہ کیا جائے کہ کم و بیش ہوگا تو ہر ایک دوسرے کے لئے جائز کر دے گا یعنی یوں کہہ دے گا کہ اگر کسی کو زائد پہنچ گیا ہے تو معاف کیا کہ یہاں اس طرح جائز نہ ہونا، شریعت کے حق کی بناء پر ہے اور ان لوگوں کو ان کے معاف کرنے کا حق و اختیار حاصل نہیں (در مختار)
قربانی کے جانور کی خصوصیات
سوال: قربانی کا جانور کیسا ہونا چاہئے؟
جواب: مستحب ہے کہ قربانی کا جانور خوب فربہ، خوبصورت اور بڑا ہو (عالمگیری)
٭ حضرت بقیہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا، اﷲ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ قربانی وہ ہے، جو زیادہ مہنگی اور زیادہ فربہ ہو (سنن کبریٰ)
٭ یحیی بن سعید رضی اﷲ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے ابو امامہ بن سہل رضی اﷲ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مدینہ منورہ میں ہم قربانی کے جانوروں کو خوب موٹا کرتے اور سب مسلمانوں کا یہی معمول تھا (بخاری، باب فی اضحیۃ النبیﷺ)
جانور کے عیب
سوال: وہ کون کون سے عیوب ہیں کہ جن کے باعث قربانی جائز نہیں رہتی؟
جواب: عیب سے متعلق اجمالاً یہ مسئلہ یاد رکھیں کہ قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہونا چاہئے، تھوڑا عیب ہو تو قربانی ہوجائے گی مگر مکروہ ہوگی اور زیادہ ہو تو ہوگی ہی نہیں (عالمگیری)
عیوب کی تفصیل
جب آپ جانور خریدنے جائیں تو اسے ہر طرف سے اچھی طرح دیکھ لیں، کیونکہ عیب دار جانور ذبح کرنے کی صورت میں واجب ادا نہ ہوگا اور دوسرا جانور خریدنا پڑے گا۔ چنانچہ درج ذیل تفصیل کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے تاکہ آپ خود بھی غلطی اور دھوکے سے بچ سکیں اور دوسروں کو بھی بچانے میں کامیاب ہوجائیں۔ چنانچہ
ان جانوروں کی قربانی نہ ہوگی
1۔ جس کی ناک کٹی ہو۔
2۔ اندھے اور کانے کی۔
3۔ جس کے پیدائشی دونوں یا ایک کان نہ ہوں (چھوٹے کانوں والے کی جائز ہے)
4۔ جس کا کان تہائی یعنی تیسرے حصے سے زیادہ کٹا ہو۔ (تہائی سے کم ہو تو قربانی ہوجائے گی)
5۔ جس کے دونوں یا ایک سینگ، اگنے کے مقام سے ٹوٹا ہوا ہو (لہذا اگر اوپر سے ٹوٹا ہو تو ہوجائے گی، یونہی اگر پیدائشی سینگ نہ ہوں تو بھی ہوجائے گی)
6۔ جس کی دم یا چکی تہائی سے زیادہ کٹی ہو (تہائی سے کم ہو تو قربانی ہوجائے گی)
7۔ اتنا لاغر کہ جس کی ہڈیوں میں مغز (یعنی گودا) نہ ہو۔
8۔ لنگڑا جو قربان گاہ تک اپنے پائوں سے نہ جاسکے۔
9۔ جس کے دانت نہ ہوں۔
10۔ اگر بکری کی زبان کٹی ہوئی ہو اور وہ چارہ کھا سکتی ہو تو اس کی قربانی جائز ہے، ورنہ نہیں (تاتار خانیہ)
11۔ جس بکری کا ایک تھن یا گائے کے دو تھن کٹے ہوئے یا خشک ہوں۔
12۔ جس جانور میں اس حد تک جنون ہو کہ چرتا بھی نہ ہو (درمختار، عالمگیری)
بعد میں عیب پیدا ہونا
سوال: جس وقت جانور خریدا، بالکل درست تھا لیکن بعد میں عیب دار ہوگیا تو اب اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر قربانی کرنے والا صاحب نصاب ہے، تو دوسرے جانور کی قربانی کرے اور فقیر ہے، تو دیکھا جائے گا کہ اس نے خود اپنے آپ پر قربانی واجب کی تھی یا نہیں۔ اگر کی تھی تو دوسرا لائے ورنہ اسی کو ذبح کرلے (رداالمحتار)
نوٹ: خود واجب کرنے کی صورت یہ ہے کہ یا تو اس نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا یا منت مانی کہ بکرا قربان کروں گا۔
سوال: اگر بوقت ذبح عیب پیدا ہوا تو اب غنی اور فقیر کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب: اس صورت میں دونوں کے لئے یہ عیب مضر نہیں، اسی جانور کی قربانی کریں، ادا ہوجائے گی۔
در مختار میں ہے: قربانی کرتے وقت جانور اچھلا کودا، جس کی وجہ سے عیب پیدا ہوگیا، یہ عیب مضر نہیں یعنی قربانی ہوجائے گی۔
سوال: اگر جانور قربانی سے پہلے مرگیا تو؟
جواب: غنی نیا لائے، فقیر نہیں۔ در مختار میں ہے کہ قربانی کا جانور مرگیا تو غنی پر لازم ہے کہ دوسرے جانور کی قربانی کرے اور فقیر کے ذمہ دوسرا جانور واجب نہیں۔
سوال: اگر جانور گم ہوگیا یا چوری ہوگیا تو کیا کیا جائے؟
جواب: اس کا بھی وہی حکم ہے کہ غنی نیا جانور لائے، جبکہ فقیر پر دوسرا جانور واجب نہیں اور (بالفرض) اگر ان دونوں نے نیا جانور خرید لیا اور اب پہلے والا مل گیا تو غنی کو اختیار ہے کہ دونوں میں سے جس ایک کو چاہے قربان کرے اور فقیر پر واجب ہے کہ دونوں کی قربانیاں کرے (در مختار)
جانور کے بچے کا حکم
سوال: اگر جانور کے ذبح سے قبل بچہ ہوجائے تو کیا کریں؟
جواب: اس کے لئے درج ذیل مسائل یاد رکھئے۔
1۔ قربانی کے لئے جانور خریدا تھا، قربانی کرنے سے پہلے اس کے بچہ پیدا ہوا، تو بچہ کو بھی ذبح کر ڈالیں۔
2۔ اگر بچہ کو بیچ ڈالا تو اس کی قیمت صدقہ کردے۔
3۔ اگر ذبح نہ کیا نہ ہی فروخت کیا اور قربانی کے دن گزر گئے تو اس کو زندہ صدقہ کردے۔
4۔ اگر مذکورہ بالا افعال میں سے کچھ بھی نہ کیا اور بچہ اسی کے پاس رہا، یہاں تک کہ اگلے سال قربانی کا زمانہ آگیا اور یہ چاہتا ہے کہ اس سال کی قربانی میں اس کو ذبح کرے تو یہ نہیں کرسکتا اور اگر اسی کی قربانی کردی تو دوسری قربانی پھر کرے کہ وہ پہلی قربانی نہیں ہوئی اور وہ ذبح کیا ہوا بچہ صدقہ کردے، بلکہ ذبح سے اس کی قیمت میں جو کچھ کمی ہوئی، اسے صدقہ کردے۔
ذبح کا طریقہ و دیگر مسائل
سوال: قربانی کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے یاقصائی سے کروانا؟
جواب: فتاویٰ عالمگیری میں ہے، بہتر ہے کہ اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے کرے۔ اگر اچھی طرح ذبح کرنا جانتا ہو اور اگر اچھی طرح نہ جانتا ہو تو دوسرے کو حکم دے، وہ ذبح کرے مگر اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ وقت قربانی حاضر ہو۔
رحمت کونینﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے جانور ذبح فرمایا جیسا کہ:
حضرت انس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے دو چتکبرے دنبوں کی قربانی کی۔ پس میں نے دیکھا کہ آپﷺ نے قدم مبارک ان کے پہلوئوں پر رکھا۔ بسم اﷲ اور تکبیر پڑھی پھر اپنے دست اقدس سے دونوں کو ذبح فرمایا (بخاری شریف، باب من ذبح الاضاحی بیدہ)
معلوم ہوا کہ خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا سنت مبارکہ ہے۔
سوال: ذبح کرنے کا سنت کے مطابق طریقہ کیا ہے؟ اور بوقت ذبح کن چیزوں کا خیال رکھا جانا چاہئے؟
جواب: 1۔ مستحب ہے کہ جانور کو لٹانے سے پہلے چھری تیز کرلیں، لٹانے کے بعد تیز کرنا مکروہ ہے (در مختار)
2۔ قربانی سے پہلے جانورکو چارہ پانی دیں یعنی بھوکا پیاسا ذبح نہ کریں (بہار شریعت)
3۔ ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہ کریں۔
4۔ جانور کو بائیں پہلو پر اس طرح لٹائیں کہ اس کا منہ قبلہ کی طرف ہو۔
5۔ ذبح سے پہلے یہ دعا پڑھی جائے۔
اِنِّیْ وَجَّہْتْ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَاْلاَرْضِ حَنِیْفاً وَّ مَا اَنَا مِنْ اْلمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلٰوتِیْ وَنُسْکِیْ وَ مَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ ِﷲِ رَبِّ اْلعَالَمِیْنَ لَاشَرِیْکَ لَہْ وَبِذَاْلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ اْلمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ بِسْمِ اﷲِ اﷲُ اَکْبَرْ (ایضا)
اسے پڑھ کر ذبح کردے اور اگر قربانی اپنی طرف سے ہو تو ذبح کے بعد یہ دعا بھی پڑھ لے۔
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَاہِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدِِﷺ (ایضا)
6۔ مستحب یہ ہے کہ ذبح کے وقت بسم اﷲ اﷲ اکبرکہے یعنی بسم اﷲ اور اﷲ اکبر کے درمیان واو نہ لائے۔ اگر بسم اﷲ واﷲ اکبر ’’وائو‘‘ کے ساتھ کہا تو جانور اس صورت میں بھی حلال ہی ہوگا مگر بعض علماء اس طرح کہنے کو مکروہ کہتے ہیں۔
7۔ دوسرے سے ذبح کرایا لیکن بوقت ذبح خود اپنا ہاتھ بھی چھری پر رکھ دیا کہ دونوں نے مل کر ذبح کیا تو دونوں پر بسم اﷲ اﷲ اکبرکہنا واجب ہے۔ ایک نے بھی قصداً چھوڑ دی یا یہ خیال کرکے چھوڑ دی کہ دوسرے نے کہہ لی، مجھے کہنے کی کیا ضرورت ہے تو دونوں صورتوں میں جانور حلال نہ ہوا (در مختار)
ذبح سے حلال ہونے کی شرائط
سوال: کیا بذریعہ ذبح جانور کے حلال ہونے کے لئے بھی کچھ شرطیں ہیں؟
جواب: جی ہاں! اس کی پانچ شرائط ہیں۔
1۔ ذبح کرنے والا عاقل ہو۔ چنانچہ مجنون یا چھوٹے بے عقل بچے کا ذبیحہ جائز نہیں۔ ہاں اگر چھوٹا بچہ ذبح کو سمجھتا ہو اور اس پر قدرت بھی رکھتا ہو تو اس کا ذبیحہ حلال ہے۔
2۔ ذبح کرنے والا مسلم ہو یا کتابی۔ مشرک و مرتد کا ذبیحہ حرام و مردار ہے (لیکن فی زمانہ کتابی سے ذبح میں بھی احتیاط کی جائے تو بہتر ہے، تفصیل کچھ دیر بعد آئے گی)
3۔ اﷲ کے نام کے ساتھ ذبح کرنا، ذبح کرتے وقت اﷲ کے ناموں میں سے کوئی نام ذکر کرے ،جانور حلال ہوجائے گا۔ یہ ضروری نہیں کہ لفظ اﷲ ہی زبان سے نکالے۔
4۔ ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام نہ لے۔
5۔ جس جانور کو ذبح کیا جائے، وہ وقت ذبح زندہ ہو، اگرچہ اس کی زندگی کا تھوڑا ہی حصہ باقی رہ گیا ہو۔ ذبح کے بعد خون نکلنا یا جانور میں حرکت پیدا ہونا اسی لئے ضروری ہے کہ اس سے اس جانور کا زندہ ہونا معلوم ہوتا ہے (عالمگیری)
عید کا روزہ
سوال: قربانی کرنے والے اکثر حضرات بروز عید یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ آج ہمارا روزہ ہے۔ ہم قربانی کے گوشت سے افطار کریں گے۔ شرعی اعتبار سے ان کا یہ کہنا کیسا ہے؟
جواب: عید کے دن کا روزہ حرام ہے۔ پہلی سے نویں تک کے روزے بہت افضل ہیں۔ اس پر قربانی ہو یا نہ ہو اور سب نفلی روزوں میں بہتر روزہ عرفہ (یعنی 9 ذی الحجہ) کے دن کا ہے۔ ہاں قربانی کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ عید کے دن قربانی سے پہلے کچھ نہ کھائے۔ قربانی ہی کے گوشت میں سے پہلے کھائے، مگر یہ روزہ نہیں، نہ اس میں روزہ کی نیت جائز کہ اس دن اور اس کے بعد تین دن روزہ حرام ہے
(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ، جلد 8)
گوشت کی تقسیم
سوال: قربانی کے گوشت کو کس طرح تقسیم کیا جائے؟
جواب: فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ:
1۔ قربانی کا گوشت خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسرے شخص غنی یا فقیر کو دے سکتا ہے، کھلا سکتا ہے، بلکہ اس میں سے کچھ کھالینا، قربانی کرنے والے کے لئے مستحب ہے۔
2۔ بہتر یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کرے۔ ایک حصہ فقرائ، دوسرا دوست احباب اور تیسرا اپنے گھر والوں کے لئے رکھے۔
3۔ ایک تہائی (یعنی تیسرے حصے) سے کم صدقہ نہ کریں اور کل کو صدقہ کردینا بھی جائز ہے۔
4۔ اور کل اپنے گھر کے لئے ہی رکھ لے، یہ بھی جائز ہے۔
5۔ تین دن سے زائد اپنے گھر والوں کے کھانے کے لئے رکھ لینا بھی جائز ہے اور بعض حدیثوں میں جواس کی ممانعت آئی ہے، وہ منسوخ ہے۔
6۔ اگر اس شخص کے اہل و عیال بہت ہوں اور یہ صاحب وسعت نہیں تو بہتر ہے کہ سارا گوشت اپنے بال بچوں کے لئے ہی رکھ چھوڑے۔
بخاری شریف میں ہے کہ حضرت سلمہ بن اکوع سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ’’تم میں سے جوشخص قربانی کرے، تو تیسرے روز کی صبح اس کے گھر میں قربانی کا گوشت نہیں ہونا چاہئے۔ (صحابہ کرام نے اس حکم پر عمل کیا) جب اگلا سال آیا تو لوگ عرض گزار ہوئے یا رسول اﷲﷺ کیا ہم اسی طرح کریں جیسے پچھلے سال کیا تھا؟ ارشاد فرمایا کھائو، کھلائو اور جمع بھی کرلو، کیونکہ وہ سال لوگوں پر تنگی کا تھاتو میرا ارادہ ہوا کہ اس میں تم ایک دوسرے کی مدد کرو۔
کھال و رسی وغیرہ کا حکم
سوال: قربانی کی کھال جھول رسی ہار وغیرہ کا کیا کیا جائے؟
جواب: در مختار میں ہے کہ قربانی کا چمڑا، اس کی جھولی، رسی اور گلے میں ڈالے جانے والے ہار کو صدقہ کردے۔
ابن ماجہ میں ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ رسول اﷲﷺ نے مجھے قربانی کی ہر چیز تقسیم کرنے کا حکم دیا، خواہ گوشت ہو یا کھال یا جھول، سب غریبوں میں تقسیم کردیا جائے (گوشت کا حکم بعد میں منسوخ کردیا گیا تھا جیسا کہ ماقبل میں گزر گیا)
سوال: کیا قربانی کی کھال یا گوشت قصائی کو بطور اجرت دے سکتے ہیں؟
جواب: ممنوع ہے۔ ہدایہ میں ہے کہ قربانی کا چمڑا یا گوشت یا اس کی کوئی چیز قصاب ، ذبح کرنے والے کو بطور اجرت نہیں دے سکتے کہ اس کو اجرت میں دینا بھی بیچنے کے معنی میں ہے (اور اپنے فائدے کے حصول کے لئے کھال وغیرہ بیچنا ممنوع ہے)
سنن کبری میں ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مجھے رسول اﷲﷺ نے یہ حکم دیا کہ میں آپ کے اونٹوں کی طرف جائوں اور ان کی کھالوں اور جھول کو تقسیم کردوں اورآپ نے مجھے حکم دیا کہ میںان کی کھال سے قصاب کی اجرت نہ دوں۔ پھر فرمایا کہ ہم قصاب کی اجرت اپنے پاس سے دیتے تھے۔
سوال: قربانی کی کھال اپنے رشتہ داروں یا کسی سید وغیرہ کو دے سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب: اگر اس کھال کو بطور تصدق دیا جائے تو نفلی صدقہ ہے اور اگر صدقہ کی نیت نہ ہو تو شرعاً ہدیہ ہے۔ چنانچہ سادات کرام کو دینا بالکل جائز ہے۔ یونہی اپنے ماں باپ اولاد کو بھی دے سکتے ہیں، شوہر زوجہ کو اور زوجہ شوہر کو دے سکتی ہے (ماخوذ از فتاویٰ رضویہ، جلد 8)
سوال: قربانی کی کھال کی قیمت کو بغیر حیلہ شرعی کے مسجد میں صرف کرنا اور اس پیسے سے امام وغیرہ کی تنخواہ دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: جی ہاں جائز اور باعث اجر و ثواب ہے۔ تبیین الحقائق میں ہے۔ جاز لانہ قربۃ کالتصدق (جائز ہے اس لئے کہ یہ صدقے کی مثل ایک قربت ہے)
قربانی کے دنوں میں قربانی نہ کی تو؟
سوال: اگر قربانی کا جانور موجود ہے، لیکن قربانی نہ کی اور ایام نحر گزر گئے تو اب کیا حکم ہے؟
جواب: در مختار و فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ:
1۔ غنی نے قربانی کے لئے جانور خریدا (اور قربان نہ کیا حتی کہ ایام نحر گزر گئے) تو وہی جانور صدقہ کرے اور اگر ذبح کردیا اور اس جانور کی قیمت زندہ جانور سے کچھ کم ہوگئی تو جتنی کمی ہوئی، اسے بھی صدقہ کرے۔
2۔ فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا اور قربانی کے دن نکل گئے تو چونکہ اس پر اسی معین جانور کی قربانی واجب ہے، لہذا اس کے لئے بھی تمام احکام وہی ہوں گے جو ماقبل میں غنی کے لئے گزر گئے۔
3۔ اگر فقیر کے پاس پہلے ہی سے کوئی جانور تھا اور اس نے اس کی قربانی کی نیت کرلی یا خریدنے کے بعد قربانی کی نیت کی تو اس پر قربانی واجب نہیں (اور جب واجب نہیں تو بعد ایام نحر اس جانور کو جس طرح چاہے اپنے استعمال میں لائے)
4۔ قربانی کے دن گزر گئے اور قربانی نہیں کی اور جانور یا اس کی قیمت کو صدقہ بھی نہیں کیا۔ یہاں تک کہ دوسری بقر عید آگئی، اب یہ چاہتا ہے کہ سال گزشتہ کی قربانی کی قضاء اس سال کرے، یہ نہیں ہوسکتا بلکہ اب بھی وہی حکم ہے کہ جانور یا اس کی قیمت صدقہ کرے (عالمگیری)
5۔ جس جانور کی قربانی واجب تھی، ایام نحر گزرنے کے بعد اسے بیچ ڈالا تو قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے (ایضاً)
تکبیر تشریق کے مسائل
سوال: تکبیر تشریق کیا ہے؟ یہ کیوں لگائی جاتی ہے اور اس کا وقت کب سے کب تک ہوتا ہے؟
جواب: نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک، ہر نماز فرض پنجگانہ کے بعد جو جماعت مستحبہ کے ساتھ ادا کی گئی ہو۔
(نوٹ: جماعت مستحبہ سے مراد وہ جماعت ہے، جو مسجد میں وقت مقررہ پر مقرر کردہ امام کرواتا ہے)
ایک بار بلند آواز سے تکبیر کہنا واجب اور تین بار افضل ہے۔ اسے تکبیر تشریق کہتے ہیں۔ وہ یہ ہے اﷲ اکبر اﷲ اکبر لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر اﷲ اکبر وﷲ الحمد (تنویر الابصار)
اس کی اصل کے بارے میں منقول ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لئے زمین پر لٹایا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام اﷲ تعالیٰ کے حکم سے جنت سے ایک مینڈھا بطور فدیہ لے کر تشریف لائے۔ جب آپ نے یہ منظر ملاحظہ فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام چھری چلاناہی چاہتے ہیں تو ان کو روکنے کی خاطر دور سے باآواز بلند فرمایا اﷲ اکبر اﷲ اکبر… جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ نداء سنی، تو اپنا سر آسمان کی جانب اٹھایا اور جان گئے کہ من جانب اﷲ آزمائش کا وقت گزر چکا ہے اور بیٹے کی جگہ فدیہ بھیجاگیا ہے، لہذا خوش ہوکر فرمایا لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر … جب زمین پر لیٹے ہوئے فرزند نے یہ سنا تو فرمایا ﷲ الحمد… پس اس کے بعد سے ان نفوس قدسیہ کی ان مبارک الفاظ کی ادائیگی کی یہ سنت قیامت تک جاری و ساری ہوگئی (البنایہ شرح ہدایہ بحوالہ المبسوط)
سوال: یہ تکبیرات نماز کے بعد کب کہنی چاہئیں؟
جواب: یہ تکبیرات سلام پھیرنے کے فورا بعد واجب ہیں۔ چنانچہ اگر کوئی مسجد سے باہر نکل گیا یا اس نے جان بوجھ کر وضو توڑ دیا یا کلام کیا، اگرچہ بھول کر ہو، تو تکبیر ساقط ہوگئی (یعنی اب شریعت کی جانب سے اس کا مطالبہ نہ رہا) اور اگر بلا قصد و ارادے کے وضو ٹوٹا تو کہہ لینی چاہئیں (در مختار)
سوال: کیا ان دنوں میں بغیر جماعت سے نماز پڑھنے والے پر بھی یہ تکبیرات واجب ہیں؟
جواب: اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ صحیح قول یہی ہے کہ منفرد پر واجب نہیں (جوہرہ نیرہ)
لیکن چونکہ صاحبین کے نزدیک واجب ہے لہذا بہتر یہ ہے کہ منفرد بھی کہہ لے۔
سوال: اگر امام تکبیر لگانا بھول گیا تو اب مقتدی پر تکبیر واجب رہی یا نہیں؟
جواب: جی ہاں مقتدی پر تکبیر لگانا اب بھی واجب ہے (در مختار)
سوال: کیا عورت، مسافر اور گائوں والے پر بھی یہ تکبیرات واجب ہیں؟
جواب: ان تمام پر تکبیر کہنا واجب نہیں۔ ہاں مسافر، اگر کسی مقیم امام کی اقتداء میں نماز ادا کرے تو اب اس پر بھی واجب ہوجائے گی (ایضاً)
سوال: اگر کسی مقیم نے مسافر کی اقتداء میں نماز ادا کی تو کیا اس پر تکبیر لگانی واجب ہوگی؟ جبکہ پچھلے مسئلہ کے مطابق مسافر پر یہ تکبیرات واجب نہ تھیں؟
جواب: اس صورت میں مقیم تکبیرات لگائے گا۔ در مختار میں ہے کہ ’’کسی مقیم نے مسافر کی اقتداء کی تو مقیم پر تکبیرات واجب ہیں، اگرچہ امام پر واجب نہیں‘‘
سوال: اگر کسی نفل پڑھنے والے نے فرض پڑھنے والے کی اقتداء کی تو کیا اس شخص پر تکبیر واجب ہوگی؟
جواب: جی ہاں، اس صورت میں اس پر بھی واجب ہوجائے گی، چاہے اس نے امام کے ساتھ فرض نہ پڑھے ہوں (رد المحتار)
سوال: کیا نفل و وتر سنت و جمعہ و عید کے بعد بھی تکبیر لگائی جائے گی؟
جواب: نفل ووتر و سنت وعید کے بعد واجب نہیں، جبکہ جمعہ کے بعد واجب ہے۔ ہاں عید کے بعد بھی لگالیں تو کوئی حرج نہیں (در مختار)
سوال: جو شخص نماز باجماعت میں دیر سے شامل ہوا، کیا امام کے سلام اور اپنی نماز تمام کرنے کے بعد تکبیر لگائے گا؟
جواب: جی ہاں ایسا شخص امام کے سلام پھیرنے اور اپنی نماز پوری کرنے کے بعد یہ تکبیرات لگائے اور اگر اس نے امام کے سلام پھیرنے کے فورا تکبیر لگادی تو اس نماز پر کوئی فرق نہ پڑے گا اور اب اپنی نماز مکمل کرنے کے بعد بھی ان تکبیرات کے اعادہ کی حاجت نہیں۔
سوال: اگر کسی شخص کی کوئی نماز ایام تشریق سے پہلے قضا ہوئی تھی یا پچھلے سال کی ایام تشریق کی قضا نماز تھی اور اب وہ ان دنوں میں اس قضا کو ادا کرنا چاہتا ہے تو کیا اس پر تکبیر واجب ہوگی؟
جواب: جی ہاں (رد المحتار)
سوال: اگر ان دنوں کی قضا عام دنوں میں ادا کرے، تو کیا اب تکبیر لگائے گا؟
جواب: اس صورت میں بھی واجب نہیں (ایضاً)
سوال: اگر ان دنوں میں کوئی نماز قضا ہوئی اور ان ہی دنوں میں اس کی قضا ادا کرنے کا ارادہ کیا تو کیا اب تکبیر واجب ہوگی؟
جواب: جی ہاں، اب واجب ہے (ایضاً)
عید کے مستحبات
1۔ حجامت بنوانا،  2۔ ناخن ترشوانا، 3۔ غسل کرنا، 4۔ مسواک کرنا،  5۔ اچھے کپڑے پہننا (نئے یا پرانے دھلے ہوئے) 6۔ انگوٹھی پہننا، 7۔ خوشبو لگانا، 8۔ نماز سے قبل کچھ نہ کھانا، اگرچہ قربانی کرے نہ کرے، 9۔ نماز فجر محلہ کی مسجد میں پڑھنا، 10۔ عیدگاہ جلد چلے جانا، 11۔ راستے میں بلند آواز سے تکبیر کہنا، 12۔ عیدگاہ کو پیدل جانا، 13۔ دوسرے راستے سے واپس آنا، 14۔ خوشی ظاہر کرنا، 15۔ صدقہ دینا، 16۔ آپس میں مبارکباد دینا، 17۔ نماز عید سے پہلے نفل نماز مطلقاً مکروہ ہے، چاہے گھر میں پڑھیں یا عیدگاہ میں۔