گستاخی رسولﷺ پر اسلامی حکمرانوں کے فیصلے

in Tahaffuz, October 2013, علامہ ظفر جبار چشتی

اسلامی تاریخ کے سب سے پہلے حکمران کی صورت میں صاحب شرع حضرت محمدﷺ فتح مکہ کے روز تاریخ کے افق پر جلوہ افروز ہوئے تو آپﷺ نے اپنے اور اپنے اصحاب اور اہل بیت کے دشمنوں کو عام معافی دینے کا اعلان کیا مگر منصب رسالت کی تنقیص کرنے والوں کے لئے خصوصی حکم ارشاد فرمایا کہ ابن خطل کو قتل کیا جائے اگرچہ وہ خانہ کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہو۔ ارشاد نبویﷺ میں گستاخی رسولﷺ کی سزا اور دیگر مجرمین کی سزا میں امتیاز اور استثنیٰ اسلامی حکمرانوں کے لئے گستاخ رسولﷺ کی معافی اور رعایت کے تمام دروازے کلیتاً مسدود کرتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ خلفائے راشدین نے اپنے اپنے ادوار میں کبھی بھی کسی گستاخ اور شاتم رسولﷺ کے لئے نرم گوشہ نہیں رکھا اور گستاخان نبیﷺ قتل کئے جاتے رہے۔ یہاں خلفائے راشدین کے بعد آنے والے اسلامی حکمرانوں کے فیصلے بیان کئے جائیں گے
حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ عنہ کا موقف
قاضی عیاض لکھتے ہیں ’’خلیفہ عادل جناب عمر بن عبدالعزیز نے عامل کوفہ کے استفسار پر تحریر فرمایا تھا کہ سوائے اس شخص کے جو سرور عالمﷺ کی شان میں گستاخی کامرتکب ہو، ان کے علاوہ کسی دوسرے کو گالی دینے کی وجہ سے قتل نہیں کیا جائے گا‘‘ (الشفائ، 387/2)
مائل خیر آبادی اس واقعہ کو یوں ذکر کرتے ہیں ’’ایک بار حضرت عمر بن عبدالعزیز کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمان نے لکھا ہے کہ میرے سامنے ایک ایسامجرم پیش کیا گیا جو آپ کو گالیاں دیتا ہے۔ میں نے چاہا کہ اس کو قتل کردوں لیکن پھر سوچا کہ آپ کی رائے لے لوں۔ چنانچہ آپ کا حکم آنے تک اسے قید کردیا ہے۔ خلیفہ نے جواب لکھ بھیجا کہ اگر تم اسے قتل کردیتے تو میں تم سے قصاص لیتا۔ رسول اﷲﷺ کے سوا کسی اور کو گالی دینے پر قتل کرنا جائز نہیں‘‘ (عمر ثانی عمر بن عبدالعزیز،ص 50)
خلیفہ ہارون الرشید کے جواب میں
امام مالک علیہ الرحمہ کا فتویٰ
عباسی خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جو سرکار دوعالمﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہو۔ ہارون الرشید نے لکھا تھا کہ عراق کے علماء نے شاتم رسولﷺ کے لئے کوڑوں کی سزا تجویز کی ہے۔ آپ کا اس سلسلے میں کیا فتویٰ ہے؟ امام مالک نے ہارون الرشید کے استفسار پر غصہ کرتے ہوئے فرمایا جو شخص حضور علیہ السلام کو گالی دے، وہ ملت اسلامیہ کا فرد نہیں رہتا، ایسا شخص واجب القتل ہے، اور جو کوئی شخص اصحاب رسول کو برا بھلا کہے اور گالیاں دے، اس کو کوڑے مارے جائیں‘‘ (الشفا: 388-387/2)
موسیٰ بن مہدی عباسی اور گستاخ رسولﷺ
عباسی خلیفہ موسیٰ بن مہدی المقلب بہ ہادی کے عہد میں ایک شخص نے قبیلہ قریش کو برا بھلا کہا۔ اس سلسلے میں حضورﷺ کی ذات پاک کے متعلق بھی گستاخی کی۔ وہ ہادی کے سامنے لایاگیا۔ اس نے علماء فقہاء کو جمع کرکے اس کے متعلق فتویٰ لیا۔ انہوں نے اس کے قتل کا فتویٰ صادر کیا۔ اس پر خلیفہ نے کہا کہ اس کی سزا کے لئے قریش ہی کی اہانت کافی تھی (کیونکہ یہ سرکار مدینہﷺ کا خاندان ہے) اس شخص نے رسول اﷲﷺ کو بھی شامل کرلیا چنانچہ اس کا سر قلم کردیا گیا (تاریخ بغداد: 23/13)
سلطان نورالدین زنگی اور گستاخان رسولﷺ
577ھ میں سلطان نور الدین زنگی کے زمانہ میں روضہ پاک میں نقب زنی کی ناپاک جسارت کی گئی مگر اﷲ تعالیٰ جل مجدہ نے شرپسندوں کا منصوبہ خاک میں ملادیا۔ سلطان کو خواب میں حضورﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور آپﷺ نے ’’دو نیلی آنکھوں والے‘‘ کا اشارہ کرکے فرمایا کہ ان سے میری حفاظت کرو۔ سلطان کو سخت تشویش ہوئی۔ اٹھ کر وضو کیا۔ نفل ادا کئے مگر جونہی لیٹے پھر وہی خواب دیکھا۔ غرضیکہ تین دفعہ ایسا ہوا تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے۔ اپنے وزیر جمال الدین کے مشورے پر فوراً مدینہ جانے کی تیاری شروع کردی۔ سولہویں دن مدینہ طیبہ پہنچے۔ ریاض الجنۃ میں تحیۃ المسجد ادا کرنے کے بعد سوچنے لگے کہ حصول مقصد کے لئے کیا تدبیر اختیار کرنی چاہئے۔ آخر وزیر نے اعلان کیا کہ بادشاہ مدینہ منورہ میں تشریف لائے ہیں، وہ اہل مدینہ کو انعامات سے نوازیں گے۔ ہر شخص حاضر ہوکر اپنا حصہ لے لے۔ ایک ایک آدمی آتا گیا، بادشاہ انعامات تقسیم کرتا رہا۔ وہ ہر شخص کو بغور دیکھتا اور خواب میںنظر آنے والی شکلوں کو تلاش کرتا، حتی کہ مدینہ کے تمام لوگ گزر گئے مگر مجرمین کا کھوج نہ لگایا جاسکا۔ بادشاہ نے استفسار کیا کہ کوئی رہ گیا ہو تو حاضر کیا جائے۔ بڑی سوچ بچار کے بعد شاہ کو بتایا گیا کہ صرف دو مغربی باشندے ہیں جو نہایت متقی ہیں اور انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کررکھی ہے۔ ہر وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے ہیں۔ بادشاہ نے انہیں بھی طلب کرلیا اور انہیں ایک نظر دیکھتے ہی پہچان گیا۔ پوچھا کون ہو اور یہاں کیوں پڑے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہم مغرب کے رہنے والے ہیں۔ حج کے لئے آئے تھے، روضہ انور کی زیارت کے لئے مدینہ آئے تو حضورﷺ کے پڑوس میں رہنے کے شوق میں یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ بادشاہ ان دونوں کو وہیں چھوڑ کر ان کی رہائش گاہ پر پہنچا جو ایک قریبی سرائے میں تھی مگر وہاں کوئی مشکوک چیز نظر نہ آئی جس کی وجہ سے بادشاہ اور پریشان ہوگیا۔ مدینہ پاک کے لوگوں نے ان کی صفائی میں بہت کچھ کہا کہ یہ نہایت پرہیزگار ہیں، ریاض الجنۃ میں نماز پڑھتے ہیں، روزانہ جنت البقیع کی زیارت کرتے ہیں اور ہر شنبہ کو قبا میں نفل ادا کرتے ہیں۔ یہ قائم اللیل اور صیام النہار ہیں۔ اس سے بادشاہ کی تشویش میں اور اضافہ ہوگیا۔ دفعتاً بادشاہ کے دل میں کچھ خیال آیا اور اس نے ان آدمیوں کے مصلیٰ کو الٹ دیا۔ بوریا کا مصلی ایک پتھر کے اوپر تھا۔ پتھر اٹھایا گیا تو نیچے سرنگ نمودار ہوئی جو دور تک روضہ انورﷺ کے قریب پہنچ چکی تھی۔ بادشاہ نے اس کمینی حرکت کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ نصرانی ہیں اور عیسائی بادشاہوں نے انہیں بیش بہا دولت دے کر اس کام پر مامور کیا ہے کہ کسی طرح وہ حضورﷺ کے حجرۂ مقدسہ میں داخل ہوکر آپِﷺ کا جسم اطہر یہاں سے نکال کر لے جائیں۔ ان کا طریقہ واردات یہ تھا کہ رات بھر سرنگ کی کھدائی کرتے اور مشکوں میں مٹی بھر کر بقیع کے مضافات میں ڈال آتے۔ سلطان نورالدین زنگی یہ بات سن کر آتش غضب سے بھڑک اٹھا۔ ساتھ ہی رقت بھی طاری ہوگئی کہ اسے اس کام پر معمور کیا گیا ہے چنانچہ دونوں عیسائیوں کو صبح کے وقت قتل کرادیا ۔اس کے بعد اس بیدار بخت بادشاہ نے حجرہ پاک کے چاروں طرف اتنی گہری بنیادوں کو سطح زمین تک بھردیا کہ آئندہ کسی ملعون کو نبی پاکﷺ کی لحد مبارک کی توہین کے قصد کا موقع نہ مل سکے (آئینہ حج، ص 174-172)
شاتم رسولﷺ ریجی نالڈ اور سلطان صلاح الدین ایوبی
شیطان صفت پرنس ارطاق والٹی کرک ریجی نالڈ نے جزیرہ نمائے عرب پر لشکر کشی کا قصد کیا تاکہ مدینہ منورہ میں آنحضرتﷺ کے مزار مبارک کو منہدم اور مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کو مسمار کردے۔ جب وہ سمندری راستے سے حملہ آور ہوا تو مسلمان مقابلے کے لئے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ اس کی فوج اسلامی لشکر کو دیکھ کر گھبرا گئی۔ وہ اپنے جہازوں کو چھوڑ کر پہاڑوں کی جانب بھاگے۔ مسلم سپاہ کے جیالوں نے انہیں پہاڑوں اور باغوں سے پکڑ کر ان کے ٹکڑے کردیئے۔ ریجی نالڈ جیسا شاتم رسول خود بھاگ کرجان بچانے میں کامیاب ہوگیا۔ لیکن ابلیس کا فرزند اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا اور مسلمانوں کو دکھ پہنچانے اور حضورﷺ کی توہین کا ارتکاب کرنا اس کی فطرت کا جزولاینفک بن چکا تھا لیکن پول کابیان ہے کہ ریجی نالڈ نے 1179ء میں مسلمانوں کے ایک کارواں کولوٹ لیا اور اس کے تمام آدمی گرفتار کرلئے۔ بادشاہ یروشلم نے اس پر اعتراض کیا اور کارواں کے لوگوں کی رہائی اور لوٹے ہوئے مال کی واپسی کے لئے سفیر بھیجا۔ ریجی نالڈ نے ان کا مذاق اڑایا۔ 1183ء میں پھر یہی حرکت کی۔ 1186ء میں مسلمان تاجروں کے ایک قافلہ کو لوٹ کر اہل قافلہ کو گرفتار کرلیا۔ جب ان لوگوں نے ان سے رہائی کے لئے کہا تو اس نے یہ طعن آمیز جواب دیا کہ تم محمدﷺ پر ایمان رکھتے ہو اس سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ آکر تم کو چھڑائے (استغفراﷲ) جس وقت سلطان صلاح الدین ایوبی کو ریجی نالڈ کی اس گستاخانہ گفتگو کی خبر ملی تو اس نے قسم کھاکر کہا کہ اس صلح شکن کافر کو خدا نے چاہا تو میں اپنے ہاتھوں سے قتل کردوں گا۔ صلیبی لڑائیوں کے سلسلے میں ایک موقع پر فرنگیوں کوشکست ہوگئی۔ فرنگی بادشاہ اور شہزادے قید کرکے سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے لائے گئے۔ ان میں ریجی نالڈ بھی شامل تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس کو تمام بداعمالیاں گنوائیں اور یہ بھی کہا کہ اس وقت میں محمد رسول اﷲﷺ سے مدد چاہتا ہوں اور یہ کہہ کر اپنے ہاتھوں سے اس موذی کا سر قلم کردیا۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہم مسلمانوں کا یہ دستور نہیں کہ لوگوں کو خواہ مخواہ قتل کرتے رہیں۔ ریجی نالڈ تو صرف حد سے بڑھی ہوئی بداعمالیوں اور حضورﷺ کے ساتھ گستاخی کی پاداش میں قتل کیا گیا ہے (ابن تاثیر، 82/11، کتاب الروضین، 8/2)
فقہائے اندلس اور گستاخ رسولﷺ
ابراہیم فرازی ماہر علوم اور اپنے زمانے کا مشہور شاعر تھا۔ وہ قاضی ابو العباس بن طالب کی علمی مجلس میں شریک ہوا کرتا تھا۔ جب اس کے متعلق یہ معلوم ہوا کہ وہ خدا تعالی، انبیاء کرام علیہم السلام اور خاتم النبیینﷺ کی بارگاہ میں گستاخیاں کرتا ہے اور استخفاف اور استہزاء کے کلمات ادا کرتا ہے تو قاضی بن عمر اور دیگر فقہاء نے اس کو عدالت میں طلب کیا اور اس کی کوتاہیوں کے ثبوت کے بعد اس کے قتل اور پھانسی کا حکم دیا۔ چنانچہ پہلے اس کے پیٹ میں چھری ماری گئی اور اس کے بعد اس کو اٹھا کر سولی پر لٹکایا گیا۔ بعد میں اس کی نعش سولی سے اتار کر جلادی گئی (الشفائ، 387/2)
پادری یولوجیئس کا قتل
اے ہسٹری آف اسپین کے مصنف لیور مور لکھتے ہیں ’’قرطبہ کے اس پادری (یولوجیئس) نے 850ء میں سرعام پیغمبر اسلامﷺ کی گستاخی اور بے ادبی کی تحریک کا آغاز کیا۔ لین پول ’’اسٹوری آف دی نیشنز سیریز‘‘ کے مصنف لکھتے ہیں کہ یہ پادری اپنی مجنونانہ حرکتوں سے باز نہ آیا اور امیر عبدالرحمن کے فرزند ارجمند امیر محمد کے ہاتھوں کیفر کردار تک پہنچا (اسٹوری آف دی نیشنز سیریز 42/2)
راہب اسحاق کا قتل
اسحاق قرطبہ کے عیسائی ماں باپ کا بیٹا تھا۔ عربی زبان خوب جانتا تھا۔ ابھی نوعمری میں ہی تھا کہ امیر عبدالرحمن کے دربار میں اس کو کاتب کی جگہ مل گئی لیکن 24 برس کی عمر میں دنیا سے کنارہ کش ہوکر صبانوس کی مسیحی خانقاہ میں گوشہ نشین ہوگیا جہاں متعصب پادریوں کی تصانیف کا مطالعہ کرنے کی وجہ سے اس کے دل میں جوش پیدا ہوا کہ وہ اپنی جان دے کر بزرگی حاصل کرے۔ ایک دن وہ خانقاہ سے نکل کر قرطبہ پہنچا اور قاضی کے سامنے آکر کہا: میں آپ کا دین قول کرنا چاہتا ہوں، مہربانی کرکے آپ مجھے اس کی ہدایات دیں۔ قاضی اس سے خوش ہوکر اسے دین اسلام کے متعلق بتانے لگا۔ اس نے برملا حضورﷺ پر سب و شتم کیا۔ جب قاضی نے سمجھایا تو اس کو بھی برا بھلا کہا۔ قاضی نے اسے جیل بھیج دیا۔ امیر عبدالرحمن نے اس گستاخ رسولﷺ کی بابت حکم جاری کیا کہ اسے پھانسی دی جائے اور اس کی لاش کو کئی دن تک پھانسی پر اسی طرح لٹکا رہنے دیا جائے کہ سر نیچے اور پائوں اوپر ہوں۔ اس کے بعد لاش جلاکر اس کی راکھ دریا میں بہا دی جائے۔ چنانچہ جون 851ء میں ان احکام کی تعمیل ہوئی (عبرت نامہ اندلس، ص479)
پرفیکٹس کا قتل
پرفیکٹس سنت ایکس کلولس کے گرجا کا ایک پادری تھا۔ عربی زبان پر مہارت رکھتا تھا۔ ایک دن بازار میں کچھ خریدنے نکلا، وہاں چند مسلمانوں سے گفتگو کرنے لگا۔ معمولی بات چیت کے بعد مذہب کا ذکر چھیڑا۔ مسلمانوں نے پادری سے کہا ’’تم ہمارے رسول مقبولﷺ اور مسیح علیہ السلام کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو؟‘‘ پادری نے کہا مسیح میرا خدا ہے۔ تم اپنے پیغمبرﷺ کی نسبت نہ پوچھو کہ ہم عیسائی ان کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں۔ جب مسلمانوں نے قاضی کو اس کی گفتگو نہ بتانے کا یقین دلایا تو اس نے نازیبا کلمات کہے اور حضورﷺ پر سب و شتم کیا۔ ایک دن جب وہ سڑک پر جارہا تھا تو ان لوگوں نے جن کے سامنے اس نے بے ہودہ الفاظ کہے تھے، مسلمانوں کی اس کی نازیبا حرکت کی اطلاع دے دی۔ لوگ اسے پکڑ کر قاضی کے پاس لے گئے اور قاضی سے فریاد کی کہ اس پادری نے ہمارے نبیﷺ کی شان میں نہایت بے ادبی کے الفاظ کہے ہیں۔ قاضی نے پادری سے پوچھا تو اس نے کانپتے ہوئے قطعاً انکار کردیا۔ لیکن قاضی نے شرع کے مطابق اس کے قتل کا حکم سنایا اور اسے بیڑیاں پہناکر جیل بھیج دیا۔ جہاں اس شاتم رسولﷺ نے پھر اپنی سابقہ روش کا اعادہ کیا۔ چنانچہ مقررہ روز اس کا سر قلم کردیا گیا۔ (عبرت نامہ اندلس، 473-471/2، مسلمان اندلس میں، ص 131)
عیسائی جنون کا ایک اور مظاہرہ اور سزائے موت
سانچو کے قتل کے بعد اتوار کے دن 7 جون 1851ء چھ راہب جن میں ایک اسحاق کا چچا جرمیاس اور دوسرا راہب جان بتوس تھا۔ وہ اپنے حجرے میں تنہا پڑا رہتا تھا۔ قاضی کے سامنے آئے اور کہا: ہم بھی اپنے دینی بھائیوں سانکوا ور اسحاق کے الفاظ کا اعادہ کرتے ہیں اور پھر سب و شتم کرنے لگے۔ یہ چھ کے چھ قتل کردیئے گئے (عبرت نامہ اندلس: 481/1)
آئزک کا قتل
پرفیکٹس کی طرح آئزک بھی قاضی کی عدالت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ جیسے ہی اس کو مسلمان کرنے کے لئے دینی عقائد اس کے سامنے بیان کئے گئے تو اس نے سب و شتم شروع کردیا۔ قاضی کے لئے برداشت کرنا دشوار ہوگیا۔ اس نے اس ذلیل کو طمانچہ رسید کرکے کہا، جانتا ہے کہ اسلام میں اس کی سزا قتل ہے۔ اس نے کہا کہ وہ جان بوجھ کر یہاں آیا ہے۔ اس لئے کہ خدا فرماتا ہے کہ مبارک ہیں وہ لوگ جو دینداری کے لئے ستائے گئے۔ آسمان کی بادشاہت انہی کے لئے ہے۔ اس شاتم رسولﷺ کو بھی قتل کردیا گیا (تاریخ اندلس از سید ریاست علی)
جس بے باکی اور بدمعاشی کا مظاہرہ مذکورہ گستاخان رسولﷺ نے اس دور میں کیا، اگر اسے فرش زمین کا سیاہ ترین دور تصور کرلیا جائے تو بے جا نہ ہوگا مگر جہاں اس سیاہ دور کی بدبختی کا قلق دامن گیر ہے، وہاں اسلامی حکمرانوں کے جرأت مندانہ فیصلے سیاہ رات میں ستاروں کی مانند چمکتے نظر آتے ہیں اور ان ستاروں کی چمک ہی میں منزلوں کے آثار پنہاں ہیں۔
مغلیہ دور حکومت میں گستاخ رسولﷺ کی سزا
ملا عبدالقادر بدایونی لکھتے ہیں: عبدالرحیم قاضی متھرا نے شیخ (شیخ عبدالغنی چیف جسٹس) کے پاس ایک استغاثہ بھیجا جس میں بیان کیا گیا کہ وہاں مسلمان ایک مسجد کی تعمیر کا ارادہ کئے ہوئے ہیں لیکن اس سرکش برہمن نے سارا عمارتی سامان اٹھوالیا اور اسی سامان سے بت خانے کی تعمیر شروع کروادی ہے۔ میں نے جب اس کے خلاف تادیبی کارروائی کا اعادہ کیا تو اس نے گواہوں کی موجودگی میں حضورﷺ کو برا بھلا کہنا شروع کردیا اور مسلمانوں کی اس نے سخت توہین کی۔ شیخ عبدالغنی نے اس کو طلب کیا لیکن اس نے پیش ہونے سے انکار کردیا۔ جس پر بادشاہ (اکبر) نے بیربل اور شیخ ابوالفضل کو بھجوایا اور وہ اسے لے آئے۔ شیخ ابوالفضل نے جو کچھ گواہوں سے سنا تھا وہ بیان کیا اور کہا اس بات کی تحقیق ہوگئی ہے کہ اس نے گالیاں بکی تھیں۔ اس کی سزا کے معاملے میں علماء کے دو گروہ ہوگئے۔ ایک گروہ نے اسے واجب القتل قرار دے کر سزائے موت کا مطالبہ کیا اور دوسرا اس کے خلاف، تعزیر اور جرمانے پر زور دے رہا تھا۔ بادشاہ نے صراحتاً اس کے قتل کی اجازت نہ دی اور گول مول کہہ دیا کہ یہ شرعی مسئلہ ہے، سزائوں کا تعلق تم سے ہے۔ ہم سے کیا پوچھتے ہو؟ وہ برہمن مدتوں اس جھگڑے میں قید میں پڑا رہا۔ شاہی محل کی بیگمات اس کی رہائی کے لئے سفارش کرتی رہیں لیکن بادشاہ شیخ کا بہت لحاظ کرتا تھا۔ اس لئے اس نے رہائی کا حکم بھی نہ دیا۔ شیخ نے جب اس کے قتل کے لئے اصرار کیا تو بادشاہ نے وہی جواب دیا کہ ہم تو تم سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تم جو مناسب جانو کرو۔ اس کے بعد فورا ہی شیخ عبدالغنی نے اس برہمن کے قتل کا حکم دے دیا۔ چنانچہ اس کی تعمیل میں اس کی گردن ماردی گئی (منتخب التواریخ از مولانا عبدالقادر بدایونی)
1734ء میں ایک اور گستاخ کو قتل کیا گیا
ایک ہندو مورخ اس واقعہ کو اپنے الفاظ میں یوں بیان کرتے ہیں کہ حقیقت رائے باگھ مل پوری سیالکوٹ کے کھتری کا پندرہ سالہ لڑکا تھا۔ جس کی شادی بٹالہ کے کشن سنگھ بھٹہ نامی سکھ کی لڑکی سے ہوئی تھی۔ حقیقت رائے مسلمانوں کے اسکول میں داخل کیا گیا جہاں ایک استاد نے ہندو دیوتائوں کے بارے میں کچھ توہین آمیز باتیں کیں۔ حقیقت رائے نے اس کے خلاف احتجاج کیا اور اس نے بھی انتقاماً حضورﷺ اور بی بی فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ اس جرم میں حقیقت رائے کو گرفتار کرکے لاہور عدالتی کارروائی کے لئے بھیجا گیا۔ اس واقعہ سے پنجاب کی ساری غیر مسلم آبادی کو شدید دھچکا لگا۔ کچھ ہندو افسر ذکریا خان کے پاس پہنچے (جو اس وقت کا گورنر لاہور تھا) کہ حقیقت رائے کو معاف کردیا جائے۔ لیکن ذکریا خان نے کوئی سفارش نہ سنی اور سزائے موت کے حکم پر نظرثانی سے انکار کردیا۔ جس کے اجراء میں پہلے مجرم کو ایک ستون سے باندھ کر اسے کوڑوں کی سزا دی گئی۔ اس کے بعد اس کی گردن اڑا دی گئی (پنجاب آخری مغل دور حکومت میں، ص 122)
معلوم ہوتا ہے کہ ستون سے باندھ کر اسے سزا حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی گستاخی کی وجہ سے دی گئی اور قتل کی سزا اسے شانِ رسالت میںگستاخی کرنے کی وجہ سے دی گئی۔ وہی ہندو مورخ آگے لکھتے ہیں۔ پنجاب میں بسنت کا میلہ اسی حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتا ہے (پنجاب آخری مغل دور حکومت میں ،ص 279)
اے کاش! زندہ دلان لاہور بسنت کی حقیقت سے آشنا ہوجائیں اور اس مکروہ رسم پر لاکھوں اور کروڑوں روپے خرچ کرکے لاشعوری طور پر بھی قہر خداوندی کو آواز دینے سے بچ جائیں۔ سلطنت مغلیہ کا سورج 1857ء میں غروب ہوگیا۔ انگریز شاطر نے وہ قانون جو مسلمانوں کے زخموں کا مرہم تھا اسے یکسر ختم کردیا۔ چنانچہ مسلمان سرفروشوں نے اس قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور گستاخان رسولﷺ کو قتل کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچاتے رہے۔