حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ

in Articles, Tahaffuz, June 2011, شخصیات

 گزشتہ سے پیوستہ

غالباً یہ اس آیت مقدسہ کا ترجمہ ہے جس میں ارشاد فرمایا گیا کہ میری نماز، میرا جینا اور مرنا تیرے ہی لئے ہے۔

جب کسی بندے کا جینا اور مرنا صرف اﷲ تعالیٰ کے لئے ہو تو پھر کون اس کے روحانی مراتب کا اندازہ کرسکتا ہے؟ ایک خاص موقع پر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے متعلق فرمایا تھا۔

’’چالیس سال تک اﷲ جل شانہ نے جو کچھ فرمایا وہ اس بندے مسعود نے کیا۔ اب چند سالوں سے مسعود جس کام کے بارے میں اس سے درخواست کرتا ہے، باری تعالیٰ اسے پورا کردیتا ہے‘‘

٭…٭…٭

ایک شخص پیر کامل کی تلاش میں ملکوں ملکوں مارا پھرتا تھا۔ مرشد کی جستجو اسے بیت المقدس لے گئی۔ وہاں اس نے کچھ عارفوں کی زبانی سنا کہ برصغیر میں ایک مرد کامل فریدالدین مسعود گنج شکر رحمتہ اﷲ علیہ ہیں۔ اس کے دل میں آپ کے دیدار کا اس قدر شوق پیدا ہوا کہ ہمہ وقت مضطرب رہنے لگا۔ آخر وہ چند صوفیوں کے ہمراہ طویل سفر طے کرکے اجودھن پہنچا اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔

آپ نے مہمانوں کا والہانہ استقبال کیا اور خادموں کو حکم دیا کہ وہ درویشوں کی خاطر مدارت کریں۔ اس دوران اس شخص کے ساتھیوں نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو بہت غور سے دیکھنا شروع کیا۔ آپ نے ان لوگوں کی متجسس نظروں سے بچنے کے لئے سر جھکا لیا۔

اچانک وہ شخص اپنی جگہ سے اٹھا اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے عرض کرنے لگا ’’حضرت! آپ کو تو میں نے بیت المقدس میں دیکھا تھا بلکہ آپ کا نام بھی پوچھا تھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ میں شیخ اجودھنی ہوں‘‘

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے جواباً فرمایا ’’یہ بات درست ہے مگر تم نے بھی تو وعدہ کیا تھا کہ یہ بات کسی سے نہ کہو گے‘‘

اس شخص نے عرض کیا ’’بے شک! یہ میرا وعدہ تھا مگر اس وقت حضور کی ایسی دہشت طاری ہوئی کہ میں اپنے وعدے پر قائم نہ رہ سکا‘‘

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’اے عزیز! اﷲ کے بندے جہاں بھی رہیں، بیت المقدس، خانہ کعبہ اور روضہ رسولﷺ ان کی نظروں کے سامنے رہتا ہے‘‘

وہ شخص خاموش رہا۔

’’کیا تمہیں یقین نہیں…؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے مہمان سے دریافت کیا۔ اس بار بھی اس شخص نے کوئی جواب نہیں دیا۔

’’تو پھر اپنی آنکھیں بند کرلو‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔

پھر جیسے ہی اس نے آنکھیں بند کیں تو بیت المقدس کے نقش و نگار روشن ہوگئے اور وہ شخص نعرہ مار کر بے ہوش ہوگیا۔

پھر ہوش میں آیا تو ہمیشہ کے لئے حلقہ غلامی میں شامل ہوگیا۔ آپ نے اسے بہت تھوڑی مدت میں خلافت عطا کی اور سیوستان میں خدمت اسلام کے لئے مقرر فرمادیا۔

جو لوگ حضرت بابافرید رحمتہ اﷲ علیہ کی اس کرامت پر اعتبار نہیں کرتے، انہیں چاہئے کہ وہ قرآن حکیم میں ملکہ سبا (بلقیس) کے واقعہ کا بغور مطالعہ کریں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وزیر آصف ابن برخیاہ نے پلک جھپکتے ہی ملکہ بلقیس کو دربار میں حاضر کردیا تھا۔ باری تعالیٰ کا ارشاد مقدس ہے کہ:

’’ہم نے اسے کتاب کا علم دیا تھا‘‘

اب اگر اس شخص سے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی ملاقات بیت المقدس میں ہوئی تھی تو لوگوں کو حیرت کیوں ہے؟

ولایت، بادشاہی، علم اشیاء کی جہانگیری

یہ سب کیا ہے فقط ایک نکتۂ ایماں کی تفسیریں

ریاضت، صبر، قناعت، توکل اور خدمت خلق… یہ درویش کے عناصر خمسہ ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک چیز کی بھی کمی رہ جائے تو پھر درویش کامل نہیں ہوتا۔

ایک بار حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بیمار تھے اور لکڑی کے سہارے چل رہے تھے۔ مریدان خاص بھی ہمراہ تھے۔ یکایک حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ چلتے چلتے ٹھہر گئے۔ مریدوں نے سوچا کہ شاید پیرومرشد پر مرض کا غلبہ ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے کہ کوئی مرید حضرت شیخ کے چہرے کے تغیر کا سبب پوچھتا یا مزاج پرسی کرتا، بابا صاحب رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے ہاتھ کا عصا دور پھینک دیا۔ پھر مریدان خاص کو مخاطب کرکے فرمایا:

’’میرے دل میں چند لمحوں کے لئے خیال آگیا تھا کہ میں اس لکڑی کے سہارے چل رہا ہوں۔ اس لئے میں نے عصا کو دور پھینک دیا۔ انسان کا بھروسہ صرف اﷲ کی ذات پر ہونا چاہئے‘‘

پھر مریدان خاص نے دیکھا کہ پیرومرشد بہت دیر تک چہل قدمی فرماتے رہے مگر چہرۂ مبارک سے کسی تکلیف کا اظہار نہیں ہوا۔

٭…٭…٭

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا مشہور قول ہے کہ فقیر کے لئے سب سے مضر شے دولت مند کی محبت ہے۔

ایک بار ایک ضرورت مند شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرنے لگا ’’والیٔ ہندوستان غیاث الدین بلبن بڑا سخت گیر حکمران ہے۔ وہ کسی کی سفارش نہیں سنتا‘‘

’’اگر سفارش کسی غلط کام کے لئے ہو تو پھر اس کا نہ سننا ہی بہتر ہے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔

’’میں حضرت شیخ کو یقین دلاتا ہوں کہ میرا کام ناجائز نہیں‘‘ سوالی نے عرض کیا۔

’’تو پھر امید رکھو کہ تمہارا کام ہوجائے گا‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اس کی تالیف قلب کے لئے فرمایا۔

’’مگر شیخ! وہاں مگر گزر ممکن نہیں‘‘ سوالی نے شکستہ لہجے میں عرض کیا۔ ’’میں کوشش کرچکا ہوں مگر دربانوں کی فوج نے مجھے سلطان تک پہنچنے ہی نہیں دیا۔ اسی لئے سرکار کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا ہوں۔ کہنے والوں نے کہا ہے کہ غیاث الدین بلبن حضور سے بے حد عقیدت رکھتا ہے‘‘

’’بلبن کی عقیدت اپنی جگہ مگر میں سلاطین اور امراء سے کوئی رغبت نہیں رکھتا‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔

’’تو پھر میں کہاں جائوں…؟‘‘ سوالی غمزدہ نظر آنے لگا… ’’میں جانتا ہوں کہ یہ بات مزاج شیخ پر گراں ہے مگر ایک ضرورت مند کی خاطر یہ زحمت گوارا کرلیجئے‘‘

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے ایک خادم سے قلم دوات منگوایا اور والیٔ ہند سلطان غیاث الدین بلبن کے نام سفارشی خط تحریر فرمانے لگے۔ عبارت عربی زبان میں لکھی گئی تھی۔

’’میں نے اس شخص کی ضرورت کو اﷲ کے سامنے پیش کیا۔ پھر تیرے پاس بھیجا۔ اگر تو اسے کچھ دے گا تو یہ دینا اﷲ کی طرف سے ہوگی اور یہ شخص تیرا شکر گزار ہوگا… اور اگر کچھ نہیں دے گا تو یہ بندش بھی اﷲ کی طرف سے ہوگی اور تو معذور سمجھا جائے گا‘‘ (ترجمہ)

یہ دنیا کا عجیب ترین سفارش نامہ تھا جسے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ جیسے مرد خدا پرست ہی تحریر کرسکتے تھے۔ یہ مختصر ترین خط فصاحت و بلاغت کی اعلیٰ ترین مثال ہے جس سے ایک طرف حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی علمیت کا اظہار ہوتا ہے اور دوسری طرف اسے پڑھ کر حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کی یاد آجاتی ہے کہ یہ دونوں بزرگ بھی سلاطین وقت سے بے نیاز نظر آتے تھے اور یہی پیران چشت کا طریقہ تھا۔

٭…٭…٭

سلطان غیاث الدین بلبن کے حوالے سے ایک اور واقعہ بھی بہت زیادہ شہرت رکھتا ہے۔ ایک بار والیٔ ہندوستان نے سرخ سکوں سے بھرے ہوئے دو طشت حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں بھیجے۔آپ نے مولانا بدرالدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کو مخاطب کرکے فرمایا۔

’’آج لنگر خانے میں کتنی رقم کی ضرورت ہے…؟‘‘

مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ نے عرض کیا ’’صرف ایک سکہ درکار ہے‘‘

’’ایک سکہ لے لو۔ باقی فقراء میں تقسیم کردو‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔

مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کچھ سوچنے لگے۔ پھر عرض کیا ’’ایک سکہ قرض بھی ہے‘‘ دراصل یہ وہ رقم تھی جو مولانا نے ان غریبوں کے لئے قرض لی تھی جو کھانا کھانے لنگر خانے آتے تھے۔

’’وہ قرض بھی لے لو اور باقی سکے ضرورت مندوں میں تقسیم کردو‘‘ پیرومرشد کا حکم تھا۔

مولانا بدرالدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ نے رات کے اندھیرے میں تمام سکے محتاجوں اور مسکینوں کے درمیان تقسیم کردیئے۔ بعد میں مولانا کو احساس ہوا کہ رقم بانٹتے ہوئے کوئی سکہ راستے میں گر گیا تھا۔ اس خیال کے آتے ہی مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ چراغ لے کر نکلے۔ آخر وہ سکہ راستہ میں پڑا ہوا مل گیا۔ مولانا نے اسے اٹھا کر اپنے پیرہن کی جیب میں رکھ لیا اور کہا کہ کل کام آئے گا۔

پھر عشاء کی نماز کا وقت ہوگیا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے نماز کی نیت باندھی۔ ابھی سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی تھی کہ اچانک نیت توڑ دی۔ حاضرین مسجد کو پیرومرشد کے اس عمل پر حیرت ہوئی۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے دوبارہ نیت باندھی۔ ابھی نصف نماز بھی ادا نہیں ہوئی تھی کہ نیت توڑ دی۔ پھر آپ نے کئی بار یہی عمل دہرایا۔ مریدوں اور خدمت گاروں کی حیرت لحظہ بہ لحظہ بڑھتی جارہی تھی۔ آخر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اپنی نماز نامکمل چھوڑ کر مصلّیپر بیٹھ گئے۔ کسی مرید اور خدمت گار میں اتنی جرأت نہ تھی کہ پیرومرشد کے اس عمل کی وجہ دریافت کرسکے… مگر تمام حاضرین محسوس کررہے تھے کہ کوئی نہ کوئی غیر معمولی بات ضرور ہے۔

آخر حضرت بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ خود ہی شیخ بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ سے مخاطب ہوئے ’’مولانا! مجھے نماز میں حضوری حاصل نہیں ہوتی‘‘

شیخ بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ دست بستہ کھڑے ہوگئے ’’سیدی! اس سلسلے میں یہ ناقص کیا عرض کرسکتا ہے؟‘‘

’’مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سلطان کی پیش کردہ نذر میں سے کچھ باقی رہ گیا ہے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’مولانا کیا تم نے ساری رقم ضرورت مندوں میں تقسیم کردی تھی؟‘‘

یہ سنتے ہی مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ نے سر جھکالیا ’’سیدی! کل کے خرچ کے لئے ایک سکہ بچالیا ہے‘‘ مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا۔ اس لئے پیرومرشد کی خفگی کے خیال سے آپ کی آواز لرز رہی تھی۔

باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں