۱۹۸۰ئ؁ کی دہائی میں اسلامی بلاک مشترکہ اسلامی فوج اور اسلامی تجارت کامنصوبہ محض ایک رومانوی خیال محسوس ہوتا تھا ۔اسلامی ممالک کے درمیان تہذیبی اورسماجی فرق ہی اس قدر تھا کہ ان لوگوں کو اکٹھا کرنا آگ اورپانی کوایک مرتبان میںجمع کرنے کے مترادف تھا۔اس تہذیبی فرق کے پیچھے امریکہ اوریورپ تھا ،ا س نے جان بوجھ کر ایسے اقدام کئے جن کے باعث مسلم دنیا میں اتحاد قائم نہ ہوسکے ۔مثلاً
1)…امریکہ کے ایجنٹوں نے ان ممالک کی کرنسی کی قدر کم کردی جس سے ان ممالک میں بے روزگاری بڑھی ،بعدازاں ان ممالک کے ہنرمندوں کو خلیج کی طرف جانے کا اشارہ کیا ۔خلیجی ممالک میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ فلاں اسلامی ممالک کے مزدور اورمستری مہنگے بھی ہیں اورسست بھی جب کہ فلاں غیر اسلامی ملک کے لوگ یہی کام آدھی تنخواہ میں کرنے کے لئے تیار ہیں ۔اس پروپیگنڈے کے نتیجے میں عرب ممالک نے اپنے مسلمان ہنر مندوں کونوکریوں سے نکال نکال کر ان کی جگہ عیسائی ،بودھ اورہند وبھرتی کرنا شروع کردیئے۔مسلمان ہنرمند واپس آئے تودونوں اسلامی ریاستوں میں آویزش شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں اسلامی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات خراب ہونے لگے ۔یوں اتحاد قصۂ ماضی بنتا چلا گیا ۔
2)…امریکہ نے ایک سازش کے تحت اسلامی دنیا کو انتہائی کم قیمت میں تیار مصنوعات دیناشروع کردیں ۔عربوں نے دیکھا کہ اگر وہ ایک چیز اپنے ملک میں تیار کرتے ہیں تو وہ انہیں مہنگی پڑتی ہے جب کہ امریکہ اوریورپ اس سے بڑھیا میعار کی چیز اس سے کہیں کم قیمت میں انہیں گھر پہنچادیتے ہیں لہٰذا عربوں نے فیکٹریاں لگانے کے  بجائے یورپ اورامریکہ سے تیار مصنوعات خریدنا شروع کردیں ۔اس کے مقابلے میں اسلامی ممالک کمزور ٹیکنالوجی ،وسائل کی کمی اور مارکیٹ ناپید ہونے کی باعث اس معیار ،مقدار اورنرخوں میں وہ اشیاء بنانے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے تھے ،چنانچہ یوں تجارت اسلامی ممالک سے نکل کر یورپ اورامریکہ کے ہاتھ چلی گئی ۔
3)…یورپ اورامریکہ نے اسلامی ممالک کے سرداروں کے لئے اپنے ممالک میں سرمایہ کاری آسان کردی ،انہیں ٹیکسوں میں چھوٹ دی گئی ،ان کے لئے نظام آسان بنادیا ،انہیں زیادہ سود اورقرضے فراہم کئے گئے جس کے نتیجے میں اسلامی ممالک کا سرمایہ دار مغرب کی طرف متوجہ ہو گیا چنانچہ اسلامی ممالک میں سرمایہ کاری کاخواب بھی بکھر گیا ۔رہی مشترکہ فوج توامریکہ اوراس کے اتحادیوں نے باقاعدہ سازش کے تحت اسلامی ممالک کوایک دوسرے کے ساتھ لڑانا شروع کردیا ،یوں یہ منصوبہ بھی دھرے دکادھر ار ہ گیا۔
۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ئ؁ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا واقعہ پیش آیا ۔امریکہ اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر چڑھ دوڑا ،اس نے افغانستان کے نہتے شہریوں پر بم برسابرسا کر تباہی مچادی ۔اس دوران اسلامی ممالک کے چیدہ چیدہ لیڈروں کو پہلی بار اپنی کوتاہ فہمی کا اندازہ ہو ا،انہیں محسوس ہوا وہ دنیا سے کتنے پیچھے اوریورپ اور امریکہ کے مقابلے میں کتنے کمزور ہوگئے  اورپسماندہ ہیں ۔اس وقت انہیں محسوس ہوا اگر وہ آج تجارتی علمی ،تکنیکی اورعسکری لحاظ سے مضبوط ہوتے تو یوں بے آبرو نہ ہوتے ،وہ اپنے افغان بھائیوں کی مدد کے قابل ہوتے لیکن دنیا میں کمزوری سے  بڑی بے بسی اورضعف سے بڑی لاچاری کوئی نہیں ہوتی
اسلامی دنیا ڈیزی گٹر اور کلسٹربموں کے سامنے بے بس ہوگئی ۔۵۰،۶۰ ہزار معصوم افغان اپنی بے گناہی کی سز اپاگئے ۔۲۰۰۲ئ؁ کے آخر میں امریکہ نے عراق پر حملے کاقصد کیا تواسلامی دنیا نے بھی کسی نہ کسی حد تک احتجاج کیا لیکن کمزور معیشت اوراخلاقی گراوٹ نے انہیں زیادہ اونچی آواز میں بولنے نہ دیا ،لہٰذا یوں مارچ ۲۰۰۳ئ؁ آگیا۔امریکہ کی دی گئی ہوئی ڈیڈ لائن ختم ہوئی اور امریکہ نے ۹اطراف سے عراق پر حملہ شروع کردیا۔اس وقت تک عراق پر نسل انسانی کا انتہائی خوفناک اسلحہ آزمایا جاچکا ہے ۔بغداد،بصرہ ،موصل اور نجف پراتنا بارود پھینکا جاچکا ہے جتنا دنیا میں کبھی نہیں پھینکا گیا۔ماہرین کاکہنا ہے اگر اس تمام بارود کے ڈائنا مائٹ بنائے جاتے تووہ پورے ہمالیہ کو میدان بنانے کے لئے کافی تھے
عراق پر حملے کے ساتھ ہی یہ بات طے ہوگئی کہ اب مسلم دنیا کے پاس دو ہی راستے ہیں :۶۱ اسلامی ممالک ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ کر متحد ہوجائیں یاپھر ایک دائمی غلامی اورنسلوں تک محیط بے عزتی برداشت کریں ۔اس جنگ کے ساتھ ہی عالم اسلام ’’ڈورآرڈائی‘‘کی اسٹیج پر آگیا ،اب ’’ہم ہیں یا پھر ہم نہیں ہیں۔‘‘
دنیامیں اس وقت ۶۱ اسلامی ممالک ہیں:آذر بائیجان ،آیوری کوسٹ ،اُردن ،ازبکستان ،افغانستان ،البانیہ ،الجزائر ،انڈونیشیا ،ایتھوپیا ،ایران ،بحرین ،برکینا فاسو ،برونائی ،بنگلہ دیش ،بوسنیا ،بنین ،پاکستان ،تاجکستان ،ترکمنستان ،ترکی ،تنزانیہ ،تیونس ،ٹوگو ،جبوتی ،چاڈ ،سری نام ،سعودیہ  ،سوڈان ،سیرالیون ،سنییگال ،شام ،صومالیہ ،عراق ،عمان ،فلسطین ،قازقستان ،قطر ،ترکمانستان ،کمورو،کویت ،کیمرون ،گنی ،گنی بسائو ،گیانا ،گیبون،گیمبیا ،لبنان ،ماریطانیہ ،مال دیپ ،مالی ،امارات ،مراکش ،مصر ،ملائیشیا ،موزمبیق ،نائیجریا ،وسطی افریقہ ،یمن اوریوگنڈا ہیں۔
ان ۶۱ اسلامی ممالک کی آبادی ایک ارب ۴۰ کروڑ ۳۱ لاکھ ۵۱ ہزار ہے ۔ان کے پاس ۳ کروڑ ۴۸ لاکھ ۹ ہزار ۷۹۰ کلومیٹر رقبہ ہے ان ممالک کے پاس ۶۶ لاکھ ۷۶ ہزار ۵۶۰ ٹرینڈ فوجی ہیں ۔یہ تمام ممالک ہر سال اپنے دفاع پر ۷۶ ارب ۹۵۰ملین ڈالر خرچ کرتے ہیں ۔
صرف سعودی عرب اپنی فوج پر ہر سال ۲۱ ارب  ۸۷۶ ملین ڈالر خرچ کرتا ہے ۔ترکی کادفاعی بجٹ ساڑھے ۱۰ ارب ڈالر ہے ،ایران دفاع پرپونے ۶ ارب ،پاکستان ساڑھے ۳ارب ،مصر پونے ۳ارب ،عراق ،مراکش ،عمان اورقطر ۲،۲ ارب ڈالر خرچ کرتے ہیں ۔
یہ ۶۱ ممالک اگر مشترکہ فوج بنا لیں،اپنے دفاعی بجٹ کا صرف ایک چوتھائی حصہ مشترکہ فوج کو دے دیں،اپنی ایک تہائی فوج الگ کردیں تو یہ دنیا کی سب سے بڑی مضبوط فوج ہوگی ،ایک ایسی فوج جس کے پاس جذبہ بھی ہوگا،تکنیک بھی اور قوت بھی ۔اس کے ساتھ ساتھ عالم اسلام عسکری سامان کی ایجاد کے لئے ایک یونیورسٹی اورتجربہ گاہ بھی بنائے۔اس تجربہ گاہ اوریونیورسٹی میں تمام اسلامی ممالک کے بہترین طالب علموں کو داخلہ دیا جائے ،انہیں پڑھایا جائے،جب وہ فارغ ہوجائیں توانہیں جدید ترین اسلحے کی تیاری پر لگا دیا جائے۔اگر اس وقت امریکہ اوریورپ کی تمام بڑی لیبارٹریوں میں مسلم سائنسدان کام کرسکتے ہیں ،ناساجیسا ادارہ مسلمان چلاسکتے ہیں تو یہ مسلمان اپنی لیبارٹریوں کابندوبست کیوں نہیں کرسکتے؟شاید میرے بے شمار قارئین کے لئے یہ اطلاع بالکل نئی ہو کہ ’’ڈیزی کٹر‘‘ جیسا انتہائی مہلک اورخوفناک بم بھی ایک مسلمان سائنس دان ہی کی ایجاد ہے اگر یہ مسلمان سائنس دان امریکہ میں امریکی فوج کے لئے ڈیزی کٹر بناسکتا ہے تو کیا وہ اورا س جیسے دوسرے مسلمان سائنسدان عالم اسلام کے لئے ایسے بم ایجاد نہیں کرسکتے؟وہ بموں کی ماں جیسے بم کے مقابلے میں بموں کاباپ بم نہیں بناسکتے؟یقینا بناسکتے ہیں بس اس کے لئے پیسہ اورحوصلہ افزائی درکار ہے ۔اب تک ۹ مسلم دنیا کے پاس ’’اسلامی بم‘‘ تک موجود ہے ۔
یہ نیو کلیئر ٹیکنالوجی کی مالک ہیں ۔کیا پاکستان پورے عالم اسلام کے سائنس دانوں کو نیو کلیئر بم بنانے کی ٹریننگ نہیں دے سکتا ؟اس کے پاس ڈاکٹر عبدالقدیر اورڈاکٹرثمر مبارک مند جیسے پارس ہیں جو جس کو چھوجائیں سونا حاصل کرے ، اب مسلم دنیا کی بقاء اسی میں مضمر ہے   یونیورسٹیاں بنائیںاگر اب بھی عالم اسلام خوابِ خرگوش سے نہ جا گا،اس نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے توکچھوے یونہی اونٹ بنتے رہیں گے اوردنیا اسے یونہی روند ،روند کر آگے بڑھتی رہے گی۔
اسلامی ہیرونے دنیا پر ثابت کردیا ،اگر انسان کے اندر عزم موجود ہو،اگر اس کا حوصلہ دنیا پرثابت کردیا ،اگر انسان کے اند ر عزم موجود ہو ،اگر اس کا حوصلہ زندہ ہو تووہ وقت کے بڑے سے بڑے فرعون کے سامنے کھڑا ہوسکتا ہے دنیا آج تک فوجوں کو شکست دیتی آئی ہے قوموں اورملکوں کوشکست دیتی آئی ہے لیکن دنیا کی کوئی طاقت دنیا کاکوئی ملک کوئی قوم آج تک لوگوں کے ان گروہوں کوفتح  نہیں ہوسکتی جنہوں نے عزت وآبرو کے ساتھ زندہ رہنے کا عزم کیا ہو۔
باقی رہ جاتا ہے اسباب،یہ اسباب اب اسلامی دنیا کے سرمایہ داروں ،پروفیسروں ،سائنسدانوں اورعالموں نے پید اکرنے ہیں ۔مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ وہ سائنسدان جنہوں نے دنیا میں علوم وفنون کے بانی تھے ،جنہوں نے دنیا میں آنکھ کا پہلا آپریشن کیا تھا ،دوربین بنائی تھی ،جورصدگاہوں سے ستاروں کی چالیں دیکھتے تھے ،جنہوں نے موسمیات کوباقاعدہ سائنس کی شکل دی تھی ،وہ مسلم سائنسدان بیسیویں صدی ،اکیسویں صدی میں معذور کیسے ہوگئے؟آئن اسٹائن نے کہا :’’آئندہ دنیا میں صرف وہی قوم زندہ رہے گی جس کے پاس سائنسدانوں کی بڑی فوج ہوگی۔‘‘ افسوس! ہم نے سائنس اور سائنسدانوں کوپیچھے چھوڑ دیا ،ہم نے اپنے معاشرے ان لوگوں سے خالی کردیئے لہٰذا آج تو رابوڑا ہو یاقند ہار،موصل ہو یا بصرہ ،ہم ہر جگہ بری طرح مار رکھارہے ہیں ۔
مادی لحاظ سے طالبان افغانستان میں ہار گئے تھے۔دنیا جانتی ہے عراق بھی اسی انجام سے دوچار ہوگا۔اب اسلامی دنیا کے کندھوں پر ایک قرض آپڑا ہے اب اسلامی دنیا نے فیصلہ کرنا ہے کہ اس نے یہ فرض نبھا کر عزت کے ساتھ زندہ رہنا ہے یاپھر اس سے غفلت برت کر ذلت کی موت مرجانا ہے۔
{ملت اسلامیہ کی مجموعی پستی کا راز
اورعالم اسلام کی ذمہ داری }
مقامِ تاسف ہے کہ آج پورا عالم اسلام یہودیت ،عیسائیت اوراشتراکیت کے ہاتھوں چاردانگ عالم میں ذلیل وخوار ہورہا ہے اس کا بنیادی سبب من حیث القوم مسلمانوں کی بدکرداری اورسپاہیانہ زندگی سے بیزاری ہے یاد رکھئے کہ مسلمان اس وقت تک صحیح معنوں میں مسلمان ہوہی نہیں سکتا جب تک اس کے شب وروز مجاہدانہ شان میں بسر نہ ہوتے ہوں جہاد سے ناآشنا زندگی سب کچھ ہوسکتی ہے مگر اسلام کی زندگی نہیں ہوسکتی اسلامی زندگی ہم سے اس بات کی متقاضی ہے کہ زندگی کو انقلاب کی طرز پر ڈھالا جائے اورمجاہدانہ رنگ ڈھنگ کے خوئے جانبازی پیدا کی جائے لیکن بدقسمتی سے آج کے نوجوان کی حالت ڈاکٹر اقبال کے اس شعر کا عکس ہے۔
تیرے صوفے ہیں افرنگی تِرے قالین ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رُلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
اسلام ہمارے سامنے جینے کا یہ مقصد رکھ رہا ہے کہ اس وقت تک ہمار اجینا بے مزہ ہے جب تک ہم ا س جگہ پر دوبار ہ قابض نہیں ہوجاتے جہاں سے ہمیں نکالا جاچکا ہے صاحبو! یہ امر غور طلب ہے کہ کتنی بے حمیتی اوربے غیرتی کی بات ہے کہ کوئی آپ سے آ پ کا مکان چھین لے اورآپ خاموشی سے اس صورتِ حال کو گوارا کرلیں اس کو اگنار کرلینا آپ کی عزت کامسئلہ بن جائے آپ سے تو وہ دیہاتی اچھے ہیں جن کے جانور کوئی چرا کرلے جائے تووہ رسّہ گیروں کے خلا ف میدان میں نکل آئے ہیں اورمرنے مارنے پر تُل جاتے ہیں یہ سمجھ کر کہ جب تک ان کے جانور واپس نہیں ہوجاتے ان کے بے عزتی کی زندگی موت سے بدتر ہے لیکن اے مسلمانو! تمہاری عزت اورغیرت وحمیت کو کیا ہوگیا ہے کہ امت مسلمہ عالم کفر کی سازشوں اوریلغار کی زد میں ہے مظلوم مسلمانوں کے بچے بلک رہے ہیں اورعورتوں کی عزت لوٹی جارہی ہے لیکن تم ہو کہ ٹس سے مس نہیں ہورہے دینی اصلی اورقومی غیرت کاتصور ختم ہوگیا ہے۔
آج جو کچھ عالمی سطح پر مسلمانوں کے ساتھ روارکھا جارہا ہے وہ ہماری بدکرداریوں اورملی غیرت وحمیت کے فقدان کامنطقی نتیجہ ہے اس بناء پر اہل اسلام کو اس وقت تک برسرِ پیکار رہنے کا حکم ہے جب تک روئے زمین سے فتنہ وفساد کے ماحول کاخاتمہ نہیں ہوجاتا اور وہ نظام اپنی  موت تک مسلمانوں پرچین اورآرام حلال نہیں ہے جب تک اللہ کی اطاعت ،عبادت اورغلامی کے ساتھ قائم نظام نافذ نہیں ہوجاتا۔