بیمہ زندگی از فتاویٰ رضویہ وغیرہا

in Tahaffuz, August-September 2013, ابوالامجد سیالوی

وضاحت: کچھ عرصہ قبل ایک نوجوان ساتھی کا انٹرنیٹ کے ذریعے ایک سوال اور اس کا جواب موصول ہوا۔ سوال اگرچہ زکوٰۃ ہی سے متعلق تھا مگر چونکہ بیمہ کی رقموں کی زکوٰۃ کے سلسلہ میں سوال ہوا تھا تو عموماً یہی تاثر لیا گیا کہ فتاویٰ رضویہ میں بیمہ کو جائز کہا گیا ہے۔ نیز ایک اور جریدہ کے چند صفحات کی فوٹو کاپی بھی نظر سے گزری جن میں عنوان ’’آپ بھی پوچھئے‘‘ کے تحت بیمہ کے موضوع پر تحریر موجود تھی۔ بادی النظر میں بڑی کشش محسوس ہوئی کیونکہ اوپر ’’الفقہ‘‘ (مربع) میں اور نیچے منہاج القرآن لاہور نومبر ۲۰۰۳ء تحریر تھا مگر ’’جو چیرا تو اک قطرۂ خون نکلا‘‘ کے مصداق ایک سطحی اور بچگانہ تحریر پڑھ کر انتہائی دکھ ہوا کہ اس نام سے یہ مذاق! بہرحال بیمہ (انشورنس) کے بارے میں فتاویٰ رضویہ از امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ سے مواد یکجا کیا اور دیگر علماء کرام کی میسرہ تحریرات بھی افادہ کے لئے ساتھ ملادیں تاکہ اصل صورت حال حتی المقدور واضح ہو اور حق کا رخ زیبا آشکارا ہو۔ فتاویٰ رضویہ کے بعض طویل سوالات کے صرف اہم جملے نقل کئے ہیں تاکہ تحریر باعث اکتاہٹ نہ بنے۔ وماتوفیقی الا باﷲ۔
تحقیقی مسئلہ بیمہ پالیسی
امام اہل سنت مجدد دین و ملت اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ کے فتاویٰ رضویہ میں سوال و جواب ملاحظہ ہوں۔
1۔ مسئلہ… ایک کمپنی جس کے مالک و مختار سب کے سب نصرانی المذہب ہیں، علاوہ دریا و آگ کے بیمہ کے جان کا بیمہ بھی ہوتا ہے، صورتیں اس کی متفرق ہیں۔ پہلی صورت میں تمام عمر ایک مقررہ فی، بیمہ اتارنے والا کمپنی مذکورہ کو تمام عمر ہر سال دیتا رہے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے وارثوںکو بیمہ کی رقم دی جاتی ہے۔ الخ… دوسری صورت یہ ہے کہ معدود فی چند سال تک ہر سال کمپنی مذکور کو دیتا رہا اور اس کے مرنے پر اس کے وارثوں کو بیمہ کی پوری رقم ایک ہزار دی جائے گی۔ یہ صورت پہلی سے اچھی ہے کہ چند رقم دینا ہوتی ہے… الخ۔ تیسری صورت کوئی شخص جو بیمہ اتارتا ہے وہ آئندہ اپنے بڑھاپے ساٹھ سال یا باسٹھ سال کی عمر کوپہنچنے کے بعد بیمہ کی ہوئی رقم خود وصول کرنا چاہتا ہے، اس عمر تک بیمہ اتارنے والا زندہ رہا تو رقم مذکورہ اسی کو ملے گی، ہر بڑھانے عمر کی فیس جدا ہے مثلا زندہ ہے تو اسی کو ملے گی… الخ۔ چوتھی صورت تیسری سے ملتی جلتی ہے۔ اس صورت میں بیمہ اتارنے والے کو فقط بیس سال تک فیس دینی پڑتی ہے اس کے بعد نہیںدینا پڑتی اس کی فیس تیسری صورت سے زیادہ ہے۔ الخ۔
الجواب: یہ بالکل قمار ہے اور محض باطل کہ کسی عقد شرعی کے تحت میں داخل نہیں ایسی جگہ عقود فاسدہ بغیر عذر کہ جو اجازت دی گئی، وہ اس صورت سے مقید ہے کہ ہر طرح ہی اپنا نفع ہو اور یہ ایسی کمپنیوں میں کسی طرح متوقع نہیں۔ لہذا اجازت نہیں کہ کما حقق المحقق علی اطلاع فی فتح القدیر واﷲ تعالیٰ اعلم (فتاویٰ رضویہ جلد ہفتم، ص 113-112، مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی، کراچی)
2۔ مسئلہ… اس زمانے میں معاملات کی نئی صورتیں پیدا ہوگئی ہیں جیسے بینک یا لائف انشورنس کمپنی یا ریلوے اور ملوں کے حصے وغیرہ جوتاجرانہ کاروبار کرتے ہیں ان میں جو شخص روپیہ جمع کراتا ہے، وہ درحقیقت قرض نہیں دیتااور اس کو جو نفع ملتا ہے، وہ درحقیقت سود نہیں ہوتا بلکہ وہ اس تجارت میں ایک گونہ شرکت ہے اور جو سود مقرر ہوتا ہے اگرچہ وہ بلفظ سود ہو مگر درحقیقت سود نہیں ہے بلکہ وہ اس کاروبار کا نفع ہے جو منقح ہوتا ہے۔ الخ
الجواب… یہاں چار ہی صورتیں مقصود ہیں۔ کام میں لگانے کے لئے یہ روپے دینے والا بفرض شرکت دیتا ہے یا بطور ہبہ یا بطور عاریت یا قرض۔ صورت ہبہ تو یہاں بداہۃ نہیں اور شرکت کا بطلان اظہر من الشمس شراکت ایک عقد ہے جس کا مقتصفی دونوں شریکوں کا اصل و نفع دونوں میں اشتراک ہے۔ ایک شریک کے لئے معین تعداد زر مقرر کرنا قاطع شرکت ہے کہ ممکن کہ اسی قدر نفع ہو تو کلی نفع کا یہی مالک ہوگیا۔ دوسرے شریک کو کچھ نہ ملا تو ربع میں شرکت کب ہوئی۔ جوہرہ نیرہ وتنویرالابصار میں ہے ’’الشرکت عبارۃ من عقد بین االمتشارکین فی الاصل والریح‘‘ شرکت کا مقتصفی یہ ہے کہ جیسے نفع میں سب شریک ہوتے ہیں، نقصان ہو تو وہ بھی سب پر ہر ایک کے مال کے قدر پڑے… یہاں اگر نقصان ہوا جب بھی ان حصہ داروں کو اس سے غرض نہ ہوگی، وہ اپنے روپے لے چھوڑیں گے، یہ شرکت ہوئی یا غصب الخ… بالجملہ اس عقد مخترعہ کو شرکت شرعیہ سے کوئی علاقہ نہیں۔ اب نہ رہے مگر عاریت یا قرض، عاریت ہے جب بھی قرض ہے کہ روپے صرف کرنے کو دیا اور عاریت میں شی بعینہ قائم رہتی ہے الخ… (یہاں نوٹ قائم نہیں رہتے) بہرحال یہاں نہیں مگر صورت قرض اور اس پر نفع مقرر کیا گیا یہی سود ہے… بالجملہ شرع مطہر سے آنکھ بند کرنا شر ہی لاتا ہے خیر ہمہ تن خیر وہی ہے شرع مصطفی علیہ السلام ہے (فتاویٰ رضویہ، ج 7،ص 115 تا 117 کراچی)
مذکورہ بالا سوال و جواب اجمالاً یہاں نقل کئے۔ تفصیل کے لئے فتاویٰ رضویہ کے صفحات کا مطالعہ کافی مفید رہے گا۔
3۔ مسئلہ… شادی وزندگی کا بیمہ کرنا یا کروانا جائز یا ناجائز۔ آپ کے شاگرد رامپوری مولوی صاحب نے جوکہ اجمیر شریف میں عرصہ سے قیام پذیر ہیں، دریافت کرنے پر یہ جواب دیا کہ میرے خیال سے تو یہ حرام نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا میرے مولانا مولوی احمد رضا خان صاحب سے دریافت کرلینا چاہئے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ باافادہ اہل اسلام بصورت فتویٰ ارسال فرماکر ممنون و مشکور فرمائیں گے۔ اس بیمہ کا قانون بھی گورنر جنرل کی کونسل سے 1312ھ میں پاس ہوگیا مگر ہنوز اس پر کوئی اعتراض نہ ہوا۔ پراسیکیٹس اردو سالانہ رپورٹ بزبان انگریزی جناب کے ملاحظہ کے لئے روانہ کرتا ہوں۔
الجواب… یہ نرا قمار ہے۔ اس میں ایک حد تک روپیہ ضائع بھی جات ہے۔ ار وہ منافع موہوم جس کی امید پر دین بھی اگر ملے تو کمپنی بے وقوف نہیں کہ گرہ سے ہزار ڈیڑھ ہزار دے بلکہ وہی روپیہ ہوگا جو اوروں کا ضائع گیا اور ان میں مسلمان بھی ہوں گے تو کوئی وجہ اس کی حلت کی نہیں۔ قال اﷲ تعالیٰ ’’لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل‘‘ واﷲ تعالیٰ اعلم (فتاویٰ رضویہ، ج 7،ص 120، مطبوعہ کراچی)
4۔ مسئلہ… مورخہ 29 ربیع الاول شریف یوم دو شنبہ 1333ھ
ایک خاص کمپنی جس کے مالک و مختار سب کے سب نصرانی المذہب ہیں، ان کا اعلان ہے کہ جو شخص تیس برس کی عمر سے پینتالیس سال کی عمر تک یعنی کامل پندرہ سال تک ہر سال 76 روپیہ آٹھ آنے کمپنی کو دیا کرے تو پندرہ برس کی مدت گزرنے کے بعد اس کو کمپنی ایک ہزار دے گی۔ معاہدہ ہونے کے بعد مدت معینہ ختم ہونے سے پہلے دو مہینے یا دو سال چار سال کے بعد وہ شخص مرگیا تو یہی کمپنی اس کے وارثوںکوپورے ایک ہزار روپے دے گی۔ رقم معینہ مذکورہ سالانہ کی تعداد کامل پندرہ سال کی مجموعہ گیارہ سو پینتالیس روپے آٹھ آنے ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں روپیہ جمع کرنا اور کمپنی سے مذکورہ شرط کے ساتھ روپیہ وصول کرنا جائز ہے یا نہیں۔
الجواب… یہ صورت قمار کی ہے اور میعاد عمر وہ رکھی ہے جس میں غالب حیات ہے۔ حدیث میں فرمایا ’’اعمار امتی مابین السنین الی السبعین‘‘ اور بحال حیات ظاہر ہے کہ ایک سو سینتالیس روپے آٹھ آنے کا نقصان ہے کافر کے ساتھ ایسا معاملہ جس میں غالب پہلو اپنے نقصان کا ہو، جائز نہیں، کما نص علیہ فی فتح القدیر۔ واﷲ تعالیٰ اعلم (فتاویٰ رضویہ، ج 11،ص 51-50، مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی)
5۔ مسئلہ… کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آج کل ایک عرصہ سے یہ بات رائج ہے کہ لوگ اپنی جان کا بیمہ کراتے ہیں لہذا دریافت طلب بات یہ ہے کہ آیا جان کا بیمہ کرانا شرعاً جائز ہے یا نہیں ہے؟ اس کی مثال مثلا ایک شخص کی عمر تیس سال ہے، تاریخ اجراء پالیسی (سند) سے بیس سال تک مبلغ دو سو چھیالیس روپے چار آنہ سالانہ ادا کرنے کے بعد مبلغ پانچ ہزار روپیہ خود لے سکتا ہے یا اس کے ورثاء قبل از وقت موت واقع ہوجانے پر حاصل کرسکتے ہیں‘‘ (یعنی 75 روپے زائد ملیں گے)
الجواب… جس کمپنی سے یہ معاملہ کیا جائے اگر اس میں کوئی مسلمان شریک ہے تو مطلقاً حرام قطعی ہے، کہ قمار ہے اور اس پر جو زیادت ہے ربا۔ اور دونوں حرام و سخت کبیرہ ہیں اور اگر اس میں کوئی مسلمان اصلاً نہیں تو یہاں جائز ہے جبکہ اس کے سبب حفظ صحت وغیرہ میں کسی معصیت پر مجبور نہ کیا جاتا ہو۔ جواز اس لئے کہ اس میں اپنے نقصان کی شکل نہیں۔ اگر بیس برس تک زندہ رہا تو پورا روپیہ بلکہ مع زیادت ملے گا اور پہلے مرگیا تو ورثاء کو اور زیادہ ملے گا مثلا سال بھر بعد ہی مرگیا تو 246 روپیہ چار آنے اور ملے / 5000 روپے، ہاں یہ ضرور ہے کہ جو زائد ملے رہا سمجھ کر نہ لے بلکہ یہ سمجھے کہ غیر مسلم کا مال اس کی خوشی سے بلا عذر ملا، یہ حلال ہے‘‘ آگے فتح القدیر کے حوالہ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور قریش مکہ کے درمیان روم اور ایران کی فتح پر شرط لگانے کا واقعہ ذکر فرمایا ہے (فتاویٰ رضویہ جلد 23،ص 295-294، مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
6۔ مسئلہ… بعد سلام مسنون عرض ہے کہ زندگی کا بیمہ کرنا شرعاً جائز ہے یا حرام؟ صورت اس کی یہ ہے کہ جو شخص زندگی کا بیمہ کرانا چاہتا ہے اس سے یہ قرار پاجاتا ہے کہ 55 سال یا 60 سال یا 50 سال کی عمر تک مبلغ 2 ہزار روپے ماہوار کے حساب سے تنخواہ سے وضع ہوتے رہیں گے، اگر وہ شخص 55 سال تک زندہ رہا تو خود اس کو اور اگر مقرر میعاد کے اندر مرگیا تو اس کے ورثاء کو دو ہزار یکمشت ملے گا، خواہ وہ بیمہ کرانے کے بعد اور اس کی منظوری آنے کے فورا ہی بعد مرجائے اور اگر میعاد مقرر تک زندہ رہا تو بھی دو ہزار ملے گا۔ یہ بیمہ گورنمنٹ کی جانب سے ہورہا ہے کسی کمپنی وغیرہ کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔ بینوا توجروا
الجواب… جبکہ بیمہ صرف حکومت کرتی ہے اور ان میں اپنے نقصان کی کوئی صورت نہیں تو جائز ہے، کوئی حرج نہیں مگر شرط یہ ہے کہ اس کے سبب اس کے ذمے کسی خلاف شرع احتیاط کی پابندی نہ عائد ہوتی ہو، جیسے روزوں یا حج کی ممانعت۔ واﷲ تعالیٰ اعلم (فتاویٰ رضویہ، ج 23، ص 601، مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
ضروری تنبیہ… مذکورہ بالا دونوں جوابات میں ایک خاص نکتے کا بیان ہے جو یہ ہے کہ غیر مسلم چاہے حکومت ہو یا غیر اس سے بیمہ جائز ہے کہ غیر مسلم کا کامل قانونی اور اخلاقی طور پر کسی بھی طریقہ سے لینا جائز ہے۔ یہ ایک الگ مسئلہ ہے جس کی تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے۔
بیمہ کے مسئلہ پر شارح صحیح مسلم شریف علامہ غلام رسول سعیدی نے شرح صحیح مسلم جلد پنجم میں بڑے مفصل اور اچھوتے انداز میں مقالہ تحریر فرمایا ہے جو صفحات نمبر 846 تا 875 پر محیط ہے۔ فتاویٰ رضویہ کا مذکورہ آخری مسئلہ نمبر 4کو اپنے صفحہ نمبر 862 پر بعنوان ’’بیمہ کے متعلق اعلیٰ حضرت کا نظریہ‘‘ ذکر کیا ہے۔ نیز بیمہ کے متعلق مودودی صاحب کا موقف صفحہ نمبر 863 پر ذکر کیا ہے جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ جواب ’’انشورنس کے متعلق شرع اسلامی کی روح سے تین اسلامی اعتراضات ہیں جن کی بناء پر اسے جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا‘‘ … بے شک موجودہ زمانے میں انشورنس کی بڑی اہمیت ہے اور ساری دنیا میں اس کا چلن ہے مگر نہ اس دلیل سے کوئی حرام چیز حلال ہوسکتی ہے اور نہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے وہ سب حلال ہے۔ یا اسے اس بناء پر حلال ہونا چاہئے کہ دنیا میں اس کا چلن ہوگیا ہے۔ ایک مسلمان قوم ہونے کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم جائز وناجائز میں فرق کریں اور اپنے معاملات کو جائز طریقے سے چلانے پر اصرار کریں۔ (ترجمان القرآن اگست 1962ء رسائل و مسائل ج 3ص 312-314) (شرح صحیح مسلم ج 5،۳ 863)
جبکہ علماء مصر کے بیمہ کے متعلق موقف کو دو سال و جواب کی صورت میں نقل فرمایا ہے۔ لکھتے ہیں کہ علماء مصر سے سوال کیا گیا ایک شخص نے کسی بیمہ کمپنی سے اپنی زندگی میں عقد کیا کہ اگر وہ (اقساط پوری کرنے سے پہلے مرجائے تو) اتنی رقم اس کی اولاد کو دی جائے۔ تو اب اس کے مرنے کے بعد بیمہ کی اس رقم کو اس کی اولاد میں تقیم کرنا صحیح ہے یا نہیں‘‘
الجواب… احکام شریعہ کا تقاضا ہے کہ مذکورہ الصدر عقد، عقد شرعی نہ ہو۔ حتی کہ بیمہ کی رقم کو اس کے ورثاء میں تقسیم کرنا صحیح ہے۔ ہاں متوفی نے جتنی اقساط جمع کرادی تھیں، وہ اقساط اس کی جائز ملکیت ہیں۔ وہ تمام اقساط بیمہ کمپنی سے واپس لے کر اس کے وارثوں میں تقسیم کردی جائیں اور جمع شدہ اقساط سے جو زائد رقم بیمہ کمپنی اپنی خوشی سے محض تبرعاً اور احساناً دیتی ہے اور ورثاء بھی اسے قبول کرنے پر راضی ہوں تو شریعت میں بطور احسان اور تبرع کے کسی عطیہ کے لینے کی مخالفت نہیں ہے (الفتاویٰ اسلامیہ من دارالافتاء المصریہ، ج 4، ص 1399-1400، مطبوعہ القاہرہ 1400ھ)
اس جواب کا حاصل یہ ہے کہ بیمہ کمپنی جمع شدہ اقساط سے جوزائد رقم جو دیتی ہے اس کو تبرع اور احسان کے طور پر لینا جائز ہے اور اپنا حق سمجھ کر لینا ناجائز ہے۔ جیسا کہ آج کل بیمہ کی رقم کو جبراً وصول کیاجاتا ہے۔ اس جواب کی روشنی میں یہ طریقہ کار جائز نہیں۔ دوسرا سوال املاک کے جل جانے کے بیمہ کے بارے میں ہے، جس کے جواب کا خلاصہ یہ ہے ’’الجواب: سوال مذکور میں بیمہ کمپنیوں کا جو طریقہ کار بیان کیا گیا ہے، وہ شریعت اسلامیہ کے احکام کے مطابق نہیں ہے اور کسی شخص کے لئے اس قسم کا بیمہ کرانا جائز نہیں ہے‘‘
ان دلائل سے یہ واضح ہوگیا کہ جس عقد کے تحت بیمہ کمپنی پالیسی خریدنے والوں کو بیمہ کی رقم ادا کرتی ہے وہ عقد فاسد ہے اور احکام شریعت کے مطابق نہیں ہے۔ اس لئے زمین دکان کسی بھی چیز کا بیمہ کرانا جائز نہیں ہے … اور کسی مسلمان کو بیمہ نہیں کرانا چاہئے کیونکہ بیمہ کا عمل خطرہ پر مبنی ہے اور جس چیز کا بیمہ کرایا گیا ہے کبھی اس کو ضرر اور نقصان لاحق ہوتا ہے اور کبھی لاحق نہیں ہوتا ہے۔ سو یہ عمل معنی قمار (جوا) ہے اس لئے بھی بیمہ کرانا شرعاً جائز نہیں ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم (الفتاویٰ اسلامیہ من دارالافتاالمصریہ ج 4، ص 1403-1401، مطبوعہ القاہرہ 1400ھ، شرح صحیح مسلم شریف، ج 5،ص 862-861)
علامہ سعیدی صاحب کے اپنے موقف کا خلاصہ ہے ’’بیمہ کا موجودہ نظام اور طریقہ کار متعدد  وجوہ سے اسلامی احکام کے خلاف ہے‘‘ ’’باقی رہا بیمہ کمپنیوں کا موجودہ نظام وہ متعدد وجوہ سے ناجائز و فاسد ہے‘‘ (شرح صحیح مسلم شریف، ج 5،ص 865 اور 876)
بیمہ کے متعلق مصنف کی تحقیق اور بحث و نظر
مصنف کے نزدیک بیمہ کی اسکیم انسانی معاشرہ کے لئے مفید اور لائق عمل ہے۔ اگر بیمہ کے نظام کو شریعت اسلامیہ کے احکام کے مپطابق نافذ کیا جائے تو اس کی افادیت اور استحسان میں کوئی شبہ نہیں ہے بلکہ یہ عمل اسلامی اخوت اور مساوات کے قریب تر ہے، لیکن بیمہ کا موجودہ نظام اور طریقہ کار متعدد وجوہ سے اسلامی احکام کے خلاف ہے۔ اس لئے احکام شریعت کے مطابق اس نظام کی تطہیر اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں پہلے ہم بیمہ کے موجودہ نظام کی خرابیاں بیان کریں گے۔
بیمہ کے موجودہ نظام کے شرعی مفاسد
1…بیمہ کمپنی اپنے جمع شدہ سرمایہ کوگردش میں رکھنے کے لئے دوسرے صنعتی اور تجارتی اداروں کو سود پر قرض فراہم کرتی ہے اور سود حرام قطعی ہے۔
2… بیمہ کرانے والے کو اگر قرض لینا ہو تو بیمہ کمپنی اس کو بھی سود پر قرض دیتی ہے۔
3… بیمہ کرانے والا اگر دو یا تین قسطیں دینے کے بعد باقی اقساط ادا نہ کرے تو اس کی رقم اس کو واپس نہیں دی جاتی اور یہ ظلم اور ناجائز عمل ہے۔
4… بیمہ کمپنی مدت پوری ہونے کے بعد بیمہ کرانے والے کو اس کی اصل رقم مع سود کے لوٹاتی ہے، اور سود لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔
5… مدت پوری ہونے سے پہلے اگر کوئی محض طبعی موت مرجائے یا کسی حادثہ میں ہلاک ہوجائے تو اس کوپہلی صورت میں پوری رقم اور دوسری صورت میں دگنی رقم دی جاتی ہے۔ اب اس کو اس کی جمع شدہ اقساط سے زائد جو رقم دی جاتی ہے، اس کو اگر شرط لازم قرار دیا جائے (جیسا کہ عملاً اس طرح ہے) تو عقد صحیح نہیں ہے اگر اس کو تبرع اور احسان قرار دیا جائے تو یہ واقع کے خلاف ہے۔
6… زندگی کا بیمہ کرانے والا پانے کسی وارث کے نام بیمہ کی رقم نامزد کردیتا ہے اور وہ رقم مرنے کے بعد اس وارث کو ملتی ہے اور یہ نامزدگی وصیت ہے اور اسلام میں وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ورثاء کے حصص مقرر کردیئے ہیں اور امام دارقطنی حضرت جابر سے روایت کرتی ہیں لاوصیۃ لوارث۔ وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے (سنن دارقطنی، جلد 4، ص 179، مطبوعہ نشرالسنہ ملتان)
بیمہ کے موجودہ نظام کے لئے قابل عمل اصلاحی ترامیم
یہان تک ہم نے یہ بیان کیا ہے کہ بیمہ کے موجودہ نظام میں کیا کیا خرابیاں اور کیا نہیں ہیں۔ اس کے بعد ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ان خرابیوں کو کس طرح دور کیا جاسکتا ہے۔
1… پہلی خرابی ہم نے یہ ذکرکی تھی کہ بیمہ کمپنی اپنے سرمایہ کو گردش میں رکھنے کے لئے صنعتی اور تجارتی اداروں کو سود پر قرضہ فراہم کرتی ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ بیمہ کمپنی شرکت ومضاربت کیاصول پر اپنا سرمایہ لگائے (مقالات سعیدی میں اس پر مکمل بحث ہے)
2… بیمہ کرانے والے کو سود پر قرضہ نہ دیا جائے۔
3… جو شخص دو یا تین قسطیں جمع کراکر باقی قسطیں جمع نہ کرائے اس کی رقم واپس  کردی جائے۔ البتہ اس سے دفتری اخراجات وضع کرلئے جائیں۔
4… بیمہ کرانے والوں کو بیمہ کمپنی حصہ دار قرار دے اور ان کے سرمایہ کو حصص قرار دے کر اور ان کے حصص کا جس قدر منافع بنتا ہے، وہ ان کو دے دیا جائے البتہ کمپنی اپنا کمیشن مقرر کرکے اس کو وضع کرسکتی ہے۔
5 … بیمہ کمپنیوں کو حکومت اپنی تحویل میں لے لے اور یہ جبری قانون بنادے کہ بیمہ پالیسی پر اتنے فیصد امدادی فنڈ کی رقم کاٹی جائے گی اور اس جمع شدہ فنڈ سے ان بیمہ کرانے والوں کی مدد کی جائے گی جو کسی ناگہانی حادثہ کا شکار ہوجائیں یا کسی پالیسی کی مدت پوری کرنے سے پہلے فوت ہوجائیں، لوگوں کی فلاح و بہبودکے لئے حکومت ایسا قانون بناسکتی ہے کیونکہ امدادی فنڈ میں چندہ دینا ہرچند کہ مستحب ہے اور فی نفسہ واجب نہیں لیکن قاعدہ یہ ہے کہ امام (مسلمان حاکم وقت) اگر کسی مباح کام کا بھی حکم دے تو وہ واجب ہوجاتا ہے
(شرح صحیح مسلم، ج 5، ص 876,865، مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہور، 2001)