حضرت نظام الدین اولیاء

in Tahaffuz, August-September 2013, خان آصف

اس دن کے بعد سے قیام دہلی تک، حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ، حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کو مسلسل یاد کیاکرتے تھے۔ اس تاثر کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دہلی کے جس محلے میں آپ کا قیام تھا، وہیں حضرت شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ بھی رہا کرتے تھے۔ یہ بزرگ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کے مرید اور چھوٹے بھائی تھے۔ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے فیض روحانی نے شیخ نجیب الدین علیہ الرحمہ کو حقیقتاً ’’متوکل‘‘ بنادیاتھا۔
مشہور واقعہ ہے کہ ایک دن شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ درس پر پہنچے تو استاد نے پوچھا ’’نجیب الدین متوکل تم ہو؟‘‘
شیخ نے جواب دیا۔ ’’میں تو نجیب الدین متاکل (کھانے والا) ہوں۔ متوکل ہونا کس کے اختیار میں ہے؟‘‘
استاد نے دوسرا سوال کیا ’’تم شیخ الاسلام فریدا لدین‘‘ کے چھوٹے بھائی ہو؟‘‘
شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ نے عرض کیا ’’میں شیخ کا برادر صوری ہوں۔ برادر معنوی اﷲ جانے کون ہوگا؟
حضرت شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ کی گفتگو کا مفہوم یہ تھا کہ خاندانی اعتبار سے آپ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے بھائی تھے مگر کردار و علم کے لحاظ سے آپ ان کے بھائی کہلانے کے مستحق نہیں تھے۔ یہ حضرت شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ کا انکسار تھا ورنہ آپ خود بھی بڑے پائے کے بزرگ تھے۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ چار سال تک آپ کے پڑوس میں مقیم رہے۔ اس دوران اکثر ملاقاتیں ہوتیں اور ہر ملاقات میں حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کا ذکر ضرور ہوتا۔ نتیجتاً حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ غیر محسوس طور پر حضڑت بابا فرید علیہ الرحمہ کے زیر اثر آتے چلے گئے۔
پھر اسی دوران حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے ساتھ ایک جانگداز واقعہ پیش آیا جس نے آپ کی زندگی کا رخ یکسر بدل دیا۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کا معمول تھا کہ نیا چاند دیکھ کر خاص طور پر والدہ محترمہ کی قدم بوسی کے لئے حاضر ہوا کرتے تھے۔ ان دنوں حضرت بی بی زلیخا بیمار تھیں مگر ظاہری حالت ایسی نہیں تھی کہ دیکھنے والا ان کے سفر آخر کے بارے میں سوچ بھی سکے۔ آخر چاند نظر آیا اور حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اپنی والدہ ماجدہ کے دیدار باسعادت کے لئے حاضر ہوئے۔ مادر گرامی نے دعائیں دیں پھر کچھ دیر خاموش رہ کر فرمانے لگیں۔
’’سید محمد! آئندہ ماہ رویت ہلال کے موقع پر کس کی قدم بوسی کروگے؟‘‘
بڑا عجیب سوال تھا۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ سمجھ گئے کہ وقت رخصت قریب آپہنچا ہے۔ آپ مادر گرامی کی جدائی کے تصور سے لرز اٹھے اور زاروقطار رونے لگے۔
’’مخدومہ! آپ مجھ غریب کو کس کے سپرد کررہی ہیں؟‘‘
حضرت بی بی زلیخا نے فرمایا ’’کل تمہیں اس کا جواب دوں گی‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے دل میں کہا کہ ’’مخدومہ! آج اور اسی وقت کیوں نہیں؟ مجھ پر یہ رات بہت بھاری گزرے گی‘‘ آپ براہ راست والدہ محترمہ سے سوال کرسکتے تھے مگر یہ بات خلاف ادب تھی۔ اس لئے آپ خاموش رہے۔
کچھ دیر بعد حضرت بی بی زلیخا نے فرمایا ’’سید محمد! آج رات تم شیخ نجیب الدین کے یہاں رہو‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ بادل ناخواستہ اٹھ کر چلے گئے مگر ذہن میں ایک ہی اذیت ناک خیال مسلط تھا کہ آج رات کچھ ہونے والا ہے۔
حضرت نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ نے بہت غور سے آپ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا اور فرمایا ’’مولانا نظام الدین! آج تم خاموش بھی ہو اور اداس بھی۔ خیریت تو ہے؟‘‘
’’شیخ! آج کسی کام میںدل نہیں لگ رہا ہے‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے شکستہ لہجے میں جواب دیا۔ آپ اس اذیت ناک خیال سے پیچھا چھڑانے میں ناکام رہے تھے۔
پھر عشاء کی نماز کا وقت آیا۔ دونوں نے نماز ادا کی۔ عام طور پر عشاء کی نماز کے بعد حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اپنے گھر تشریف لے جاتے تھے… مگر آج خلاف معمول بیٹھے رہے۔
کچھ دیر بعد حضرت شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ نے پوچھا ’’آج تم گھر نہیں جائو گے؟‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ کی طرف دیکھا۔
’’خدانخواستہ تم مجھ پر بار نہیں ہو‘‘ حضرت شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ نے فرمایا۔
’’آج کئی باتیں خلاف معمول نظر آئی ہیں، اس لئے پوچھ رہا ہوں‘‘
’’والدہ محترمہ کا حکم ہے کہ میں آج کی رات آپ کے مکان پر بسر کروں‘‘
’’بسروچشم‘‘ حضرت شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ نے نہایت محبت آمیز لہجے میں فرمایا۔
’’میرا گھر، تمہارا ہی گھر ہے‘‘
کچھ دیر تک دونوں کے درمیان گفتگو ہوتی رہی مگر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ آج کسی بات میں دلچسپی نہیں لے رہے تھے۔ اس لئے حضرت شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ نے آپ کے لئے بستر کا انتظام کیا اور خود سونے چلے گئے۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کس طرح محو خواب ہوتے؟ مستقل ایک کانٹا سا کھٹک رہا تھا۔ اس کی خلش آپ کو کیسے سونے دیتی؟ نتیجتاً رات بھر جاگ کر دعائیں کرتے رہے۔
’’اے اﷲ! میرے اس سرمائے کو بچالے۔ اگر یہ لٹ گیا تو تیرا بندہ نظام الدین بہت غریب ہوجائے گا‘‘
ابھی صبح صادق کے آثار نمایاں نہیں ہوئے تھے کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ شدید بے قراری کے عالم میں اٹھے۔ دروازہ کھولا تو خادمہ سامنے کھڑی تھی۔ آپ نے مضطرب ہوکر پوچھا ’’سب خیریت تو ہے؟‘‘
’’بی بی آپ کو یاد فرما رہی ہیں‘‘ خادمہ نے عرض کیا۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے اضطراب کا یہ حال تھا کہ بھاگتے ہوئے گھر پہنچے۔ والدہ محترمہ کو بخیر و عافیت پاکر سکون کا سانس لیا۔ پھر سلام عرض کرکے بستر کے قریب ہی کھڑے ہوگئے۔
’’میرے پاس بیٹھو سید محمد! حضرت بی بی زلیخا نے فرزند کو حکم دیا۔ آپ کی آواز سے نقاہت جھلک رہی تھی مگر ایسی نقاہت نہیں تھی کہ جسے دیکھ کر مریض کی موت کا گمان ہوسکے۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ حضرت بی بی زلیخا کے پائنتی بیٹھے اور دونوں ہاتھ والدہ ماجدہ کے قدموں پر رکھ دیئے۔
’’سید محمد! کل تم نے مجھ سے کوئی سوال کیاتھا؟‘‘ حضرت بی بی زلیخا کے ہونٹوں کو جنبش ہوئی۔
’’خادم نے عرض کیا تھا کہ اس غریب کو کس کے حوالے کررہی ہو؟‘‘ شدت جذبات سے حضرت نظام الدین اولیاء کی آواز لرز رہی تھی اور آنکھوں کے گوشے بھیگ گئے تھے۔
’’آج میں تمہارے سوال کا جواب دیتی ہوں ’’حضرت بی بی زلیخا نے کہا اور چند لمحوں کے لئے خاموش ہوگئیں۔ پھر فرمایا ’’سید محمد! تمہارا دایاں ہاتھ کون سا ہے؟‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے اپنا دایاں ہاتھ والدہ محترمہ کی طرف بڑھایا۔ حضرت بی بی زلیخا نے بیٹے کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور نہایت پرسوز لہجے میں کہا ’’اے اﷲ! میں سید محمد کو تیرے سپرد کرتی ہوں۔ تیری ہی ذات عبادت کے لائق ہے اور تو ہی اپنے بندوں کا کفیل ہے‘‘ یہ کہتے ہوئے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے ہاتھ پر حضرت بی بی زلیخا کے ہاتھ کی گرفت کمزور ہونے لگی۔ یہاں تک کہ ماں کا ہاتھ بیٹے کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے گھبرا کر دیکھا۔ حضرت بی بی کلمہ شہادت کا ورد کررہی تھیں۔ آپ نے تین مرتبہ اپنے اﷲ کی وحدانیت اور سرور کونینﷺ کی رسالت پر گواہی دی اور اس طرح دنیا سے رخصت ہوگئیں جیسے باد نسیم کا کوئی جھونکا کسی چمن زار سے گزر گیا ہو۔
ایک ولی صفت اور شفیق ماں کا وصال کوئی ایسا حادثہ نہیں تھا کہ گردش وقت اس کی یادوں کو دھندلا کردیتی۔ آپ کے مرید خاص حضرت امیر حسن سنجری علیہ الرحمہ اس واقعہ کاذکر کرتے ہوئے اپنی تالیف ’’فوائد الفوائد‘‘ میں تحریر کرتے ہیں کہ جب بھی والدہ محترمہ کا ذکر آتا تو پیرومرشد کی حالت غیر ہوجاتی۔ اس قدر گریہ طاری ہوتا کہ آپ کے لئے بات کرنا بھی دشوار ہوجاتا۔ قریب بیٹھے ہوئے لوگ بھی یہ جاننے سے قاصررہتے کہ حضرت شیخ علیہ الرحمہ کیا فرما رہے ہیں؟ اس موقع پر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ ہمیشہ یہ شعر پڑھتے اور زاروقطار روتے۔
افسوس ولم کہ ہیچ تدبیر نہ کرد
شب ہائے وصال را زنجیر نہ کرد
(میرے دل افسوس کہ تونے کوئی تدبیر نہیں کی۔ وصال کی راتیں گزر گئیں اور تونے انہیں زنجیر نہیں پہنائی)
٭…٭…٭
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ پہلے ہی ایک نامعلوم اضطراب میں مبتلا تھے۔ والدہ محترمہ کے وصال کے بعد یہ اضطراب ’’وحشت‘‘ میں تبدیل ہوگیا۔ دوست اور ساتھی تسلیاں دیتے مگر آپ کی اداسی میں کوئی کمی واقع نہ ہوتی۔ زیادہ تر وقت حضرت شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ کی صحبت میں گزرتا۔ بار بار فرماتے۔
’’شیخ! میں نہیں جانتا کہ کیا ہونے والا ہے؟‘‘
حضرت نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ فرماتے ’’سید! جو کچھ ہوگا، بہتر ہوگا‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی مالی حالت بہت شکستہ تھی۔ ایک دن حضرت نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرنے لگے۔ ’’شیخ! میرے لئے دعا فرمادیں کہ میں کسی شہر کا قاضی بن جاؤں‘‘
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں