بیعت کے معنی  :  بیعت کے معنی بیچنے کے ہیں ۔درحقیقت مرید اپنی مرضی کومرشد صالح کے ہاتھ بیچ دیتاہے اسی وجہ سے اس عمل کو بیعت کہتے ہیں
مقصد بیعت  :  آقا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ دل ایک ایسے پر کی مثل ہے جسے ہوا الٹتی پلٹتی رہتی ہے ۔  (مشکوۃ کتاب الایمان بالقدر)
یعنی دل کو خواہشات کی ہوائیں یہاں سے وہاں پھیرتی رہتی ہیں تو ضروری ہے کہ کسی کا دست تو انا اس پر رکھ دیا جائے تا کہ وہ الٹنے پلٹنے سے محفوظ ہوجائے۔
دلیل  :     صحابہ کرام نے حدیبیہ کے مقام پر آپ ﷺ سے درخت کے نیچے بیعت کی تو اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوااور ارشاد فرمایا
لقد رضی اللہ عن المومنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ۔ (سورۃ الفتح ،آیت۱۸)
ترجمہ:  بے شک اللہ راضی ہوا مسلمانوں سے جب وہ تم سے بیعت کرتے ہیں درخت کے نیچے۔
اور حدیث میںہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بیعت کے وقت نہ تھے ۔حضور ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کے قائم مقام کیا اور دوسرے ہاتھ کو دست قدرت کا نائب بنایااور فرمایاـ’’یہ اللہ کا دست قدرت ہے اوریہ عثمان کا ہاتھ ہے ،تو آپ نے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھا اور بیعت کی ۔  (صحیح بخاری )
پس قرآن و حدیث سے جہاں بیعت کا ثبوت ہواوہاں ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چلا کہ بیعت کے لئے سامنے ہونا ضروری نہیں بلکہ غیر حاضری میں بھی بیعت کرنا جائز ہے ۔پیری مریدی کے اثبات میں یہ مستحکم اور قطعی اصل ہے اور وہ بنیاد ہے جسے مضبوط اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کہا جاسکتا ہے ۔اس میں کسی منکر کو انکار کی گنجائش نہیں اور آج تک کسی مجتہد نے اس سے انکار نہیں کیا اور جو بیعت سے انکار کرے وہ کم عقل اور گمراہ ہے۔
پیر کیسا ہونا چاہئے ؟
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی نے پیر کی چار شرائط بیان فرمائی ہیں ۔
۱)  سنی صحیح العقیدہ ہو۔
۲)  اتنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضروریات کے مسائل کتابوں سے نکال سکے۔
۳)  فاسق معلن نہ ہو یعنی اعلانیہ گناہ نہ کرتا ہو
۴)  اس کا سلسلہ نبی کریم ﷺ تک متصل یعنی ملا ہواہو۔   (فتاوٰی رضویہ ،  ج ۲۱،  ص ۶۰۳)
ان چاروں میں سے ایک بھی شرط نہ پائی جائے تو اس سے بیعت جائز نہیں ہے اور ایسا شخص پیر ہونے کے قابل نہیں ہے ۔اگر کسی نے ایسے شخص سے بیعت کی ہے تو اس کی بیعت صحیح نہیں اسے چاہیے کہ ایسے شخص سے بیعت کرے جس میں یہ چاروں شرطیں پائی جاتی ہوں ۔
اگر پیر نہ ہو تو؟؟؟
شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں  ’’جس کا کوئی پیر نہ ہو اس کا پیر شیطان ہے۔‘‘  ( عوارف المعارف)
امام ابو القاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب رسالہ قشیری میں بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو نقل کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیںکہ  ’’ بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس کا پیر کوئی نہ ہو اس کا پیر شیطان ہے ۔‘ ‘ (رسالۂ قشیریہ)
میر عبد الواحد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب سبع سنابل میں فرماتے ہیں کہ  ’’اے جوان تو کب تک چاہے گا کہ بغیر پیر کے رہے اس لیے کہ مہلت دینے اور ٹالتے رہنے میں مصیبت ہی مصیبت ہے ۔اگر تیرا کوئی پیر نہیں ہے توشیطان تیراپیر ہے جو دین کے راستوں میں دھوکہ اور چالوں سے ڈاکہ ڈالتا ہے ۔شیطان نے اگر چہ تیرے لیے جال لگا دیے ہیں لیکن تو اس کے دانہ اور پانی سے ذرہ برابر نہ لے اور بہت جلد کسی پیر کا ہاتھ پکڑلے ۔بغیر پیر کے مرجانامردار موت کے مانند ہے ۔اپنا وسیلہ آیہ وا بتغو ا کے ماتحت تلاش کر اور ماننے والوں سے پوچھ اور فسئلوا  کو پڑھ ۔ ہمارا سرتاپا وجود گناہ ہے اور مرید ہوجانا ہر گناہ کے لیے پناہ گاہ ۔مریدی دین و ایمان کی چار دیواری ہے اور ہر مسلمان کو اپنے دین کی فکر رہتی ہے۔‘‘   (سبع سنابل)
دیوبندیوں کاپیشوا رشید احمد گنگوہی کہتا ہے کہ ’’مرید کو یقین کے ساتھ یہ جاننا چاہیے کہ شیخ کی روح کسی خاص مقیدومحدود نہیں پس مریدجہاں بھی ہو گا خواہ قریب ہو یا بعید تو گو شیخ کے جسم سے دور ہے لیکن اس کی روحانیت سے دور نہیں ‘‘  (امداد السلوک ،ص ۶۷ ،مولف رشید گنگوہی ،ادارۂ اسلامیات)
ذرا غور کریں ایسے ایسے جید عالموں اور خود دیوبندیوں کا امام کہتاہے کہ پیر کے بغیر ہمارا ایمان نہیں بچ سکتا اور اسکی روح سے مرید کو فیض پہنچتا رہتا ہے۔تو پتہ چلا مرشد کا دست مرید کے سر پر ہونا ضروری ہے۔
سب سے افضل سلسلہ کونسا ہے؟؟؟
بزرگان دیں اور علمائے کرام فرماتے ہیں کہ مرید ہونے کے لیے سب سے افضل سلسلہ حضور پُرنورسرکار غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا ہے جو قادری کہلاتا ہے اور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا فرمان جس کو امام ابوالحسن الشطنوفی الشافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب بہجۃ الاسرار میں نقل کیاکہ ’’غوث اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا کوئی مرید بغیر توبہ کیے نہیں مرے گا ۔اور میرے مرید اور ان کے مریدوں کے مرید سات پشت تک جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘
اس نشانی کے جو سگ ہیں نہیں مارے جاتے
حشر تک میرے گلے میں رہے پٹہ تیرا
اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ’’حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا مرتبہ بہت اعلی و افضل ہے ۔غوث اپنے دور میں تمام اولیاء کاسردار ہوتا ہے ۔لیکن حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ حضرت امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ کے بعد سے سیدنا امام مہدی رضی اللہ عنہ کی تشریف آوری تک تمام عالم کے غوث اور سب غوثوں کے غوث ہیں اور سب اولیاء اللہ کے سردار ہیں اوران سب کی گردن پر ان کا قدم ہے۔  (فتاوٰی رضویہ،جلد ۲۶،ص۵۵۸)
علماء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی چشتی ،سہروردی یا نقشبندی وغیرہ سلسلے سے تعلق رکھتا ہے اور وہ قادری ہونا چاہتا ہے تو ایسا ہے کہ وہ ادنیٰ سے اعلی کی طرف جارہا ہے لیکن وہ اپنے پیرصاحب کی بیعت نہیں توڑے گا کیونکہ کامل پیر کی بیعت توڑنا جائز نہیں ہے بلکہ وہ کسی قادری پیر سے فیض حاصل کرنے کے لیے طالب ہوگا اور یہ طریقہ جائز ہے۔
پیر۔۔۔۔یا۔۔۔۔شیطان؟؟؟
یاد رکھئیے!  پیر وہی ہے جو شریعت کا تابعدارہو۔مصطفی کریم ﷺ نے کبھی بھی بیعت کے وقت کسی اجنبی عورت کا ہاتھ اپنے دستِ اقدس میں نہ لیا ۔ آج کل پیروں کو دیکھیں:
۱)  عورتوں کے ماتھوں کو ،ہاتھوں کو چھوتے رہتے ہیں ۔
۲)  ہاتھوں میں ایک سے زائد انگوٹھیاں پہنتے ہیں ۔
۳)  اپنے بالوں کو شانوں سے بھی لمبا کرتے ہیں۔
۴)  نمازکی بالکل پرواہ نہیں کرتے ۔
ایسے پیرہرگز ہرگز قابل بیعت نہیں نہ ان کی ارادت جائز اور نہ ہی ان سے فیض کا حصول ،جو اَیسوں کے پاس اپنی عورتوں کو بھیجے وہ حدیث کے مطابق دیُّوث (بے غیرت)ہے۔
ہم نے آپ کے سامنے پیری مریدی کی شرعی حیثیت رکھ دی اور فیصلہ آپ کے ضمیر پر چھوڑدیا۔

واللہ یھدی لمن یشاء الی صراط مستقیم

    ٭٭٭