تفسیرسورۃ العلق
سورۃ العلق مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں 19 آیات ہیں۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
اﷲ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ہے)
’’پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا۔ پڑھو! اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم، جس نے قلم سے لکھنا سکھایا، آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا۔ ہاں ہاں! بے شک آدمی سرکشی کرتا ہے، اس پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا، بے شک تمہارے رب ہی کی طرف پھرنا ہے۔
بھلا دیکھو تو جو منع کرتا ہے بندے کو جب وہ نما زپڑھے۔ بھلا دیکھو تو اگر وہ ہدایت پر ہوتا یا پرہیزگاری بتاتا تو کیا خوب تھا۔ بھلا دیکھو تو اگر جھٹلایا اور منہ پھیرا تو کیا حال ہوگا۔ کیا نہ جانا کہ اﷲ دیکھ رہا ہے۔
ہں ہاں! اگر باز نہ آیا تو ضرور ہم پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے۔ کیسی پیشانی؟ جھوٹی، خطاکار۔ اب پکارے اپنی مجلس کو، ابھی ہم سپاہیوں کو بلاتے ہیں۔ ہاں ہاں! اس کی نہ سنو، اور سجدہ کرو اور ہم سے قریب ہوجائو‘‘ (کنزالایمان)
لفظی ترجمہ

img1
اس آیت کی تلاوت کرنے یا سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہے
ربط و مناسبت
سورۃ التین سے اس سورت کا گہرا ربط و تعلق ہے۔ سورۃ التین میں انسان کو احسن تقویم میں پیدا کرنے کا ذکر تھا، اس سورت میں انسان کو احسن تقویم کے سانچے پر قائم رکھنے کے لئے راہ ہدایت بتائی گئی ہے جس کا پہلا مرحلہ علم کا حصول ہے۔
سورۃ التین میں انسان کی صورت کی تشکیل کا ذکر تھا۔ یہاں اس کی مادی تخلیق کا بیان ہے۔ سابقہ سورت میں انسان کا بہترین ساخت میں پیدا کرنا بیان ہوا، اس سورت میں انسان کی جمے ہوئے خون سے پیدائش کا ذکر کیا گیا۔
سابقہ سورت میں انسان کا اشرف المخلوقات اور جامع الکمالات ہونا مذکور تھا، یہاں انسان کی حقیقت بیان ہوئی کہ خون کی پھٹکی سے پیدا ہوا مگر علوم الٰہیہ نے اسے جامع الکمالات اور اشرف المخلوقات بنادیا۔
سورۃ التین میں جھٹلانے والوں کی مذمت کی گئی اور انہیں اسفل سافلین میں پہنچنے کی وعید سنائی گئی جبکہ اس سورت میں جھٹلانے والوں کے سردار ابوجہل کے تکبر اور اس کی ناپاک حرکتوں کا تذکرہ ہے جن کی بناء پر وہ اسفل السافلین کا مستحق ہوا۔
شان نزول
اس سورت کے دو حصے ہیں۔ اس کی پہلی پانچ آیات سے رسول معظمﷺ پر نزول وحی کا آغاز ہوا جبکہ چھٹی آیت سے آخر تک آیات اس وقت نازل ہوئیں، جب حضور اکرمﷺ نے حرم کعبہ میں نماز پڑھنا شروع کی اور ابوجہل نے آپ کو دھمکیاں دے کر اس سے روکنے کی ناپاک کوشش کی۔
جمہور مفسرین کے نزدیک نبی کریمﷺ پر پہلی وحی کے طور پر سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیات نازل ہوئیں، البتہ جو مکمل سورت آپﷺ پر سب سے پہلے نازل ہوئی، وہ سورۂ فاتحہ ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں، رسول معظمﷺ پر وحی کی ابتداء سچے خوابوں کی صورت میں ہوئی۔ آپﷺ جو خواب دیکھتے، بالکل ویسے ہی واقعہ رونما ہوجاتا۔ پھر حضورﷺ کے دل میں خلوت نشین ہونے کا شوق پیدا ہوگیا۔ آپﷺ غار حرا جاکر تنہائی میں اپنے رب کی عبادت کرنے لگے۔ آپﷺ کھانے پینے کا ضروری سامان ساتھ لے جاتے اور کئی کئی راتیں وہاں عبادت میں مصروف رہتے۔
اسی دوران آپﷺ پر وحی نازل ہوئی۔ جبریل علیہ السلام آئے اور عرض کیا اقرا پڑھیئے۔ حضور نے فرمایا ’’ما انا بقاری‘‘ میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ حضرت جبرئیل نے آپ کو اپنے سینے سے لگا کر نہایت زور سے دبایا، پھر چھوڑ کر کہا پڑھیئے۔ آپ نے وہی جواب دیا۔ تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ پھر جبریل علیہ السلام نے کہا۔
اقراء باسم ربک الذی خلق خلق الانسان من علق اقراء وربک الاکرم الذی علم بالقلم، علم الانسان مالم یعلم
’’پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیداکیا، آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا۔ پڑھو! اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم (ہے)، جس نے قلم سے لکھنا سکھایا، آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا‘‘
حضورﷺ نے یہ پانچ آیات تلاوت فرمادیں۔ اس واقعہ سے آپ پر خوف طاری ہوگیا۔ گھر لوٹے تو بدن پر کپکپی طاری تھی۔ آپ نے حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا سے فرمایا۔ مجھے چادر اوڑھادو۔ انہوں نے چادر اوڑھادی۔ جب خوف دور ہوگیا تو آپﷺ نے حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہ کو سارا واقعہ سنادیا اور فرمایا: مجھے تو اپنی جان کا اندیشہ ہے۔
اس پر حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہ نے عرض کی، ہرگز نہیں! اﷲ تعالیٰ کی قسم! اﷲ تعالیٰ آپ کو ہرگز شرمندہ نہیں ہونے دے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، محتاجوں کو مال دیتے ہیں، مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔
پھر حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو انجیل کو عربی میںلکھتے تھے۔ وہ بہت بوڑھے تھے اور ان کی بینائی ختم ہوچکی تھی۔ حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا نے کہا، اے چچا زاد! اپنے بھتیجے کی بات سنو۔
حضورﷺ نے سارا واقعہ سنادیا تو ورقہ نے کہا: آپ پر وہی فرشتہ نازل ہوا ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوتا تھا۔ کاش میں اس وقت جوان ہوتا۔ کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو وطن سے نکال دے گی۔
حضورﷺ نے فرمایا۔ کیا میری قوم مجھے یہاں سے نکال دے گی؟ ورقہ نے کہا، ہاں! جب بھی کوئی آپ جیسا پیغام لے کر آیا، اسے تکلیفیں دی گئیں۔ اگر میں اس وقت زندہ ہوا تو آپ کی بھرپور مدد کروں گا (بخاری)
حدیث کے چند نکات
پہلے سچے خوابوں کے ذریعے حضورﷺ کے دل میں علوم غیبیہ القاء کئے جاتے رہے پھر تنہائی کی محبت پیدا کی گئی تاکہ آپ کا قلب اطہر دنیاوی معاملات اور تفکرات سے خالی ہو اور آپ اپنے رب کی طرف یکسوئی سے متوجہ رہیں۔
اﷲ تعالیٰ نے حضورﷺ کے قلب انور میں اپنی معرفت کا جو نور القاء کیا تھا، آپﷺ غار حرا میں اس کے مطابق عبادت کیا کرتے، حتی کہ آپ کو بیداری میں عالم ملکوت کامشاہدہ ہونے لگا۔ اسی بناء پر آپ نے جبریل علیہ السلام کو دیکھتے ہی پہچان لیا۔
جس طرح ہم انسانوں اور جانوروں کے درمیان فرق کرلیتے ہیں اسی طرح اﷲ تعالیٰ ہر نبی کو ایسی صفت عطا فرماتا ہے جس کی بناء پر وہ فرشتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں نیز فرشتوں اور شیطانوں کے درمیان امتیاز کرلیتے ہیں۔
وحی کے نزول کے بعد حضورﷺ پر خوف اور گھبراہٹ طاری ہونا اور یہ فرمانا کہ ’’مجھے اپنی جان کا اندیشہ ہے‘‘ یہ کسی شبہ کی وجہ سے نہیں تھا۔ غور طلب بات ہے کہ جب حضورﷺ نے جبریل علیہ السلام کو پہچان لیا اور وحی نازل ہوچکی اور آپ نے وحی کا کلام اﷲ ہونا یقین کرلیاتو کیا پھر بھی آپﷺ کو اپنے نبی ہونے میں شک ہوسکتا تھا؟ ہرگز نہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ خوف نبوت و رسالت کی ذمہ داری کے عظیم ہونے کے باعث تھا کہ کہیں فرائض نبوت و رسالت کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔
امام نووی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ نے فرمایا:
’’نبی کریمﷺ کے خوف کی وجہ یہ نہیں تھی کہ آپﷺ کو اس کلام کے وحی الٰہی ہونے میں کوئی شک تھا۔ بلکہ آپ کو یہ خوف تھا کہ اس عظیم ذمہ داری کو ادا کرنے میں آپ سے کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے یا ایسا نہ ہو کہ آپ وحی الٰہی کے تقاضوں کو پورا نہ کرسکیں‘‘ اسی لئے حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا نے آپﷺ کو یہ جواب دیا۔
کلا واﷲ لایخزیک اﷲ ابداً ’’ہرگز نہیں۔ اﷲ تعالیٰ کی قسم! اﷲ تعالیٰ آپ کو کبھی شرمندہ نہیں ہونے دے گا یا آپ کو کبھی ناکام نہیں ہونے دے گا‘‘
وحی کی اقسام
وحی کے لغوی معنی ہیں ’’خفیہ طریقے سے خبر دینا‘‘ اسی بناء پر الہام کو بھی وحی کہا جاتا ہے۔ محدث علی قاری علیہ الرحمہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں۔
وحی کا اصطلاحی معنی یہ ہے کہ یہ اﷲ تعالیٰ کا کلام ہے جو قلب نبوی سے واصل ہوتا ہے۔ پس جس کلام کے الفاظ اور معانی دونوں نازل ہوئے اور یہ نزول جبریل علیہ السلام کے ذریعے سے ہوا، وہ قرآن کریم ہے۔ اور جس کلام کو حضورﷺ پر صرف معناً نازل کیا گیا اور اس کلام کو آپ نے اپنے الفاظ میں بیان فرمایا، وہ حدیث نبوی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
وما کان لبشر ان یکلمہ اﷲ الا وحیاً او من ورآی حجاب او یرسل رسولاً فیوحی باذنہ مایشآء
’’اور کسی آدمی کے لائق نہیں کہ ﷲ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر ، یا یوں کہ وہ بشر پردۂ عظمت کے ادھر ہو (کہ متکلم کو دیکھتا نہ ہو) یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے‘‘ (الشوریٰ: ۵۱)
قرآن و احادیث کی روشنی میں وحی کی چند اقسام درج ذیل ہیں۔
٭ حضورﷺ کا کلام قدیم  سننا جیسے موسیٰ علیہ السلام نے کلام قدیم سنا۔
٭ مقرب فرشتے کے ذریعے وحی نازل ہونا
٭ دل میں کسی بات کاالہام کیا جانا (خواب میں ہو یا بیداری میں)
٭ گھنٹی (جرس)کی آواز کی صورت میں وحی کا نازل ہونا
٭ خواب میں اﷲ تعالیٰ کا حضورﷺ سے کلام فرمانا، جیسا کہ ترمذی میں حدیث ہے۔
٭ بیداری میں اﷲ تعالیٰ کا حضورﷺ سے کلام فرمانا، جیسا کہ شب معراج میں ہوا۔
٭ حضرت جبریل علیہ السلام کا کسی صحابی یا اعرابی کی صورت میں آکر کلام کرنا
٭ جبریل علیہ السلام کا اصل شکل میں آنا، جیسے وہ چھ سو پروں کے ساتھ آئے۔
٭ حضور اکرمﷺ کو خواب میں کوئی واقعہ دکھایا جانا، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کررہے ہیں۔
اعلان سے قبل نبوت
صدر الشریعہ علامہ محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
’’نبوت کسبی نہیں کہ آدمی عبادت و ریاضت کے ذریعہ سے حاصل کرسکے، بلکہ محض عطائے الٰہی ہے کہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے دیتا ہے۔ ہاں! دیتا اسی کو ہے جسے اسے منصب عظیم کے قابل بناتا ہے‘‘ (بہار شریعت)
ارشاد باری تعالیٰ ہوا (اﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ)
’’اﷲ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے‘‘ (الانعام: ۱۲۴)
ہر نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے اور عارف الٰہی ہوتا ہے۔ البتہ وہ اپنی نبوت کا اعلان رب تعالیٰ کے حکم سے کرتا ہے، خواہ وہ بچپن ہی میں اعلان کرے جیسا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے کیا، یا چالیس سال کی عمر میں اعلان فرمائے جیسا کہ حضور رحمت عالمﷺ کو حکم دیاگیا۔
یاایھا المدثر o قم فانذر o
’’اے چادر اوڑھنے والے! کھڑے ہوجائو پھر ڈر سنائو‘‘ (المدثر: ۱‘۲)
ہمارے آقا کریمﷺ کو بچپن ہی سے رب تعالیٰ کی سب سے زیادہ معرفت حاصل تھی۔ آپﷺ جب پیدا ہوئے توآپ نے سجدہ کیا (مواہب الدنیہ، الخصائص الکبریٰ)
سیدہ آمنہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں، میں نے دیکھا کہ ولادت کے بعد آپ نے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے ہوئے تھے اور سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا ہوا تھا (ایضاً)
نبی کریمﷺ کے خصائص میں سے یہ بھی ہے کہ آپ نے پیدا ہوتے ہی کلام فرمایا اور آپ کا پہلا کلام یہ تھا۔ اﷲ اکبر کبیراً والحمدﷲ کثیراً (الخصائص الکبریٰ)
قرآن کریم میں ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو پیدا ہوتے ہی نبوت کا منصب عطاء ہوا اور آپ نے ارشاد فرمایا۔
انی عبداﷲ اتنیٰ الکتبٰ وجعلنی نبیاً
’’بیشک میں ہوں اﷲ کا بندہ، اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں دینے والا (نبی) کیا‘‘ (مریم: ۳۰، کنزالایمان)
قرآن کریم میں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو جب ان کے بھائیوں نے کنوئیں میں ڈالا تو اﷲ تعالیٰ نے ان پر وحی فرمائی، اس وقت ان کی عمر سات یا بارہ سال تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر بھی بچپن میں وحی نازل ہوئی (مدارج النبوۃ)
ایمان و عقل کا تقاضا یہی ہے کہ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام کو پیدا ہوتے ہی نبوت ملے اور یحییٰ علیہ السلام و دیگر بھی بچپن ہی میں نبوت سے سرفراز کئے جائیں تو آقا ومولیٰﷺ، امام الانبیاء اور افضل الرسل ہونے کی وجہ سے زیادہ حقدار ہیں کہ پیدا ہوتے ہی منصب پر فائز ہوں۔ عظیم مفسر علامہ آلوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔
جب حضرت یحییٰ علیہ السلام کو نہایت کم عمر میں اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کو پیدا ہوتے ہی نبوت مل سکتی ہے تو رسول معظمﷺ کوپیدائش کے وقت نبوت سے کیونکر محروم ہوسکتے ہیں، جبکہ آپﷺ اﷲ کے محبوب ہیںاور آپﷺ ہی کے صدقے میں اﷲ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو نبوت عطا فرمائی ہے (تفسیر روح المعانی)
متعدد احادیث اس بات پر شاہد ہیں کہ بچپن میں رسول کریمﷺ کا شق صدر کیا گیا۔ خود حضورﷺ نے شق صدر کے واقعہ کو اپنی نبوت کی نشانی سمجھا اور اسے اپنی نبوت کی دلیل قرار دیا۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی۔ یارسول اﷲﷺ آپ کو کیسے علم ہوا کہ آپ اﷲ کے نبی ہیں؟
حضورﷺ نے فرمایا۔ اے ابوذر! میں مکہ میں تھا۔ میرے پاس دو فرشتے آئے۔ ایک زمین پر آگیا اور دوسرا فضا میں رہا۔ ایک نے پوچھا، کیا یہ وہی ہیں؟ دوسرے نے کہا، ہاں۔ اس نے کہا، ان کا ایک مرد کے ساتھ وزن کرو۔ جب وزن کیا گیا تو میں غالب رہا۔ پھر اس نے کہا، ان کا دس مردوں کے ساتھ وزن کرو۔ جب وزن کیا گیا تو میں پھر غالب رہا۔ پھر اس کے کہنی پر میرا سو اور پھر ہزار مردوں کے ساتھ وزن کیا گیا تو میں ان پر بھی غالب رہا۔
پھر ایک فرشتے نے کہا، ان کا سینہ شق کرو۔ چنانچہ میرا سینہ چاک کیا گیا اور میرے دل کو نکال گیا پھر اس میں سے سیاہ خون کا لوتھڑا نکال دیا گیا۔ پھر ایک نے کہا، ان کا سینہ سی دو۔ تو انہوں نے میرا سینہ سی دیا۔ پھر انہوں نے میرے کندھوں کے درمیان مہر نبوت کو رکھ دیا۔ میں یہ تمام واقعہ دیکھ رہا تھا۔ (مسند احمد سنن دارمی، دلائل النبوۃ لابی نعیم)
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں