کیوں نالہ سوز سے کروں کیوں خونِ دل پیوں
سیخ کباب ہوں نہ میں جامِ شراب ہوں
حل لغات:۔نالہ (فارسی ، مذکر)فریاد ، رونا ۔ سوز(فارسی ، مذکر)جلن ، دکھ ، رنج ، غم ، ملامت ، یہاں غم رنج وغیرہ مراد ہے۔ خونِ دل پیوں ، غم میں گھٹنا ، رنج اُٹھانا۔ سیخ (فارسی ، مؤنث)کباب بنانے والی گول اور لمبی لوہے کی سلاخ یا سینک ۔ نہ وصیلہ ہے جسے قبل وما بعد دونوں سے تعلق ہے۔
شرح:۔رنج و الم سے فریا د کیوں کروں اور کیوں خواہ مخواہ غم میں گھٹوں اور رنج اُٹھاؤں اس لئے کہ میں نہ کباب کی سیخ ہوں کہ آگ میں جلوں سڑوں اور نہ میں شراب کا پیالہ ہوں کہ ہر وقت گردش میں رہوں میں غلامِ احمد مختار ہوں(صلی اللہ علیہ وسلم) جس غلام کا آقا عظیم الشان اور جلیل القدر ہو اسے کاہے کا ڈر اور کاہے کاخوف اس لئے کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے سے ہماری زیادہ فکر ہے ۔
دنیا میں تشریف آوری کے وقت:۔احادیث میں ہے کہ جب حضورسرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس خاکدانِ عالم میں اپنے قدوم میمنت لزوم سے رونق افروز فرمایا تب بھی تمہارا ہی خیال رہا اور جنابِ باری میں سجدہ کیا اور تمہاری مغفرت کی دعا مانگی ’’یَا رَبّ أُمَّتِی أُمَّتِی ‘‘اے رب میری امت کو بخش دے میری امت کو بخش دے ۔ پھر زندگی بھر امت کی بخشش اور مغفرت کے لئے نہ صرف دعائیں مانگیں بلکہ بڑی ریاضتیں کیں اور مشقتیں اُٹھائیں جن کی تفصیل کتب سیر میں مشہور و معروف ہے۔
برزخ:۔جب اس دارفانی سے عالم جاودانی کی طرف تشریف فرما ہوئے تب بھی تمہارا ہی خیال رہا جب مزارِ اقدس میں اتارے گئے اس وقت بھی تمہارا ہی خیال تھا اور تمہاری یاد میں لب ہائے مبارک ہلتے پائے گئے ۔ حضرت عبداللہ ابن عباس وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کان لگا کر سنا کہ آپ آہستہ آہستہ فرمارہے ہیں ’’یَا رَبّ أُمَّتِی أُمَّتِی ‘‘ اے رب میری امت گنہگار کو بخش دے ، میری امت گنہگار کو بخش دے۔
شب معراج:۔جب مرتبہ ’’قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی ‘‘ کو(کہ وہ مقام ماسوی اللہ سب کو فراموش کرنے کا ہے )پہنچے تب بھی تمہیں نہ بھولے اور دعا وسلام یاد رکھا اور ’’السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ‘‘فرمایا ۔ صالحین امت کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے روبرو ظاہر فرمایا اور ہم گنہگارانِ امت کو اپنے دامن رحمت یعنی ضمیر جمع متکلم میں چھپایا ۔
دارِ آخرت:۔انس ابن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عر ض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن آپ میری شفاعت فرمائیں ۔ فرمایا میں شفاعت کرنے والا ہوں عرض کی اُس روز آپ کو کہاں تلاش کروں؟فرمایا پل صراط پر ، عرض کی اگر وہاں نہ پاؤں تو کہاں ڈھونڈوں فرمایا میزان پر ، عرض کیا اگر وہاں بھی نہ پاؤں تو کہاں تلاش کروں؟ فرمایا حوضِ کوثر پر کہ ان تینوں جگہوں سے کہیں نہ جاؤں گا۔
فائدہ:۔تخصیص ان مواقع کی اس وجہ سے فرمائی گئی کہ یہی تین جگہ قیامت کے دن گنہگارانِ امت پر زیادہ مصیبت کی ہوں گی انہی جگہوں پر زیادہ رنج و غم درد والم گھیریں گے ۔ پل صراط پر اس لئے تشریف فرماہوں گے کہ امت کی دستگیری فرما کر پار لگائیں دوزخ سے نجات دلائیں ، حوضِ کوثر پر اس لئے کھڑے ہوں گے کہ امت کے تشنہ لبوں کو جامِ کوثر پلا کر سیراب فرمائیں ، میزان پر اس لئے کھڑے ہوں گے کہ امت کے اعمال اپنے روبرو تلوائیں اگر کسی کی بُرائیاں غالب آئیں شفاعت فرما کر اُسے بخشوائیں ۔ جب مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قبر میں اُتارا اور حضورا کرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلوئے مبارک میں سلایا بے اختیار چیخ ماری ۔ لوگوں نے سبب اس کا پوچھا فرمایا میں نے وہ دیکھا جو تم کو نظر نہ آیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ابوبکر کی قبر پر تشریف فرما ہیں اور فرمارہے ہیں الٰہی میری امت کے بوڑھوں کو صدقے ابوبکر کے بخش دے ۔ قیامت کے دن عمامہ مبارک رُخ انور سے جدا فرمائیں گے اور سجدہ میں جا کرجنابِ باری میں عرض کریں گے’’یَا رَبّ أُمَّتِی أُمَّتِی ‘‘اے رب میری امت کو بخش دے ۔ قربان جایئے ایسے شفیق امت کے کہ جن کو دنیا و برزخ وآخرت ہر جگہ ہر دم و ہر لحظہ اپنی امت ہی کا خیال اور انہی کی یاد ہے۔
(صلی اللہ علیہ وآلہٖ واصحابہٖ وبارک وسلم)
دل بستہ بے قرار جگر چاک اشک بار
غنچہ ہوں گل ہوں برق تپاں ہوں سحاب ہوں
حل لغات:۔چاک ، کٹا ہوا یا پھٹا ہوا۔ اشکبار ، آنسو بہانے والے ، رونے والے ۔ سحاب (بالفتح عربی مذکر)بادل ، بدلی گھٹا۔
شرح:۔دل بستہ ، بے قرار ، جگر پھٹا ہوا ، آنسو بہانے والا ہوں ، غنچہ ہوں ، گل ہوں ، بجلی سوز اں اور بادل ہوں ۔ عشق حبیب صلی اللہ علیہ وسلم میں میراحال یہی ہے جو مذکور ہوا اسی لئے مجھے بجائے خوف کے فخر وناز ہے اس لئے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ قیمتی جوہر ہے جس پر جتنا ناز کیا جائے کم ہے۔
یہ شعر لف نشر مرتب ہے دل بستہ (غنچہ)بے قرار گل ، جگر چاک ، برق تپاں ، اشک بار سحاب۔
اس شعر میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا درس دیا ہے کہ امتی پر لازم ہے کہ ہروقت عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار رہے۔
اطاعت ہی درحقیقت عشق ہے:۔افسوس ہے کہ منکرین کمالات مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو شرک کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور صرف اطاعت کو دین سمجھتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اطاعت ہی عشق کا نام ہے اس میں شک نہیں خالق کائنات نے قدم قدم پر حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و محبت کو ضرور ی اور واجب قرار دیا ہے ۔ یہ سب بے مقصد اور بے معنی نہیں بلکہ انسانی دنیا میں اس کے بے پناہ خوش کن نتائج اور حیات آفرین ثمرات کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ سیاسی وسماجی ، دنیاوی وآخروی ، دینی واخلاقی تمام کامرانیاں اسی میں مضمر وپوشیدہ ہیں ۔ اس سلسلے میں قرآن و حدیث ، عقل ونقل اور انسانی تجربات کے بے شمار تاریخی شواہد دستیاب ہیں ۔ جذبۂ عشق واطاعت کو ابھارنے کے لئے چند قرآنی ارشادات پیش ہیں۔
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہ وَ یَخْشَ اللّٰہَ وَ یَتَّقْہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفَآئِزُوْنَ o(پارہ ۱۸،سورۂ نور، آیت۵۲)
اور جو حکم مانے اللہ اور اس کے رسول کا اور اللہ سے ڈرے اور پرہیزگاری کرے تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔
اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَاط وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ o
(پارہ ۱۸، سورۂ نور،آیت ۵۱)
مسلمانوں کی بات تو یہی ہے جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیںکہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے تو عرض کریں ہم نے سنااور حکم مانا اور یہی لوگ مراد کو پہنچے۔
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا o
(پارہ ۲۲، سورۂ الاحزاب، آیت ۷۱)
اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَاط وَ ذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیْمُo(پارہ ۴، سورۂ النسائ، آیت ۱۳)
اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اُسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ اُن میں رہیں گے اور یہی ہے بڑی کامیابی۔
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْط وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ o(پارہ ۳، سورۂ آل عمران،آیت ۳۱)
اے محبوب تم فرما دو کہ لوگواگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گااور تمہارے گناہ بخش دے گااور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓیِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّہَدَآء ِ وَ الصّٰلِحِیْنَط وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا o
(پار ہ ۵، سورۂ النسائ، آیت۶۹)
اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْط وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ o(پارہ۳، سورۂ آل عمران،آیت ۳۱)
اے محبوب تم فرمادوکہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش د ے گااور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًاo(پارہ۲۱،سورۂ الاحزاب، آیت ۲۱)
بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لئے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہوا ور اللہ کو بہت یاد کرے۔
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَ اَزْوَاجُہٓ اُمَّہٰتُہُمْ ۔
(پارہ۲۱،سورۂ الاحزاب، آیت ۶)
یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے اوراس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں۔
فائدہ:۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ دین ودنیا کے ہر امر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کو اپنی جانوں سے زیادہ پیارے ہیں۔ اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی امر کی طرف بلاتے اور ان کے نفوس کسی دوسرے امر کی طرف بلائیں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری لازم ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس امر کی طرف بلاتے ہیں اس میں ان کی نجات ہے اور ان کے نفوس جس امر کی طر ف بلاتے ہیں اس میں ان کی تباہی ہے۔ اس لئے واجب ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کو اپنی جانوں سے زیادہ محبوب ہوں وہ اپنی جانیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا کردیں اور جس چیز کی طرف آپ بلائیں اس کا اتباع کریں۔
حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت میں فرماتے ہیں ’’جو شخص یہ نہ سمجھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی میری جان کے مالک ہیں اور یہ نہ سمجھا کہ تمام حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولایت (حکم وتصرف)نافذ ہے اس نے کسی حال میں آپ کی سنت کی حلاوت نہیں چکھی کیونکہ آپ اولیٰ بالمومنین ہیں‘‘
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم:۔اس معیار پر بھی سرفہرست صحابہ کرام ہیں۔
(۱)جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کا وقت قریب ہوا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن میں کتنے کپڑے تھے ، حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کس دن ہوئی ؟اس سوال کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی آرزو تھی کہ کفن ویومِ وفات میں بھی حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موافقت نصیب ہو۔ حیات میں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع تھا ہی وہ ممات میں بھی آپ ہی کا اتباع چاہتے تھے ۔ اللہ اللہ یہ شوقِ اتباع کیوں نہ ہو صدیق اکبر تھے۔رضی اللہ تعالیٰ عنہ
(۲)حضرت صدیق اکبر فرماتے ہیں کہ جس امر پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمل کرتے تھے میں اُسے کئے بغیر نہیں چھوڑتا۔ اگر میں آپ کے حال سے کسی امر کو چھوڑ دوں تو مجھے ڈر ہے کہ میں سنت سے منحرف ہوجاؤں گا۔
(۳)زید کے باپ اسلم سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو دیکھا کہ انہوں نے حجراسود کو بوسہ دیا اور (اس کی طرف نگاہ کرکے)فرمایا اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھ کو بوسہ نہ دیتا۔(بخاری کتاب المناسک)
(۴)حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی آپ نے اس کو نکال کر پھینک دیا اور فرمایا کیا تم میں سے کوئی چاہتا ہے کہ آگ کا انگارہ اپنے ہاتھ میں ڈالے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا کہ تو اپنی انگوٹھی اُٹھالے اور (بیچ کر)اس سے فائدہ اُٹھا ۔ اس نے جواب دیا نہیں اللہ کی قسم میں اُسے کبھی نہ لوں گا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے پھینک دیا ہے۔(مشکوٰۃ بحوالہ صحیح مسلم باب الخاتم)
(۵)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گزر ایک جماعت پر ہوا جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری رکھی تھی ۔انہوں نے آپ کو بلایا آپ نے کھانے سے انکار کیا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رحلت فرماگئے اور جوکی روٹی پیٹ بھر کر نہ کھائی۔(مشکوٰۃ بحوالہ صحیح بخاری باب فضل الفقراء )
(۶)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آٹے کی بھوسی کبھی صاف نہ کی جاتی تھی (بخاری کتاب الاطعمہ)
ابن سعد نے بروایت ابو اسحق روایت کیا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بن چھانے آٹے کی روٹی کھاتے دیکھا ہے اس لئے میرے واسطے آٹا نہ چھانا جائے۔
(طبقات ابن سعد جزاول ، قسم ثانی صفحہ ۱۰۹)
(۷)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو دیکھا گیا کہ اپنی اونٹنی ایک مکان کے گرد پھرا رہے ہیں اس کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا کہ میں نہیں جانتا مگر اتنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے اس لئے میں نے بھی کیا۔
(امام احمد وبزار)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام امورِ عادیہ میں بھی حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا اقتداء کیا کرتے تھے۔

٭٭٭٭٭٭

نوٹ :۔ ان اشعار کی شرح حضو ر فیض ملت کی کتاب ’’الحقائق فی الحدائق المعروف شرح حدائق بخشش ‘‘جلد چہارم سے لی گئی ہے۔