اقامت کے وقت امام و مقتدی کب کھڑے ہوں

in Tahaffuz, August-September 2013, ابو اسامہ ظفر القادری بکھروی

نحمدہ و نصلی و نسلم علی رسولہ الکریم!
اقامت کے وقت کب کھڑا ہوا جائے؟
فقہاء احناف نے اقامت میں کھڑا ہونے کے بارے میں تین صورتیں بیان کی ہیں ان کا جاننا ضروری ہے، تاکہ محل اختلاف متعین ہوجائے۔
1۔ اول یہ کہ امام وقت اقامت جانب محراب سے مسجد میں آئے۔
2۔ دوسرا یہ کہ امام پیچھے یا اطراف مسجد سے آئے۔
3۔ تیسرا یہ کہ امام و مقتدی وقت اقامت مسجد میں موجود ہوں۔
پہلی دو صورتوں میں ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہے، لیکن تیسری صورت میں ہمارا اختلاف ہے۔
تیسری صورت جس میں امام و مقتدی مسجد میں موجود ہوں تو اس کا حکم یہ ہے کہ ’’حی علی الصلوٰۃ یا حی علی الفلاح‘‘ پر کھڑا ہونا امام اور مقتدی کے لئے مستحب ہے اور اس سے پہلے کھڑا ہونا مکروہ ہے۔ اس کے متعلق فقہاء احناف صراحتاً بیان کرتے ہیں۔
1… علامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی (المتوفی 557ھ) لکھتے ہیں۔
ولجملۃ فیہ ان الموذن اذا قال حی الفلاح فان کان الامام معھم فی المسجد یستحب للقوم ان یقوموا فی الصف
خلاصہ کلام یہ ہے کہ امام قوم کے ساتھ مسجد میں ہو تو امام و مقتدی سب کو صف میں اس وقت کھڑا ہونا مستحب ہے جو موذن حی علی الفلاح کہے (بدائع الصنائع 200/1 طبع مصر)
2… ’’تنویر الابصار‘‘ میں ہے:
’’والقیام لامام وموتم حین قیل حی الفلاح ان کان الامام بقرب المحراب‘‘
ترجمہ: یعنی جب امام محراب کے قریب ہو تو امام اور قوم حی علی الفلاح پر کھڑے ہوں گے (تنویر الابصار برحاشیہ شامی 354/1 طبع کوئٹہ)
3… علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ ’’فتاویٰ شامی‘‘ میں لکھتے ہیں۔
کذا فی (۳) الکنز (۴)ونور الایضاح (۵) والاصلاح (۶) والظہیریہ (۷) والبدائع وغیرہا والذی فی (۸) الدررمتنا و شرحا عند حیعلۃ الاولیٰ یعنی حین یقال حی الصلاۃ اہ وعزاہ الشیخ اسماعیل فی شرحہ الیٰ (۹) عیون المذاہب (۱۰) والفیض (۱۱) والوقایۃ (۱۲) والنقایۃ (۱۳) والحاوی (۱۴) والمختاراہ قلت وعتمدہ فی متن (۱۵) الملتقی وحکی الاول بقیل لٰکن نقل ابن الکمال لصحیح الاول ونص عبارتہ قال فی (۱۶) الذخیرۃ یقوم الامام والقوم اذا قال الموذن حی الفلاح عند علمائنا الثلاثہ
ترجمہ: یعنی ایسا ہی کنزالدقائق، نور الایضاح، اصلاح، ظہیریہ اور بدائع وغیرہ میں ہے اور ’’الدرر‘‘ کے متن اور شرح میں ہے کہ ’’حی الصلوٰۃ‘‘ پر قیام کیا جائے۔ الشیخ اسماعیل نے اپنی شرح ’’عیون المذاہب‘‘ فیض، وقایہ، نقایہ، حاوی اور مختار میں نقل کیا: میں (ابن عابدین شامی) کہتا ہوں کہ ملتقی کے متن میں اسی کو بیان کیا گیا ہے اور ابن کمال نے بھی اسی کو صحیح قرار دیا ہے اور ذخیرہ میں کہا گیا ہے کہ امام اور مقتدی حضرات جب موذن حی الفلاح کہے اس وقت کھڑے ہوں۔ علماء ثلاثہ (امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد رحمہم اﷲ عنہم) کے نزدیک۔
(ردالمحتار شامی ۲/۱۷۷ کتاب الصلوٰۃ طبع الریاض)
علامہ شامی علیہ الرحمہ نے اس عبارت میں (۱۴) مستند کتابوں کا حوالہ پیش کیا کہ حی علی الصلوٰۃ یا حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا چاہئے۔ اسی طرح:
(۱۷) تبیین الحقائق ۱/۱۰۸ (۱۸) درر شرح غررا  ۱/۸۰ (۱۹) عمدۃ القاری شرح بخاری ۸/۲۱۱ (۲۰) شرح مسلم نووی ۱/۲۲۱ (۲۱) فتح الباری شرح بخاری ۲/۱۲۰ (۲۲) کرمانی شرح بخاری ۵/۳۲ طبع بیروت (۲۳) ارشاد الساری شرح بخاری ۲/۱۳۱ (۲۴) بحر الرائق ۳/۲۰۸ (۲۵) ملتقی الابحرا ۱/۲۶۹ (۲۶) مجمع الانہرا ۱/۷۸ (۲۷) محیط البرہانی ۲/۱۷ (۲۸) فتاویٰ ہندیہ المعروف فتاویٰ عالمگیری ۱/۵۷ طبع کوئٹہ میں ہے:
یقول الامام والقوم اذا قال الموذن حی الفلاح عند علمائنا الثلاثہ ہو الصحیح
ترجمہ: یعنی ہمارے تینوں اماموں کے نزدیک امام اور مقتدی اس وقت کھڑے ہوں گے جب موذن ’’حی علی الفلاح‘‘ کہے اور یہی صحیح ہے۔
مذکورہ بالا کتب میں صراحتاً یہ بات موجود ہے کہ ’’حنفیہ‘‘ کا مذہب یہ ہے کہ اقامت کے وقت ’’حی علی الصلوٰۃ یاحی علی الفلاح‘‘ پر کھڑا ہونا مستحب ہے۔
اقامت میں امام و مقتدی کا ’’حی الصلوٰۃ‘‘
سے پہلے کھڑا ہونا کیسا ہے؟
ملا نظام الدین متوفی ۱۱۶۱ھ نے فتاویٰ عالمگیری میں جو فقہ حنفی میں مستند ور متفق علیہ فتاویٰ ہے، نے لکھا:
ویکرہ الانتظار قائما ولٰکن یقعد ثم یقوم اذا بلغ الموذن قولہ حی الفلاح کذا فی المضمرات
ترجمہ: اور کھڑے ہوکر انتظار کرنا مکروہ ہے لیکن بیٹھ جائے پھر کھڑا ہو جب موذن اپنے حی الفلاح پر پہنچے (فتاویٰ عالمگیری ۱/۵۷ کتاب الصلوٰۃ طبع کوئٹہ)
۲… علامہ سید احمد طحطاوی حنفی فرماتے ہیں۔
واذا اخذ الموذن فی الاقامۃ ودخل رجل المسجد فانہ یقعد ولا ینتظر قائما فانہ مکروہ کما فی المضرات قہستانی ویفہم منہ کراہۃ القیام ابتداء الاقامۃ والناس عنہا غافلون
ترجمہ: اور جب موذن نے اقامت شروع کی اور کوئی شخص مسجد میں داخل ہوا تو وہ بیٹھ جائے، کھڑے ہوکر انتظار نہ کرے کیونکہ یہ مکروہ ہے جیسا کہ قھستانی کی مضمرات میں ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے اقامت میں کھڑا ہونا مکروہ ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں۔
(حاشیہ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح ۱/۱۸۶ طبع مصر)
لہذا لوگوں کو اس غفلت سے نکل کر اپنے امام کے مذہب پر عمل کرنا چاہئے۔
حضورﷺ اور صحابہ و تابعین رضی اﷲ عنہم کا عمل واقوال
اس مسئلہ میں حدیث وآثار کافی تعداد میں موجود ہیں چند ایک ملاحظہ فرمائیں۔
(۱) حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔
اذا اقیمت الصلوٰۃ فلا تقومواحتی ترونی
ترجمہ: جب اقامت کہی جائے کھڑے نہ ہو حتی کہ مجھے نکلتاہوا دیکھو
(۱) صحیح بخاری باب یقوم الناس ۱/۱۶۴ رقم ۶۳۸ (۲) صحیح مسلم ۲/۱۰۱ رقم ۱۳۹۵ (۳) جامع ترمذی ۱/۶۵۱ رقم ۵۱۷ (۴) سنن ابو دائود / ۱۴۸ رقم ۵۳۹ (۵) سنن نسائی ۲/۳۱ رقم ۶۸۷ (۶) صحیح ابن حبان ۵/۵۱ رقم ۱۷۵۵ (۷) فتح الباری شرح بخاری ۲/۱۲۰ (۸) مسند احمد ۵/۳۰۴ رقم ۲۲۶۲۰ (۹) صحیح ابن خزیمہ ۳/۱۴ رقم ۱۵۲۶ (۱۰) مسند الطیالسی ۱/۵۰۸ رقم ۶۲۳ (۱۱) مستخرج ابی عوانہ ۲/۹ (رقم ۱۰۴۸) (۱۲) سنن الدارمی ۱/۳۲۳ رقم ۱۲۶۲ (۱۳) مصنف ابن ابی شیبہ  ۱/۴۰۵ رقم ۴۱۱۶ (۱۴) مصنف عبدالرزاق ۱/۵۰۴ رقم ۹۳۲ (۱۵) معجم ابن العرابی ۲/۴۳۰ رقم ۹۲۹ (۱۶) الاوسط ابن المنذرا ۱/۱۶۹ رقم ۱۹۲۳
۲… امام بزار اپنی ’’مسند‘‘ میں، امام ابوالقاسم الطبرانی اپنی ’’معجم‘‘ میں، ’’امام بیہقی اپنی‘‘ سنن الکبریٰ‘‘ میں، محدث سیمویہ اپنی کتاب میں سیدنا عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
کان رسول اﷲﷺ اذا قال بلال قد قامت الصلوٰۃ نہض فکبر
ترجمہ: جب حضرت بلال رضی اﷲ عنہ اقامت میں ’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘ کہنے لگتے تو رسول اﷲﷺ اٹھ کھڑے ہوتے پھر اﷲ اکبر کہتے۔
(۱) المسند البزار ۸/۲۹۸ مسند عبداﷲ بن ابی اوفیٰ طبع مدینہ منورہ (۲) مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ۲/۱۰۶ طبع دارالفکر بیروت (۳) میزان الاعتدال ۱/۴۶۴ (۴) کنزالعمال ۷/۵۴ رقم الحدیث ۱۷۹۲۲ طبع حلب (۵) سنن الکبریٰ بیہقی ۲/۲۲ طبع دکن (۶) سوالات ابن الجنید لابی ذکریا یحیی بن معین ۱/۴۳۴ رقم ۷۹۶ (۷) تحفۃ الاحوذی ۲/۱۲۹ (۸) الشمائل الشریفۃ للسیوطی ۱/۸۰ رقم ۲۹۳ (۹) الاوسط لابن المنذر ۶/۱۷۴ رقم ۱۹۲۷
اکابر علماء دیوبند میں مولوی اشرف علی تھانوی اور ان کے خلیفہ ظفر احمد عثمانی نے اس حدیث کے بارے میں لکھا ’’وہو حدیث حسن الاسناد‘‘ (اعلاء السنن ۴/۳۲۶ طبع کراچی)
۳… امام عبدالرزاق اپنی اسناد کے ساتھ حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ عنہا سے روایت فرماتے ہیں۔
عبدالرزاق عن ابن التیمی عن الصلب عن علقمۃ عن امہ عن ام حبیبۃ ان رسول اﷲﷺ کان فی بیتہا فسمع الموذن فقال کما یقول فلما قال حی علی الصلوٰۃ نھض رسول اﷲﷺ الی الصلوٰۃ
ترجمہ: حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ عنہا فرماتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ گھر میں تھے، موذن نے اقامت کہی، جب اس نے (حی الصلوٰۃ) کہا تو رسول اﷲﷺ اس وقت نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے
(۱) مصنف عبدالرزاق ۱/۴۸۱ رقم ۱۸۵۱ طبع بیروت (۲) معجم الکبیر اللطرابی ۲۳/۲۴۴ رقم ۴۸۵ (۳) جامع الاحادیث ۴۰/۲۳۴ رقم ۴۳۵۴۳ (۴) کنزالعمال ۸/۳۶۲ رقم ۲۳۲۷۳
۴۔ امام حسین رضی اﷲ عنہ کا عمل
ا… امام عبدالرزاق اپنی سند سے نقل کرتے ہیں:
فاقام الموذن بالصلوٰۃ فلما قال قد قامت الصلوٰۃ قام حسین
ترجمہ: موذن نے نماز کے لئے اقامت کہی تو جب وہ ’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘ کہنے لگا تو حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوگئے (۱) مصنف عبدالرزاق ۱/۵۵۰ رقم ۱۹۳۷ (۲) اخبار مکۃ للفاکھی ۲/۷۲ رقم ۱۱۷۲)
ب… امام بیہقی ’’سنن الکبریٰ‘‘ میں لکھتے ہیں:
وعن الحسین بن علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ انہ کان یفعل ذلک وہو قول عطاء والحسن
ترجمہ: اور حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ بھی ایسا ہی کرتے تھے اور یہی قول عطاء اور حسن کا ہے (جیسا حضرت انس رضی اﷲ عنہ کے بارے میں پہلے لکھا ہے، یعنی قد قامت الصلوٰۃ پر کھڑے ہوتے) (سنن الکبریٰ للبیہقی ۲/۲۰ تحت رقم ۲۳۸۰)
۵۔ حضرت انس رضی اﷲ عنہ کا عمل
۱… امام بیہقی لکھتے ہیں:
وروینا عن انس بن مالک رضی اﷲ عنہ انہ اذا قیل قد قامت الصلوٰۃ وثب فقام
ترجمہ: ہم نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا۔ آپ کا معمول یہ تھا کہ جس وقت ’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘ کہا جانے لگا تو آپ تیزی سے کھڑے ہوجاتے (سنن الکبریٰ للبیہقی ۲/۲۰ تحت رقم ۲۳۸۰)
۲… محدث (ابن المنذر) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
عن انس انہ کان یقوم اذا قال الموذن قد قامت الصلوٰۃ
ترجمہ: حضرت انس رضی اﷲ عنہ اس وقت کھڑے ہوتے جب موذن قد قامت الصلوٰۃ کہنے لگتا۔
(۱) فتح الباری شرح بخاری ۲/۱۲۰ تحت حدیث ۶۱۱ طبع بیروت (۲) تحفۃ الاحوذی ۳/۱۶۵ (۳) کمال المعلم شرح صحیح مسلم للقاضی عیاض ۲/۳۱۰ (۴) نیل الاوطار ۳/۲۳۴ (۵) شرح الزرقانی علی موطا امام مالک ۱/۲۱۴ (۶) عون المعبود وحاشہ ابن القیم ۲/۱۷۳ (۷) الثمر المستطاب للالبانی ۱/۲۳۱ (۸) الفقہ الاسلامی وادلتہ للزحیلی ۱/۶۳۴ (۹) سبل السلام ۱/۱۳۰ (۱۰) بستان الاخبار للابن تیمیۃ ۲/۱۰۱ تحت حدیث ۱۴۲۹ (۱۱) شرح البلوغ للعبدالرزاق الصنعانی ۱/۵۴)
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ کی تاکید
۶۔ امام عبدالرزاق الصنعانی لکھتے ہیں:
ترجمہ: حضرت عطیہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ کے پاس بیٹھے تھے جونہی موذن نے اقامت کہنا شروع کی ہم اٹھ کھڑے ہوئے تو حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا بیٹھ جائو پس جب موذن قد قامت الصلوٰۃ کہنے لگے تب کھڑے ہونا (مصنف عبدالرزاق ۱/۵۰۶ رقم ۱۹۴۰)
اصحاب عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کا معمول
۷۔ امام ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ بیٹھ کر اقامت سننے اور ’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘ کے نزدیک کھڑا ہونے کا مسئلہ بیان کرکے لکھتے ہیں:
ترجمہ: امام سعید بن مسعود نے بطریق ابی اسحاق عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے اصحاب سے ایسا ہی روایت کیا ہے (فتح الباری ۲/۱۲۰ تحت حدیث ۶۱۱ طبع بیروت)
صحابہ و اکابرتابعین کا مذہب
۸۔ ترجمہ: معاویہ ابن قرۃ کہتے ہیں (صحابہ و تابعین) اسے مکروہ جانتے تھے کہ موذن کے اقامت شروع کرتے ہی آدمی نماز کے لئے اٹھ کھڑا ہو (مصنف عبدالرزاق ۱/۴۸۰ رقم ۱۸۵۰ طبع بیروت)
تابعی حضرت ابو اسحاق علیہ الرحمہ کا عمل
۹۔ ترجمہ: حضرت معمر علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میں ابو اسحاق علیہ الرحمہ کے پاس آیا۔ وہ مسجد کے پڑوسی تھے، وہ گھر سے جماعت میں شمولیت کے لئے اس وقت تک نہ نکلتے جب تک اقامت نہ سن لیتے نیز فرمایا کہ میں نے (تابعین میں سے) اور بھی بہت سے لوگوں کو دیکھا جو ایسا ہی کرتے تھے (مصنف عبدالرزاق ۱/۵۰۵ رقم ۱۹۳۵ طبع بیروت)
مشہور تابعی حضرت عطاء رضی اﷲ عنہ کا فتویٰ و عمل
۱۰: ابن جریح کہتے ہیںکہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا لوگ کہتے ہیںکہ جب موذن ’’قدقامت الصلوٰۃ‘‘ کہنے لگے لوگوں کو اس وقت کھڑا ہونا چاہئے فرمایا، ہاں درست ہے۔ (مصنف عبدالرزاق ۱/۵۰۵ رقم ۱۹۳۶ طبع بیروت)
ب۔ امام بیہقی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
ترجمہ: حضرت حسین بن علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ آپ بھی ایسا ہی کرتے تھے (جیسا روایت بالا میں حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے منقول ہوا ہے) اور امام عطاء کا بھی یہی قول ہے (سنن الکبریٰ للبیہقی ۲/۲۰ تحت حدیث ۲۳۸۰ طبع حیدرآباد انڈیا)
امام حسن بصری علیہ الرحمہ کے اقوال و اعمال
۱۱۔ امام ابوبکر بن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں۔
ترجمہ: امام حسن بصری علیہ الرحمہ امام کے کھڑے ہونے کو مکروہ سمجھتے تھے جبکہ موذن قد قامت الصلوٰۃ نہ کہنے لگے (مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۴۰۶ رقم ۴۱۲۲)
ب۔ اسی طرح مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۴۰۵ رقم ۴۱۱۳ میں ہے۔
ج۔ امام بیہقی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں۔
ترجمہ: حضرت حسین بن علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ آپ بھی ایسا ہی کرتے تھے (جیسا روایت بالا میں حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے منقول ہوا ہے) اور امام عطاء کا بھی یہی قول ہے۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی ۲/۲۰ تحت حدیث ۲۳۸۰ طبع حیدرآباد انڈیا)
خلیفہ راشد و اول، تابعی، امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز علیہ الرحمہ کا فرمان
۱۲۔ ترجمہ: ابو عبید علیہ الرحمہ فرماتے ہیں مقام (حناصرہ) میں، میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز علیہ الرحمہ سے سنا جس وقت موذن ’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘ کہتا تو فرماتے کھڑے ہوجائو نماز قائم ہوگی (مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۴۰۶ رقم ۴۱۲۱)
ب۔ ترجمہ: یعنی حضرت عمر بن عبدالعزیز علیہ الرحمہ نے مسجدوں میں آدمی بھیجے (اور یہ فرمان جاری کیا) کہ جس وقت قد قامت الصلوٰۃ کہا جائے تو نماز کے لئے کھڑے ہوجایا کرو (مصنف عبدالرزاق ۱/۵۰۶ رقم ۱۹۳۹ طبع بیروت)
حضرت ابراہیم نخعی علیہ الرحمہ کا عمل
۱۳۔ترجمہ: حضرت ابراہیم نخعی علیہ الرحمہ کا معمول تھا کہ موذن جب حی الصلوٰۃ کہتا آپ اس وقت کھڑے ہوتے (مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۴۰۵ رقم ۴۴۱۴)
ب۔ ترجمہ: حضرت ابراہیم علیہ الرحمہ نے فرمایا جب موذن (اقامت کہتے ہوئے) حی الفلاح کہے تو نمازی صفوں میں کھڑے ہوجائیں (کتاب الآثار لابی یوسف ص ۱۹، رقم ۸۹ طبع بیروت)
ج۔ ترجمہ: حضرت ابراہیم نخعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں جب موذن (اقامت میں) حی الفلاح کہے تو اس وقت چاہئے کہ لوگ کھڑے ہوجائیں پھر صفیں درست کریں۔
(کتاب الآثار امام محمد ۱/۱۰۷ رقم ۳۶۳ طبع بیروت، جامع المسانید للخوارزمی ۱/۴۳۴ طبع فیصل آباد)
تابعی جلیل امام الفقہاء امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کا مذہب
۱۴… امام ابراہیم نخعی علیہ الرحمہ کی روایت بالا کے متصلاً بعد، امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت علیہ الرحمہ کا مذہب بیان کرتے ہوئے امام محمد بن حسن الشیبانی لکھتے ہیں۔
ترجمہ: اور یہی (جو امام ابراہیم نخعی علیہ الرحمہ کا ہے) ہمارا مذہب ہے اور یہی امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کا قول ہے اور اگر امام موذن کے اقامت سے فارغ ہونے کا انتظار کرے گا پھر اس کے بعد اﷲ اکبر کہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہ سب درست ہے (کتاب الآثار امام محمد ۱/۱۰۷ رقم ۶۳، جامع المسانید للخوارزمی ۱/۴۳۴، موطا امام محمد مترجم ص ۸۷ طبع لاہور)
امام ابو عیسٰی ترمذی علیہ الرحمہ کا اعلان حق
امام ابو عیسٰی ترمذی علیہ الرحمہ علماء صحابہ کرام اور دیگر لوگوں کا مذہب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ترجمہ: اہل علم صحابہ کرام اور تابعین کی ایک جماعت نے کھڑے ہوکر امام کی انتظار کو مکروہ کہا ہے بعض علماء فرماتے ہیں کہ جب امام مسجد میں ہی ہو اور تکبیر کہی جائے تو لوگ قد قامت الصلوٰۃ پر کھڑے ہوں یہ عبداﷲ بن مبارک کا قول ہے (۱) جامع ترمذی ۱/۷۳۱ تحت رقم ۵۹۲ طبع بیروت (۲) مستخرج الطوسی علی جامع الترمذی ۳/۱۹۲ (۳) مسند الصحابۃ فی الکتب التسعۃ ۳۵/۴۶۶ (۴) الثمر المستطاب فی فقہ السنۃ والکتاب ۱/۳۳۰ (۵) الاختیارات الفقیہۃ للترمذی ۱/۲۸۹)
علامہ انور شاہ کشمیری دیوبندی کا اعتراف حق
علامہ انورشاہ کشمیری دیوبندی اپنی کتاب (فیض الباری شرح بخاری) میں اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
ترجمہ: کچھ احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام اقامت پوری ہونے کے بعد نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے اور کچھ حدیثوں سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ درمیان اقامت میں (حی علی الصلوٰۃ) پر کھڑے ہوا کرتے تھے اور ہماری کتابوں میں بھی ایسا ہی لکھا ہے (فیض الباری شرح بخاری باب متی یقوم الناس ۲/۱۹ طبع انڈیا)
مفتی عزیز الرحمن مفتی دارالعلوم دیوبند کااعتراف حق
اقامت کے متعلق ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں۔
نمازکے آداب میں سے فقہاء نے لکھا ہے کہ حی علی الفلاح کے وقت سب کھڑے ہوجائیں لیکن ظاہر ہے کہ اگر پہلے سے مقتدی کھڑے ہوجائیں تو کوئی محل اعتراض نہیں ہے کیونکہ ترک استحباب اور ترک آداب پر کچھ طعن نہیں ہوسکتا۔ البتہ بہتر یہی ہے جیسا کہ فقہاء نے لکھا ہے اور در مختار میں بھی یہی لکھا ہے اور اگر امام آگے کی طرف سے یعنی سامنے کی طرف سے آوے جس وقت امام پر نظر پڑے، مقتدی کھڑے ہوجائیں۔ بہرحال اس میں ہر طرح وسعت ہے مگر اتباع تصریحات فقئا کا اولیٰ و افضل ہے (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ۲/۷۹ مفتی عزیز الرحمن طبع مکتبہ امدادیہ ملتان)
مفتی فرید دیوبندی اکوڑہ خٹک کا اعتراف حق
مفتی فرید صاحب سے وقت اقامت حی علی الصلوٰۃ پر کھڑے ہونے کے بارے میں سوال ہوا تو جواب میں لکھتے ہیں (حی الصلوٰۃ پڑھنے کے وقت قیام کرنا ادب اور افضل ہے الخ)
(فتاویٰ فریدیہ المعروف فتاویٰ دیوبند پاکستان مفتی اعظم مفتی فرید جامع دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک ۲/۱۸۸ طبع صوابی پاکستان)
مفتی محمد شفیع مفتی دارالعلوم دیوبند کا اعتراف حق
مفتی محمد شفیع دیوبندی سے بھی اقامت کے بارے میں حی علی الصلوٰۃ کے وقت کھڑے ہونے کے بارے میں سوال ہوا تو جواباً لکھتے ہیں (جس وقت تکبیر پڑھنے والا حی الصلوٰۃ پر پہنچے اس وقت مقتدیوں کو کھڑا ہونا چاہئے… الخ
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند المعروف امداد المفتین کامل ۲/۲۹۲ طبع دارالاشاعت کراچی)
احسن نانوتوی دیوبندی کا اعتراف حق
احسن نانوتوی صاحب لکھتے ہیں (اور مستحب ہے کھڑا ہونا امام اور مقتدی کو جبکہ تکبیر میں حی علی الفلاح کہا جائے (غایۃ الاوطار ۲/۲۴۲ طبع کراچی)
سید امیر علی دیوبندی کا اعتراف حق
سید امیر علی دیوبندی لکھتے ہیں (اگر موذن امام کے سوا کوئی اور ہو اور نمازی مع امام کے مسجد کے اندر ہوں تو موذن جس وقت امامت میں حی علی الفلاح کہے اس وقت ہمارے تینوں علماء کے نزدیک امام اور مقتدی کھڑے ہوجاویں یہ وہی صحیح ہے (فتاویٰ عالمگیری مترجم ترجمہ سید امیر علی ۱/۸۹ طبع دارالاشاعت کراچی)
فقہاء نے اقامت میں پہلے کھڑے ہونے کو
جس وجہ سے مکروہ فرمایا
امام بخاری علیہ الرحمہ اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو قتادۃ رضی اﷲ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں
ترجمہ: جب اقامت کہی جائے کھڑے نہ ہو ،حتیٰ کہ مجھے نکلتا ہوا دیکھو۔
(۱) صحیح بخاری باب یقوم الناس ۱/۱۶۴ رقم ۶۳۸ (۲) صحیح مسلم ۲/۱۰۱ رقم ۱۳۹۵ (۳) جامع ترمذی ۱/ ۶۵۱ رقم ۵۱۷ (۴) سنن ابو دائود ۱/۱۴۸ رقم ۵۳۹ (۵) سنن نسائی ۲/۳۱ رقم ۶۸۷ (۶) صحیح ابن حبان ۵/۵۱ رقم ۱۷۵۵(۷) فتح الباری شرح بخاری ۲/۱۲۰ (۸)  مسند احمد ۵/۳۰۴ رقم ۲۲۶۴۰ (۹) صحیح ابن خزیمہ ۳/۱۴ رقم ۱۵۲۶ (۱۰) مسند الطیالسی ۱/۵۰۸ رقم ۶۲۳ (۱۱) مستخرج ابی عوانہ ۲/۹ رقم ۱۰۴۸ (۱۲) سنن الدارمی ۱/۳۲۳ رقم ۱۲۶۲ (۱۳) مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۴۰۵ رقم ۴۱۱۶ (۱۴) مصنف عبدالرزاق ۱/۵۰۴ رقم ۹۳۲ (۱۵) معجم ابن الاعرابی ۲/۴۳۰ رقم ۹۲۹ (۱۶) الاوسط ابن المنذرا ۱/۱۶۹ رقم ۱۹۲۳)
حجرہ شریف سے مسجد میں حضورﷺ کی تشریف آوری سے پہلے صحابہ کرام کے شروع اقامت میں کھڑے ہوجانے کی وجہ سے منع فرمایا۔ آپﷺ کو ناگوار گزرا کہ صحابہ میرے آنے سے پہلے کھڑے ہوں چنانچہ امام بیہقی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں
ترجمہ: قرین تحقیق یہ ہے کہ لوگ (بوقت اقامت) نبی پاکﷺ کی مسجد میں تشریف آوری سے پہلے ہی اٹھ کھڑے ہوتے اور حضورﷺ سے پہلے ہی اپنے کھڑے ہونے کی جگہ سنبھال لیتے۔ تب آپ ان پر تخفیف کرتے ہوئے انہیں حکم دیا کہ (جس وقت اقامت شروع ہو تو) وہ فورا ہی نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہوں، تاوقتیکہ حضورﷺ کو تشریف لاتے ہوئے نہ دیکھ لیں۔ امام حافظ احمد بن حجر عسقلانی نے (فتح الباری ۲/۱۲۰) امام حافظ بدر الدین عینی نے (عمدۃ القاری ۵/۱۵۳) امام نووی نے (شرح صحیح مسلم ۱/۲۲۰) قاضی شوکانی نے (نیل الاوطار ۲/۲۳۴) اور خلیل احمد انبیٹھوی دیوبندی نے (بذل المجہود ۱/۳۰۷) نے حدیث ابی قتادۃ کی شرح کرتے ہوئے امام بیہقی ہی والی بات لکھی ہے۔
یہ واقعہ ایک دو بار کا ہے
امام المحدثین قاضی عیاض مالکی، امام بدرالدین عینی، امام محی الدین نووی علیہ الرحمہ، شمس الحق عظیم آبادی غیر مقلد نے کہا کہ صحابہ کا آغاز اقامت میں کھڑا ہوجانے کا عمل ایک بار یا دو بار ہوا، دیکھئے (عمدۃ القاری ۵/۱۵۳، شرح صحیح مسلم نووی ۱/۲۲۰، عون المعبود ۱/۲۱۲)
جب نبی ﷺ نے اقامت میں پہلے کھڑے ہونے کو منع فرمایا جس وجہ سے فقہاء مکروہ فرماتے ہیں تو پھر علماء دیوبند اور غیر مقلدین کا شروع اقامت میں کھڑا ہونا کیا معنی رکھتا ہے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کی منسوخ روایت پیش کرنا صرف ضد ہی نہیں تو اور کیا ہے؟
ایک شبہ اور اس کا ازالہ
بعض لوگ صفیں درست کرنے کا بہانہ بناکر آغاز اقامت ہی میں کھڑے ہوجاتے ہیں، کہتے ہیں کہ اگر اقامت بیٹھ کر سنیں تو صفیں درست کرنے کی سنت ہم کب ادا کریں؟
ان کی خدمت میں جواباً عرض ہے کہ صحیحین وغیرہا کی احادیث مرفوعہ۔ نیز صحابہ کے عمل سے صاف ظاہر ہے کہ سب مقتدین آخر اقامت میں صفیں درست کا اہتمام فرماتے تھے، جب صفیں درست ہوجاتیں، تو پھر اﷲ اکبر کہہ کر نماز شروع فرماتے، یہ بات متعدد احادیث میں موجود ہے لہذا اتباع سنت کا تقاضا یہی ہے کہ اقامت بیٹھ کر ہی سنی جائے اور امام و مقتدی (حی علی الصلوٰۃ) پر یکبارگی کھڑے ہونا شروع کردیں اور (قد قامت الصلوٰۃ) پر مکمل کھڑے ہوجائیں۔ اگر صفیں درست نہ ہوں تو اس وقت صفیں بھی درست کرلی جائیں تاکہ صفیں درست کرنے کی اہم سنت بھی سنت نبوی، سنت خلفاء راشدین صحابہ کرام کے عمل کے مطابق انجام پائے اور جب صفیں درست ہوجائیں تو امام اﷲ اکبر کہہ کر نمازکا آغاز کردے تاکہ سب کام سنت کے مطابق پورے ہوجائیں۔ فقہاء نے چونکہ اقامت کھڑے ہوکر سننے کو مکروہ کہا ہے جیسا کہ نبیﷺ اور صحابہ کرام سے پہلے کھڑے ہوکر اقامت سننا منع فرمانا ثابت ہے لہذا یہ کم از کم خلاف سنت ضرور ہے لہذا مستحب پر عمل کرکے اور اتباع سنت اپنا کر ثواب حاصل کریں۔ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ حق واضح ہونے کے بعد اس کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین