ملازمت سے متعلق اسلامی تعلیمات اور تحقیق رضاعلیہ الرحمہ

in Tahaffuz, August-September 2013

ملازم اور نوکر کو اجیر خاص بھی کہتے ہیں۔ ان ملازمین کا وقت بکا ہوتا ہے، یعنی اس میں ملازم پیشہ لوگ جو ایک خاص وقت میں کسی کے ہاں ملازمت یا نوکری کرتے ہیں، اس مقرر کئے گئے وقت میں وہ صرف اس شخص کے لئے خاص ہوکر کام کرتے ہیں۔ اس خاص وقت میں اس ہی ادارے کے ملازم ہیں اور جو وقت مالک کی طرف سے مقرر ہے، ان میں ان کی حاضری لازمی ہے۔ مثلا صبح سے شام تک کی نوکری ہے تو یہ اس وقت تک ادارے کے اندر ہی موجود رہیں گے۔ اس وقت میں ان ملازمین کو وہی کام کرنا ہوتا ہے جس کے لئے وہ مقرر ہیں اور ان کو اپنا ذاتی کام کرنا جائز نہیں کیونکہ وہ مقررہ وقت میں کسی کے ملازم ہیں۔ ملازمین جتنے گھنٹے کام کرتے ہیں، اس وقت کے حساب سے اتنی تنخواہ واجب ہوتی ہے۔ ملازمین کاوقت مقررہ پر حاضر ہونا ضروری ہوتا ہے جس سے ان کی تنخواہ واجب ہوجاتی ہے۔
مولانا احمد رضا علیہ الرحمہ نے اجیر خاص سے متعلق تمام مسائل کو واضح انداز سے بیان کیا۔ آپ فرماتے ہیں ’’مدرسوں، اسکولوں، کالجوں میں پڑھانے والے اساتذہ اجیر خاص ہیں۔ ان کے لئے لازم ہے کہ وہ وقت مقررہ پر حاضر ہوں۔ اگر یہ لوگ وقت مقررہ پر حاضر ہوتے ہیں تو وہ اجرت کے مستحق ہوں گے۔ ملازمین تسلیم نفس میں کمی کرتے ہیں مثلا بغیر بتائے چھٹیوں پر چلا جائے تو اس حساب سے اس کی تنخواہ کی کٹوتی ہوگی چونکہ ان ملازمین کا وقت بکا ہوتا ہے۔
مولانا احمد رضا علیہ الرحمہ نے قرآن پاک، دینی وعظ، ختم قرآن، میلاد شریف پر اجرت لینے کے لئے جواز کی صورتیں بیان کیں۔ ان عبادات پر مثلا میلاد شریف، امامت، دعا پر اجرت، ختم قرآن پر ہدیہ ان دینی امور پر اجرت لینا مطلقاً حرام ہے۔ تعلیم قرآن پاک اور امامت پر اجرت کو علماء متاخرین نے مجبوری کی بناء پر جائز قرار دیا کیونکہ معاش کی فکر سے لوگ دینی امور اور دینی تعلیم سے دور ہوجائیں گے اور دینی تحفظ خطرے میں پڑنے کا اندیشہ تھا۔ اس وجہ سے عام مصالح کے پیش نظر یہ جائز قرار دیا گیا۔ مگر پھر بھی لوگ ان دینی امور پر اجرت لینے کو جائز نہیں سمجھتے۔ اگر وہ پہلے سے اپنی تنخواہ مقرر کربھی لیں، اس صورت میں بھی ان پر اعتراض کیاجاتا ہے۔ اگر لوگ اپنی خوشی سے ہدیہ دیں، تب بھی ان کے لینے کو معیوب سمجھاجاتا تھا۔ مولانا احمد رضا علیہ الرحمہ نے ان دونوں صورتوں کو جائز قرار دیتے ہوئے بیان کیا ہے۔
قرآن پاک کی تعلیم دینے والوں کو لوگ اگر اپنی خوشی سے ہدیہ دیں وہ تو لینا ان کے لئے حلال ہے۔ اگر قرآن پاک کی تعلیم دینے والے اپنی تنخواہ مقرر کرلیں تب یہ تنخواہ کا تقاضا بھی ان کے لئے جائز ہے اور یہ آمدنی ان کے لئے حلال اور پاکیزہ ہے جو لوگ اس آمدنی کو جائز نہیں سمجھتے اور اعتراضات کرتے ہیں، وہ لوگ قرآن و حدیث کے احکامات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ مدرسوں میں پڑھانے والے اساتذہ اپنے لئے ماہوار مقرر کرلیں تو یہ ماہوار مقرر کرنا ان کے لئے جائز ہوگا کیونکہ وہ قرآن پر اجرت نہیں لے رہے بلکہ وہ اپنے وقت کی اجرت لے رہے ہیں۔ (۱)
نبی کریمﷺ نے فرمایا ’’قرآن پاک سب چیزوں سے زیادہ اس لائق ہے کہ تم اس پر اجرت لو‘‘ اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ قرآن پاک کی تعلیم پر اجرت لینا جائز ہے۔ (۲)
ناجائزصورتیں
اجرت پر قرآن پاک پڑھوانا یا کسی میت کے ایصال ثواب کے لئے لوگ اجرت پر قرآن پاک پڑھوائیں۔ پڑھنے کے بعد وہ خود کچھ نہیں مانگتے کچھ سوال نہیں کرتے بلکہ پڑھوانے والے ان کو دیتے ہیں۔ یہ طریقہ عام رواج ہے۔ پڑھوانے والا ان کوکچھ نہ کچھ دیتا ہے۔ قرآن پاک پڑھنے والے اپنی زبان سے کچھ نہیں کہتے مگر ان کے دل میں یہ خیال ضرور ہے، پڑھوانے والے ضرور کچھ نہ کچھ دیں گے۔ انہوں نے اس طور پر پڑھا اور پڑھوانے والوں نے اس نیت سے قرآن پاک پڑھوایا۔ اس اعتبار سے یہ اجارہ ہوگیا۔ یہ اجارہ باطل ہے۔
1۔ ایک تو طاقت و عبادات پر اجارہ ویسے ہی حرام ہے۔
2۔ دوسرا اجرت متعین نہیں ہوئی، لہذا یہ اجارہ باطل ہوگیا۔ (۳)
اسی طرح اجرت پر کلام اﷲ شریف بغرض ایصال ثواب پڑھنا اور پڑھوانا دونوں ہی ناجائز ہیں اور دونوں ہی گناہ گار۔ اس میں میت کے لئے ثواب نہیں۔ اگر میت کی وصیت سے بھی ہو تو وہ الٹا وبال میں گرفتار ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے۔
’’میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو۔ (۴)
لہذا اجرت پر قرآن پاک پڑھوانا بغرض ایصال ثواب جائز نہیں۔ حافظ قرآن جوکہ لوگوں کے رسم چہلم پرقرآن پاک پڑھ کرایصال ثواب کرتے ہیں، ان حافظوں کی امامت بھی جائز نہیں۔ اور یہ جواز پیش کریں کہ ہم محض خدا تعالیٰ کے لئے پڑھتے ہیںاور دینے والے بھی ہمیں خدا تعالیٰ کے لئے دیتے ہیں تو یہ بھی محض جھوٹ ہے۔امام احمد رضا علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: پڑھنے والے اور پڑھوانے والے دونوں ہی یہ خیال کرلیں کہ اگر ہم نہ پڑھیں تو وہ ایک دانہ بھی ان کو نہ دیں، اور اگر وہ نہ دیں تو یہ ایک صفحہ بھی نہ پڑھیں۔ تو ایسا اجارہ باطل ہے اور یہ اجارہ حرام در حرام ہے۔
اس کے جواز کی صورت امام احمدرضا علیہ الرحمہ نکالتے ہیں کہ جس سے پڑھنے والے اپنی اس آمدنی کو حلال کرسکتے ہیں۔
دینی امور میں اجارے کے جواز کی صورت
قرآن پاک اجرت پر پڑھنا اور پڑھوانا دونوں ہی ناجائز ہیں مگر اس کے جواز کی صورت یہ ہے:
1۔ پڑھنے والے اور پڑھوانے والوں کے درمیان اگر کوئی معاہدہ نہ ہو۔ پڑھنے والے نہ تو یہ خیال کرکے قرآن پاک پڑھیں کہ پڑھوانے والے ضرور کچھ نہ کچھ دیں گے اور پڑھنے والے یہ خیال دل میں نہ لائیں کہ ہمیں ضرور کچھ نہ کچھ ملے گا۔ اور وہاں نہ ہی لینے دینے کاکوئی رواج ہو۔پھر بعد میں پھروانے والے اگر بطور ہدیہ نذرانہ کچھ دیں تو یہ لینا ان کے لئے حلال ہوگا۔
2۔ دوسری صورت امام احمد رضاعلیہ الرحمہ  بتاتے ہیں: پڑھوانے والے، پڑھنے والے کو ایک مقررہ وقت تک اجرت متعین کرکے ان کو اپنے کام کے لئے اجارے پر لیں مثلا یہ کہیں کہ ہم نے کل صبح سات بجے سے بارہ بجے تک بعوض ایک روپیہ کے اپنے کام کاج کے لئے اجارہ پر لیا اور وہ اس اجارہ کو قبول کرلیں۔ اس صورت میں پڑھنے والے ان لوگوں کے پاس ایک مقررہ وقت تک مقررہ اجرت کے تحت ان کے ملازم ہوگئے۔ پڑھوانے والے ان سے اس مقررہ وقت میں جو کام چاہیں لیں، ان سے اب قرآن پاک پڑھوائیں بغرض میت کے ایصال ثواب کے لئے یا مجلس میلاد پاک پڑھوائیں تو یہ اجارہ جائز ہوگا۔ لینا اور دینا حلال ہوگا۔ کیونکہ اس اجارے میں انہوں نے ان کو ایک معاوضے کے لئے مقررہ وقت کے لئے اپنی خدمت کے لئے رکھا۔ یہ اجارہ جائز ہے کیونکہ اس میں اجرت بھی متعین ہوگئی کیونکہ یہ اجارہ قرآن خوانی پر نہیں بلکہ ان کے منافع نفس پر ہوا ہے۔ یہاں تک کہ اگر پڑھنے والے اس وقت مقررہ پر پابندی کے ساتھ حاضر رہیں گے اور پڑھوانے والے ان سے کچھ کام نہ بھی لیں تب بھی ان کی اجرت واجب ہوگی کیونکہ وہ پابند تھے کہ اپنے نفس کو سونپ دیں جیسا کہ اجیر خاص کا حکم ہے جس میں وقت مقررہ پر صرف حاضر ہونے سے ہی اس کی تنخواہ واجب ہوجاتی ہے (۵)
اس بات کی تائید میں امام احمد رضا علیہ الرحمہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں۔ ردالمحتار میں ہے ’’اگر اجرت کی شرط پر پڑھنا حلال ہوجائے تو اس کی صورت یہ ہے کہ قراء اور حفاظ کو مقررہ وقت مثلا کوئی دن بھر ہفتہ میں یا گھنٹے مثلا صبح سے دس بجے تک اس خدمت یا کام کے لئے مقررہ اجرت پر جس پر فریقین راضی ہوں، اجیر بنالیں۔ اتنے وقت کے لئے یہ حضرات ان کے نوکر ہوگئے اور اجرت رکھنے والوںکو یہ حق حاصل ہوگا کہ جو خدمت ان سے چاہیں لیں، انہی خدمات میں سے میلاد خوانی اور قرآن خوانی برائے ایصال ثواب کے لئے پڑھوائیں تو اس صورت میں لینا اور دینا جائز ہوگا کیونکہ یہ اجارہ ان کی ذات سے منافع پر ہے، طاعات و بعادات پر نہیں ہے‘‘ یہ پڑھنے والے اجیر خاص کے درجے میں آگئے کہ جن پر وقت مقررہ پر حاضر ہونے سے ہی ان کی تنخواہ واجب ہوجاتی ہے (۶)
ختم قرآن پر ہدیہ
امام احمد رضا علیہ الرحمہ فرماتے ہیں واعظ یا حافظ کو قرآن پاک ختم کرنے پر جو ہدیہ دیا جاتا ہے، اس کے بغیر سوال کئے یا بغیر طلب کئے تو یہ ہدیہ واعظ کو یا حافظ کولینا جائز ہے۔ پہلے سے طے نہ کیا ہو کہ تم قرآن پاک ختم کروگے تو اتنا دیں گے۔ اگر ایسا کچھ معاہدہ کیا دل میں یہ نیت کرکے قرآن پاک ختم کیا تو دینے اور لینے والے دونوں گناہ گار ہوں گے (۷)
دعا پر اجرت
اگر کوئی شخص کسی مقدمے میں گرفتار ہوجائے اور کسی شخص سے اپنے مقدمے کی کامیابی پر دعا کروائے۔ دعاکرنے والا اجرت لے۔ اس روپیہ کو لینا حلال ہے۔ امام احمد رضاعلیہ الرحمہ  اس مسئلہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر کچھ دینے کا پہلے سے معاہدہ نہ ہو نہ ہی اس علاقے میں رواج ہو، دعا کروانے والااس کو حسن سلوک کے طور پر کچھ روپے دے تو اس پیسے کولینے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ اسی طرح ہوگا کہ اگر کوئی کسی کو عمدہ طریقے سے نماز ادا کرتے دیکھے، اس کا دل خوش ہو تو اس کو کچھ نذرانہ اپنی خوشی سے دے تو اس کے لینے میں کچھ حرج نہیں ہے کیونکہ یہ اجرت نہیں ہے، دینے والے نے بطور ہدیہ اسے دیا۔
مقدمے کی کامیابی کے لئے دعا کروانے والوں اور کرنے والے کے درمیان معاہدہ ہوجائے کہ ہمارے مقدمے کے لئے فلاں ختم پڑھو۔ وقت اور اجرت کا تعین کردیا جائے تو اس صورت میں بھی لینا حلال ہوگا۔
اس بات کی تائید میں امام احمد رضاعلیہ الرحمہ  فتاویٰ قاضی خان کی عبارت پیش کرتے ہیں ’’مگر اس صورت میں پڑھنے والوں کو ثواب نہیں ملے گا کیونکہ انہوں نے اس عمل کی اجرت لے لی، خالصتاً خدا تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے کی غرض سے نہیں پڑھا۔ قضائے حاجات کی تدبیر و علاج: یہ اس طرح ہوا جیسے کسی مریض پر پڑھ کر پھونکنے کی اجازت لے۔ اس کا جواز صحیح حدیث سے ثابت ہے‘‘
’’صحابہ کرام ایک گائوں میں ٹھہرے، وہاں کے لوگوں نے برخلاف عادت عرب مہمانی نہ دی۔ رئیس دیہہ کو سانپ نے کاٹ لیا۔ لوگ ان کے پاس آئے۔ انہوں نے سو دنبے ٹھہرالئے۔ سورۂ فاتحہ شریف پڑھ کر دم کردی۔ اچھا ہوگیا۔ صحابہ کو خیال آیا کہ کہیں قرآن مجید پر اجرت لینا نہ ہوگیا ہو، ان بکریوں کو نہ کھایا۔ مدینہ طیبہ حاضر ہوئے۔ حضور پاکﷺ کو سارا واقعہ سنایا۔ نبی کریمﷺ نے اجازت دے دی اور فرمایا ’’جس چیز پر اجرت لو، اس میں سب سے زیادہ حق کتاب اﷲ کو ہے‘‘ (۹)
خچالی دعا بغیر کسی عمل یا ختم کے ہو تو اس پر اجارہ ٹھہرانے کے کوئی معنی نہیں کہ اتناکہنے میں اس کا کیا صرف ہوتاہے کہ ’’الٰہی فلاں کی حاجت برلا‘‘ کہ جس پر اجرت لے گا (۱۰)
امامت کرنے والے اپنی تنخواہیں مقرر کرلیتے ہیں۔ امام احمدرضاعلیہ الرحمہ  فرماتے ہیں کہ وہ امامت پر تنخواہ مقرر کرچکے ہیں۔ یہ جائز تو ہے مگر امامت کا ثواب نہیں پائیں گے کیونکہ وہ اپنی امامت بیچ چکے ہیں۔ اسی طرح تعلیم قرآن، تعلیم فقہ و حدیث کی اجرت لینے والوں کے لئے بھی آخرت میں کوئی ثواب نہیں ہوگا کیونکہ وہ دنیا میں ہی اپنے اس عمل کا بدلہ لے چکے ہیں۔
وعظ کرنے پر اجرت
امام احمد رضاعلیہ الرحمہ  فرماتے ہیں کہ وعظ کرنے والا جو اسلام کی تعلیمات کو بیان کرتا ہے، لوگوں کو نیکی کی طرف بلاتا ہے، برائی سے منع کرتا ہے، جو باتیں خلاف شرع ہیں، انہیں بدعت کہتا ہے، ان سے روکتاہے، اپنے صحیح اور وافر علم و فہم کے ساتھ شریعت پر چلتاہے اس کے وعظ کے اثر سے تمام برائیاں دور ہورہی ہیں، جو لوگ صوم و صلوٰۃ سے واقف نہ تھے، وہ بھی اس کی طرف راغب ہوگئے، وہ کسی سے سوال نہیں کرتا نہ ہی اس کو کسی قسم کی لالچ ہے تو ایسے شخص کو اگر لوگ ہدیتاً نذرانہ دیں، اس کی مالی خدمت کریں تو وہ آمدنی اس کے لئے جائز ہے۔ان پیسوں کا لینا اس کے لئے جائز ہوگا بشرطیکہ جو مال اسے دیا جائے، وہ حلال ہو حرام نہ ہو۔ جن لوگوں نے اپنے پیشے کو خالص دنیا کے حصول کا ذریعہ بنا رکھا ہے اور مادی لالچ و طمع موجود ہے۔ لوگوں سے مال کے لئے سوال کریں، زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کے خواہش مند ہیں، ایسے لوگوں کے لئے احادیث مبارکہ میں بھی سخت وعیدیں آئی ہیں اور علماء کرام نے بھی اس سے ممانعتیں فرمائی ہیں۔ بعض علماء کرام نے دینی امور کی طرح اس وعظ پربھی اجرت کو جائز قرار دیا۔ کچھ علماء کرام نے اذان و اقامت اور دیگر دینی امور پر اجرت کے ساتھ وعظ پر بھی اجرت کو جائز قراردیا، بعض نے ان سے اختلاف بھی کیا۔
علماء نے تعلیم قرآن پر اجرت اور عالم کا سلطان کے پاس جانا زائد بیان کیا اور اس پر فتویٰ دیا کہ قرآن، علم اور عوام الناس لوگوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھ کر یہ فتویٰ دیا۔ اگر وعظ کی نیت مال و دولت حاصل کرنے کی نہیں، نہ ہی وہ کسی سے سوال کرے، خالصتاً خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کی نیت رکھتا ہو تو ایسے شخص کو برا بھلا کہنا، حرام خور کہنا سخت گناہ ہے (۱۱)
اس قول کی تائید امام احمد رضاعلیہ الرحمہ  فتاویٰ ہندیہ سے دیتے ہیں ’’جو اہل علم کا ذکر تحقیرسے کرے وہ واجب التعزیر ہے (۱۲)
جو لوگ خالصتاً دین کی اشاعت کررہے ہیں، ان کی نیت دنیا کے حصول کے نہیں، وہ اپنے لئے کسی سے سوال نہیںکرتے، ایسے لوگوں کی تحقیر کرنا،ان کو حرام خور کہنا، ان کو برا بھلا کہنا گناہ ہے۔
تعطیلات
ملازمین کی تعطیلات کے بارے میں امام احمد رضاعلیہ الرحمہ  فرماتے ہیں کہ تعطیلات جن کا معاہدے میں عہد کیا ہو، ان تعطیلات کی تنخواہ مدرس ملازمین کو دی جائے گی جیسے ماہ رمضان، عید کے دنوں کی تعطیلات، عاشورہ کی تعطیلات۔ ان کی تنخواہ واجب ہوگی۔ معاہدے میںان تعطیلات کا ذکر ہے تو تنخواہ میں سے کٹوتی نہیں کی جائے گی۔ اگر معاہدے میں تعطیلات کا بیان نہیں ہے تو علماء وفقہاء میں سے بعض کہتے ہیں کہ تنخواہ کے مستحق ہوں گے۔ بعض کے نزدیک وہ تنخواہ حاصل کرنے کے مستحق نہیں (۱۳)
اس بات کی تائید امام احمد رضاعلیہ الرحمہ  الاشباہ النظاہر سے دیتے ہیں ’’عید کے دنوں، عاشورہ، ماہ رمضان جیسے مدارس میں فقہی تعلیم کی تعطیلات دو طرح سے ہیں۔اگر معاہدے میں مشروط ہیں تو مشاہرہ بالکل ساقط نہ ہوگا، ورنہ ماضی کی تعطیلات کے موافق ہونا مناسب ہے۔ بعض نے کہا کہ مدرس ایام تعطیلات کا مشاہرہ حاصل کرے گا اور بعض نے کہا کہ حاصل نہیں کرے گا۔ بعض نے کہا اس علاقے کے رواج کے مطابق تعطیلات کی تنخواہ حاصل کرے گا کیونکہ جو چیز عام ہوجائے وہ شرط کی طرح ہوتی ہے اس پر عمل کیا جائے گا (۱۴)
اہل اسلام کے عبادات و معاملات میں قمری ہلالی مہینے معتبر ہیں۔ اہل اسلام کو انہی مہینوں کے اعتبار سے اپنے تمام معاملات طے کرنے چاہئیں۔مدرسوں میں علوم عربیہ و دینیہ، ملازمین کا تقرر عام طور پر انہی ہلالی مہینوں پر متعارف ہے کیونکہ وہ خاص دینی کام ہیں جبکہ دوسرے معاملات اجارات وغیرہ میں ان مہینوں کا اعتبار نہیں رکھا جاتا بلکہ عرف کے مطابق جو چیزرواج پاجائے، اسی کے مطابق حساب کتاب رکھا جاتا ہے (۱۵) الاشباہ النظائر میں ہے ’’عادت جب عام اومر غالب ہوجائے تو وہی معتبر ہوتی ہے‘‘ (۱۶)
امام احمد رضاعلیہ الرحمہ کی تحقیق کا عصر حاضر میں اطلاق
امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے بتائے ہوئے اصولوں کا دور حاضر میں بھی عملی اطلاق ہوسکتا ہے۔
موجودہ دور میں آج کل جیسے دینی امور امامت اور قرآن پاک کی تعلیم دینے پر اجرت لی جاتی ہے، اسی طرح دینی مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ جو قرآن پاک کے ساتھ ساتھ فقہ و حدیث کی تعلیم دیتے ہیں، ان تمام امور پر وہ اپنی تنخواہ مقرر کرلیتے ہیں۔ امام احمد رضاعلیہ الرحمہ  کے احکامات کی روشنی میں ان مدرسین کا اپنے لئے تنخواہ مقرر کرلینا جائز ہے۔ قرآن پاک کی تعلیم دینے پر بھی اجرت مقرر کی جاتی ہے۔ امامت پر بھی لوگ اجرت مقرر کرتے ہیں۔ یہ سب چیزیں جائز ہیں۔
میلاد شریف، نعت خوانی پر بھی لوگ اپنے لئے پیسوں کاتقاضا کرتے ہی۔ وہ پیسے ان کے لئے حلال ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے اس عمل کی اجرت دنیاہی میں لے لیتے ہیں، آخرت میں ان کے لئے کوئی ثواب نہیں۔
آپ کے خیال میں ملازمین جس رفتار سے کام کریں گے، اسی حساب سے ان کی تنخواہ وضع کی جاتی ہے۔ بینکوں کی نوکری کے متعلق امام احمد رضاعلیہ الرحمہ کے احکامات سے مدد لی جاسکتی ہے۔چونکہ آج کل بینکنگ کا نظام سود پر مشتمل ہے، تو کیا ان بینکوں میں نوکری کرنا جائز ہوگا؟ امام احمد رضاعلیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ بینکوں کی نوکری کرنا جائز ہے مگر ایسی ملازمت جس میں سود کا لین دین، اس کا لکھنا پڑھنا، تقاضا کرنا اس کے ذمے ہو، سود کا لین دین کرنا ہو، تو ایسی ملازمت حرام ہے۔ اگرچہ اس کی تنخواہ حلال مال سے دی جائے۔ وہ حلال مال بھی اس کے لئے حرام ہے کیونکہ سود کا لین دین، اس کا لکھنا، اس کا تقاضا کرنا سب حرام کام میں شامل ہیں۔ بینکوں میں نوکری جائز ہے۔ تنخواہ لینے والے کو یہ معلوم ہو کہ وہ روپیہ سود کا ہے یا حرام ذریعہ سے ہے تو وہ نہ لے اور اگر معلوم نہیں ہے تو لینا جائز ہے۔ ایسے نامعلوم روپے سے مسجد اور مدرسہ کی اعانت بھی ہوسکتی ہے مگر شرط کہ مال حلال ہو۔ ایسی جگہ پر یا بینک میں نوکری کرنا امام احمد رضاعلیہ الرحمہ  کے مطابق جائز ہے۔
حوالہ جات
۱۔ فتاویٰ رضویہ: ۱۹/۴۲۱، منحۃ الخائق علی البحر الرائق : ۵/۲۲۸
۲۔ صحیح بخاری، کتاب الاجارہ، باب ما یعطی فی الرقیہ علی احیاء العرب فاتحۃ الکتاب: ۸/۴۰۰
۳۔ المرجع السابق ۱۹/۶۸۷
۴۔ القرآن الکریم: ۲/۱۱۶
۵۔ فتاویٰ رضویہ: ۱۹/۴۹۵
۶۔ ردالمحتار: ۴/۴۳۴
۷۔ المرجع السابق: ۱۹/۵۲۹
۸۔ المرجع السابق: ۱۹/۵۳۰
۹۔ صحیح بخاری، کتاب الاجارہ، باب مایعطی فی الرقیہ علی احیاء العرب: ۸/۴۰۰، رقم ۲۲۷۸
۱۰۔ دیکھئے: فتاویٰ رضویہ: ۱۹/۵۲۱
۱۱۔ ایضاً: ۱۹/۴۲۴
۱۲۔ فتاویٰ ہندیہ: ۲/۴۹، خلاصۃ الفتاویٰ : ۴/۳۳۰‘۳۳۱
۱۳۔ فتاویٰ رضویہ: ۱۹/۴۳۱
۱۴۔ دیکھئے: الاشباہ والنظائر: ۸/۱۲۹
۱۵۔ المرجع السابق: ۱۹/۴۵۰
۱۶۔ المرجع السابق: ۱/۱۲۸