عقیدۂ ختم نبوت اصول اربعہ کی روشنی میں

in Tahaffuz, August-September 2013, حامد علی علیمی

کسی بھی موضوع کو آسانی سے سمجھنے کا ایک طریقہ معروضی ہوتا ہے، جو تحقیقی دنیا میں بھی بہت مشہور و مقبول ہے، یعنی موضوع کو سمجھنے کے لئے کچھ سوالات قائم کئے جاتے ہیں اور ان کے جوابات سے موضوع کو سمجھاجاتا ہے۔ ’’عقیدہ ختم نبوت‘‘ کوسمجھنے اور سمجھانے کے لئے بھی ہم اس تحریر میں معروضی انداز اختیار کریں گے۔ چنانچہ…
1… ’’عقیدہ‘‘ کیا ہے؟
2… ’’عقیدہ ختم نبوت‘‘ سے کیا مراد ہے؟
3… شریعت مطہرہ میں عقیدہ ’’کس طرح ثابت ہوتا ہے؟‘‘
4… ایمان و کفر کی تعریف کیا ہے؟
5… کامل ایمان والا کون ہے؟
6… کفر اور کافر کی اقسام کتنی اور کون کون سی ہیں؟ نیز ان کے احکام کیا ہیں؟
7 سب سے اہم یہ کہ ’’ضروریات دین‘‘ سے کیا مراد ہے؟ وغیرہ وغیرہ
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات ہر مسلمان کو جاننا ضروری ہے۔ آنے والی سطور میں ان کے جوابات کو آسان انداز سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ عام مسلمانوں کے لئے نفع کا باعث ہو اور راقم کے لئے آخرت میں زاد راہ ہوسکے۔
عقیدے کی تعریف
عقیدہ عربی زبان کے لفظ ’’عقد‘‘ سے بنا ہے جس کا لغوی معنی ’’کسی چیز کو باندھنا‘‘ یا ’’گرہ لگانا‘‘ ہے، اس کی جمع ’’عقائد‘‘ آتی ہے۔
شریعت مطہرہ میں ’’عقیدہ‘‘ سے مراد ’’وہ دلی بھروسہ اور اعتبار ہے جو کسی امر یا شخص کو درست وحق سمجھنے سے پیدا ہوتا ہے‘‘ آسان الفاظ میں عقیدہ سے مراد ’’ان دینی اصولوں پرپختہ یقین اور اعتقاد کرنا ہے جن پر ایمان لانا ضروری ہے‘‘
ختم نبوت کی تعریف
’’ختم‘‘ کا معنی ہے اختتام اور مہر (Seal) یعنی کسی چیز کو اس طرح بند کرنا کہ اس کے بعد نہ باہر سے کوئی چیز اندر جاسکے اور نہ اندر سے کچھ باہر نکالا جاسکے۔
’’نبوت‘‘ کا معنی ہے نبی ہونا، لہذا ’’ختم نبوت‘‘ کا معنی ہوگا نبوت کا اختتام، سلسلہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام کا رک جانا، ختم ہوجانا۔
عقیدہ ختم نبوت
شریعت مطہرہ میں ’’عقیدۂ ختم نبوت‘‘ سے مراد ہے: یہ اعتقاد اور یقین رکھنا کہ محمد رسول اﷲﷺ پر نبوت و رسالت کا سلسلہ مکمل ہوچکا ہے، اب قیامت تک کسی نئے نبی یا رسول کی ضرورت نہیں رہی۔
عقیدہ کس طرح ثابت ہوتا ہے؟
جس طرح فقہ کے اصول یا ماخذ چار ہیں کہ جن سے کوئی فقہی مسئلہ ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح عقائد کے اصول یا ماخذ بھی چار ہیں، جن سے کوئی عقیدہ ثابت ہوتا ہے یہ سب اصول و ماخذ مندرجہ ذیل ہیں۔
اصول فقہ        اصول عقائد
قرآن        قرآن
سنت        سنت
اجماع        سواداعظم
قیاس        عقل صحیح
اصول عقائد کی وضاحت
1۔ قرآن: یعنی: اﷲ تعالیٰ کا کلام جو رسول اﷲﷺ پر نازل کیا گیا، رہا گزشتہ انبیاء و مرسلین علیہم الصلوٰۃ والسلام کی شریعتوں کا تعلق تو وہ قرآن کریم کے تابع ہیں۔
2۔ سنت: یعنی: مصطفی کریمﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات (وہ بات یا کام جو کسی نے رسول اﷲﷺ کی موجودگی میں کیا ہو مگر آپ علیہ السلام نے اس سے منع نہیں فرمایا بلکہ اسے برقرار رکھتے ہوئے سکوت فرمایا۔ گویا یہ سکوت فرمانا ہی ’’اذن‘‘ ہے کیونکہ اگر وہ بات یا کام خلاف شرع ہوتا تو آپﷺ ضرور منع فرماتے) ’’سنت‘‘میں داخل ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کے اقوال، سنت کے تابع ہیں (حاشیہ طحطاوی علی الدر، خطبہ کتاب، ج 1،ص 25)
3۔ سواداعظم: اس سے مراد لوگوں کی بڑی جماعت ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’سواداعظم‘‘ سے مراد کون لوگ ہیں؟ اس سے مراد ’’اہل سنت‘‘ ہیں۔
4۔ عقل صحیح: یعنی: عقل سلیم۔
اصول عقائد کا ثبوت
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان مذکورہ ’’اصول عقائد‘‘ کا کسی معتبر عالم دین نے ذکر بھی کیا ہے یا یہ تقسیم بلا دلیل ہے؟ چنانچہ مولانا احمد رضا خان حنفی علیہ الرحمہ ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ میں ایک سوال کے جواب میں تحریر کرتے ہیں:
’’جس طرح فقہ میں چار اصول ہیں۔ کتاب، سنت، اجماع اور قیاس، اسی طرح عقائد میں بھی چار اصول ہیں: کتاب، سنت، سواداعظم اور عقل صحیح۔ جو کوئی عقائد سے متعلق کسی مسئلہ کو ان چار اصولوں کے ذریعہ جانتا ہے تو گویا اس مسئلہ کو دلیل سے جانتا ہے۔ نہ کہ بے دلیل محض کسی دوسرے کی تقلید کے ذریعے۔ اسلام میں سواداعظم ’’اہل سنت‘‘ ہی ہیں لہذا ان کا حوالہ دینا بھی دراصل دلیل کا حوالہ دینا ہے نہ کہ کسی کی تقلید کرنا۔ یوں ہی آئمہ کرام کے اقوال سے استدلال و استناد کا یہی معنی ہے کہ یہ اہل سنت کا مذہب ہے، لہذا ایک دو نہیں بلکہ دس بیس اکابر علماء ہی سہی اگر وہ ’’جمہور علمائے کرام اور سواداعظم‘‘ کے خلاف لکھیں گے، تو اس وقت ان کے اقوال پر نہ اعتماد جائز ہے نہ استدلال و استناد، کیونکہ اب یہ استدلال واستناد کرنا ’’تقلید‘‘ ہے اور تقلید عقائد میں جائز نہیں۔ اس دلیل شرعی یعنی سواداعظم کی جانب رشد و ہدایت کاہونا، اﷲ و رسول جل و علاء و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی کمال رحمت ہے، کیونکہ ہر شخص میں یہ قدرت کہاں ہے کہ وہ عقیدہ کو کتاب و سنت سے ثابت کرے۔
رہا معاملہ عقل کا، تو یہ خود ہی سمعیات (یعنی سنے جانے والے امور) میں کافی نہیں، لہذا ناچار عوام کو عقائد میں تقلید کرنے کی ضرورت پڑتی اور عقائد میں تقلید جائز نہیں، لہذا اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول خاتم النبیینﷺ نے مسلمانوں کو یہ واضح روشن دلیل عطا فرمائی کہ سواداعظم مسلمین جس عقیدہ پر ہو، وہ حق ہے، اس کی پہچان کچھ دشوار نہیں‘‘
کیا زمانہ صحابہ کرام میں بھی ’’سواداعظم‘‘ تھا؟
رہا یہ سوال کہ کیا یہ ’’سواداعظم‘‘ زمانہ صحابہ میں بھی تھا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے وقت میں تو کوئی بدمذہب تھا ہی نہیں اور بعد کو اگرچہ پیدا ہوئے مگر دنیا بھر کے سب مذہب ملاکر کبھی اہل سنت کی گنتی کو نہیں پہنچ سکے۔ وﷲ الحمد۔ فقہ میں جس طرح ’’اجماع‘‘ ایک بڑی قوی دلیل ہے کہ اس سے اختلاف کا اختیار مجتہد کو بھی نہیں، اگرچہ وہ اپنی رائے میں کتاب و سنت سے اس کا خلاف پاتا ہو، یقینا یہ سمجھا جائے گا کہ اس مجتہد کے یا تو فہم کی خطا ہے یا یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے اور مجتہد کو اس کا ناسخ معلوم نہیں، یونہی اجماع اُمّت تو ایک عظیم شے ہے۔
سواداعظم کے خلاف کوئی عقیدہ قابل قبول نہیں
سواداعظم یعنی اہل سنت کا عقائد کے کسی مسئلہ پر اتفاق بھی ایک بڑی قوی دلیل ہے، لہذا اگر بالفرض کسی کو کتاب و سنت سے اس کا برخلاف کچھ سمجھ میں آئے تو فہم کی غلطی تصور ہوگا، کیونکہ حق سواداعظم کے ساتھ ہے۔ رہی عقل تو ایک معنی پر یہاں عقل بھی ایک بڑی قوی دلیل ہے، وہ اس طرح کہ اور دلائل کی حجیت بھی اسی عقل صحیح سے ظاہر ہوئی ہے۔ یہ محال (ناممکن) ہے کہ سواداعظم کا اتفاق کسی ایسی دلیل پر ہو جو عقل صحیح کے خلاف ہو۔ یہ گنتی کے جملے یں مگر بحمدہ تعالیٰ بہت نافع و سودمند۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 29، ص 214)
فعضوا علیہا بالنواجذ واﷲ تعالیٰ اعلم (یعنی انہیں مضبوطی سے تھام لو)
ایمان و کفر کی تعریف
’’عقیدہ ختم نبوت‘‘ کے دلائل ذکر کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مختصراً ایمان اور کفر کی تعریف بیان کردی جائے۔
ان الایمان فی الشرع ہو التصدیق بما جاء بہ الرسول صلی اﷲ علیہ وسلم من عنداﷲ ای : تصدیق النبی صلی اﷲ علیہ وسلم فی جمیع ماعلم بالضرورۃ مجیئہ بہ من عنداﷲ تعالیٰ اجمالا (دیکھے شرح ’’عقائد نسفی‘‘ مع ’’نبراس ’’مکتبہ حقانیہ، محلہ جنگی پشاور، ص 392)
یعنی: محمد رسول اﷲﷺ کو ہر بات میں سچا جاننا، حضور کی حقانیت کو صدق دل سے ماننا ’’ایمان‘‘ ہے اور جو اس کا اقرار کرے وہ ’’مسلمان‘‘ ہے جبکہ اس کے کسی قول یا فعل یا حال میں اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول خاتم النبیینﷺ کا انکار یا تکذیب یا توہین نہ پائی جائے (ملخصاً از ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ ج 29،ص 254)
یا اسے یوں سمجھ لیں کہ ’’سید العالمین محمدﷺ جو کچھ اپنے رب کے پاس سے لائے، ان سب میں ان کی تصدیق کرنا اور سچے دل سے ان کی ایک ایک بات پر یقین لانا ’’ایمان‘‘ ہے اور ان میں کسی بات کا جھٹلانا اور اس میں ذرہ برابر شک لانا ’’کفر‘‘ ہے (معاذ اﷲ)
کامل ایمان
اس مسلمان کا ایمان کامل ہوگا جس کے دل میں اﷲ و رسول جل وعلا وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا علاقہ تمام علاقوں پر غالب ہو۔ اﷲ و رسول کے محبوں سے محبت رکھے، اگرچہ اپنے دشمن ہوں اور اﷲ و رسول کے مخالفوں و بدگویوں سے عداوت رکھے اگرچہ اپنے جگر کے ٹکڑے ہوں، جو کچھ دے اﷲ کے لئے دے جو کچھ روکے، اﷲ کے لئے روکے۔ رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں:
ومن احب ﷲ وابغض ﷲ واعطی ﷲ ومنع ﷲ فقد استکمل الایمان (ملخصاً از ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ ج 29، ص 254)
کفر کی اقسام
پھر یہ ’’انکار‘‘ جس سے اﷲ تعالی ہم سب مسلمانوں کو محفوظ رکھے، دو طرح ہوتا ہے۔
1… التزامی اور 2… لزومی
1۔ التزامی
یہ کہ ضروریات دین سے کسی شے کا تصریحاً خلاف کرے، یہ قطعاً اجماعاً کفر ہے۔ اگرچہ نام کفر سے چڑے اور کمال اسلام کا دعویٰ کرے… جیسے نیچری فرقے کا فرشتوں، جن، شیطان، جنت و جہنم اور معجزات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ و السلام کے ان معانی کا انکار کرنا اور ان معانی میں اپنی باطل تاویلات کرنا، جو معانی مسلمانوں کو نبی اکرمﷺ سے تواتر کے ساتھ پہنچے ہیں۔
2۔لُزومی
یہ کہ جو بات اس نے کہی، عین کفر نہیں مگر منجر بکفر (کفر کی طرف لے جانے والی) ہوتی ہے یعنی مآل سخن ولازم حکم کو ترتیب مقدمات و تتمیم تقریبات کرتے لے چلئے تو انجام کار اس سے کسی ضرورت دینی کا انکار لازم آئے، جیسے روافض کا خلافت حقہ راشدہ خلیفہ رسول اﷲﷺ حضرت جناب صدیق اکبر و امیر المومنین حضرت جناب فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے انکار کرنا وغیرہ۔ اس قسم کے کفر میں علماء اہلسنت مختلف ہوگئے جنہوں نے مآل مقال و لازم سخن کی طرف نظر کی حکم کفر فرمایا اور تحقیق یہ ہے کہ کفر نہیں، بدعت و بدمذہبی و ضلالت و گمراہی ہے۔
والعیاذ باﷲ رب العالمین
کافروں کی کتنی اقسام ہوتی ہیں؟
کفر کی طرح کافر بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔
1۔ اصلی    2۔ مرتد
1۔ اصلی: وہ کہ شروع سے کافر اور کلمہ اسلام کا منکر ہے۔ اس کی مزید دو قسمیں ہیں۔
1…مجاہر اور 2… منافق
1۔ مجاہر وہ کہ علی الاعلان کلمہ کا منکر ہو، جیسے دہریہ، مشرک اور مجوسی۔ ان کی عورتوں سے نکاہ باطل اور ان کا ذبح کیا ہوا جانور مردار ہے۔ رہے اہل کتاب یعنی یہودونصاریٰ تو ان کی عورتوں سے نکاح ممنوع و گناہ ہے۔
اور (2) منافق وہ کہ بظاہر کلمہ پڑھتا اور دل میں اس کا انکار کرتا ہو، آخرت کے اعتبار سے یہ قسم سب اقسام سے بدتر قسم ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
ان المنٰفقین فی الدرک الاسفل من النار (سورۂ نسائ، 145/4)
ترجمہ: بے شک منافقین سب سے نیچے طبقہ دوزخ میں ہیں۔
2۔ مرتد: وہ کہ کلمہ گو ہو کر کفرے کرے اس کی بھی دو قسم ہیں۔
1۔ مجاہر اور 2۔ منافق
1۔ مرتد مجاہر: وہ کہ پہلے مسلمان تھا پھر علانیہ اسلام سے پھر گیا، کلمۂ اسلام کا منکر ہوگیا۔ چاہے دہریہ ہوجائے یا مشرک یا مجوسی یا کتابی کچھ بھی ہو۔
2۔ مرتد منافق: وہ کہ کلمہ اسلام اب بھی پڑھتا ہے۔ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتا ہے پھر بھی اﷲ عزوجل یا رسول اﷲﷺ یا کسی نبی کی توہین کرتا ہے یا ضروریات دین میں سے کسی شے کا منکر ہے۔
ان کے احکام
حکم دنیا میں سب سے بدتر مرتد ہے، اس کا نکاح کسی مسلم، مرتد اس کے ہم مذہب یا مخالف مذہب، غرض کسی سے نہیں ہوسکتا۔ مرتد مرد ہو خواہ عورت، ان میں سب سے بدتر مرتد منافق ہے۔ یہی وہ ہے کہ اس کی صحبت زیادہ نقصان دہ ہے کہ یہ مسلمان بن کر کفر سکھاتا ہے، خصوصا آج کل کے بدمذہب کہ اپنے آپ کو خاص اہلسنت کہتے ہیں، نماز روزہ ہمارا سا ادا کرتے ہیں، ہماری کتابیں پڑھتے پڑھاتے ہیں اور حال یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ اور اس رسول معظمﷺ کو گالیاں دیتے ہیں، یہ سب سے بدتر زہر قاتل ہیں، ہوشیار خبردار! مسلمانو! اپنا دین بچائو ان سے (ملخصاً از فتاویٰ رضویہ، ج 14، ص 329-327)
ضروریات دین سے کیا مراد ہے؟
اقسام کفر و کافر میں ’’ضروریات دین‘‘ کا ذکر آیا ہے لہذا اسے بھی سمجھ لیجئے۔ ’’ضروریات دین‘‘ سے مراد وہ دینی مسائل ہیں جن کو عوام و خواص سب جانتے ہوں۔ مثلا اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت، رسول اﷲ کی ختم نبوت، آخرت، نماز اور روزہ وغیرہ۔
’’عوام‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو دینی مسائل سے ذوق و شغل رکھتے ہوں اور علماء کرام کی صحبت سے فیض یاب ہوں۔ ’’عوام‘‘ سے مراد وہ لوگ نہیں جو دینی مسائل خصوصا ضروریات دین سے ناواقف و غافل ہیں، مثلا بہت سے گائوں دیہاتوں میں رہنے والے جاہل خصوصا برصغیر اور مشرق وغیرہ میں رہنے والے ایسے ہیں جو بہت سے ضروریات دین کے مسائل سے ناواقف اور غافل ہیں۔ ان کی ناواقفیت اور غفلت سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ یہ ضروریات دین کے منکر ہیں، غافل ہونے اور انکار کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے (ملخصاً از فتاویٰ رضویہ، ج 1،ص 243-239)
تنبیہ ضروری
مسلمانو! دین میں اصل مدار ’’ضروریات دین‘‘ ہیں اور ’’ضروریات‘‘ اپنے ذاتی روشن بدیہی ثبوت کے سبب مطلقاً ہر ثبوت سے غنی ہوتے ہیں، یہاں تک کہ اگر بالخصوص ان پر کوئی نص قطعی اصلاً نہ بھی ہو، جب بھی ان کا وہی حکم رہے گا کہ منکر یقینا کافر ہے۔ یہی سبب ہے کہ ضروریات دین میں کسی قسم کی کوئی تاویل نہیں سنی جائے گی۔ جیسے نیچریہ نے آسمان کو بلندی، جبرئیل و ملائکہ کو قوت خیر، ابلیس وشیاطین کو قوت بدی، حشر ونشر و جنت و نار کو محض روحانی نہ جسدی بنالیا۔
غلام احمد قادیانی نے ’’خاتم النبیین‘‘ کو ’’افضل المرسلین‘‘ گھڑ لیا اور ایک دوسرے شقی نے ’’خاتم النبیین‘‘ کو ’’نبی بالذات‘‘ سے بدل دیا، ایسی تاویلیں سن لی جائیں تو اسلام و ایمان قطعاً درہم برہم ہوجائیں گے۔ اگریہ باطل تاویلیں درست مان لی جائیں تو بت پرست ’’لاالہ الا اﷲ‘‘ کی تاویل یوں کرلیں گے کہ یہ ’’افضل واعلیٰ‘‘ سے مخصوص ہے یعنی ’’خدا‘‘ کے برابر دوسرے خدا بھی ہیں، مگر وہ ’’خدا‘‘ سب دوسروں سے بڑھ کر خدا ہے۔ یہ معنی نہیں کہ دوسرا خدا ہی نہیں اور اس کی دلیل عرب کا یہ محاورہ ہے کہ لافتی الا علی لا سیف الا ذوالفقار (یعنی علی کرم اﷲ وجہ جیسا کوئی بہادر جوان نہیں اور ذوالفقار جیسی کوئی تلوار نہیں) نعوذ باﷲ من ذلک تو کیا اس بت پرست کی یہ باطل تاویل سنی جائے گی؟ یہ نکتہ ہمیشہ یاد رکھنے کا ہے کہ بہت سے گمراہ و بے دین مدعیان اسلام کے مکروہ اوہام سے نجات و شفا ہے (ملخصاً از فتاویٰ رضویہ، ج 14، ص 266)
ایک شبہ کا ازالہ
اگر بظاہر اکابرین امت میں سے کسی امام، مفسر، محدث، فقیہ یا مفتی وغیرہ کی کوئی بات خلاف شرع معلوم ہوتی ہو، یا اس کا موقف سواداعظم کے خلاف جاتا ہوا نظر آئے تو ایسے میں ہم کیا کریں۔ کس کی بات مانیں اور کس کا ساتھ دیں؟
اس سلسلے میں صحیح اور معتدل قول یہ ہے کہ ’’انبیاء علیہم الصلوٰۃ والثناء کے سوا کوئی انسان معصوم نہیں اور غیر معصوم سے کوئی نہ کوئی کلمہ غلط یا بے جا صادر ہونا کچھ نادر کالعدم نہیں، پھر سلف صالحین و آئمہ دین سے آج تک اہل حق کا یہ معمول رہا ہے کہ کل ماخوذ من قولہ ومردود علیہ الا صاحب ہذا القبرﷺ (یعنی رسول اﷲﷺ جو اس روضہ پاک میں آرام فرما ہیں، ان کے سوا ہر شخص کا قول لیا جاسکتا ہے اور رد بھی کیا جاسکتا ہے‘‘ یہ قول سیدنا امام مالک بن انس علیہ الرحمہ نے حضور خاتم النبین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی قبر انور کے پاس ارشاد فرمایا تھا) لہذا جس کی جو بات خلاف اہل حق و جمہور دیکھی، وہ اسی پر چھوڑی اور اعتقاد وہی رکھا جو جماعت یعنی سواداعظم کا ہے کہ حضور اکرمﷺ کا فرمان ہے:
یداﷲ علی الجماعۃ اور فرمایا اتبعوا السواد الاعظم (یعنی اﷲ تعالیٰ کی حمایت جماعت کے ساتھ ہے اور فرمایا سواد اعظم کی پیروی کرو)
(ملخصاً از فتاویٰ رضویہ، ج 15، ص 466-465)
عقیدہ ختم نبوت پر کیسا ایمان ہونا چاہئے؟
مسلمانوں پر جس طرح لاالہ الا اﷲ ماننا، اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کو احد صمد لاشریک لہ جاننا فرض اول و مناط ایمان ہے، یونہی محمد رسول اﷲﷺ کو ’’خاتم النبیین‘‘ ماننا، ان کے زمانے میں خواہ ان کے بعد کسی نئے نبی کی بعثت کو یقینی طور پر محال و باطل جاننا اہم فرض اور جزء ایقان ہے (ولکن رسول اﷲ و خاتم النبیین) (ترجمہ: ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبییوں کے پچھلے) (الاحزاب:  40/33)
نص قطعی قرآن ہے، اس کا منکر تو منکر بلکہ شبہ کرنے والا، بلکہ اس میں شک کرنے والا کہ ادنیٰ ضعیف احتمال کی وجہ سے اس کا خلاف کرنے والا ہو، قطعاً اجماعاً کافر ملعون ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہنے والا ہے، نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو ایسے شخص کے عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہوکر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر، بلکہ جو ایسے شخص کے کافر ہونے میں شک و تردد کو راہ دے، وہ بھی واضح طور پر کافر ہے (ملخصاً از فتاویٰ رضویہ، ج 15، ص 630)
عقیدہ ختم نبوت اور قرآن کریم
عقیدہ ختم نبوت سے متعلق قرآن کریم میں بے شمار صریح آیات ہیں، ان میں سے چند حصول برکت کے لئے ذکر کی جاتی ہیں۔ الحمدﷲ مسلمانوں کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ اﷲ عزوجل نے ایسا فرمایا ہے اور اس چیز کا حکم دیا ہے یا اس کے محبوب خاتم النبیینﷺ نے یہ بات یوں ارشاد فرمائی ہے یااپنے غلاموںکو یہ حکم دیا ہے، پھر وہ مسلمان مرد ہو یا خواہ عورت، کسی قسم کا تامل کئے بغیر اسے قبول کرلیتے ہیں، اس حکم کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں اور مصروف عمل ہوجاتے ہیں، چاہے انہیں اس کی حکمت سمجھ آئے یا نہ آئے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
وماکان لمومن ولا مومنۃ اذا قضی اﷲ ورسولہ امراً ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم، ومن یعص اﷲ ورسولہ فقد ضل ضلٰلاً مبیناً
(الاحزاب: 36/33)
ترجمہ: اور نہ کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اﷲ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو انہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے اور جو حکم نہ مانے اﷲ اور اس کے رسول کا وہ بے شک صریح گمراہی بہکا‘‘
اور فرماتا ہے:
ما اٰتٰکم الرسول فخذوہ وما نہٰکم عنہ فانتہو واتقوا اﷲ ان اﷲ شدید العقاب (الحشر: 7/59)
ترجمہ: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں، باز رہو اور اﷲ سے ڈرو، بے شک اﷲ کا عذاب سخت ہے۔
عقیدہ ختم نبوت سے متعلق ذیل میں صرف چار آیات پر اکتفا کیاجاتا ہے:
قل یآایھا الناس انی رسول اﷲ الیکم جمیعا الذی لہ ملک السمٰوٰت والارض، لا الہ الا ہو یحی و یمیت فاٰمنو باﷲ و رسولہ النبی الامی الذی یومن باﷲ وکلمٰتہ واتبعوہ لعلکم تہتدون (سورۂ اعراف: 158/7)
ترجمہ: تم فرمائو: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اﷲ کا رسول ہوں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کو ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جلائے اور مارے تو ایمان لائو اﷲ اور اس کے رسول بے پڑھے غیب بتانے والے پر کہ اﷲ اور اس کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پائو۔
تفسیر خزائن العرفان میں ہے:
’’یہ آیت سید عالمﷺ کے عموم رسالت کی دلیل ہے کہ آپ تمام خلق کے رسول ہیں اور کل جہاں آپ کی امت: بخاری و مسلم کی حدیث ہے۔ حضورﷺ فرماتے ہیں پانچ چیزیں مجھے ایسی عطا ہوئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہ ملیں‘‘ انہیں میں فرمایا: ’’ہر نبی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث فرمایا گیا… اور میں تمام خلق کی طرف رسول بنایا گیا اور میرے ساتھ انبیاء ختم کئے گئے‘‘
ومآ ارسلنٰک الا رحمۃ للعٰلمین (سورۂ انبیائ: 107/21)
ترجمہ: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کے لئے‘‘
تفسیر روح البیان میں اس آیت کی تفسیر میں اکابر کا یہ قول نقل کیا ہے۔
’’آیت کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر رحمت مطلقہ تامہ کاملہ عامہ شاملہ جامعہ محیطہ بہ جمیع مقیدات، رحمت غیبیہ و شہادت علمیہ و عینیہ ووجودیہ و شہودیہ و سابقہ ولاحقہ وغیر ذلک تمام جہانوں کے لئے عالم ارواح ہوں یا عالم اجسام، ذوی العقول ہوں یا غیر ذوی العقول اور جو تمام عالموں کے لئے رحمت ہو، لازم ہے کہ وہ تمام جہان سے افضل ہو‘‘
ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین وکان اﷲ بکل شیٔ علیماً (الاحزاب: 40/33)
ترجمہ: محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں، ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے اور اﷲ سب کچھ جانتا ہے۔
تفسیر خزائن العرفان میں ہے:
’’یعنی آخر الانبیاء ہیں کہ نبوت آپ پر ختم ہوگئی۔ آپ کی نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی حتی کہ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام نازل ہوں گے تو اگرچہ نبوت پہلے پاچکے ہیں مگر نزول کے بعد شریعت محمدیہ پر عامل ہوں گے اور اسی شریعت پر حکم کریں گے اور آپ ہی کے قبلہ یعنی کعبہ معظمہ کی طرف نمازپڑھیں گے، حضور کا آخر الانبیاء ہونا قطعی ہے۔ نص قرآنی بھی اس میں وارد ہے اور صحاح کی بکثرت احادیث توحد تواتر تک پہنچتی ہیں۔ ان سب سے ثابت ہے کہ حضور اکرمﷺ سب سے آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں جو حضورﷺ کی نبوت کے بعد کسی اور کو نبوت ملنا ممکن جانے، وہ ختم نبوت کا منکر اور کافر خارج از اسلام ہے‘‘
وما ارسلنٰک الا کافۃ للناس بشیراً و نذیراً و لٰکن اکثر الناس لایعلمون (سورۂ سبا: 28/34)
ترجمہ: اور اے محبوب! ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے، خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔
خزائن العرفان میں اس آیت کے تحت ہے:
’’اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضور سید عالمﷺ کی رسالت عامہ ہے تمام انسان اس کے احاطہ میں ہیں۔ گورے ہوں یا کالے، عربی ہوں یا عجمی، پہلے ہوں یا پچھلے سب کے لئے آپ ’’رسول‘‘ ہیں اور وہ سب آپ کے ’’امتی‘‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے۔ سید عالم علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔ مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا فرمائی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ دی گئی… یہاں تک کہ فرمایا ’’اور انبیاء خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے اور میں تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا گیا‘‘
عقیدہ ختم نبوت اورسنت
مولانا احمد رضا خان حنفی علیہ الرحمہ نے صرف ایک رسالہ میں ’’ختم نبوت‘‘ کے بارے میںایک سوبیس احادیث، اکہتر صحابہ کرام اور گیارہ تابعین عظام رضوان اﷲ علیہم اجمعین سے مروی نقل کی ہیں۔ اتنے راویان حدیث کی تعداد حد تواتر تک پہنچتی ہے جس سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے، کسی متواتر چیز کا انکار کرنا اسلام سے خارج کردیتا ہے۔ من جملہ ’’عقیدہ ختم نبوت‘‘ بھی انہی احکام سے ہے، جس کا ثبوت تواتر سے ہے۔ اس حدیث کے راویان کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں۔
تابعین کرام کے اسماء
1۔ امام اجل محمد باقر    2۔ سعد بن ثابت    3۔ ابن شہاب زہری
4۔ عامر شعبی    5۔ عبداﷲ بن ابی الہذیل    6۔ علاء بن زیاد
7۔ ابو قلابہ    8۔ کعب احبار    9۔ مجاہد مکی
10۔ محمد بن کعب قرظی    11۔ وہب بن منبہ رحمہم اﷲ اجمعین
صحابہ کرام کے اسماء
12۔ ابی بن کعب    13۔ ابو امامہ باہلی    14۔ انس بن مالک
15۔ اسماء بنت عمیس    16۔ براء بن عازب    17۔ بلال مؤذن
18۔ ثوبان مولیٰ رسول اﷲﷺ    19۔ جابر بن سمرہ
20۔ جابر بن عبداﷲ    21۔ جبیر بن معطم    22۔ حبیش بن جناوہ
23۔ حذیفہ بن اسید    24۔ حذیفہ بن الیمان    25۔ حسان بن ثابت
26۔ حویصہ بن مسعود    27۔ ابوذر    28۔ ابن زمل
29۔ زیاد بن لبید    30۔ زید بن ارقم    31۔ زیدبن ابی اوفٰی
32۔ سعد بن ابی وقاص    33۔ سعید بن زید    34۔ ابو سعید خدری
35۔ سلمان فارسی    36۔ ابو الطفیل عامر بن ربیعہ    37۔ ام المومنین ام سلمہ
38۔ سہل بن سعد    39۔ عامر بن ربیعہ    40۔ عبداﷲ بن عباس
41۔ عبداﷲ بن عمر    42۔ عبدالرحمن بن غنم    43۔ عدی بن ربیعہ
44۔ عرباض بن ساریہ    45۔ عصمہ بن مالک    46۔ عقبہ بن عامر
47۔ عقیل بن ابی طالب    48۔ امیرالمومنین علی    49۔ امیر المومنین عمر
50۔ عوف بن مالک اشجعی    51۔ ام المومنین صدیقہ    52۔ ام کرز
53۔ مالک بن حویرث    54۔ محمد بن عدی بن ربیعہ    55۔ مالک بن سنان والد ابی سعید خدری    56۔ معاذ بن جبل    57۔ امیر معاویہ
58۔ مغیرہ بن شعبہ    59۔ ابن ام مکتوم    60۔ ابو منظور
61۔ ابو موسیٰ اشعری    62۔ ابو ہریرہ    63۔ حاطب بن ابی بلتعہ
64۔ عبداﷲ ابن ابی اوفٰی    65۔ عبداﷲ بن زبیر    66۔ عبداﷲ بن سلام
67۔ عبادہ بن صامت    68۔ ہشام بن عاص    69۔ عبید بن عمر ولیثی
70۔نعیم بن مسعود    71۔ عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین
مقام غور
مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ حضرات صحابہ کرام اور تابعین عظام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین دین اسلام کو ہم سے زیادہ بہتر انداز سے سمجھنے والے تھے ’’ختم نبوت‘‘ کے بارے میں ان کا اجماع بھی انہی معنوں پر ہوا کہ ’’آپﷺ کے بعد کوئی نیا نبی یا رسول نہیں آئے گا‘‘ اور یہ تواتر سے مروی بھی ہے تو یقینا آج یا آج کے بعد کسی بھی دور میں اگر کوئی ان معانی کے خلاف بتائے، وہ آپ اپنا سر کھائے اور جہنم میں جائے۔ اہل ایمان کو اس کی کسی بات پر ہرگز کان نہیں دھرنا، اگرچہ ظاہر میں قرآن و حدیث ہی پیش کرے۔
من جملہ اس باب میں مروی احادیث شریفہ سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ صحیح مسلم شریف و مسند امام احمد و سنن ابو دائود و جامع ترمذی و سنن ابن ماجہ وغیرہا میں ثوبان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں:
انہ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لانبی بعدی (جامع ترمذی، ابواب الفتن، باب ماجاء لاتقوم الساعۃ حتیٰ یخرج کذابون ، امین کمپنی دہلی، 45/2)
ترجمہ: بے شک میری امت دعوت میں یا میری امت کے زمانے میں تیس کذاب ہوں گے کہ ہر ایک اپنے آپ کو نبی کہے گا اور میں خاتم النبیین ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
2۔ امام احمد ’’مسند‘‘ اور طبرانی ’’معجم کبیر‘‘ اور ضیائے مقدسی ’’صحیح مختارہ‘‘ میں حذیفہ رضی اﷲ عنہ سے راوی رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں:
یکون فی امتی کذابون ودجالون سبعۃ و عشرون منہم اربعۃ نسوۃ وانی خاتم النبیین لا نبی بعدی (المعجم الکبیر للطرانی، ترجمہ حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ، حدیث 3026، مکتبہ فیصیلہ بیروت، 170/3)
ترجمہ: میری امت دعوت میں ستائیس دجال کذاب ہوں گے۔ ان میں چار عورتیں ہوں گے حالانکہ بے شک میں خاتم النبیین ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
مذکورہ احادیث میں نئے ’’نبی‘‘ کی نفی کی گئی ہے۔ رسول کی نہیں، تو کیا نیا ’’رسول‘‘ آسکتا ہے؟ جواب آنے والی حدیث میں ہے۔
3۔ احمد وترمذی و حاکم بسند صحیح بر شرط صحیح مسلم حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں:
ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولانبی (جامع الترمذی، ابواب الرؤیا، باب ذہبت النبوۃ الخ، امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی، 51/2)
ترجمہ: بے شک رسالت و نبوت ختم ہوگئی اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی۔
4۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم و سنن ترمذی و تفسیر ابن حاتم و تفسیر ابن مردویہ میں جابر رضی اﷲ عنہ سے ہے رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں۔
مثلی و مثل الانبیاء کمثل رجل ابنتی داراً فاکملہا واحسنہا الا موضع لبنۃ فکان من دخلہا فنظر الیہا قال، مااحسنہا الا موضع اللبنۃ فانا موضع اللبنۃ فختم بی الانبیاء (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، قدیمی کتب خانہ کراچی، 248/2)
ترجمہ: میری اور نبیوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک مکان پورا کامل اور خوبصورت بنایا مگر ایک اینٹکی جگہ خالی تھی تو جو اس گھر میں جاکر دیکھتا، کہتا یہ مکان کس قدر خوب ہے مگر ایک اینٹ کی جگہ کہ وہ خالی ہے تو اس اینٹ کی جگہ میں ہوا مجھ سے انبیاء ختم کردیئے گئے۔
5۔ مسند احمد و صحیح ترمذی میں باوفادہ تصحیح ابی بن کعب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے۔ رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں۔
مثلی فی النبیین کمثل رجل بنی داراً فاحسنہا واکملہا واجملہا وترک فیہا موضع لبنۃ لم یضعہا فجعل الناس یطوفون بالبنیان ویعجبون منہ ویقولون لو تم موضع ہذہ اللبنۃ فانا فی النبیین موضع تلک اللبنۃ (جامع ترمذی، ابواب المناقب، آفتاب عالم پریس لاہور، 301/2)
ترجمہ: پیغمبروں میں میری مثال ایسی ہے کہ کسی نے ایک مکان خوبصورت و کامل و خوشنمابنایا اور ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی وہ نہ رکھی، لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبیو خوشنمائی سے تعجب کرتے اور تمنا کرتے کسی طرح اس اینٹ کی جگہ پوری ہوجاتی تو انبیاء میں اس اینٹ کی جگہ میں ہوں‘‘
حضور غزالی زماں علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی علیہ الرحمہ کا عجیب استدلال
غزالی زماں کے ایک مناظرے کی روداد خود غزالی زماں کی زبانی نقل کرتے ہوئے مولانا مفتی ابراہیم القادری بیان کرتے ہیں کہ غزالی زماں نے قادیانیوں کے خلاف اپنی خدمات کے ضمن میں ایک واقعہ ارشاد فرمایا کہ میں کم سن تھا۔ ابھی میری داڑھی نہیں تھی کہ میں قادیان گیا اور قادیانی علماء سے مناظرہ کیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ بخاری شریف کی حدیث ہے: رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ میری اور گزشتہ انبیائے کرام کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے مکان بنایا ’’فاکملہا‘‘ اس نے اسے مکمل کیا اور حسین بنایا مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کے حسن تعبیر پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کاش! یہ اینٹ کی جگہ خالی نہ ہوتی۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں ہی وہ اینٹ ہوں‘‘
میں نے قادیانی علماء سے پوچھا کہ نبوت کی عمارت میں فقط ایک اینٹ کی گنجائش تھی جسے حضورﷺ نے پورا کردیا۔ اب تم بتائو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو کہاں ڈالو گے؟ وہ سب خاموش ہوگئے اور سوچ میں پڑ گئے۔ پھر ان میں سے ایک بولا: عزیز بات یہ ہے کہ جب عمارت بنائی جاتی ہے تو اس کا پلستر کیاجاتا ہے، ہم مرزا کا پلستر کردیں گے۔ میں نے کہا : تم مرزا صاحب کا پلستر بھی نہیں کرسکتے۔ سرکارﷺ نے فرمایا ’’فاکملہا‘‘ بنانے والے نے عمارت کو مکمل کردیا  اور پلستر کے بغیر عمارت مکمل نہیں ہوسکتی۔ پھر ایک اور نے ہمت کی اور وہ کہنے لگا کہ دیکھیں عزیز ٹھیک ہے کہ پلستر کے بغیر عمارت مکمل نہیں ہوتی مگر عمارت کا رنگ و روغن بھی کیا جاتا ہے۔ ہم مرزا صاحب کا رنگ وروغن کردیں گے۔ میں نے کہا کہ تم مرزا صاحب کا رنگ و روغن بھی نہیں کرسکتے۔ میرے آقاﷺ نے فرمایا ’’فاحسنہا‘‘ بنانے والے نے عمارت کو حسین و جمیل بنایا اور عمارت کا حسن رنگ وروغن ہے۔ اس واقعہ کے بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ میرے استدلال نے ان کی زبانوں کو بند کردیا اوروہ لاجواب ہوگئے اور کوئی بات نہ کرسکے۔
عقیدہ ختم نبوت اور سواداعظم
الحمدﷲ گزشتہ صفحات میں گزرا کہ حضرات صحابہ کرام اور تابعین رضی اﷲ عنہم کا ختم نبوت پر اجماع تھا۔ اسی طرح تبع تابعین اور ان کے بعد سے لے کر آج تک امت مرحومہ کا یہ متفقہ اور اجماعی عقیدہ رہا ہے۔
عقیدہ ختم نبوت اور عقل صحیح
گزشتہ سطور میں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوچکی ہے کہ عقیدہ ختم نبوت ضروریات دین سے ہے، جس کے لئے دلیل کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ اہل ایمان کے لئے یہی کافی ہے کہ یہ عقیدہ ضروریات دین سے ہے اور بس۔ یہاں عقلی دلائل ذکر کرنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ خدانخواستہ عقیدہ ختم نبوت کو ثابت کرنے کے لئے دوسرے دلائل نہیں ہیں یا کمزور ہیں۔ اسی لئے عقل کا سہارا لیا جارہا ہے بلکہ بتانا یہ مقصود ہے کہ عقیدہ ختم نبوت جس طرح قرآن، سنت اور سواد اعظم سے ثابت ہے، اسی طرح عقل صحیح بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ آپﷺ کے دنیا میں مبعوث ہوجانے کے بعد رہتی دنیا تک کسی نئے نبی یا رسول کی ضرورت نہ ہو۔ کیسے؟
قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حالات جن میں حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا گیا ،وہ چار قسم کے تھے:
پہلی قسم: کسی قوم میں نہ تو کوئی نبی مبعوث کیا گیا ہو اور نہ کسی نبی کی تعلیم ان لوگوں تک پہنچی ہو۔
دوسری قسم: کسی گروہ انسانی تک نبی تو بھیجا گیا لیکن اس کی لائی ہوئی شریعت میں تحریف ہوگئی اور نیا نبی نئی شریعت لے کر تشریف لایا ہو۔ جیسے بنی اسرائیل نے شریعت موسوی میں تحریف کردی تھی، تو حضرت عیسٰی روح اﷲ علیہ السلام نئی شریعت لے کر ان میں تشریف لائے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
من الذین ہادو یحرفون الکلم عن مواضعہ ویقولون سمعنا وعصینا واسمع غیر مسمع وراعنا لیا بالسنتہم وطعناً فی الدین (سورۂ نسآئ: 46-44/4)
ترجمہ: کچھ یہودی کلاموں کو ان کی جگہ سے پھیرتے ہیں اورکہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا اور سنئے آپ سنائے نہ جائیں اور ’’راعنا‘‘ کہتے ہیں زبانیں پھیر کر اور دین میں طعنہ کے لئے۔
تیسری قسم: گزشتہ نبی کی تعلیمات انسانی زندگی کے تمام پہلوئوں پر حاوی نہ تھیں تو پچھلی شریعت کی تکمیل کے لئے نیا نبی مبعوث کیا گیا۔
چوتھی قسم: کبھی ایک نبی کی زندگی ہی میں ان کی ذمہ داریوں میں ہاتھ ہٹانے کے لئے دوسرا نبی بھیجا گیا۔ مثلا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما الصلوٰۃ والسلام۔
اب اگر ان حالات پر غور کریں کہ آج ان حالات میں سے کون سی حالت پائی جاتی ہے؟ تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ الحمدﷲ آج مذکورہ حالات میں سے کوئی حالت نہیں پائی جاتی۔
1۔ کیونکہ رسول اﷲﷺ کے لائے ہوئے دین اسلام کا پیغام کرۂ ارض کے گوشے گوشے میں پہنچ چکا ہے۔
2۔ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی لائی ہوئی شریعت انسانی زندگی کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے، اس میں حیات انسانی کے کسی شعبہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔
3 آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نازل کردہ کتاب قرآن کریم آج بھی بحمدﷲ تعالیٰ اسی طرح صحیح سلامت بغیر کسی کمی بیشی کے ہمارے پاس ہے، جس طرح نبی اکرمﷺ پر نازل کیا گیا تھا۔ تقریبا دو ہزار گیارہ سال کا عرصہ گزرا لیکن انجیل کے کسی ایک متن پر اتفاق نہ ہوسکا جبکہ مسلمانوں کے اگرچہ کئی فرقے ہوئے جن میں اختلاف بھی رہا لیکن قرآن کریم پر سب کا ایمان ایک ہی رہا۔ اس میں حروف تو کیا زیر و زبر کی تبدیلی بھی نہ آئی، اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ قیامت تک کے لئے یہی ایک کتاب ہدایت ہے، اور کیونکر نہ ہو کہ اس کی حفاظت کا ذمہ اﷲ تعالیٰ نے خود لیاہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحٰفظون  (سورۂ حجر: 15/9)
ترجمہ: بے شک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم خود اس کے نگہبان ہیں
4۔ چوتھا نکتہ باقی رہتا ہے کہ اس پر تفصیل سے بحث کی جائے۔ یعنی کسی مددگار نبی کی ضرورت۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی ہستی کو آپﷺ کی اعانت کے لئے نبی بنایا جانا ضروری تھا تو وہ آپﷺ کی زندگی میں بنایا جاتا، کیونکہ اسلام کے ابتدائی دور میں کفار و مشرکین نے طرح طرح کے مظالم کئے جس کی وجہ سے نبی کریمﷺ کو مختلف قسم کی اذیتیں اور دکھ اٹھانا پڑے۔ جب اس دور میں آپﷺ کی حیات مبارکہ میں کسی نبی کو آپﷺ کی مدد کے لئے ضروری نہیں سمجھا گیا تو پھر آج کے دور میں جبکہ اسلام آج غلبہ پاچکا ہے اور کرۂ ارض کے کونے کونے میں رسول اﷲﷺ کا پیغام امن وسلامتی پہنچ چکا ہے، کسی بھی نبی کی بعثت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اس سلسلے میں بعض حضرات یہ دلیل دیتے ہیںکہ حالات بگڑ چکے ہیں، بداخلاقیاں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں، گناہوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ غیر شرعی باتیں تیزی سے رواج پکڑتی جارہی ہیں، تو کیا ماحول ایک نئے نبی کی بعثت کا تقاضا نہیں کرتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ حالات کی درستگی اور اصلاح کے لئے کبھی نبی نہ آئے بلکہ مصلحین تشریف لائے، جنہوں نے معاشرے کو فساد اور بگاڑ سے پاک کیا، لوگوں کو حق پر عمل کرنے کے لئے آمادہ کیا، شریعت کو اپنانے کی رغبت دلائی۔ لہذا اب بھی ایسے مصلحین کی ضرورت ہے اور رہے گی جن کی شخصیت میں قول وعمل کی موافقت ہو اور حسن قول کے ساتھ ساتھ حسن عمل بھی ہو تا تاکہ لوگوں کو رسول اﷲﷺ کا پیغام ایک عملی کردار کے پیکر کی صورت میں دکھا سکیں، نیز لوگوں کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ مصلحین نیکی کا حکم تو کرتے ہیں مگر اس پر خود عمل نہیں کرتے۔
الحمدﷲ آج ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں کہ علماء و مشائخ اہلسنت تبلیغ دین و اصلاح امت کا کام بحسن و خوبی سرانجام دے رہے ہیں، کوئی تحریر و تصنیف اور تالیف کے ذریعے تو کوئی تقریر، وعظ و نصیحت کے ذریعے۔ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔