یوم الفرقان (حق و باطل میں امتیاز کا دن)

in Tahaffuz, July 2013, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

بدر ایک گاؤں کا نام ہے جہاں ہر سال میلہ ہوتا ہے یہ مقام مدینہ منورہ سے 80میل کے فاصلہ پر ہے حضور کریم ﷺ اور آپ کے ہمراہیوں نے جب ہجرت فرمائی تو قریش نے ہجرت کے ساتھ ساتھ ہی مدینہ پر حملہ کی تیاریاںشروع کر دی تھیں اسی اثناء میں یہ غلط خبر مکہ میں پھیل گئی تھی کہ مسلمان قافلہ کو لوٹنے آرہے ہیں اور اس پر مزید کہ حضرمی قتل کا اتفاقیہ پیش آگیا جس نے قریش کی آتشِ غضب کو اور بھڑکادیا تاجدار کائنات ﷺکو جب ان حالات کی خبر ہوئی تو آپﷺنے صحابہ کرام کو جمع کیا ور امرواقع کا اظہار فرمایا ۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب میں جانثار انہ تقریرکی۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان کا ایمانی جذبہ
حدیث شریف =حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میںنے ابن مسعود سے سنا وہ کہتے تھے میںنے مقدار بن اسود کی ایک ایسی بات دیکھی اگر وہ بات مجھ کو حاصل ہوتی تو اس کے مقابل میںکسی نیکی کو نہ سمجھتا اور مجھے سب سے زیادہ پسند ہوتی،ہوا یہ کہ جب حضور ﷺ مشرکین کے خلاف دعا کر رہے تھے اتنے میں مقداد بن اسود آن پہنچے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! ہم موسی علیہ السلام کی قوم نہیںجنہوں نے ان سے کہا تھا کہ تم اور تمہار ا پروردگا ر دونوں لڑو ۔ یا رسول اللہ ﷺ!ہم تو آپ کے داہنے طرف بائیں طرف سامنے اور پیچھے(جدھر آپ ﷺکا ارشارہ ہو گا جہاں آپ کا دشمن ہوگا اس سے )لڑیں گے ابن مسعود کہتے ہیںکہ مقداد بن اسود کے یہ کہتے ہی میں نے دیکھا کہ تاجدار کائنات ﷺکا چہرہ مبارکہ چمکنے لگا آپ ﷺخوش ہوگئے۔(صحیح بخاری،کتاب المغازی)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اندازہ کر لیا کہ حضور ﷺ،انصار کی طرف سے بھی اظہار خیال چاہتے ہیں لہٰذاآپ کھڑے ہوئے اور عرض کرنے لگے۔
یا رسول اللہ ﷺ!قسم !اس خدا کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اگر آپ دریا میں چھلانگ لگانے کا حکم دیںگے تو بھی ہم تعمیل کریں گے اور ہم میں سے کوئی پیچھے نہ رہے گا ،جس کے ساتھ آپ چاہیں تعلق رکھیں اور جس سے منقطع کرنا چاہیں منقطع فرمالیں ،اور جس قدر چاہیںہماری دولت میں سے خرچ کریں ہمارے لئے باعث خوشی ہوگااور جو چاہیں چھوڑدیں اور قسم اس خدا کی،جس کے قبضہ میںہماری جان ہے،ہمیں دشمن تک پہنچنا اور اس سے جنگ کرنا ہر گز نا گوار نہیں،شاہداللہ تعالی،ہم سے آپ کو کوئی ایسی چیز دکھائے جس سے آپ ﷺکی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اورآپ خوش ہوں بس !اب اے آقاﷺ، آپ ارادہ فرمائیں جو چاہیں ۔
یہ گفتگو سن کر ،حضور کریم ﷺکا چہرہ انور چمک اٹھا اور آپ نے غلاموں سے وہی کچھ سنا جس کی آپ کو امید تھی پس ! آپ ﷺنے فرمایا چلو !خدا تعالی کی برکت سے،خوش ہوکہ اللہ تعالی نے مجھ سے دو گروہوں میںسے ایک کا وعدہ فرمایا ہے ۔خدا تعالی کی قسم !دشمنوں کے ہلاک ہونے کی جگہیں میری نظروں کے سامنے ہیں ۔
میدان بدر کا معائنہ
سرور کونین ﷺچند صحابہ کے ہمراہ میدان جنگ کا معائنہ کرنے میدان میں تشریف لے چلے۔ آپ ﷺکے دست مبارک میں ایک چھڑی تھی جس سے آپ زمین پرجگہ جگہ لکیریںبناتے جاتے اور فرماتے کہ یہاں ابو جہل ہلاک ہو کر گرے گا، یہاں فلاں اور یہاں کافر گرے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ آپ نے جس جگہ جس کافر کی لکیر بنائی تھی، وہ قتل ہوا اور اسی جگہ گرا ،بال برابر فرق نہ ہوا۔
حق و باطل آمنے سامنے
دونوں لشکر ایک دوسر ے کے قریب ہوئے تاریخ اسلام میں ،حق و باطل کے سامنے یہ پہلا موقع اور عجب منظر تھا،مسلمان خدا تعالی کا شکر ادا کر رہے تھے کہ پندرہ سال کی قلیل مدت میں خدا تعالی نے ان کو اتنی ہمت و جرات عطافرمادی کہ آج وہ ظالموں سے آنکھیں ملائے انکا سر کچلنے کے لئے تیارکھڑے ہیں اب نہ کسی کا رعب ہے،نہ ڈر،کفار قریش یہ منظر دیکھ کر ہی جلے بھنے جارہے ہیں کل تک انہوں نے جن کی گردنیںدبا رکھی تھیں آج وہ ان کے سینوں پر سوار ہونے والے ہیں ،کل تک جو مظلوم تھے،آج وہ قیامت تک کے لئے،مظلوموں کا سہارا بن کر ظالموں کے مقابلے پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔
کیسا عجب منظر تھا،حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے،اپنے بیٹے عبدالرحمن (اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے )کو دیکھا تو تلوار تان کر آگے بڑھے حضرت حزیفہ رضی اللہ عنہ  نے اپنے باپ عتبہ کو دیکھا تو سر قلم کرنے کے لئے بے تاب ہو گئے،بھائی کو بھائی قتل کر دینے کے لئے تیار کھڑا تھا ،اس منظر کو دیکھنے والوں !یہ نہ سوچنا کہ اسلام نے بھائی کو بھائی سے،باپ کو بیٹے سے جدا کر دیا،ایک قبیلہ،ایک رنگ،ایک زبان کے لوگوں کو باہم ٹکرادیا ،نہیں ایسا نہیں ،بلکہ اسلام نے تو،صلہ رحمی کی بے حد تاکید فرمائی،قاطع رحم کو جہنمی قرار دیاہے،پس صرف اتنی بات ہے کہ اسلام تمام تعلقات کا مر کز و سر چشمہ،اللہ اور اس کے رسول کو قرار دیتا ہے وہ سب بھائی ہیں جن کا تعلق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے ہے،چاہے،ایک قبیلے کے ہوں، یا مختلف قبائل کے،ایک رنگ یا مختلف رنگ ہوں ایک زبان یا مختلف زبان یا مختلف زبانیں بولتے ہیں،اسلام نے عصبیت کے تمام بتوں کو چکنا چور کر ڈالا ہے۔ اسی لئے،جن کا تعلق اسلام سے نہ ہو اہل اسلام کا اس سے کوئی رشتہ نہیں رہتا جو خدا کا باغی ہے وہ مسلمان کا ساتھی کب ہو سکتا ہے جو رسول کا دشمن ہے ان کا گستاخ ہے۔ وہ حضور ﷺکے غلاموں کا دوست کب ہو سکتا ہے یہ منظر تو بدر میں دکھایا گیاکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک حبشی غلام حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو تو گلے لگاتے ہیں لیکن اپنے جگر گوشے کو دیکھ کر سر قلم کر لینے کے لئے بے چین ہوجاتے ہیں ۔
فتح و نصرت کا اعلان
لشکر قریش کے تقریبا تمام ہی سردار،سر غنہ اور بہادر ہلاک ہو چکے تھے اب کسی میںمسلمانوں کو للکارنے کی ہمت نہ رہی،تو سب کے سب پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے مسلمانوں کی فتح کا اعلان ہو گیا۔
سب کے سب پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے مسلمانوں کی فتح کا اعلان ہو گیا،حضور ﷺکی اجازت سے مجاہدین نے،بچے کھچے،دشمنوں کو قیدی بنانا،اور لشکر کے مال پر قبضہ کرنا شروع کردفیا جو بھاگ سکے وہ بھاگے ،باقی گرفتار کر کے،دربار مصطفی ﷺمیں پیش کر دیئے گئے اللہ تعالی نے اپنا وعدہ پوراکیا حق کو غالب و ثابت کر دکھایا۔
شہداء کی تعداد
حق و باطل کے اس معرکے میں صرف چودہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے جام شہادت نوش فرماکر حیات ابدی حاصل کی ان خوش نصیبوں کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔
حضرت عبیدہ بن حارث،حضرت عمیر بن ابی وقاصِ،حضرت عمیر ذوشمالین ،حضرت عاقل بن ابی بکیر،حضرت مہجع بن صالح،حضرت صفوان بن بیضائ،حضرت سعد بنخیشمہ، حضرت مبشربن عبدالمنذر ،حضرت حاثہ بن سارقہ،حضرت معوذبن عضرائ، حضرت عمیر بن حمام ،حضرت راجو بن معلی،حضرت عوف بن عفراء اورحضرت یزید بن ثابت ہیں۔یہ حق و باطل میں امتیاز کا دن تھا جسے یوم الفرقان کہا جاتا ہے جس کا ذکر پروردگار عالم جل جلالہ میں یوں فرماتا ہے۔
ترجمہ:۔اوریاد کرو جب وعدہ فرمایا تم سے اللہ نے دو گروہوں میں سے ایک کا کہ وہ تمہارے لئے ہے اور تم پسند کرتے تھے کہ،نہتہ گروہ تمہارے حصہ میں آئے اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو حق کر دے،اپنے ارشادات سے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے  تاکہ ثابت کر دے حق کو اور مٹا دے باطل کو اگر چہ نا پسند کریں،عادی مجرم۔(سورہ انفال)
اللہ تعالی شہدائے بدر کی قبروں پر رحمت و رضوان کی بارش نازل فرمائے آمین ثم آمین