فضائل شیر خدا بزبانِ حبیب خدا

in Tahaffuz, July 2013, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

آپ رضی اﷲ عنہ کا نام نامی علی، کنیت ابوالحسن اور ابو تراب ہے۔ آپ رضی اﷲ عنہ کو اﷲ تعالیٰ نے بے شمار خصوصیات سے نوازا تھا۔ سرور کائناتﷺ آپ سے بہت محبت فرماتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو اﷲ تعالیٰ کو بارگاہ سے بے شمار انعامات نصیب ہوئے جن کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے۔
1… آپ اﷲ تعالیٰ کے گھر بیت اﷲ میں اﷲ تعالیٰ کے مہینے رجب المرجب میں پیدا ہوئے۔
2… آپ کو ولادت کے بعد پہلا غسل تاجدارِ کائناتﷺ نے دیا۔
3… آپ نے ولادت کے بعد آنکھیں کھولیں تو سب سے پہلے اپنے مولیٰﷺ کا دیدار کیا۔
4… آپ نوعمروں میں سب سے پہلے اسلام لائے۔
5… آپ نے کبھی بت پرستی نہیں کی۔
6… آپ عشرۂ مبشرہ میں سے ہیں، جن کے لئے جنت کا وعدہ کیا گیا۔
7… چچا زاد ہونے کی وجہ سے آپ کو بارگاہ رسالت سے عزت و مواخات بھی عطا ہوئی۔
8… شہزادیٔ کونین خاتون جنت سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا آپ رضی اﷲ عنہ کے عقد میں آئیں۔
9… آپ کو دامادِ رسول ہونے کا شرف نصیب ہوا۔
10… آپ کو بارگاہ رسالت سے ’’اسد اﷲ‘‘ (اﷲ تعالیٰ کا شیر) کا خطاب ملا۔
11… آپ کا شمار بدری صحابہ کرام میں بھی ہوتا ہے۔
12… آپ کی شجاعت و بہادری اور زوروقوت کے ہر جانب چرچے ہیں۔
13… جنگ تبوک کے موقع پر حضورﷺ نے آپ کو مدینہ کا خلیفہ بنایا تھا۔
14… ہجرت کے موقع پر حضورﷺ نے اپنے بستر اطہر پر آپ کو سلایا تھا۔
15… خیبر کے موقع پر فتح کا علم حضورﷺ نے آپ ہی کو عطا کیا تھا۔
16… حضورﷺ نے آپ کو کائنات کا مولیٰ قرار دیا۔
17… حضورﷺ نے آپ کو علم کا دروازہ ارشاد فرمایا۔
18… کروڑوں اولیاء اﷲ آپ کے سینۂ نور گنجینہ سے مستفیض ہیں۔
سرور کونینﷺ نے ارشاد فرمایا کہ علی رضی اﷲ عنہ کی طرف دیکھنا عبادت ہے (بزّار)
سرور کائناتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے علی رضی اﷲ عنہ کو ایذا دی، اس نے مجھے دکھ پہنچایا۔
تاجدار کائناتﷺ نے فرمایا علی رضی اﷲ عنہ مجھ سے ہے اور میںعلی سے ہوں (ترمذی و نسائی)
حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے محبت کرو
حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا۔ میرے پاس عرب کے سردار یعنی حیدر کرار کو بلا لائو۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے عرض کی۔ یا رسول اﷲﷺ کیا آپ عربی کے سردار نہیں ہیں؟ فرمایا میں تو اولاد آدم (یعنی ساری کائنات) کا سردار ہوں اور علی رضی اﷲ عنہ عرب کے سردار ہیں۔ پس جب حضرت علی رضی اﷲ عنہ حاضر ہوئے تو حضورﷺ نے انصار کو بلانے کے لئے آپ رضی اﷲ عنہ کو بھیجا۔ جب انصار حاضر ہوئے تو آپﷺ نے فرمایا۔ اے انصار کے گروہ کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتائوں کہ اگر تم اس پر عمل کرو گے تو اس کے بعد کبھی بھی راہ راست سے نہ بھٹکو گے؟ انصار نے عرض کی۔ کیوں نہیں یا رسول اﷲﷺ (ضرور ارشاد فرمائیں) آپﷺ نے فرمایا یہ علی (رضی اﷲ عنہ) ہیں۔ تم میری محبت کے ساتھ ساتھ ان سے بھی محبت رکھو اور میری عزت کے ساتھ ان کی بھی عزت کرو (پھر ارشاد فرمایا) یہ جس بات کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے یہ جبرئیل امین علیہ السلام نے بذریعہ وحی مجھے بتائی ہے۔ یہ حکم اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے (المعجم الکبیر، رقم الحدیث 2739، جلد 3، ص 88)
حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی شان میں احادیث
حدیث شریف: حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سید عالمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ (ترمذی شریف، ابواب المناقب، حدیث نمبر 3723، ص 2035)
حدیث شریف: حضرت عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔ میں سرور کائناتﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ کسی نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپﷺ نے ارشادفرمایا۔ حکمت و دانائی کو دس حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ نو حصے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو اور ایک حصہ اور لوگوں کو عطا کیا گیا (تاریخ دمشق لابن عساکر، حدیث نمبر 4933)
حدیث شریف: حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی مجھے نصیحت فرمایئے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کہو میرا رب اﷲ تعالیٰ ہے۔ پھر اس پر قائم رہو۔ آپ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میرا رب اﷲ تعالیٰ ہے۔ اسی کی طرف سے توفیق ہے۔ میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور مجھے اس کی طرف لوٹنا ہے تو آپﷺ نے فرمایا۔ اے ابو الحسن (یہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی کنیت ہے) تمہیں علم مبارک ہو، تم نے علم کے سمندر سے پی پی کر خوب پیاس بجھائی (تاریخ دمشق لابن عساکر، حدیث نمبر 4233)
نگاہِ ابن مسعود میں مقام علی رضی اﷲ عنہ
حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔ بے شک قرآن مجید سات حروف پر اترا ہے اور ان میں سے ہر حرف کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ ایسے عالم ہیں جن کے پاس ظاہر و باطن دونوں کا علم ہے ۔
(تاریخ دمشق لابن عساکر حدیث نمبر 4233)
نگاہِ فاروقی میں مقام علی رضی اﷲ عنہ
حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ ہم میں سب سے بڑے قاضی اور حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ عنہ ہم میں سب سے بڑے قاری ہیں۔ (مسند امام احمد بن حنبل، حدیث نمبر 21143، جلد 8،ص 6)
حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا علم
حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کی قسم! میں قرآن مجید کی ہر آیت کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ کب اور کہاں نازل ہوئی۔ بے شک میرے رب جل جلالہ نے مجھے بہت سمجھنے والا دل اور بہت سوال کرنے والی زبان عطا کی ہے (طبقات الکبری، لابن سعد، جلد 2،ص 257)
سب سے زیادہ خوف خدا رکھنے والے
حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ بعض لوگوں نے حضورﷺ کی خدمت میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی شکایت کی۔ آپﷺ یہ سن کر منبر شریف پر تشریف فرما ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو! علی رضی اﷲ عنہ کے بارے میں شکایت نہ کرو۔ اﷲ تعالیٰ کی قسم! وہ سب سے زیادہ خوف خدا رکھنے والے ہیں (مسند امام احمد ابن حنبل، حدیث نمبر 11817، جلد 4، ص 172)
وصال شریف
شب جمعہ 17 رمضان المبارک 40ھ کو حضرت علی رضی اﷲ عنہ فجر کے وقت بیدار ہوئے۔ اس رمضان میں آپ کا یہ دستور تھا کہ ایک شب حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کے پاس، ایک شب امام حسن رضی اﷲ عنہ کے پاس افطار فرماتے اور تین لقموں سے زیادہ تناول نہ فرماتے تھے اور فرماتے کہ مجھے یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ سے ملنے کے وقت میرا پیٹ خالی ہو۔ آج کی شب تو یہ حالت رہی کہ بار بار مکان سے باہر تشریف لاتے اور آسمان کی طرف دیکھ کر فرماتے  ،بخدا مجھے کوئی خبر جھوٹی نہیں دی گئی۔ یہ وہی رات ہے جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔
سترہ رمضان المبارک کو آپ رضی اﷲ عنہ سجدہ میں تھے کہ شقی ازلی عبدالرحمن ابن ملجم خارجی نے اس شمع ہدایت پر جس کی حیات کا ایک لمحہ نوع انسانی کے لئے مشعل راہ تھا اور جو تقویٰ، پرہیزگاری، علم و معرفت میں یکتائے روزگار تھا، زہر آلود خنجر سے وار کیا اور یہ علم و فضل کا آفت تقویٰ، پرہیزگاری، علم و معرفت میں یکتائے روزگار تھا، زہر آلود خنجر سے وار کیا اور یہ علم و فضل کا آفتاب 21 رمضان المبارک 40ھ کو غروب ہوگیا۔