فہم القرآن (کریم کے در سے کریم مہینے کی آمد)

in Tahaffuz, July 2013, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

ہر طرف نور ہی نور، ہوا، فضا اور موسم میں ایک عجیب سا کیف و سرور نظر آتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ بدل گیا ہے۔ آسمانوں سے رحمتوں کی بارش، زمین والوں پر ہر لمحہ نوازش، زمین پر معصوم ملائکہ کا نزول، عاصیوں کے لئے مغفرت کے پروانے تقسیم، نیکو کاروں کے لئے درجات میں بلندی کی بشارتیں، سحری کے ایمان افروز لمحات، افطار کی بابرکت گھڑیاں، دعائوں کی قبولیت کی ساعتیں، تراویح کی حلاوتیں، تہجد کی نماز کی چاشنی، تلاوت قرآن سے فضائوں کا گونجنا، نعت مصطفیﷺ سے مسلمانوں کا جھومنا، حالت روزہ میں دلوں کا جگمگانا، روزہ داروں کے پررونق چہرے، مساجد میں مسلمانوں کا جم غفیر، صدقات و خیرات و زکوٰۃ کا تقسیم ہونا، کوئی اشارہ مل رہا ہے، دل گواہی دے رہا ہی، خشوع و خضوع بڑھتا چلا جارہا ہے۔ عبادت کا ذوق و شوق بڑھتا چلا جارہا ہے۔ یقینا یقینا کریم مہینہ جلوہ افروز ہوچکا ہے۔ کریم پروردگار جل جلالہ کے در سے، کریمﷺ کے صدقے میں، رمضان کریم تشریف لایا ہے۔
اس کی لذت اہل عشق ہی محسوس کرسکتے ہیں۔ ہم جیسے ناتواں، کمزور، گنہگار، بدکار، سیاہ کار، عصیاں شعار، ہر طرح سے بے کار اور بے قدرے لوگ اس کی قدورمنزلت کیا جانیں؟ اہل دل ہی اس ماہ کا مقام و مرتبہ جان سکتے ہیں۔
اس ماہ کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس ماہ میں قرآن مجید کا نزول ہوا، سورۂ بقرہ کے 23 ویں رکوع کی آیت 185 میں ارشاد ہوتا ہے۔
القرآن: شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن، ہدی للناس وبینٰت من الہدی والفرقان
ترجمہ: رمضان کا مہینہ، جس میں قرآن اترا، لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں (سورۂ بقرہ،آیت 185، پارہ 2)
جب کلام الٰہی سب کلاموں کا سردار ہے تو جس ماہ مقدس میں اس کا نزول ہوا، وہ مہینہ دیگر مہینوں کا سردار کیونکر نہ ہو؟ قرآن مجید کے علاوہ اﷲ تعالیٰ کی اور کتابیں بھی اسی ماہ رمضان میں نازل ہوئی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے یکم یا تین رمضان کو نازل ہوئے، حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت چھ رمضان المبارک کو، حضرت عیسٰی علیہ السلام پر انجیل بارہ یا چودہ رمضان المبارک کو، حضرت دائود علیہ السلام پر زبور بارہ یا اٹھارہ رمضان المبارک کو نازل ہوئی اور قرآن مجید لیلۃ القدر (ستائیسویں شب) میں نازل ہوا۔ لہذا اس مہینے کو قرآن مجید سے خاص مناسبت ہے۔ اسی لئے حضور اکرم نور مجسمﷺ اس مہینے میں جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن مجید کا دور فرماتے تھے اور آپ اس مہینے میں چھوٹی ہوئی تیز ہوائوں سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔
ماہ رمضان المبارک
کے فضائل و برکات
حدیث شریف: حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو آسمانوں اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور آخر رات تک بند نہیں ہوتے جو کوئی بندہ اس ماہ مبارک کی کسی بھی رات میں نماز پڑھتا ہے، تو اﷲ تالیٰ اس کے ہر سجدہ کے عوض(یعنی بدلہ میں) اس کے لئے پندرہ سو نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے لئے جنت میں سرخ یاقوت کا گھر بناتا ہے جس میں ساٹھ ہزار دروازے ہوں گے اور ہر دروازے کے پٹ سونے کے بنے ہوں گے جن میں یاقوت سرخ جڑے ہوں گے۔ پس جو کوئی ماہ رمضان کا پہلا روزہ رکھتا ہے تو اﷲ تعالیٰ مہینے کے آخر دن اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کے لئے صبح سے شام تک ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ رات اور دن میں جب بھی وہ سجدہ کرتا ہے اس ہر سجدہ کے عوض (یعنی بدلے) اسے (جنت میں) ایک ایسا درخت عطا کیا جاتا ہے کہ اس کے سائے میں گھوڑے سوار پانچ سو برس تک چلتا رہے (شعب الایمان جلد 3 صفحہ نمبر 314)
حدیث شریف: حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضور کریمﷺ کا فرمان ہے کہ پانچوں نمازیں، جمعہ اگلے جمعہ تک اور ماہ رمضان اگلے ماہ رمضان تک گناہوں کا کفارہ ہیں جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے (صحیح مسلم، جلد اول صفحہ نمبر 122)
حدیث شریف: حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ بے شک جنت ابتدائی سال سے آئندہ سال تک رمضان المبارک کے سجائی جاتی ہے اور فرمایا رمضان شریف کے پہلے دن جنت کے درختوں کے نیچے سے بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں پر ہوا چلتی ہے اور وہ عرض کرتی ہیں، اے پروردگار جل جلالہ! اپنے بندوں میں سے ایسے بندوں کو ہمارا شوہر بنا جن کو دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور جب وہ ہمیں دیکھیں تو ان کی آنکھیں بھی ٹھنڈی ہوں (مشکوٰۃ شریف صفحہ نمبر 174)
حدیث شریف: حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ اﷲ تعالیٰ ماہ رمضان میں روزانہ افطار کے وقت دس لاکھ ایسے گنہ گاروں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے جن پر گناہوں کی وجہ سے جہنم واجب ہوچکا تھا، نیز شب جمعہ اور روز جمعہ (یعنی جمعرات کو غروب آفتاب سے لے کر جمعہ کو غروب آفتاب تک) کی ہر ہر گھڑی میں ایسے دس دس لاکھ گنہ گاروں کو جہنم سے آزاد کیا جاتا ہے جو عذاب کے حقدار قرار دیئے جاچکے ہوتے ہیں (کنزالعمال جلد 8 صفحہ نمبر 223)
حدیث شریف: حضرت ضمرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ سید عالمﷺ کا فرمان ہے کہ ماہ رمضان میں گھر والوں کے خرچ میں کشادگی کرو کیونکہ ماہ رمضان میں خرچ کرنا اﷲ تعالیٰ کی راہ  میں خرچ کرنے کی طرح ہیں (کنزالعمال جلد 8، صفحہ نمبر 216)
حدیث شریف: حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ فرماتے ہیں روزہ اور قرآن بندے کے لئے قیامت کے دن شفاعت کریں گے۔ روزہ عرض کرے گا، اے رب کریم جل جلالہ! میں نے کھانے اور خواہشوں سے دن میں اسے روک دیا، میری شفاعت اس کے حق میںقبول فرما۔ قرآن کہے گا، میں نے اسے رات میں سونے سے باز رکھا، میری شفاعت اس کے لئے قبول کر۔ پس دونوں کی شفاعتیں قبول ہوں گی۔ (مسند امام احمد، جلد 2، صفحہ نمبر 586)
حدیث شریف: حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی علیہ السلام کو نہ ملیں۔
1۔ پہلی یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ ان کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف اﷲ تعالیٰ نظر رحمت فرمائے اسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا۔
2۔ دوسری یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو (جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اﷲ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔
3۔ تیسرے یہ کہ فرشتے ہر رات اور دن ان کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
4۔ چوتھے یہ کہ اﷲ تعالیٰ جنت کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ’’میرے (نیک) بندوںکے لئے مزین (یعنی آراستہ) ہوجا عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے‘‘
5۔ پانچواں یہ کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اﷲ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمادیتا ہے۔
قوم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کی، یارسول اﷲﷺ کیا یہ لیلۃ القدر ہے؟ ارشاد فرمایا نہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کاموں سے فارغ ہوجاتے ہیں تو انہیں اجرت دی جاتی ہے (الترغیب والترہیب جلد دوم صفحہ نمبر 20)
محترم حضرات! آپ نے ماہ رمضان شریف کے فضائل و مناقب احادیث کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں۔ حقیقت میں کیاشان ہے ماہ رحمت و مغفرت کی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ مہینہ اﷲ تعالیٰ کی جانب سے ہر صورت ہماری مغفرت کروانے کے لئے تشریف لاتا ہے۔ جنت کے پروانے تقسیم کرنے کے لئے تشریف لاتا ہے۔
٭ حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے ’’اس مہینہ کو خوش آمدید ہے جو ہمیں پاک کرنے والا ہے۔ پورا رمضان خیر ہی خیر ہے۔ دن کا روزہ ہو یا رات کا قیام۔ اس مہینہ میں خرچ کرنا جہاد میں خرچ کرنے کا درجہ رکھتا ہے‘‘ (تنبیہ الغافلین صفحہ نمبر 321)
٭ حضرت مولیٰ علی شیر خدا کرم اﷲ وجہہ الکریم فرماتے ہیں ’’اگر اﷲ تعالیٰ کو امت محمدیﷺ پر عذاب کرنا مقصود ہوتا تو ان کو رمضان اور سورۂ اخلاص ہرگز عنایت نہ فرماتا‘‘ (نزہۃ المجالس، جلد اول صفحہ نمبر 163)
٭ منقول ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت عیسٰی علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے امت محمدیہﷺ کو دو نور عطا کئے ہیں تاکہ وہ دو اندھیروں کے ضرر (یعنی نقصان) سے محفوظ رہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی یااﷲ جل جلالہ! وہ کون کون سے نور ہیں؟ ارشاد ہوا نور رمضان اور نور قرآن۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی دو اندھیرے کون کون سے ہیں، فرمایا! ایک قبر کا اور دوسرا قیامت کا (درۃ الناصحین ص 11)
رمضان المبارک میں
گناہ کرنے والوں کا انجام
حدیث شریف: سیدہ ام ہانی رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم نور مجسمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’میری امت ذلیل و رسوا نہ ہوگی جب تک ماہ رمضان کے حق کو ادا کرتی رہے گی۔‘‘ عرض کی گئی یارسول اﷲﷺ! رمضان کے حق کو ضائع کرنے میں ان کا ذلیل و رسوا ہونا کیا ہے؟ فرمایا اس ماہ میں ان کا حرام کاموں کا کرنا، پھر ارشاد فرمایا جس نے اس ماہ میں زنا کیا، یا شراب پی تو اگلے رمضان تک اﷲ تعالیٰ اور جتنے آسمانی فرشتے ہیں سب اس پر لعنت کرتے ہیں۔ پس اگر یہ شخص اگلے ماہ رمضان کو پانے سے پہلے ہی مرگیا تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی جو اسے جہنم کی آگ سے بچا سکے۔ پس تم ماہ رمضان کے معاملے میں ڈرو کیونکہ جس طرح اس ماہ میں اور مہینوں کے مقابلے میں نیکیاں بڑھا دی جاتی ہیں، اسی طرح گناہوں کا بھی معاملہ ہے (طبرانی معجم صغیر جلد اول صفحہ نمبر 248)
٭ ایک بار حضرت علی رضی اﷲ عنہ زیارت قبور کے لئے کوفہ کے قبرستان تشریف لے گئے۔ وہاں ایک تازہ قبر پر نظر پڑی۔ آپ کو اس کے حالات معلوم کرنے کی خواہش ہوئی۔ چنانچہ بارگاہ خداوندی میں عرض گزار ہوئے۔ یااﷲ جل جلالہ! اس میت کے حالات مجھ پر منکشف (یعنی ظاہر) فرما۔ فورا اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کی التجا مسموع ہوئی (یعنی سنی گئی) اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ کے اور اس مردے کے درمیان جتنے پردے تھے، تمام اٹھا دیئے گئے۔ اب ایک ہیبت ناک منظر آپ کے سامنے تھا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ مردہ آگ کی لپیٹ میں ہے اور رو رو کر اس طرح آپ سے فریاد کررہاہے۔ اے علی رضی اﷲ عنہ میں آگ میں جل رہا ہوں۔ قبر کے دہشت ناک منظر اور مردہ کی چیخ و پکار اور دردناک فریاد نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو بے قرار کردیا۔ آپ نے اپنے رحمت والے رب جل جلالہ کے دربار میں ہاتھ اٹھا دیئے اور نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اس میت کی بخشش کی درخواست پیش کی۔ غیب سے آواز آئی ’’اے علی رضی اﷲ عنہ! آپ اس کی سفارش نہ ہی فرمائیں کیونکہ روزے رکھنے کے باوجود یہ شخص رمضان المبارک کی بے حرمتی کرتا، رمضان میں بھی گناہوں سے باز نہ آتا تھا۔ دن کو روزے تو رکھ لیتا مگر راتوں کو گناہوں میں مبتلا رہتا تھا۔‘‘ مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ یہ سن کر اور بھی رنجیدہ ہوگئے اور سجدے میں گر کر رو رو کر عرض کرنے لگے یااﷲ جل جلالہ! میری لاج تیرے ہاتھ میں ہے۔ اس بندے نے بڑی امید کے ساتھ مجھے پکارا ہے میرے مالک! تو مجھے اس کے آگے رسوا نہ فرمانا۔ اس کی بے بسی پر رحم فرمادے اور اس بے چارے کو بخش دے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ رو رو کر مناجات کررہے تھے۔ اﷲ تعالیٰ کی رحمت کا دریا جوش میں آگیا اور ندا آئی، اے علی رضی اﷲ عنہ! ہم نے تمہاری شکستہ دلی کے سبب اسے بخش دیا چنانچہ اس مردے پر سے عذاب اٹھالیا گیا (انیس الواعظین صفحہ نمبر 25)
محترم حضرات! جہاں ماہ رمضان کے فضائل و برکات ہیں وہاں اس ماہ کی تعظیم و توقیر نہ کرنے والوں کے لئے بہت شدید عذاب کی وعید ہے لہذا ہم سے جس قدر ہوسکے، اس ماہ مقدس کی تعظیم و توقیر کرنی چاہئے۔ ہم ناتواں ہیں۔ اگر عبادت زیادہ نہیں کرسکتے تو نہ کریں مگر گناہوں سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کریں۔
ماہ رمضان کے
روزے فرض ہیں
القرآن: یاایھا الذین امنوا کتب علیکم الصیام، کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون (سورۂ بقرہ آیت 183، پارہ 2)
ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے
اس آیت مبارکہ میں ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت کا ذکر ہوا توحید و رسالت کا اقرار کرنے اور تمام ضروریات دین پر ایمان لانے کے بعد جس طرح ہر مسلمان پر نماز فرض قرار دی گئی ہے اسی طرح رمضان المبارک کے روزے بھی ہر مسلمان (مرد و عورت) عاقل و بالغ پر فرض ہیں۔ درمختار علی مع رد المحتار جلد سوم صفحہ نمبر 330 پر درج ہے کہ روزے دس شعبان المعظم 2ھ کو فرض ہوئے۔
ماہ رمضان کے
روزوں کی فضیلت
حدیث شریف: حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ جس نے رمضان کا روزہ رکھا اور اس کی حدود کو پہچانا اور جس چیز سے بچنا چاہئے اس سے بچا تو جو (کچھ گناہ) پہلے کرچکا ہے اس کا کفارہ ہوگیا (صحیح ابن حبان جلد 5 صفحہ نمبر 183)
حدیث شریف: حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ فرماتے ہیں آدمی کے ہر نیک کام کا بدلہ دس سے سات سو گناہ تک دیاجاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔ سوائے روزے کے روزہ میرے لئے ہے اور اس کی جزا میں دوں گا۔ اﷲ تعالیٰ کا مزید ارشاد ہے بندہ اپنی خواہش اور کھانے کو صرف میری وجہ سے ترک کرتا ہے۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں۔ ایک افطار کے وقت اور ایک اپنے رب جل جلالہ سے ملنے کے وقت۔ روزہ دار کے منہ کی بو اﷲ کے نزدیک مشک سے زیادہ پاکیزہ ہے
(صحیح مسلم جلد اول صفحہ نمبر 363)
حدیث شریف: حضرت سہل بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریّان کہا جاتا ہے اس سے قیامت کے دن روزہ دار داخل ہوں گے۔ اس کے علاوہ کوئی داخل نہ ہوگا۔کہا جائے گا روزے دار کہان ہیں؟ پس یہ لوگ کھڑے ہوں گے ان کے علاوہ کوئی اور اس دروازے سے داخل نہ ہوگا۔ جب یہ داخل ہوجائیں گے تو دروازہ بند کردیاجائے گا پس پھر کوئی اور اس دروازے سے داخل نہ ہوگا (صحیح بخاری، جلد 2، ص 277)
حدیث شریف: حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضور کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے ماہ رمضان کا ایک روزہ بھی خاموشی اور سکون سے رکھا اس کے لئے جنت میں ایک گھر سرخ یاقوت یا سبز زمرو کا بنایا جائے گا۔ (مجمع الزوائد جلد سوم، صفحہ نمبر 346)
حدیث شریف: حضرت عبداﷲ بن ابی اوفیٰ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سید عالمﷺ کا فرمان ہے کہ روزہ دار کا سونا عبادت اور اس کی خاموشی تسبیح کرنا ار اس کی دعا قبول اور اس کا عمل مقبول ہوتا ہے (شعب الایمان جلد 2 صفحہ نمبر 415)
مگر یہ فضیلتیں اس صورت ہیں کہ روزہ حقیقی روزہ ہو۔
روزہ چھ چیزوں کا
علماء فرماتے ہیں کہ روزہ چھ چیزوں کا ہے۔
(1) آنکھ کا بدنظری اور تاک جھانک سے بچے (2) کانوں کا کہ جھوٹ، غیبت اور گانے بجانے کے سننے سے بجائے (3) زبان کا کہ جھوٹ، غیبت، گالیوں، فضول اور بے ہودہ بکواس سے بچائے (4) باقی بدن کا کہ ہاتھوں سے چوری اور ظلم نہ کرے اور پیروں سے چل کر کسی بری اور گناہ کی جگہ نہ جائے (5) حرام غذا کا کہ اس سے پرہیز کرے اور حلال بھی جہاں تک ہو، کم کھائے تاکہ روزے کے انوار اور برکات حاصل ہوں (6) پھر ڈرتا رہے کہ خدا جانے یہ روزہ قبول بھی ہوگا یا نہیں کہ شاید کوئی غلطی ہوگئی ہو مگر اس ڈر کے ساتھ کریم پروردگار کے کرم کے بھروسہ پر امید بھی رکھے۔
اور خاص بندوں کے لئے ان 6 کے ساتھ ایک ساتویں چیز اور ہے کہ حق تعالیٰ کے سوا ہر چیز کی طرف سے دل کو ہٹالے یہاں تک کہ افطاری کا سامان بھی نہ کرے۔
احیاء کی شرح میں بعض بزرگوں کا قصہ آیا ہے کہ اگر کہیں سے افطاری آجاتی تو اس کو خیرات کر ڈالتے تاکہ دل اس میں مشغول نہ رہے۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ کتب علیکم الصیام میں انسان کی ہر چیز پر روزہ فرض کیا گیا ہے۔ پس زبان کا روزہ، جھوٹ اور غیبت سے بچنا ہے اور کان کا روزہ ناجائز چیزوں کے سننے سے پرہیز ہے اور آنکھوں کا روزہ کھیل تماشے سے بچنا ہے اور نفس کا روزہ حرص اور خواہشوں سے اور دل کا روزہ دنیا کی محبت سے بچنا ہے اور روح کا روزہ یہ ہے کہ آخرت کی لذتوں کی بھی خواہش نہ ہو اور سر خاص کا روزہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ کے سوا کسی پر بھی نظر نہ ہو۔
ایک اہم بات
واضح ہو کہ اگر ان فضیلتوں اور برکتوں کو سن کر روزے کو ضروری اور برکت کا باعث سمجھا جاتا ہے تو نماز کا خیال اس سے کہیں بڑھ کر ہونا چاہئے کیونکہ وہ روزے اور زکوٰۃ اور حج سب سے افضل ہے اور سب کی اصل ہے اور یہ سب عبادتیں اس میں موجود ہیں۔چنانچہ
(1) ذکر و تلاوت اور تسبیح اور کلمہ شہادت تو زبانی عبادتوں کی اصل الاصول ہیں۔
(2) اور اس میں حج کا نمونہ بھی ہے کہ پہلی تکبیر احرام کے اور قبلہ کی طرف منہ کرنا طواف کے اور کھڑا ہونا عرفات میں ٹھہرنے کے اور رکوع اور سجود اور رکعتوں کے لئے اٹھنا، بیٹھنا صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے کے قائم مقام ہے۔
(3) نیز اس میں ہر چیز کا روزہ بھی پایا جاتا ہے کہ نظر کو دوست کے سوا غیر پر ڈالنے سے اور زبان کو ذکر اور تلاوت کے سوا باتیں کرنے سے اور ہاتھوں کو لینے دینے سے اور پائوں کو چلنے پھرنے سے اور دل کو خیالات کے میدان میں دوڑنے سے اور چیزوں میں غوروفکر کرنے سے روکتا ہے حالانکہ روزے میں اتنی پابندی نہیں ہیں۔
(4) اور اس میں زکوٰۃ بھی ہے کہ ستر چھپانے کے لئے کپڑا اور پاکی کے لئے برتن اور پانی خریدنے میں مال خرچ کرتا ہے نیز اپنے وقت کو تمام ضروریات سے اﷲ کے لئے فارغ کرتا ہے جس طرح زکوٰۃ کے لئے مال کی ایک مقدار کو علیحدہ کرتا ہے۔
(5) نیز اس میں ہر مخلوق کی عبادت بھی پائی جاتی ہے چنانچہ کھڑا ہونے میں درختوں اور ذکرو تلاوت میں اڑنے والے خوش آواز جانوروں کی اور رکوع میں چرنے والے جانوروں کی اور سجدے میں بے ہاتھ پائوں کے جانوروں کی اور بیٹھنے میں پتھروں اور پہاڑوں وغیرہ تمام چیزوں کی عبادت موجود ہے۔
(6) اور حق تعالیٰ کی معرفت و ذات میں استغراق ’’کروبیوں‘‘ یعنی فرشتوں کی عبادت ہے۔
غرض نماز میں تمام مخلوقات کی عبادتیں موجود ہیں اسیلئے جب نبی کریمﷺ سے پوچھا گیا کہ سب سے افضل کون سا عمل ہے؟ تو آپ نے فرمایا ’’الصلوٰۃ لوقتھا‘‘ (نماز کا اسکے وقت پڑھنا) اور اسی لئے ارشاد ہوا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔
(7) اور نماز کوثر سے بھی مشابہت رکھتی ہے اس لئے کوثر کو عطا کرنے کے شکریہ میں نبی کریمﷺ کو نماز ادا کرنے کا حکم ہوا کیونکہ: (1) نماز میں جو ہمکلامی ہوتی ہے وہ شہد سے زیادہ میٹھی ہے (2) اور اس میں جو غیبی انوار نمازی کے دل کو منور کرتے ہیں وہ دودھ سے زیادہ سفید ہے (3) اور اس میں جو یقین کو ترقی ہوتی ہے وہ برف سے زیادہ ٹھنڈی ہے (4) اور جو لطف و چین نماز میں نصیب ہوتا ہے وہ مکھن سے زیادہ نرم ہے (5) اور جو سنت ومستحب چیزیں نماز کو گھیرے ہوئے ہیں اور باطنی زندگی کو سرسبز کرتی ہیں وہ زمرد کے درختوںکی طرح ہیں جو کوثر کے کناروں پر ہیں (6) اور ذکروتسبیحات سونے چاندی کے گلاس ہیں جن سے محبت الٰہی کی شراب گھونٹ گھونٹ ہوکر باطن میں پہنچتی ہے اور روح کو سیراب کرتی ہے اور کوثر میں بھی یہی چھ صفتیں پائی جاتی ہیں (از فتح العزیز پارہ الم اور عم مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی نور اﷲ مرقدہ)
پس نماز کی قدر اور محبت روزے سے اور سب عبادتوں سے زیادہ ہونی چاہئے۔
(8) اور بڑی قدر یہ ہے کہ اس کو نہایت عاجزی کے ساتھ باجماعت ادا کیا جائے کیونکہ جماعت کے بغیر ادا کرنے کو اصول فقہ میں ناقص ادا بتایا ہے۔
مظاہر حق میں ہے کہ جو نماز جماعت کے بغیر پڑھی جائے، وہ ادا تو ہوجاتی ہے لیکن اس پر ثواب نہیں ملتا۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ مسجد کے قریب رہنے والوں کی نماز مسجد کی بغیر گویا ہوتی ہی نہیں اور اس سے بڑھ کر کون سی تاکید ہوگی کہ رحمتہ للعالمینﷺ نے جماعت ترک کرنے والوں کے گھروں میں آگ لگا دینے کی خواہش ظاہر فرمائی۔
روزہ کے مسائل و احکام
روزہ کس پر فرض ہے؟
ہر مسلمان عاقل، بالغ، تندرست مرد و عورت پر ماہ رمضان کے تمام روزے رکھنا فرض ہے (شامی 372-371 ج 2)
جو اس کے فرض ہونے کا انکار کرے وہ مسلمان نہیں رہتا
(ردالمحتار373، ج 2 ، وہدایہ ص 211، ج 1)
جو اس فرض کو ادا نہ کرے وہ سخت گناہ گار و فاسق ہے۔ اگر نابالغ بچے روزہ رکھنے کے قابل ہوجائیں تو ان کو روزے کا عادی بنانے کے لئے روزہ رکھنے کا حکم کرنا چاہئے اور دس برس کی عمر پر روزے رکھنے کے متعلق نماز کی طرح ان پر تھوڑی سی سختی کرنی چاہئے اور جتنے روزے وہ رکھ سکیں، رکھنے کا حکم کرنا چاہئے (ردالمحتارص 409، ج 2)
روزے کی نیت
نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں، چاہے زبان سے کچھ کہے یا نہ کہے۔ لہذا روزہ کی نیت دل سے کرلینا کافی ہے۔ البتہ زبان سے بھی کہہ لینا بہتر ہے۔ واضح ہو کہ نیت عربی میں کرنا ضروری نہیں، اپنی اپنی زبان میں بھی کرسکتے ہیں، تاہم عربی میں کرلیں تو اچھا ہے۔ عربی میں نیت کے الفاظ یہ ہیں۔
وبصوم غد نویت من شہر رمضان
ترجمہ: میں ماہ رمضان کے کل کے روزے کی نیت کرتا ہوں (عالمگیری ص 195، ج 1، شامی ص 380، ج 2)
روزے کی نیت سے سحری کھالینا بھی کافی ہے، الگ سے نیت نہ کرے تو روزہ ہوجائے گا (عالمگیری ص 195 ج 1)
ماہ رمضان کے روزے کی نیت رات ہی سے کرلینا بہتر ہے، اگر رات نیت نہ کی ہو تو دن کو زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے تک کرسکتے ہیں، بشرطیکہ صبح صادق کے بعد سے کچھ کھایا پیا نہ ہو (ہدایہ ص 195ج 1)
اسی طرح نفل اور معین دن کے نذر کے روزے کی نیت بھی زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے کرسکتے ہیں۔
لیکن قضا، کفارہ اور غیر معین نذر کے روزے کی نیت رات سے کرنا ضروری ہے۔ اگر صبح ہونے کے بعد نیت کی تو وہ روزے نفل ہوجائیں گے۔ تاہم اگر اس طرح کوئی روزہ نفل ہوجائے تو اس کو پورا کرنا چاہئے (عالمگیری ص 196، ج 1، وہدایہ ص 213ج 1)
توڑنے پر قضا لازم ہوگی (در مختار ص 428 ج 2)
سحری
روزہ دار کو رات کے آخر حصہ میں صبح صادق سے پہلے پہلے سحری کھانا سنت ہے۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ تم سحری کھایا کرو، کیونکہ اس میں بڑی برکت (اجروثواب) ہے۔ (بخاری ص 257 ج 1، مسلم ص 350 ج1)
دوسری روایت میں ہے کہ تم سحری کو چھوڑو نہیں، اگرچہ ایک گھونٹ پانی ہی کی شکل میں کیوں نہ ہو، کیونکہ سحری کھانے والوں پر اﷲ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور فرشتے ان کے لئے دعا کرتے ہیں (الترغیب عن احمد ص 139 ج 2)
ایک روایت میں ہے کہ بہترین سحری کھجور ہے (الترغیب عن احمد ص 139ج 2)
ایک اور روایت میں ہے کہ ہمارے روزے اور یہودونصاریٰ کے روزے کے درمیان فرق ’’سحری کھانا‘‘ ہے (مسلم ص 350ج 1، ابو دائود ص 320ج 1)
سحری جہاں تک ہوسکے دیر کرکے کھانا مستحب ہے، لیکن اتنی دیر بھی نہ رکے کہ صبح ہونے لگے اور روزہ میں شبہ پڑجائے، کیونکہ شبہ کے وقت کھانا مکروہ ہے (الترغیب 140ج 2، شامی ص 419 ج 2)
اگر موذن نے غلطی سے صبح صادق سے پہلے ہی اذان دے دی تو سحری کھانے کی ممانعت نہیں، بلکہ صبح صادق تک کھا سکتے ہیں۔
جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا و کفارہ
دونوں واجب ہوتے ہیں
1۔ روزہ رکھ کر قصداً کھانا پینا (عالمگیری ص 205ج 1)
2۔ قصداً ہم بستری کرنا (عالمگیری ص 205ج 1)
3۔ قصداً حقہ، بیڑی یا سگریٹ پینا (شامی ص 205، ج 2)
4۔ تبرکا کسی بزرگ کے منہ کالعاب یا کسی محبوب شخص کا لعاب جس کو چاٹنے کو دل چاہتا ہے، چاٹ لینے سے قضا و کفارہ دونوں واجب ہوں گے۔ ہاں اگر کسی عام آدمی کا لعاب نگل لے جس کو نگلنے کو طبیعت پسند نہیں کرتی یا اپنا لعاب کسی چیز پر تھوک کر چاٹ لے تو صرف قضا واجب ہوگی، کفارہ واجب نہیں ہوگا (عالمگیری ص 203ج 1، بدائع ص 99ج 2)
کفارے کے مسائل
1۔ روزہ توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے۔
2۔ اگر اس پر قادر نہ ہو تو دو ماہ یا ساٹھ دن تک لگاتار روزے رکھے یعنی اگر قمری مہینہ کی پہلی تاریخ سے روزے شروع کئے تو چاند کے حساب سے دو ماہ پورے کرے اور اگر پہلی تاریخ سے شروع نہیں کئے تو ساٹھ دن پورے کرے، لیکن اگر بیچ میں ایک دن بھی ناغہ ہوگیا تو ازسرنو ساٹھ روزے رکھے۔ یہ ساٹھ دن ایسے ہونے چاہئیں جن میں ماہ رمضان، عیدین اور ایام تشریق نہ ہوں۔البتہ عورت کی ماہواری آنے سے اس تسلسل میں خلل نہ ہوگا لیکن پاک ہوتے ہی فورا دوبارہ شروع کریں۔ اگر ماہواری ختم ہونے کے بعد ایک دن کا بھی ناغہ کیا تو نئے سرے سے ساٹھ روزے رکھنے پڑیں گے۔
3۔ اگر بڑھاپے یا ہمیشہ بیمار رہنے کی وجہ سے روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ایسا آدمی ساٹھ مسکینوں کو جن میں قریب البلوغ، چھوٹا بچہ کوئی نہ ہو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے، چاہے ایک ہی دن صبح و شام کھلائے یا دو صبح دو شام کھلائے، یا صدقہ فطر کی مقدار گندم یا اس کی قیمت ساٹھ مسکینوں کو اس طرح دے دیں کہ ہر مسکین کو دو کلوگندم یا اس کی قیمت مل جائے (بخاری ص 260-259، ج 1، مراقی الفلاح مع الطحطاوی ص 367-366)
اگر ایک مسکین کو ساٹھ دن تک کھانا کھلادیا، یا ساٹھ دن تک گندم یا نقد رقم دیتا رہا، تب بھی کفارہ ادا ہوجائے گا۔ البتہ کھانا کھلانے گندم وغیرہ دینے کی صورت میں ’’لگاتار‘‘ کی شرط نہیں، بیچ میں اگر ناغہ ہوجائے تو کوئی حرج نہیں، شرطیکہ ساٹھ کی تعداد پوری کردی ہو۔ لیکن اگر ایک مسکین کو ساٹھ دن کا کھانا، گندم یا نقد رقم ایک ہی دن میں دے دیا تو کفارہ ادا نہ ہوگا، بلکہ ایک ہی دن کا شمار ہوگا (مراقی الفلاح مع الطحطاوی ص 367)
آج کل چونکہ شرعی غلام یا باندی کہیں نہیں ملتے، اس لئے آخری دونوںصورتیں متعین ہیں (احکام رمضان)
یاد رہے کہ کفارہ کے ساٹھ روزے قضا روزوں کے علاوہ ہیں، لہذا جتنے روزے توڑے ہیں کفارہ کے روزوں کے علاوہ ان کی الگ الگ قضا بھی لازم ہے ۔
کفارہ صرف رمضان المبارک کا روزہ توڑنے سے واجب ہوتا ہے، دیگر ایام کے نفل، واجب یا قضا وغیرہ توڑنے سے کفارہ واجب نہیں ہوتا، صرف قضا واجب ہوتی ہے(شامی ص 405ج 2)
کسی نے رمضان میں روزے کی نیت ہی نہیں کی، اس لئے کھاتا پیتا رہا تو اس پر قضا واجب ہے، کفارہ نہیں۔ کفارہ نیت کرکے توڑنے پر واجب ہوتا ہے (درمختار ص 403، ج 2، ہدایہ ص 224ج )
روزہ اگر کھانے پینے سے توڑاہے تو جتنے روزے توڑے ہیں، ان سب کے لئے ایک ہی کفارہ کافی ہوگا، چاہے یہ روزے ایک ہی رمضان کے ہوں یا دو تین رمضان کے۔
لیکن اگر روزے جماع سے توڑے ہیں تو ایک ہی رمضان کے جتنے روزے توڑے ہیں ان کے لئے تو ایک ہی کفارہ کافی ہوگا البتہ اگر یہ روزے الگ الگ رمضان کے ہوں تو ہر رمضان کے روزوں کے لئے الگ الگ کفارہ ادا کرنا ہوگا۔
واضح ہو کہ روزے خواہ کھانے پینے سے توڑے ہیں یا جماع سے ایک دفعہ ان کا کفارہ ادا کرنے کے بعد اگر دوبارہ روزہ توڑا تو اس کا کفارہ بھی دوبارہ ادا کرنا ہوگا (امداد الفتاویٰ ج 2 ص 135)
مسافر اگر روزہ رکھ کر توڑ دے تو اس پر کفارہ نہیں صرف قضا واجب ہے، البتہ روزہ رکھ کر بلاعذر توڑنے کا گناہ ہوگا (شامی ص 431ج 2، طحظاوی ص 374)
جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور
صرف قضا واجب ہوتی ہے
1۔ ناک اور کان میں تردوا یا تیل ڈالنا، خشک دوا کا اگر دماغ تک پہنچنا یقینی ہو تو روزہ فاسد ہوگا ورنہ نہیں (درمختار ص 402 ج 2، ہدایہ ص 1220)
2۔ قصدا منہ بھر قے کرنا (ہدایہ 218، درمختار ص 414، ج 2)
3۔ کلی کرتے وقت یا ناک میں ڈالتے وقت اگر حلق میں بلااختیار پانی چلا جائے اور روزہ یاد ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ لیکن اگر روزہ یاد نہ ہو اور اپنے اختیار سے حلق میں پانی چلا جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا (عالمگیری ص 202ج 1)
اسی طرح تالاب دریا وغیرہ میں نہاتے وقت بھی اگر حلق میں پانی چلا جائے تو روزہ فاسد ہوجائے گا (ہدایہ 202ج 1)
4۔ عورت کو چھونے یا چھیڑنے یا مشت زنی سے اگر انزال ہوجائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا (درمختار ص 404،ج 2، ہندیہ ص 304ج 1)
5۔ کوئی ایسی چیز نگل جانا جو عادتاً بطور غذا یا بطور دوا کھائی نہیں جاتی جیسے کنکر، پتھر، لکڑی، گٹھلی، گھاس، کاغذ، روئی، کچا گندم، کچا چاول، باجرہ، مسور وغیرہ (ہندیہ ص 202، ج 1)
6۔ لوبان، اگربتی عود وغیرہ کا دھواں قصدا حلق میں پہنچانا، لیکن اگر کسی کمرے میں ان چیزوں سے دھونی دینے کے بعد وہاں ان کی خوشبو بس جائے اور اگر ان کا دھواں باقی نہ رہے بلکہ ہوا میں تحلیل ہوجائے تو ایسے کمرہ میں جانے اور خوشبو سونگھنے سے روزہ فاسد نہیں ہوگا (الدرالمختار ص 395، ج 2، وانظر شرح ردالمحتار)
جن چیزوں سے نہ روزہ ٹوٹتا ہے نہ مکروہ ہوتا ہے
1۔ روزے کی حالت میں سوکھی و تازی ہر قسم کی مسواک سے صبح و شام جب چاہے دانت صاف کرنا درست ہے، مسواک خواہ نیم کے درخت کی ہو یا پیلو کی، اگرچہ اس کی تیزابیت، کڑواہت اور خوشبو منہ اور حلق میں محسوس ہوتی ہو (ردالمحتارص 419 ج 2)
2۔ دانتوں میں اٹکے ہوئے کھانے کا ذرہ اگر منہ سے نکالے بغیر چنے کے دانہ سے کم مقدار میں نقل لے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اگر چنے کے برابر یا اس سے زیادہ نگل لیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا، اور اگر منہ سے باہر نکال کر نگل لیا تو چنے کے برابر ہو یا کم ہر حالت میں روزہ ٹوٹ جائے گا (درمختار ج 2ص 396)
3۔ مسواک کرتے وقت اس کاریشہ اگر حلق میں چلا جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا
4۔ سریا مونچھوں پر تیل لگانا (درمختار و شامی ص 95ج 4)
5۔ آنکھ میں دوا یا سرمہ لگانا، اگرچہ اس کا اثر حلق میں محسوس ہوتا ہو یا تھوک میں اس کا رنگ نظرآئے تب بھی حرج نہیں (درمختار وشامی ص 395ج 4)
6۔ ایسی چیزوں کی خوشبو سونگھنا جن میں دھواں نہ ہو مثلا پھول، عطر وغیرہ (شامی ج 2 ص 395)
7۔ حلق میں بلااختیار دھواں یا گردوغبار یا مکھی وغیرہ کا چلا جانا (خانیہ ص 208ج 1 ،درمختار ص 395ج 2)
8۔ بھول کر کھانا پینا یا جماع کرنا (مسلم ج 1ص 364، بخاری ج 1ص 259، ہندیہ ص 202ج 1، درمختار ص 394ج 2)
9 ۔ خودبخود قے آجانا، چاہے تھوڑی ہو یا زیادہ (مشکوٰۃ ص 396ج 2)
10۔ سوتے ہوئے احتلام (غسل کی حاجت) ہوجانا (تنویر الابصار 396ج 2)
11۔ رات کو غسل کی حالت ہوگئی اور صبح صادق سے پہلے غسل نہیں کیا اور اسی حالت میں روزہ کی نیت کرلی تو روزہ میں خلل نہیں آیا (مشکوٰۃ ص 376، درمختار ص 396ج 2)
12۔ گرمی یا پیاس کی وجہ سے کلی کرنا یا غسل کرنا، اسی طرح کپڑا گیلا کرکے جسم میں لپیٹنے سے بھی روزہ میں خلل نہیں آتا (درمختار ص 419ج 2، مشکوٰۃ ص 177، خانیہ ص 295)
13۔ فصد کھلوانا یا کسی مریض کو خون دینے کے لئے یا ٹیسٹ کروانے کے لئے انجکشن کے ذریعہ سے اپنا خون نکلوانا۔ لیکن اگر اس سے اتنی کمزوری کا خطرہ ہو کہ روزہ کی طاقت نہ رہے تو مکروہ ہوگا (شامی ج 2ص 459، عالمگیری ج 1ص 199، بخاری ج 1ص 360)
14۔ کان میں پانی ڈالنا یا نہاتے وقت خودبخود چلانا جانا (عالمگیری ص 204، جاور درالمختار ص 396ج 1)
15۔ دانتوں سے خون نکل کر اگر حلق میں نہ جائے۔
16۔ روزہ کی حالت میں عورت کولبوں پر سرخی لگانا جائز ہے، البتہ اگر منہ کے اندر جانے کا احتمال ہو تو مکروہ ہے
17۔ کلی کرنے کے بعد منہ کے اندر تری رہ گئی اور وہ تھوک کے ساتھ نگل گیا تو اس سے کوئی حرج نہیں (درمختار ص 396ج 2)
18۔ پان کھا کر خوب کلی وغرغرہ کرکے منہ صاف کرنے کے باوجود اگر تھوک میں اس کی سرخی رہ جائے تو اس سے روزہ میں خلل ہوگا (ایضاً)
19۔ ناک سڑکتے وقت رینٹ اگر حلق میں چلی جائے (مراقی الفلاح 362و شامی ص 400 ج 2)
20۔ گلا کھنکھارنے سے منہ میں اگر بلغم آجائے تو اس کو نگل جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا (شامی ص  400ج 2، مراقی الفلاح ص 396)
21۔ بات چیت، تلاوت یاذکر کرتے وقت اگر اپنے تھوک سے دونوں ہونٹ تر ہوجائیں تو اس کو نگل لینے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا (مراقی الفلاح ص 362، درمختار ص 400 ج 2)
جن صورتوں میں روزہ توڑنا درست ہے
1۔ روزہ رکھنے کے بعد اگر کوئی شخص ایسا بیمار ہوجائے کہ روزہ نہ توڑنے کی صورت میں جان کا خطرہ ہو یا بیماری بہت بڑھ جانے یا طول پکڑنے کا غالب گمان ہو مثلا سر، آنکھ، پیٹ وغیرہ میں سخت درد ہو یا سانپ نے کاٹا ہو تو دوائی وغیرہ پینا اور روزہ توڑ دینا درست ہے (عالمگیری  207ج 1، شامی ص 421ج 2)
2۔ اگر ایسی بھوک یا پیاس لگی کہ ہلاکت یا عقل کے نقصان ہونے کا خطرہ ہو تو روزہ توڑ دینا جائز ہے، بلکہ واجب ہے، لہذا اگر روزہ نہیں توڑا اور مرگیا تو گنہگار ہوگا (مراقی الفلاح ص 374، ہندیہ ج1،  ص 207، ج 2ص 94)
3۔ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو اگر کوئی ایسی بات پیش آجائے جس سے اپنی جان یا بچہ کی جان کو خطرہ ہو تو روزہ توڑنا درست ہے (عالمگیری ص 207 ج 1، ہدایہ 222ج 1)
4۔ کھانا پکانے یا کپڑا دھونے یا کسی اور کام کرنے کی وجہ سے اگر اتنی پیاس لگی کہ جان کا خطرہ ہونے لگا تو روزہ توڑنا درست ہے (طحطاوی علی مراقی الفلاح ص 374، شامی 422،ج 2)
لیکن اگر خود اس نے قصداً اتنا کام کیا جس سے ایسی حالت ہوگئی تو گناہ گار ہوگا (درمختار ص 420ج 2)
5۔ اگر کوئی مجاہد یا غازی دشمن کے مقابلہ میں ہو یا مقابلہ کا یقین ہو اور روزہ برقرار رکھنے کی صورت میں کمزوری کا خطرہ ہو تو اس کے لئے روزہ توڑ دینا جائز ہے، چاہے وہ مسافر ہو یا مقیم، پھر اگر مقابلہ کی نوبت نہ آئی تو اس پر کفارہ نہیں ہے، صرف قضا کرے (مراقی الفلاح ص 374، شامی ص 421ج 2)
تنبیہ
7: اگر بیماری وغیرہ کی وجہ سے روزہ توڑنے کی ضرورت پیش آئے تو احتیاطاً پہلے ایسی چیز سے روزہ توڑ دے جس سے کفارہ نہیں آتا۔
جن صورتوں میں روزہ نہ رکھنا جائز ہے
1۔ بیماری کی وجہ سے اگر روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو یا بیماری بڑھ جانے کا یا طول پکڑنے کا شدید خطرہ ہو تو روزہ نہ رکھنا جائز ہے۔ البتہ بعد میں قضا لازم ہے (الدرالمختار ص 423-422، ج 2، مراقی الفلاح ص 374، ہندیہ ص 207 ج 1)
2۔ اگر کوئی بیماری سے صحیح ہوگیا لیکن ابھی اتنی کمزوری باقی ہے کہ روزہ رکھنے سے دوبارہ بیمار پڑجانے کا خطرہ ہو تو اس کے لئے بھی فی الحال روزہ نہ رکھنا جائز ہے (ایضا)
3۔ مذکورہ صورتوں میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت صرف اس وقت ہے جبکہ کوئی مسلمان دین دار ماہر ڈاکٹر کہہ دے کہ ان صورتوں میں روزہ رکھنے سے سخت نقصان ہوگا یا خود اپنے سابقہ تجربے سے یا کسی علامات سے یا سابقہ کسی تجربہ کار دین دار مریض کو بتانے سے غالب گمان ہو کہ ان حالات میں روزہ رکھنا نقصان دہ ہوگا (ایضا)
4۔ ڈاکٹر اگر کافر ہے یا شریعت کا پابند نہیں ہے یا اپنے فن میں ماہر نہیں ہے تو اس کی بات کا اعتبار نہیں، صرف اس کے کہنے پر یا بغیر تجربہ کے صرف شبہ یا وہم کی بناء پر روزہ توڑنا جائز نہیں۔ اگر توڑ دیا تو کفارہ لازم ہوگا (ردالمختار ص 422، جلد 2)
5۔ اگر کوئی عورت حمل سے ہو اور روزہ رکھنے میں اپنی جان کا یا بچہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو وہ روزہ نہ رکھے، پھر قضا کرے (درمختار ص 22ج 2)
6۔ جو عورت اپنے یا کسی اور کے بچے کو دودھ پلاتی ہے اگر روزہ رکھنے سے بچہ کو دودھ نہ ملنے پر تکلیف پہنچتی ہے اور بچہ کوئی اور غذا یا اوپر کا دودھ بھی نہیں لیتا ہو یا اس کے والد اوپر کے دودھ کا انتظام نہیں کرسکتا ہو تو وہ روزہ نہ رکھے، بعد میں قضا کرے ۔
(رد المحتارر ص 422ج 2)
7۔ شرعی مسافر (جو اپنے شہر کے آخری حدود سے کم از کم 48 میل یعنی 77 کلومیٹر کی سفر کی نیت پر گھر سے نکلا ہو) اس کے لئے اجازت ہے کہ روزہ نہ رکھے، لیکن اگر اس میں تکلیف اور مشقت نہ ہو تو روزہ رکھنا افضل ہے ۔
وان تصوموا خیر لکم (بقرۃ آیت 184)
اور اگر اپنے آپ کویا اپنے سفر کے ساتھیوں کو اس سے تکلیف ہو تو نہ رکھنا ہی افضل ہے (درمختار ص 424ج 2)
8۔ روزہ کی حالت میں سفر شروع کیا تو اس کے لئے اس دن کا روزہ پورا کرنا ضروری ہے۔ بلاعذر توڑنا جائز نہیں۔ اگر بلاعذر توڑ دیا تو گناہ ہوگا۔ تاہم کفارہ نہیں ہوگا، صرف قضا واجب ہوگی (ہندیہ ص 206، ج 1، شامی ص 439ج 2)
9۔ مسافر اگر ایسے وقت وطن میں واپس آگیا کہ روزہ کی نیت ہوسکتی ہے یعنی زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے یا ایسے وقت میں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت سے کہیں رک گیا اور صبح سے اس نے کچھ کھایا پیا بھی نہیں تو اس پر روزہ کی نیت کرلینا واجب ہے۔ تاہم اگر روزہ نہیں رکھا تو کفارہ نہیں ہوگا (درمختار، الشامی ص 431، ہندیہ ص 206)
10۔ عورت کے لئے ایام حیض و نفاس (یعنی بچہ کی پیدائش کے بعد جو خون آتا ہے) میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔ بعد میں قضا ضروری ہے (ہدایہ ج 1ص 227)
11۔ مسافر اگر کچھ کھانے پینے کے بعددن کو وطن واپس آجائے یا حیض و نفاس والی عورت پاک ہوجائے یا بیمار تندرست ہوجائے تو ان کے لئے باقی دن روزہ داروں کی طرح رہنا لازم ہے (ہندیہ ج 1ص 225، خانیہ 1ص 216-215)
روزے کی قضا
1۔ اگر کسی عذر سے روزہ قضا ہوجائے تو عذر ختم ہونے کے بعد جلدازجلد ادا کرلینا چاہئے، کیونکہ زندگی اور طاقت کا بھروسہ نہیں (ہدایہ ص 222ج 1)
2۔ قضا روزوں میں اختیار ہے کہ لگاتار رکھے یا ایک ایک دو دو کرکے رکھے (ایضا)
3۔ اگر مسافر سفر سے لوٹنے سے پہلے یا جس کو عذر کی وجہ سے روزہ توڑنے یا نہ رکھنے کی اجازت ہے، اس کا عذر ختم ہونے سے پہلے مرجائے تو اس سفر یا عذر میں فوت شدہ روزوں کے بدلے فدیہ کی وصیت کرجانا اس کے ذمہ واجب نہیں اور نہ وہ گناہ گار ہوگا (ہدایہ ص 221، ج1)
4۔ لیکن اگر سفر سے لوٹنے کے بعد یا عذر ختم ہونے کے بعد مراہے تو جتنے دن کے بعد مرا ہے، صرف اتنے ہی دن کی قضا لازم ہے، لہذا اگر اس کے پاس مال ہے تو اتنے دن کے فدیہ کی وصیت کرجانا اس کے ذمہ واجب ہے (ہندیہ ص 308-307، اور شرح البدایہ ص222ج 2)
5۔ اگر کسی نے قصداً روزہ چھوڑ دیا تو اس کو قضا کا وقت ملے یا نہ ملے فدیہ کی وصیت کرنا واجب ہے (شامی ص 424ج 2)
6۔ نابالغ بچہ اگر روزہ رکھ کر توڑ دے تو اس کے ذمہ اس کی قضا نہیں (شامی ص 409، ج 2، و ص 352ج 1، کتاب الصلوٰۃ)
7۔ اگر کوئی رمضان شروع ہونے کے بعد کسی مغربی ملک میں جائے اور وہاں عید کا چاند پہلے نظر آنے کی وجہ سے اس کے 29 روزے پورے نہ ہوں تو وہ بعد میں قضا کرکے29 روزے پورے کرے۔ اسی طرح مغربی ملک میں روزہ شروع کرنے کے بعد وطن آنے پر اگر اس کے روزے 30 دن سے زائد ہوجائیں تو بھی اس کے ذمہ یہاں کی عید تک روزہ رکھنا لازم ہے۔
روزے کا فدیہ
1۔ اگر کوئی اس قدر بوڑھا ہوگیا ہو کہ گرمی، سردی کسی بھی موسم میں روزہ رکھنے کی طاقت نہ رہے یا ایسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو کہ اب نہ تندرست ہونے کی امید ہے اور نہ روزہ کی طاقت ہے تو ان کے لئے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، لیکن اس کے بدلے فدیہ دینا واجب ہے (درمختار مع الشامی 2ص 427، وہندیہ 1ص 207)
2۔ پھر اگر کبھی چھوٹے سے چھوٹے دنوں میںبھی طاقت آگئی اور بیماری سے تندرست ہوگیا تو روزے کی قضا واجب ہے اور فدیہ جو دیدیا اس کا ثواب الگ سے ملے گا (ہندیہ 1ص 207، درمختار ص 427 ج2)
3۔ اگر گرمی میں تو روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو لیکن سردی میں رکھ سکتا ہو تو گرمی میں نہ

رکھے، پھر سردی میں اس کی قضا کرلے (شامی ص 427ج 2)
4۔ لیکن اگر سفر سے لوٹنے کے بعد یا عذر ختم ہونے کے بعد مرا ہے، تو جتنے دن کے بعد مرا ہے، صرف اتنے ہی دن کی قضا لازم ہے۔ لہذا اگر اس کے پاس مال ہے تو اتنے دن کے فدیہ کی وصیت کرجانا اس کے ذمہ واجب ہے۔ (ہندیہ ص 308-307، اورشرح البدایہ ص 222 ج 2)
5۔ اگر کسی نے قصدا روزہ چھوڑ دیا تو اس کو قضا کا وقت ملے یا نہ ملے فدیہ کی وصیت کرنا واجب ہے (شامی ص 424 ج2)
6۔ نابالغ بچہ اگر روزہ رکھ کر توڑ دے تو اس کے ذمہ اس کی قضا نہیں (شامی ص 409، ج 2، و ص 352، ج 1، کتاب الصلوٰۃ)
7۔ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو صبح و شام پیٹ بھر کر کھانا کھلانے یا صدقہ فطر کی مقدار (تقریبا پونے دو کلوگندم یا اس کی قیمت) دینے کو فدیہ کہتے ہیں
8۔ ایک روزہ کا فدیہ کئی مسکینوں کو اور چند روزوں کا فدیہ ایک مسکین کو بھی دے سکتے ہیں۔
9۔ اگر کسی کو فدیہ ادا کرنے کی بھی وسعت نہ ہو تو وہ استغفار کرتا رہے اور دل میں نیت رکھے کہ جب بھی وسعت ہوگی ادا کردوں گا۔
10۔ روزہ کا فدیہ اگر چاہیں تو رمضان شروع ہونے کے بعد پورے مہینے کا یک مشت بھی دے سکتے ہیں، اگر چاہیں تو آخر میں بھی دے سکتے ہیں (ہندیہ 1، 207، و شامی 426:2)
افطاری
1۔ غروب آفتاب کا یقین ہوجانے کے بعد افطاری میں دیر کرنا مکروہ ہے۔ رسول  اﷲﷺ نے فرمایا کہ جب تک لوگ (وقت ہوجانے پر) افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے، بھلائی کے ساتھ رہیں گے (بخاری 263:1، و مسلم 351-350:1)
دوسری حدیث میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب بندہ ہے جو (وقت ہوجانے پر) افطاری میں جلدی کرے (ترمذی 88:1)
2۔ ہاں اگر بادل، آندھی یا گردوغبار کی وجہ سے غروب ہونے میں شک ہو تو کچھ انتظار کرلینا بہتر ہے (شامی 419:2) اور عام حالات میں بھی احتیاطاً تین منٹ کی تاخیر کرنی چاہئے۔
3۔ افضل یہ ہے کہ کھجور اور خرما سے افطار کرے، اگر وہ نہ ملے تو پھر پانی سے (ترمذی 88:1) اگر کسی دوسری چیز سے افطار کریں تب بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
4۔ افطار کی وجہ سے اگر مغرب کی نماز میں کچھ تاخیر ہوجائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ یعنی کچھ دیر بعد جماعت قائم کی جاسکتی ہے۔