روزہ روحانی اور جسمانی فوائد کا ذریعہ

in Tahaffuz, July 2013

اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوںپر جتنے بھی فرائض عائد کئے ہیں ان کا مقصد تو ان کی روحانی بالیدگی اور اپنی طرف راغب کرنا ہے۔ ساتھ ہی اس مہربان ذات نے دنیوی فوائد بھی ان اعمال میں پوشیدہ رکھ دیئے ہیں مثلا نماز میں وقت کی باقاعدگی اور جسمانی فٹنس کا ایک غیر ارادی فائدہ، زکوٰۃ و صدقات میں معاشرے کے نادار افراد کی مدد وغیرہ۔
اسی طرح روزہ جس کا اصل مقصد ازروئے قرآن تقویٰ کا حصول ہے، اس کے جسمانی فوائد بھی بے شمار ہیں۔ گویا کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو روزہ رکھنے کے عوض اپنے قرب، اپنی رضا کے علاوہ ’’بونس‘‘ کے طور پر دنیاوی فوائد سے بھی نوازا ہے۔
روزہ کا اولین (جسمانی) فائدہ ’’کم کھانا‘‘ ہے۔ اسلام دین فطرت ہے اور ہر عمل میں ’’توازن‘‘ پر زور دیتا ہے۔ حلال کام ہوں، روزی کمانا ہو، تفریح کے مشاغل ہوں، یہاں تک کہ عبادات میں بھی۔ چنانچہ جہاں ’’کلواوالشربوا‘‘ (کھائو اور پیو) کہہ کر حلال چیزوں کے کھانے پینے کی چھوٹ دی گئی ہی، وہیں ضرورت سے زائد کھانے کو ناپسندیدہ کہا گیا۔ رسول اﷲﷺ کی پوری زندگی میں کم کھانے کی عادت نمایاں نظر آتی ہے اور متعدد احادیث اس ضمن میں موجود ہیں۔ روزہ میں10 سے 14 گھنٹہ معدہ کو جو آرام ملتا ہے وہ صحت کے لئے بے حد فائدہ مند ہے اسی طرح یہ عام مشاہدہ ہے کہ پیٹ بھرے آدمی کی بہ نسبت خالی پیٹ آدمی زیادہ مستعد اور چست بھی رہتا ہے۔
بسیار خوری (Overeating) سے تیزابیت (Reflux) اور معدے کے السر کا عارضہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ جن کی عادت زیادہ کھانے کی بن جائے ان کو وزن کی زیادتی، ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول، جوڑوں میں درد، ذیابیطس اور دل کے امراض عام لوگوں کی بہ نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔
مگر افسوس ہے کہ روزہ کے اس فائدہ کو حاصل کرنے کی بجائے ہمارا عمل اس کے برعکس ہے۔ کم کھانے اور پیٹ کو خالی رکھنے کے اس ماہ کو ہم نے کھانے پینے کا مہینہ قرار دیا ہے۔ سحری میں پیٹ میں خوب غذا بھر لیتے ہیں اس ’’خوف‘‘ سے کہ دن میں نقاہت نہ ہو۔ نتیجتاً سارا دن معدہ گرانی کا شکار رہتا ہے اور افطار تو گویا کھانے کی برسات ہوجاتی ہے، خصوصا تلی ہوئی اور میٹھی اشیاء کثرت سے کھائی جاتی ہیں۔
غور کریں تو 12، 14 گھنٹے کے آرام کے بعد معدے پر بھاری غذا کی یلغار ایسے ہی نقصان دہ ہے جیسے کئی دن بستر پر لیٹنے کے فورا بعد انسان انتہائی تھکا دینے والی ورزش شروع کردے۔
خلاصہ یہ کہ ہمیں چاہئے:
1۔ سحری ضرور کریں، یہ سنت بھی ہے اس میں ہلکی غذا اتنی مقدار میں لے لیں کہ توانائی بھی رہے اور گرانی بھی نہ ہو۔ ساتھ پانی کے 4-2 گلاس بھی لے لیں۔
2۔ افطار کا آغاز پانی یا کھجور سے کریں۔ اس کے ساتھ زود ہضم غذا کم مقدار میں لے کر مغرب کی نماز ادا کریں۔ تلی ہوئی چیزیں مفید نہیں ہیں۔ فروٹ، چاول، سادی روٹی شوربہ،دودھ وغیرہ باآسانی ہضم ہوجاتے ہیں۔ افطار سے لے کر رات سونے تک پانی خوب پینا چاہئے۔
رمضان کا ایک خاص عمل نماز تراویح ہے۔ قرآن کو پڑھنے اور سننے کے روحانی فوائد کے علاوہ اس میں تقریبا ایک ڈیڑھ گھنٹہ ہلکی ورزش بھی ہوجاتی ہے۔ افطار میں کھائی گئی غذا بھی ہضم ہونے میں مدد ملتی ہے۔ لگ بھگ ایک گھنٹہ قرآن سننے سے اعصابی تنائو میں بھی کمی ہوتی ہے۔
اﷲ نے مریض کو رخصت دی ہے کہ اگر مرض کے بڑھنے کا اندیشہ ہو تو روزہ موخر کرسکتا ہے یا فدیہ دے سکتا ہے (کچھ صورتوں میں) اس ضمن میں بھی ’’توازن‘‘ کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ یعنی نہ عبادت کا جذبہ اتنا غالب ہوکہ مرض بڑھنے کے خطرے کے باوجود اﷲ کی دی گئی رعایت سے فائدہ نہ اٹھایا جائے اور نہ ہی معمولی سے عارضہ مثلا زکام، کمزوری وغیرہ کو وجہ بنا کر روزہ ترک کیا جائے۔ یہ انسان کی اپنی نیت، ارادہ، شوق پر بھی منحصر ہے اور ساتھ ہی تجربہ کار معالج کے مشورے پر بھی۔
اصل مسئلہ کچھ ایسی بیماریوں کا ہے جو مستقل (Chronic) ہوتی ہیں۔ مثلا ذیابیطس (شوگر) ہائی بلڈ پریشر، سانس کی بیماریاں، دل کے امراض وغیرہ ان میں روزہ رکھنے کے لئے ایک طرف تو اس بیماری کو اچھ طرح کنٹرول میں رکھا جائے تاکہ صحت صحیح رہے تو روزہ بھی رکھا جاسکے۔ ساتھ ہی معالج سے دوا کی مقدار اور اس کے اوقات کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات حاصل کرلیں۔ ان بیماریوں کے اکثر مریض غلط معلومات یا کم ہمتی کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے کا ذہن بنالیتے ہیں۔ حالانکہ ان کا مرض اتنا شدید یا ناقابل علاج نہیں ہوتا۔ اگر دوا لینا لازم ہو تب بھی آج کل ایسی دوائیں موجود ہیں جن کا اثر 12، 24 گھنٹے رہتا ہے چنانچہ روزہ باآسانی قائم رہ سکتا ہے۔
بہت ضعیف بیمار افراد یا وہ جن کو شدید حملہ ہو، ظاہر ہے روزہ موخر کرسکتے ہیں۔ مگر باقی اکثر مریضوں کو چاہئے کہ ہمت کریں اور معالج سے مشورہ کریں۔ امید ہے روزہ رکھنے کا راستہ نکل آئے گا۔
رمضان میں بار بار اس چیز کی ترغیب ملتی ہے کہ روزہ دار غصہ نہ کرے، بدکلامی یا جھگڑنے سے پرہیز کرے … ’’زبان کا روزہ‘‘ بھی رکھے، اچھی بات کے علاوہ زبان نہ کھولے اور کم بات کرے۔ ان ساری ہدایات میں جہاں اﷲ کو خوش کرنا ہے، وہیں یہ ساری باتیں ذہنی سکون کے لئے بھی بیش قیمت نسخہ ہیں۔ ڈپریشن، اعصابی تنائو، کم خوابگی وغیرہ جو آج کل کے مصرف اور مادہ پرست دور کے تحفے ہیں، ان سب کا علاج اگرچہ دوائوں سے بھی ہوتا ہے مگر ذہن کو پرسکون رکھنے کے لئے ان تمام باتوں سے بھی مدد ملتی ہے جو روزہ دار کو حاصل ہوسکتے ہیں۔ اگر روزہ کی اصل روح کے مطابق عمل کرے۔ وگرنہ عام مشاہدہ تو اس کے برعکس ہے کہ لگتا ہے کہ غصہ ناک پر دھرا ہے، بات بات پر لوگ لڑنے لگ جاتے ہیں۔ گالم گلوچ یا ہاتھا پائی سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہ عام سننے کو ملتا ہے کہ مجھے غصہ نہ دلائو، میں روزہ سے ہوں۔ میرا دماغ گھوم رہا ہے وغیرہ۔ گویا کہ روزہ رکھ کر بہت بڑا معرکہ سر کرلیا ہے۔
ایک مشاہدہ یہ ہے کہ ایسی حرکتیں وہ روزہ دار کرتے ہیں جو تمباکو یا سگریٹ جیسی چیزوں کے عادی ہوتے ہیں اور روزہ کے دوران ’’نشہ ٹوٹنے‘‘ کی وجہ سے جھنجھلاہٹ طاری ہوتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو بالکل فطری بات ہے۔ ’’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘‘ یہ بات تحقیق سے ثابت ہے کہ تمباکو نشہ آور ہے اور جسم کے لئے نقصان دہ ہے ،جو مسلمان اس کی پرواہ نہیں کرتے ان کو اپنے طرز عمل پر نظرثانی کرنی چاہئے۔
سگریٹ اور تمباکو کی لت میں جو شخص بھی مبتلا ہے اسے ان سے چھٹکارے کی فکر کرنی چاہئے۔ کیا آج کل کے دور میں کسی سمجھ دار شخص کو اس بات میں شک ہے کہ یہ نقصان دہ نہیں ہے؟ اس کے استعمال سے جان لیوا اور موذی امراض ہوسکتے ہیں۔ اور جیسا کہ اوپر کہاگیا ہے کہ یہ نشہ آور بھی ہے جس ذات باری نے روزہ فرض کیا، اسی نے قرآن میںکہا ہے ’’اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو‘‘
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ افراد جو عام دنوں میں ایک گھنٹہ بھی سگریٹ کے بغیر نہیں گزار سکتے، رمضان کے پورے روزے رکھ لیتے ہیں۔ ان کو سوچنا چاہئے کہ جب قوت ارادی سے 12 گھنٹے بغیر تمباکو کے گزر سکتے ہیں تو کیوں نہ اس ماہ مبارک کو اس بری حرکت سے نجات کے لئے استعمال کریں۔
خلاصہ مضمون
روزہ روحانی فائدے کے ساتھ ساتھ جسمانی فوائد کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ اگر اس کی اصل روح سامنے رکھی جائے، فطری طریقوں سے دن گزارا جائے، غذا میں توازن رکھا جائے اور غصہ سے پرہیز کیا جائے تو جسم اور روح پر اس کے بیش بہا فائدے حاصل ہوسکتے ہیں۔ اﷲ ہمیں ہدایت دے (آمین)