بچے کی پہلی درسگاہ

in Tahaffuz, July 2013, بنت فضل بیگ مہر

آج بعض گھرانوں میں بچے والدین کا احترام نہیںکرتے ۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بچے کی تربیت پر توجہ نہیں دی گئی جو تر بیت اس کی ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی ۔یہ بات تو والدین کہتے ہیں کہ ہماری اولاد نا فرمان ہے ہماری عزت نہیں کرتی ،لیکن اس طرف دھیان کیوں نہیںکرتے کہ ان کو نافرمانی اور ہٹ دھرمی کی راہوںپر چلایا کس نے ؟؟کیا بچے نے پیدا ہوتے ہی نافرمانی اور اور بد تمیزی کرنا شروع کردی تھی…نہیں ایسا بالکل نہیں ہے ظاہر ہے کہ بچہ تو والدین کے رحم و کرم پر تھا اب والدین کو چاہیے تھا کہ وہ اس کی تربیت پر توجہ دیتے تاکہ وہ بڑا ہو کر آنکھوں میں آنکھیں نہ ڈالتا۔بلکہ آپ کے سامنے اپنی نظریںادب و احترام سے جھکائے رکھتا۔
آپ خود سوچیںکہ اگرپودے کو مناسب وقت پر کھاد اور پانی نہ ڈالا جائے اس کی دیکھ بھال نہ کی جائے تو اس سے نفع نہیں مل سکتا۔اسی طرح اگر بچے کی بہتر تعلیم و تربیت پر شروع سے توجہ نہ دی جائے اور اسے اچھی سوچ نہ دی جائے تو پھر اس سے ادب و احترام کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے۔بچے کی تربیت ماں باپ دونوں مل کر کرتے ہیں ۔مگر ماں تربیت کے معاملے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔کیونکہ بچہ فطری طور پر ماں کے زیادہ قریب ہوتا ہے ۔اب ماں اگر یہ سمجھ لے کہ بچے کو ڈبے کا دودھ وقت کی پابندی کرتے ہوئے پلا دیا اور اعلی کوالٹی کا پیپر (pamper)باندھ  دیا ۔لوری کی جگہ انڈین گانا سنا دیا ۔جب بچہ تھوڑا بیٹھنے کے قابل ہوا تو ٹی وی کے آگے بیٹھا کر تاکہ تالی بجانا سکھادیا اور تین چار سال کا ہو اتو انگلش میڈیم اسکول میں داخلہ دلوا دیا …یہ تربیت ہو رہی ہے…نہیں بلکہ تربیت کسی اور چیز کا نام ہے۔یاد رکھئے کہ اولاد احترام اسی صورت میں کرے گی جب ماں اسکی تربیت عین اسلامی اصولوں کے مطابق کر ے گی ۔ماں پہلے تو اپنا محاسبہ کرے کہ دوران حمل اس نے نماز کی پابندی کی۔روزانہ قرآن پاک تلاوت کرنا اپنا معمول بنایا برائیوں سے خود کو بچائے رکھا یا نہیں۔کیونکہ دوران حمل بھی ماں کے ہر اچھے برے فعل کے اثرات بچے پر پڑتے ہیں جیسا کہ حضور غوث اعظم رضٰی اللہ عنہ پانچ برس کی عمر میں جب پہلی مرتبہ بسم اللہ پڑھنے کی رسم کیلئے کسی بزرگ کے پاس بیٹھے تو اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھ کر سورہ فاتحہ اور الم سے لے کر اٹھارہ پارے پڑھ کر سنادئیے ۔اس بزرگ نے فرمایا بیٹے اور پڑھیے۔فرمایا بس مجھے اتنا ہی یاد ہے کیونکہ میری ماںکو بھی اتنا ہی یاد تھا۔جب میں اپنی ماںکے پیٹ میںتھا اس وقت وہ پڑھا کرتی تھیں میں نے سن کر یاد کرلیا ۔
اسی طرح حضرت خواجہ بہاؤالدین ذکریا رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ نے بھی زمانہ حمل میں چودہ پارے حفظ کئے تھے ۔چنانچہ آپ نے بھی اپنی بسم اللہ میںچودہ پارے سنا ڈالے اور فرمایا میں نے یہ اپنی ماں کے پیٹ میں سنے تھے۔میری ماں نے یہاں تک یاد کیا تو مجھے بھی اتنے ہی یاد ہوگئے۔
آج کی مائیں جس انداز میں پرورش کر رہی ہیں ذرا اس کی چند جھلکیاں ملا حظہ کیجئے۔
دوران حمل ماں کا زیادہ تروقت ٹی وی کے آگے گزرتا ہے ۔اگر لائٹ نہیں ہے تو جنسی رومانی ناول پڑھ کر وقت گزارے گی اور اگر زیادہ طبیعت مچلی تو کہیںآؤٹنگ پر نکل جاتی ہے…باہر کی ہوا لگوانے …جی ہاں نماز پڑھتے ہوئے اسے تکلیف ہوتی ہے اس کا بی پی ہائی ہو جاتا ہے ۔لیکن ٹی وی دیکھتے ہوئے اور ناول پڑھتے ہوئے یا باہر کی ہوا لگواتے ہوئے ،گھومتے پھرتے اس کا بی پی ہائی نہیں ہوتا…خیر جناب زمانہ حمل تو گزر گیا ۔بچے کو جنم دے دیا ۔
اب ماں کو چاہیے کہ بچے کا اسلامی نام رکھے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ڈراموں فلموں کی دلدادہ ماں اپنے نومولود کا اداکاروں کے نام پر نام رکھتی ہے یا پھر ایسا نام جس کے معنی درست نہیںہوتے یا بے معنی نام رکھیں گے۔حضور نبی کریم ﷺ اگر کسی کا برا نام دیکھتے تواس کو بدل دیتے تھے ۔جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برے نام بدل دیا کرتے تھے ۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر کی ایک صاحبزادی کا نام عاصیہ تھا ۔رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام جمیلہ رکھ دیا ۔
اگر ماں اپنے بچے کا اسلامی نام رکھے گی تو بچے کی شخصیت پر اچھا اثر پڑے گا ۔کیونکہ نام کا بھی گہرا اثر پڑتا ہے۔آج کل مائیں بچوں کو اپنا دودھ نہیںپلاتیں ۔بہت کم ایسی مائیں ہیںجو اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں ،مگر زیادہ تر مائیں ڈبے کے دودھ پر بچے کو چلاتی ہے۔ ان میں سے بعض ماؤں کے پاس تو وقت نہیں ہوتا کیونکہ وہ سوشل ورکر ہیں۔ ایسی ماؤں کے بچے آیاؤں کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں ۔اور جن کے پاس وقت ہوتا ہے وہ اس ڈر سے دودھ نہیں پلاتیںکہ کہیں ان کے ظاہری خوبصورتی ماند نہ پڑ جائے …مائیںکیوں بھول جاتی ہیںکہ جو طاقت ماں کے دودھ میںہوتی ہے وہ ڈبے والے دودھ میں نہیںہوتی ۔اور یہ تو بچے کا حق ہے کہ ماںاپنے بچے کو اپنا دودھ پلائے۔
اللہ تبارک و تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ کنزالایمان :۔اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس۔
آج کی ماؤں کے پاس اپنے بچوں کی تربیت کے لئے وقت ہی نہیں ہے۔دنیا کے جھمیلوں اور رنگینیوں میں کھوئی ہوئی ہیں …ماں اگر بچے کو گود میں لے کر ذکر الٰہی عزوجل میںمشغول رہے گی تو بچہ بھی بڑے ہو کر نیک ،پر ہیز گار بنے گا ۔اور اگر بچے گود میں ہے اور ماں کی نظر ٹی وی پر جمی ہو اس پر ستم بالائے ستم یہ ہے کہ چینل بھی اسٹار پلس …تو پھر آپ خود سوچیں کہ بچے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
اسٹار پلس کی شوخیں ماں کی تھوڑی سی جھلک …رات گئے تک خوب ہلہ گلہ۔موج مستی کے بعد جب نیند کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں تو وہیں ٹی وی کے آگے گھوڑے گدھے بیچ کر غفلت کی نیند سو گئی ۔بچے کی فکر نہیں ہے کیونکہ وہ پیمپر (pamper)میں پیک ہے ۔اگر تھوڑا روئے گا تو پاس رکھی دودھ کی بوتل منہ میں ٹھونس دے گی ۔بس دن دیہاڑے تک کوئی ہوش نہیںہے کہ کہاں ہے۔پھر دھیرے دھیرے جب آنکھ کھلتی ہے تو ادھر ہی لیٹے لیٹے ریموٹ سے ٹی وی آن کیا اور رات جو پروگرام رہ گیاتھا بجلی والوں کی وجہ سے …اس پروگرام کو دیکھنا شروع کیا ۔
ابھی ٹی وی دیکھ ہی رہی تھی کہ بجلی والوں نے پھر بجلی بند کردی…اب تو بچے نے بھی رونا شروع کر دیا اس کے روتے ہی ماں کو پیمپر (pamper)تبدیل کرنے کا خیال آیا…جلدی سے پیمپر (pamper)تبدیل کیا …بچہ تھوڑی دیر کے لیے اس کی   قید سے آزاد ہوا پھر جکڑ گیا…نہ جانے کتنے گھنٹوں کیلئے …بچے کا پیمپر (pamper) تبدیل کر کے پھر ماں نے جلدی سے ناشتہ کیا اور گھر کے کاموں کو سمیٹنے لگ گئی یہ سوچ کر کہ ابھی بجلی آجائے گی تو کہیں گھر کے کاموں کی وجہ سے باقی پروگرام میںنہ جائیں …کام کرتے کرتے ذرا دیر کیلئے باہر جھانکتی اور جھانکتے جھانکتے ہی چار گھروں کے دورے کا پروگرام بنالیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دورے پرنکل گئی ۔بچہ بغل میں لیے کسی نیوز چینل کے نمائندے کی طرح کچھ خبریں دینے اور کچھ لینے …یعنی تیری میری لگائی بجھائی کر کے پھر واپس ہوئی اور اب تھک گئی ہوں ۔کمر میں درد ہے ۔یہ کہتے کہتے ساتھ ہی ہائے وائے کا نعرہ لگاتے ہوئے دوبارہ گھر کے ادھورے کاموں کی طرف توجہ دی اور جلدی سے ادھر کا کام ادھر اور ادھر کا کام ادھر کر کے کھا نا بنانے  میں لگ گئی ۔
اب آپ خود دیکھیں کہ جب ماں کو بچے کی تربیت کی فکر نہیں ہے تو پھر بچے بڑے ہو کر بھلا کہاں سے ادب دیکھیں گے اورکس طرح ادب کریں گے۔
بچے کو جھوٹ بولنا کس نے سکھایا …اور جب پہلی بار جھوٹ بولا تھا تو ماں کا بچے کی اس غلطی پر کیا رد عمل تھا…کہیں ماں نے ہنسی مزاق میں بچے کی اس غلطی کو نظر انداز تو نہیںکر دیا تھا …اگر سمجھ دار ماں بچے کے جھوٹ بولنے پر ایک تھپڑ رسید کر دیتی تو یقینا پھر کبھی زندگی میں بچہ جھوٹ نہیں بولتا …اور اسی طرح جب بچہ باہرسے کسی کی کوئی چیز اٹھاکر لایا تھا تو ماں نے اس سے پوچھ گچھ کی تھی یا یونہی بچہ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔بچپن کی یہ چھوٹی سی غلطی اگر ماں نے نظر انداز کردی تو پھر بڑے ہو کر ڈکیت بننا آسان ہوجاتاہے۔
یاد رکھئے کہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر بچے کی باز پرس نہ کی جائے تو بچے نڈر اور بے باک ہوجاتے ہیں اور پھر ان کو قابو میں کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
جب اولاد جوان ہوجاتی ہے تو ماں باپ کہتے ہیں ہماری اولاد ہمارے ساتھ بد تمیزی سے پیش آتی ہے ۔ہائے افسوس کیوں بھول جاتی ہے ماں کہ بچے کو بد تمیزی کرنا سکھایا کس نے؟؟جب آپ کے بچے نے کسی دوسرے کے ساتھ بد تمیزی سے بات کی تھی تو آپ نے بچے کی اس غلطی پر اسے کیا سزا دی تھی؟اس وقت تو آپ نے کچھ نہ کہا اور بد تمیزی کی یہ عادت بڑے ہونے تک بچے میں پختہ ہوجاتی ہے۔پھر جب وہ آپ کے سامنے بد تمیزی کرنے کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو آپ واویلا کرتے ہیں کہ ہماری اولاد نافرمان و بد تمیز ہے۔
اے کاش کہ شروع میںہی اگر آپ بچے کی اس غلطی کو مسکرا کر نظر انداز نہ کرتیں ۔اور اسے پیار و محبت سے یا ڈانٹ و سختی سے سمجھا دیتیں تو آج آپ کا بچہ آپ کے سامنے بد تمیزی کا مظاہرہ نہ کرتا۔
بچہ جب پندرہ سولہ سال کی عمر میں قدم رکھتا ہے تو والدین کو اپنے بچے پر کڑی نظر رکھنی چاہیے …آج والدین کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ ان کا لاڈلا باہر کیا کر تے آرہا ہے  …اگر پرواہ ہے تو پوچھنے کی ہمت نہیں…اولاد کو والدین سے ڈرنا چاہیے مگر معاملہ اس کے بر عکس ہے کہ والدین اپنی اولاد سے خوفزدہ ہیں …اور والدین کا خوفزدہ ہونا اولاد کو مزید بیباک بنا دیتا ہے مگر بات سمجھنے کی ہے کہ یہاں تک نو بت پہنچی کیسے…؟؟
بیٹے تو بیٹے آج بیٹی کے سامنے بھی ماں باپ دب جاتے ہیں یہ سوچ کر کہ اگر اونچا بولیں گے تو پھر ہو سکتا ہے کل بیٹی باہر نکلے تو پھر پلٹ کر گھر واپس نہ آئے۔…کہیں ہماری عزت و ناموس کی دھجیاں نہ بکھیر دے ۔ہماری ناک نہ کٹوا دے …اگر ماں نے بیٹی کو پردے کی تعلیم دی ہوتی تو آج بیٹی چادر اور چار دیواری کا لحاظ و پاس رکھتی…مگر ادھر تو ماں کو خود پردے کا ہوش نہیں ہے تو بیٹی کو کیا تعلیم دیتی اور کیا سوچ و فکر دیتی…ماں تو خود فیشن کا ہر دریا پار کرنے کی کوشش میں تھی اور آج بیٹی مال سے چار قدم آگے ہے۔
اور باپ کا یہ حال ہے کہ گٹکا منہ میں بھر کر اور سگریٹ کے کش لگا کر دھواں چھوڑتے ہوئے اپنے بیٹے سے کہہ رہا ہوتا ہے کہ بچے سگریٹ کو ہاتھ نہ لگائیو۔ہاتھ توڑ دوں گا …ارے کیوں دماغ کے سوتے خشک ہوگئے…کیوں بھول گئے کہ با عمل کی بات میں اثر ہوتا ہے…اور پھر بیٹا کچھ عرصے تو چھپ کر پئے گا پھر جب باپ کے جوتے میں بیٹے کا پاؤں آنے لگا تو دیدہ دلیری سے باپ کے سامنے سگریٹ سلگائے گا ۔
دل کے پھپھولے جل گئے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
ہائے افسوس کیوں نہ کی اپنے بچوں کی دینی تربیت …اب کیا ہو سکتا ہے …گر  تھوڑ ی دینی تربیت کی ہوتی تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ۔لیکن اب تو پانی سر سے گزر چکا ہے…اب تو جوان اولاد قابو میں نہیں آرہی …جب قابو میں کرنے کے دن تھے تب تو دھیان نہیں دیا اور آج سوائے پچھتاوے کے اور کر بھی کیا سکتے ہیں…بیچارے والدین…!!
بیٹے کی جوانی پے یہ ماںباپ نے سوچا
اے کاش کہ ہم صاحب اولاد نہ ہوتے
یاد رہے کہ دین دارماں بچے کی تربیت بھی دینی ماحول میں کرتی ہے ماں دیندار ہوگی تو بچے بھی دیندار ہو نگے ماں کا وقت اگر عبادت الٰہی عزوجل میں اور گھر کے کاموں میں ،شوہر کی ضرورت میں ،بچوںکی دینی تربیت میں گزرے گا تو پھر اس ماں کے بچے بھی بڑے ہو کر اس دور کے محمد بن قاسم ،صلاح الدین ایوبی اور ٹیپو سلطان بنیں گے اور گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے غازی ہونگے ۔اب اگر ماں خود برائی میں مبتلا ہے تو بچہ بیچارہ کیا کرے گا ۔ماں کی گود بچے کی پہلی دینی درس گاہ ہے ۔جب درس گاہ سے تربیت اچھی نہیں ملے گی تو بچے کی اخلاقی بنیادیں کمزور ہونگی اور جب اخلاقی بنیادیں کمزور ہو جائیں گی تو ادب کی دیواریں کیسے کھڑی رہ سکتی ہیں وہ تو خود بخود گرتی چلی جائیں گی۔
اس دور میں بھی بہت سی مائیں ایسی ہیں جو اپنے بچوں کی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق کر رہی ہیں ۔مگر ان بیچاریوں کی ساری محنت اس وقت دھر ی کی دھری رہ جاتی ہے جب بچے باہر نکلتے ہیں اور معاشرے میںسر عام ہونے والی برائیوں کی طرف ان کی نگاہیں اٹھتی ہیں…اور پھر انہی برائیوں پر قربان ہوجاتی ہیں …مطلب یہ کہ بچے ان معاشرتی برائیوں میں لگ جاتے ہیں۔
اے پاسبان،گلشن تجھ کو خبر نہیں ہے
شعلے بھڑک رہے ہیں پھولوں کی انجمن میں
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کہیںتو محمود کو ایاز نہیں ملتا اور کہیں ایاز کو محمود نہیںمل رہا۔مطلب صاف ظاہر ہے کہ بعض بچے تو گھر میں ہونے والی تربیت سے محروم ہیں اور جنہیں تربیت مل رہی ہے انہیں ہمار ا معاشرہ اعلی تربیت یافتہ بننے نہیں دے رہا۔