قرآن مجید فرقان حمید اﷲ تعالیٰ کا کلام ہے جو جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ آقا کریمﷺ تک پہنچا اور آقاﷺ کے صدقے ہم مسلمانوں تک پہنچا۔ یہ وہ کلام ہے جو مسلمانوں کے لئے شفا و رحمت ہے، جس کی تلاوت سکون قلب، جس کو حفظ کرنا جنت کی ضمانت اور جس کو سمجھ کر عمل کرنا نجات کا ذریعہ ہے۔
قرآن مجید کیا ہے؟ کیوں نازل ہوا؟ کس کا سینہ وحیٔ الٰہی کا گنجینہ بنا، ان تمام امور کی نشاندہی خود قرآن مجید نے فرمائی ہے۔
القرآن: ترجمہ: اس نے اتارا جو سارے جہاں کا رب ہے (سورۂ الحاقہ)
القرآن: ترجمہ: حکمت و ستائش کے مالک کی طرف سے اترا (سورۂ حم السجدہ)
القرآن: ترجمہ: سب خوبیاں اﷲ کو جس نے اپنے بندے پر کتاب یعنی قرآن اتارا (سورۂ کہف)
القرآن: ترجمہ: اﷲ تعالیٰ نے حق کے ساتھ آپ پر کتاب قرآن نازل فرمایا (آل عمران)
القرآن: ترجمہ: ہم نے آپ پر کتاب حق کے ساتھ اتاری اور اس شان سے نازل فرمائی کہ باطل اس میں کسی طرح بھی راہ نہ پاسکے (سورۂ مائدہ)
القرآن: ترجمہ: بے شک ہم نے تم پر قرآن بتدریج اتارا (سورۂ دہر)
قارئین کرام! آپ نے قرآن مجید ہی کی زبانی ملاحظہ فرمایا کہ قرآن مجید کیا ہے؟ کیوں نازل ہوا؟ کس ہستی پر کس شان سے نازل ہوا۔ اب آپ نزول قرآن کی کیفیت ملاحظہ فرمائیں۔
نزول قرآن کی کیفیت؟
لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر قرآن مجید یکبارگی نزول رمضان میں ہوا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام لوح محفوظ سے پورا قرآن مجید اخذ کرکے آسمان دنیا پر تشریف لائے اور فرشتوں کو املا کرایا اور فرشتوں نے موجودہ ترتیب کے مطابق اپنے صحیفوں میں لکھ کر بیت العزۃ میں رکھ دیا جو آسمان دنیا پر ایک مقام ہے پھر یہاں سے حسب حکمت الٰہی حضرت جبرئیل علیہ السلام جتنا جتنا منظورِ الٰہی ہوا، بحضور نبویﷺ لاتے رہتے۔
علماء فرماتے ہیں صحفِ ابراہیم رمضان کی یکم کو توریت شریف، 20 رمضان کو انجیل شریف اور 27 رمضان کو قرآن مجید نازل ہوا۔ جتنا قرآن مجید نازل ہوتا، ایک رمضان سے دوسرے رمضان حضورﷺ، حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ اس کا دور فرماتے جس سال حضورﷺ کا وصال ہوا، اس سال دو بار دور ہوا۔
نزول قرآن کی مدت
شب قدر میں قرآن پاک مکمل لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی جانب اتارا گیا پھر وہاں سے حضرت جبرئیل علیہ السلام 23 سال کے عرصے میں تھوڑا تھوڑا لے کر نازل ہوئے۔ سب سے پہلی وحی سورۂ علق کی پانچ آیتیں ہیں، تکمیل قرآن کی کل مدت 23 سال ہے۔
وحی الٰہی کا جلال اور عظمت
وحی الٰہی کے جلال و عظمت کا یہ عالم تھا کہ جب وحی نازل ہوتی تو حضورﷺ کی جبینِ اقدس پسینے میں تر اور چہرۂ انور سرخ ہوجاتا۔ جس اونٹنی پر جلوہ فرما ہوتے تو اونٹنی بیٹھ جاتی۔ حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ صحابی کہتے ہیں۔ میری رہن حضورﷺ کا تکیہ تھی کہ وحی آنے لگی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میری ران کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے (بخاری شریف)
القرآن: ترجمہ: اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو ضرور تو اسے دیکھتا جھکا ہوا، پاش پاش ہوتا اﷲ کے خوف سے (سورۂ حشر)
یعنی قرآن مجید کا جلال اور اس کی عظمت و شان ایسی ہے کہ پہاڑ کو اگر ادراک ہوتا تو باوجود اتنا سخت و مضبوط ہونے کے، پاش پاش ہوجاتا۔ مگر سبحان اﷲ! حضور سرور کائناتﷺ کا قلب اطہر وحی جیسی پرعظمت و جلال چیز کا متحمل ہوا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
القرآن: ترجمہ: تو اس (جبرئیل) نے تمہارے دل پر اﷲ کے حکم سے یہ قرآن اتارا (سورۂ بقرہ)
اﷲ تعالیٰ کی آخری وحی (قرآن) کا مورد ومہبط، حضورﷺ کا پاک و منزۂ قلب اور اس کی جلوہ گاہ آپﷺ کا سینہ اقدس تھا اور وحی لانے والے حضرت جبرئیل علیہ السلام ہیں، جن کو الروح الامین (امانتدار روح) فرمایا گیا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو کئی انبیاء کرام علیہم السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا۔ حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت شیث، حضرت ادریس، حضرت یوسف، حضرت صالح، حضرت لوط، حضرت عیسٰی، حضرت موسیٰ، حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب علیہم السلام کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے مگر ان حضرات کی کل عمر شریفہ میں پانچ مرتبہ، دس مرتبہ، بیس مرتبہ یا چالیس مرتبہ تشریف لائے مگر تاجدار کائناتﷺ کی خدمت اقدس میں جبرئیل علیہ السلام 23 سال میں تقریبا 24 ہزار مرتبہ حاضر ہوئے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام بار بار بارگاہ رسالتﷺ میں حاضری کی تمنا کرتے تھے کیونکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام وہ جلوہ دیکھ چکے تھے، جو سوائے رخ مصطفیﷺ کے کہیں نظر نہ آتا تھا۔
سب سے پہلی وحی اور اس کی کیفیت
القرآن: ترجمہ: پڑھو اپنے رب کے پیارے نام کے ساتھ جس نے تمہیں پیدا کیا(سورۂ علق، پارہ 30)
حضورﷺ، جبرئیل علیہ السلام کے وحی پہنچا کر فارغ ہونے سے قبل یاد فرمانے کی سعی فرماتے تھے، جلد جلد پڑھتے زبان اقدس کو حرکت دیتے۔ اس پر اﷲ تعالیٰ نے یہ ہدایت دی کہ آپﷺ جلدی نہ کیجئے۔ قرآن مجید کا آپﷺ کی زبان پر جاری کرنا، آپﷺ کے سینہ میں محفوظ کرنا، آپﷺ کو یاد کرانا اور قرآن مجید کے معنی و مفہوم اور اس کی باریکیوں کا آپﷺ پر ظاہر کرنا ہمارے ذمۂ کرم پر ہے۔
القرآن: ترجمہ: تم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو۔ بے شک اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمے ہے تو جب ہم اسے پڑھ چکیں اس وقت اس کے پڑھے ہوئے کی اتباع کرو۔ پھر بے شک اس کی باریکیوں کا تم پر ظاہر فرمانا ہمارے ذمہ ہے (سورۂ قیمٰہ)
اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کی مشقت گوارا نہ فرمائی۔ قرآن پاک کا سینۂ نبیﷺ میں محفوظ کرنا اپنے ذمۂ کرم پر لے لیا۔ اس آیت کے بعد حضورﷺ وحی کو بااطمینان سنتے اور جب تمام ہوجاتی تب پڑھتے۔
یہ وہ پاکیزہ اور لاریب فیہ کتاب ہے جس کے لئے ایک حرف کے پڑھنے پر دس نیکیاں ہیں، جس کی تلاوت کرنے والا سب سے بڑا عابد فرمایا گیا۔ جس کی تلاوت دلوں کے زنگ کو دور کردیتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ حافظ قرآن کے والد کو بھی انعامات سے بروز قیامت نوازا جائے گا۔
حدیث شریف: حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں جس نے قرآن مجید پڑھا اور اس پر عمل کیا تو قیامت کے دن اس کے والد کو ایسا چمکتا ہوا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے زیادہ ہوگی (ابو دائود شریف)
جس شخص کے پاکیزہ سینے میں اﷲ تعالیٰ کا کلام محفوظ ہوگا تو طبرانی شریف کی حدیث پاک کے مطابق اس کے جسم کو وصال کے بعد قبر کی مٹی نہیں کھائے گی، مٹی سے پوچھا جائے گا کہ تونے اس کے جسم کو کیوں کر نہ کھایا؟ عرض گزار ہوگی کہ اے مولیٰ جل جلالہ جس کے سینے میں تیرا کلام محفوظ ہو، میں اس کے پاکیزہ جسم کو کیسے کھا سکتی ہوں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب حافظ قرآن کی قبر کو مٹی نہیں کھاتی اور اس کا جسم بعد از وصال صحیح سالم رہتا ہے تو پھر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اولیائے کاملین رحمہم اﷲ کے پاکیزہ اجسام کو مٹی کیونکر کھا سکتی ہے؟
آخر مین ایک ایمان افروز بات بھی ملاحظہ فرمایئے کہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید کو قول رسول کریمﷺ قرار دیا ہے۔ یعنی اﷲ تعالیٰ کی اپنے محبوب اور مقدس رسولﷺ سے گفتگو کا نام قرآن مجید ہے۔
القرآن: ترجمہ: بے شک یہ قرآن ایک کرم والے رسول سے باتیں ہیں اور کسی شاعر کی بات نہیں (سورۂ الحاقہ آیت 5)
اور نطق رسول کی کیفیت یہ ہے:
القرآن: ترجمہ: وہ اپنے خواہش سے نہیں بولتے وہ جو کچھ کہتے ہیں وحی الٰہی سے کہتے ہیں جو ان پر کی جاتی ہے۔
ایمان ہے قال مصطفائی
قرآن ہے حال مصطفائی