کیا شیطان گرفتار نہیں ہوا؟

in Tahaffuz, July 2013, ابو مریم

انس بہت خوش تھا، رمضان کا مہینہ آچکا تھا اور یہ اس کا پسندیدہ مہینہ تھا۔ منہ اندھیرے سحری میں اٹھنا، امی کی جھلاہٹیں، باجی کا برق رفتاری سے سحری کی تیاری کرنا، ابو کا تہجد پڑھنا، بھائی جان کا موقع ملتے ہی بستر پر گرجانا۔ چھوٹے کی ضد اور چیخ و پکار۔ دادا ابا کی دھیمی دھیمی تلاوت، یہ سب کچھ اسے اتنا اچھا لگتا تھا کہ بس، عین اس وقت جب وہ سحری سے فارغ ہوتے، مسجد کے اسپیکروں سے سحری کا وقت ختم ہونے کے اعلانات ہونے لگتے۔ ابو تو پہلے ہی مسجد جاچکے ہوتے تھے بھائی کی پھرتی قابل دید ہوتی، وہ چھلانگ لگا کر بستر سے نمودار ہوتے اور سیدھا پانی کے گلاس پر جا پڑتے، اتنے میں سائرن کی آواز آنے لگتی تو انس کارواں رواں خوشی سے جھوم اٹھتا، واہ واہ، کھانا پینا بند ہوگیا۔ پھر وہ دادا جان کے ساتھ مسجد روانہ ہوجاتا۔ مسجد میں اتنا رش ہوتا کہ وہ سوچتا، کاش کہ پورا سال اسی طرح مسجد بھری رہے تو کتنا اچھا ہو پھر افطار کا تو لطف ہی کچھ اور ہوتا تھا۔ امی جلدی جلدی پھل کاٹتیں، باجی باورچی خانے میں نہ جانے کیا کیا تیاریاں کرتیں، دادا جان خاموشی سے تسبیح پڑھتے رہتے، اب کبھی امی کے ساتھ مل کر پھل کاٹتے، کبھی ننھے کو بہلاتے اور کبھی کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف رہتے، لیکن سب سے زیادہ مزہ بھائی جان کو دیکھ کر آتا، وہ ہر ایک منٹ کے بعد گھڑی کی طرف دیکھتے۔ کبھی باورچی خانے میں جاکر یہ دیکھتے کہ آج باجی کیا تیار کررہی ہیں؟ اور کبھی کبھی وہ یوں منہ لٹکا کر بیٹھ جاتے جیسے انہیں یقین ہوگیا ہو کہ آج تو افطار کا وقت ہوگا ہی نہیں۔
انس یہ سب کچھ دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا اور سوچتا ’’کاش پورا سال رمضان ہی ہوتا‘‘ اور اب رمضان ایک مرتبہ پھر آگیا تھا، لیکن انس اس مرتبہ کچھ زیادہ ہی خوش تھا۔ کیونکہ ایک تو وہ خود روزے رکھنے کا پروگرام بناچکا تھا۔ دوسرا اس کے ابو نے اسے بتایا تھا کہ رمضان میں شیطان کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ وہ قید ہوجاتا ہے۔ وہ سوچ رہا تھا اچھا! تو یہ سب لوگ اسی لئے مسجد میں آجاتے ہیں۔ شیطان قید ہوجاتا ہے تو وہ لوگوں کو بہکا نہیں سکتا۔ اس لئے سب لوگ نیک کام کرنے لگتے ہیں۔ بھائی جان بھی تو ہر نماز کے لئے بھاگ کر جاتے ہیں۔ ویسے تو وہ صبح کتنی مشکل سے اٹھتے ہیں لیکن بھئی رمضان میں تو وہ اچھے بچے بن جاتے ہیں ۔شیطان جو نہیں ہوتا۔
وہ سوچ رہا تھا، امی مجھے ہمیشہ پورا روزہ رکھنے نہیں دیتیں۔ کہتی ہیں تم ایک دن میں دو روزے رکھ لیا کرو۔ یہ کیا بات ہوئی؟ ایک دن میں دو روزے رکھے جاسکتے ہیں؟ یہ تو آدھا آدھا روزہ ہوا۔ اس مرتبہ میں پورا روزہ رکھا کروں گا۔ آخر دانیال، طلحہ اور عمران بھی تو پورے روزے رکھتے ہیں۔ سو آج اس نے روزہ رکھ لیا تھا۔ اگرچہ اس کے لئے اسے نہایت ضد کرنا پڑی تھی کیونکہ اس کے بقول وہ ابھی چھوٹا تھا لیکن ابو نے اس کی حمایت کی تھی۔ کل چوتھا روزہ تھا، اور وہ سوچ رہا تھا کہ وہ کل بھی روزہ ضرور رکھے گا۔ وہ یہی سوچتا ہوا سبزی والے کے ٹھیلے سے سبزی لینے جارہا تھا۔ اچانک اس کی نظر گلی کے نکڑ پر کھڑے چند لڑکوں پر پڑی۔ یہ لڑکے اس کے بڑے بھائی سے بھی عمر میں بہت بڑے تھے۔ وہ ان کے سامنے بونا سا لگ رہا تھا۔ ان لڑکوں کو دیکھ کر اسے ایک کرنٹ سا لگا۔ وہ حیران پریشان کھڑا منہ پھاڑے، انہیں دیکھتا چلا گیا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کی آنکھیں دھوکا کھا رہی ہیں۔ وہ لڑکے کھلے عام کھا رہے تھے۔ ان میں سے ایک کے منہ میں پان تھا جو بڑے مزے سے پچکاریاں مار رہا تھا۔
انس سوچ میں پڑگیا، یہ کیا ہوا؟ کیا اس مرتبہ شیطان گرفتار نہ ہوسکا۔ یا ابو نے غلط کہا تھا کہ شیطان گرفتار ہوجاتا ہے؟ اسے اس قدر صدمہ ہوا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ سست قدموں سے چلتا ہوا سبزی والے کے ٹھیلے کے پاس پہنچا۔ سبزی لے کر وہ گھر آیا ہی تھا کہ اس کے ابو بھی آگئے۔ اس کے ستے ہوئے چہرے کو دیکھ کر وہ چونک پڑے۔ بیٹا انس! کیا ہوا؟ کیا گلی میں کسی نے کچھ کہہ دیا ہے؟ انس نے انہیں اپنی معصوم آنکھوں اور لمبی لمبی پلکوں میں سے جھانک کر دیکھا۔ اسے یقین تھا کہ اس کے ابو جھوٹ نہیں بولتے۔ شیطان ہر سال گرفتار ہوتا ہوگا لیکن اس سال؟ شاید اس سال وہ بچ گیا ہے۔ اس نے اپنے ابو کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ابو! اس سال وہ بچ گیا ہے وہ گرفتار نہیں ہوسکا…؟ کون بیٹے؟ اس کے ابو چونک پڑے۔ آپ کس کی بات کررہے ہیں؟ ابو شیطان اس سال بچ گیا ہے؟ وہ لوگوں کو روزہ رکھنے نہیں دے رہا۔ وہ لڑکے چوک پر کھڑے کھا رہے تھے۔ انہوں نے روزہ نہیں رکھا۔ اس کے ابو سارا ماجرا سمجھ گئے۔ وہ بھی ان لڑکوںکو سرعام کھاتا دیکھ چکے تھے۔ انہیں اپنے لخت جگر پر بے انتہا پیار آگیا۔ وہ اسے پیار کرتے ہوئے کہنے لگے۔ بیٹا… وہ شیطان جو جن ہے وہ یقینا گرفتار ہوچکا ہے لیکن انسانوں کے روپ میں بھی شیطان کے نمائندے ہوتے ہیں۔ وہ رمضان المبارک میں بھی آزاد رہتے ہیں لیکن بیٹے وہ بھی ایک نہ ایک دن اپنے وقت پر ضرور گرفتار ہوجائیں گے۔