فہم الحدیث (تراویح کی فضیلت و اہمیت)

in Tahaffuz, July 2013, فہم ا لحد یث

تراویح کے معنی
تراویح جمع ہے ترویحہ کی، جس کے معنی ہیں، دیر کرنا، خوشبودار کرنا… اور تراویح کو تراویح اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں ہر چار رکعت کے بعد دیر کرنا مستحب ہے، جس کو ترویحہ کہتے ہیں چنانچہ حدیث میں ہے۔
عن سعید بن عبید ان علی بن ربیعہ کان یصلی بہم فی رمضان خمس ترویحات ویوتر بثلاک (اخرجہ ابوبکر بن ابی شیبۃ فی مصنفہ و اسنادہ صحیح)
یعنی سعید بن عبید سے مروی ہے کہ علی بی ربیعہ انہیں پانچ تراویح یعنی بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔
تراویح سنت موکدہ ہے
تراویح کی جماعت سنت کفایہ ہے یعنی بعض لوگ اگر باجماعت پڑھ لیں تو دوسروں پر بلاعذر جماعت سے نہ پڑھنے کا گناہ نہیں، گویا جماعت کا ثواب بہت زیادہ ہے اور تراویح خود سنت موکدہ ہے کہ بلاعذر نہ پڑھنے سے گناہ ہوتا ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
قال قال رسول اﷲﷺ ان اﷲ فرض صیام رمضان و سنت لکم قیامہ فمن صامہ وقامہ ایمانا واحتساباً خرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ (رواہ نسائی)
یعنی رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے رمضان کے روزے کو فرض فرمایا اور میں نے رمضان کی شب بیداری کو (تراویح و قرآن کے لئے) تمہارے واسطے (اﷲ کے حکم سے) سنت بنایا (جو موکدہ ہونے کے سبب ضروری ہے) جو شخص ایمان اور ثواب کے اعتقاد سے رمضان کا روزے رکھے اور رمضان کی شب بیداری کرے، وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح نکل جائے گا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا۔
تراویح کی جماعت و ختم قرآن پاک حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا صدقہ جاریہ ہے
حضور سید دوعالمﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ابتدائے خلافت میں لوگ علیحدہ علیحدہ تنہا تراویح پڑھتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے لوگوں کو مسجد میں اپنی اپنی تراویح پڑھتے دیکھا تو سب کو ابی ابن کعب رضی اﷲ عنہ کی امامت میں جماعت سے تراویح پڑھنے کا حکم دیا پھر آپ نے ایک مرتبہ رمضان میں لوگوں کو ساتھ نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا ’’نعمت البدعت ہذہ‘‘ اور امام محمد نصر مزوری کی کتاب ’’قیام اللیل‘‘ میں ہے۔
ان کانت ہذہ البدعۃ فنعمت البدعۃ ہذہ
’’یعنی اگر یہ ایک بدعت ہی ہے تو ایک اچھی ہی بدعت ہے‘‘
واضح ہو کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے اس ارشاد سے کسی کو تراویح کی جماعت کے بدعت ہونے کا کوئی شبہ نہ ہونا چاہئے کیونکہ خود حضورﷺ نے تین رات تراویح جماعت سے پڑھائی پھر امت پر فرض ہوجانے کے خوف سے اسے ترک فرمایا، اس لحاظ سے یہ سنت ہے نیز حضرت خلفائے راشدین کی اطاعت عین سنت ہے، جس کے اتباع کا ہمیں حکم ہے چنانچہ حدیث میں ہے۔ علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین تمسکوا بہا و عضوا علیہا بالنواجذ (رواہ احمد وابو دائود والترمذی و ابن ماجہ)
فضائل تراویح
رمضان المبارک میں نماز عشاء کے بعد (یعنی فرض جماعت پڑھ کر دو سنت اور دو نفل پڑھنے کے بعد) بیس رکعت تراویح پڑھنا سنت موکدہ ہے جس کا ثبوت اس حدیث میں ہے۔
عن ابن عباس رضی اﷲ عنہ ان رسول اﷲ کان یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ (ابن ابی شیبہ والبیہقی ج 2ص 496)
یعنی حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ رمضان میں بیس تراویح اور پڑھتے تھے اور افضل یہ ہے کہ دو دو رکعت ایک ایک سلام سے پڑھی جائیں اور تراویح میں ایک مرتبہ قرآن پاک ختم کرنا مسنون ہے۔ ہر چار رکعت کے بعد بقدر درود شریف اور تسبیح پڑھنا بہتر ہے۔ تسبیح تراویح کا تین مرتبہ پڑھنا پسندیدہ امر ہے۔ تسبیح تراویح یہ ہے۔
سبحان ذی الملک والملکوت سبحان ذی العزۃ والعظمۃ والہیبۃ والقدرۃ والکبریآء والجبروت سبحان الملک الحی الذی لاینام ولایموت سبوح قدوس ربنا ورب الملئکۃ والروح لاالہ الا اﷲ نستغفراﷲ ونسئلک الجنۃ ونعوذبک من النار (شامی ج 1ص 661)
مسئلہ: اگر کوئی شخص مسجد میں اس وقت پہنچا کہ نماز عشاء (جماعت) ہوچکی تھی تو وہ پہلے عشاء پڑھے اور پھر تراویح میں شریک ہو اور وتر بھی جماعت کے ساتھ پڑھے، وتر پڑھنے کے بعد جتنی تراویح رہ جائیں پوری کرے یعنی بیس رکعت تراویح پوری کرے (درمختار)
مسئلہ: سارا مہینہ تراویح پڑھنا سنت موکدہ ہے۔ اگرچہ قرآن شریف پہلے ہی ختم کرلیا جائے۔ (عالمگیری)
مسئلہ: اگر لوگوں کو شوق نہ ہو تو ایک سے زائدہ کلام پاک تراویح میں نہ پڑھا جائے لیکن لوگوں کی کاہلی یا سستی کی وجہ سے پورے رمضان کی تراویح میں ایک قرآن شریف ختم کرنا ترک نہ کیا جائے (بحرالرائق)
مسئلہ: تراویح کی نماز میں تسمیہ ایک مرتبہ بلندآواز سے کسی سورۃ کے شروع میں پڑھ لینا چاہئے کیونکہ یہ بھی کلام پاک کی پوری آیت ہے ورنہ قرآن پاک پورا نہ ہوگا (عالمگیری)
مسئلہ: تراویح میں ایک رات میں پورا قرآن پاک پڑھنا جائز ہے بشرط کہ لوگ نہایت شوق رکھتے ہوں، ان کو گراں نہ گزرے۔ اگر گراں گزرے اور ناگوار ہو تو مکروہ ہے (مراقی الفلاح)
تراویح کی بیس رکعت
سوال: تراویح کی شرعی حیثیت کیاہے؟ اس کی کتنی رکعت ہیں؟ کیا حضورﷺ سے تراویح کا کوئی ثبوت ہے؟ اگر ہے تو کتنی رکعت؟ ہمارے یہاں لوگ کہتے ہیں کہ تراویح کی نماز صرف آٹھ رکعت ہیں۔ بیس رکعت کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس سے عوام میں بڑا خلجان ہے، برائے کرم آپ واضح دلائل کے ساتھ قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح صورت متعین فرمائیں تاکہ ہماری پریشانی دور ہو اور راہ ثواب ہم پر کھل جائے اور پھر اطمینان سے اس پر عمل پیرا ہوجائیں۔
جواب: تراویح سنت موکدہ ہے اور مردوعورت دونوں کے لئے حکم ایک ہی ہے اور تراویح کی بیس رکعت ہیں اور یہ بیس رکعت سرکار دوعالمﷺ اورصحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے ثابت ہیں۔ اسی لئے حضرات تابعین، ائمہ مجتہدین، حضرت امام اعظم ابو حنیفہ، حضرت امام شافعی رحمتہ اﷲعلیہ، حضرت امام احمد بن حنبل رحمتہ اﷲ علیہ کے نزدیک تراویح کی بیس رکعت ہیں اور حضرت امام مالک رحمہم اﷲ تعالیٰ کے ایک قول کے مطابق بھی تراویح کی بیس رکعت ہیں۔ ان چاروں برحق اماموں نے بیس سے کم تراویح کو اختیار نہیں فرمایا۔ یہی جمہور کا قول ہے اور آج تک مشرق سے مغرب تک پوری دنیا میں اسی پر امت مسلمہ کا عمل ہے، آج کل بھی مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں، مسجد نبوی (علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) مدینہ منورہ میں تراویح کی بیس رکعت ہوتی ہیں۔ آٹھ رکعت تراویح پر عمل کرنے والے بہت اقلیت میں ہیں اور غلطی پر ہیں کیونکہ جن روایات میں آٹھ رکعات کا ذکر ہے اس سے تہجد کی نماز مراد ہے، تراویح کی نماز مراد نہیں ہے اور یہ دونوں نمازیں الگ الگ ہیں۔
تراویح کی بیس رکعت ہونے پر چند دلائل درج ذیل ہیں۔
حدیث: عن ابن عباس رضی اﷲ عنہ ان رسول اﷲﷺ کان لیصلی فی رمضان عشرین رکعۃ والوتر (رواہ ابن ابی شیبہ مصنفہ)
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رمضان المبارک میں سرکار دوعالمﷺ وتر اور بیس رکعت (تراویح) پڑھا کرتے تھے۔
فائدہ: اس روایت کو ابن ابی شیبہ رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی مصنف میں ’’عبد بن حمید‘‘ نے اپنی مسند میں، طبرانی نے معجم کبیر میں، بیہقی نے اپنی سنن میں اور امام بغوی رحمتہ اﷲ علیہ نے ’’مصابیح السنہ‘‘ میں تحریر فرمایا ہے۔ اس حدیث مرفوع کے تمام روای ثقہ ہیں سوائے ابراہیم بن عثمان کے لیکن محض ایک راوی کی وجہ سے جبکہ بعض سے اس کی توثیق بھی منقول ہے، بالکل نظر انداز کرنا صحیح نہیں۔ علاوہ اس کے بہت سے آثار قویہ اور تعامل صحابہ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ جس سے اس کا یہ معمولی سا ضعف بھی دور ہوجاتا ہے اور اس مسئلہ میں اس سے استدلال کرنا یقینا درست اور صحیح ہے (اعلاء السنن ص 71ج 7، بتصرف)

حدیث: عن یزید بن رومان انہ قال الناس یقومون فی زمان عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فی رمضان ثلاث وعشرین رکعۃ (رواہ مالک و اسنادہ مرسل قوی)
ترجمہ: حضرت یزید بن رومان رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں لوگ بیس رکعت (تراویح) اور تین رکعت وتر پڑھا کرتے تھے
حدیث: عن یحیی بن سعید ان عمر رضی اﷲ عنہ ابن الخطاب امر رجلا یصلی بہم عشرین رکعۃ (رواہ ابوبکر بن ابی شیبۃ مصنفۃ واسنادہ مرسل قوی)
ترجمہ: حضرت یحییٰ بن سعید رحمتہ اﷲ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اﷲ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھائے۔
حدیث: وعن عبدالعزیز بن رفیع قال: کان ابی بن کعب یصلی بالناس فی رمضان بالمدینۃ عشرین رکعۃ ویوتر بثلاث (اخرجہ ابوبکر بن ابی شیبۃ فی مصنفہ واسنادہ حسن)
ترجمہ: حضرت عبدالعزیز بن رفیع رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک میں مدینہ منورہ میںحضرت ابی بن کعب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لوگوں کو بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھایا کرتے تھے۔
حدیث: عن عطاء بن السائب عن عبدالرحمن السلمی عن علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ قال دعا القراء فی رمضان فامرمنہم رجلا یصلی بالناس عشرین رکعۃ قال وکان علی رضی اﷲ عنہ یوتربہم الخ (السنن الکبریٰ بیہقی ص 496، کتاب الصلوٰۃ جلد دوم)
ترجمہ: حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے رمضان المبارک میں قراء کوبلایا۔ پھر ان میں سے ایک قاری کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھائے۔ راوی کا کہنا ہے کہ وتر حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ خود پڑھا کرتے تھے۔
فائدہ: ان روایتوں اور دیگر تصریحات سے ثابت ہوا کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے قول و عمل سے بیس رکعت تراویح پڑھی جاتی تھیں۔
علامہ ابن قدامہ رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی کتاب ’’المغنی‘‘ میں بڑے دلکش انداز سے بیس رکعت تراویح پڑھنے کے پس منظر کو اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ تراویح کی بیس رکعت ہیں اور یہ سنت موکدہ ہیں۔ سب سے پہلے حضور اکرمﷺ نے ان کا آغاز فرمایا، دو یا تین شب آپﷺ نے ان کی باقاعدہ جماعت فرمائی، جب آپﷺ نے اس کے بارے میں حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کا انتہائی شوق و جذبہ دیکھا تو آپﷺ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ نماز تراویح امت پر فرض نہ ہوجائے، اس لئے آپﷺ نے اس کی جماعت ترک فرمادی اور حضرات صحابہ انفرادی طور پر تراویح پڑھتے رہے، یہاں تک کہ حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا دور آگیا، آپ انتہائی غوروفکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ حضور اکرمﷺ کے وصال کے بعد اب ان کی فرضیت کا کوئی امکان نہیں لہذا اسے جماعت کے ساتھ ادا کرنا چاہئے۔ بالآخر آپ نے اس کا فیصلہ فرمالیا، اور حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو تراویح کی امامت پر مقرر فرمایا۔ حضرات صحابہ میں سے کسی نے آپ کے اس فیصلہ کی نکیر نہیں فرمائی بلکہ بخوشی اس پر عمل شروع کردیا اور روایات صحیح سے ثابت ہے کہ حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ عنہ کو بیس رکعت پڑھنے کا حکم فرمایا تھا۔ تمام صحابہ کرام حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کے دور میں بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے، اسی پر تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اجمعین کا اجماع ہوگیا۔ ’’اجماع‘‘ خود مستقل حجت شرعیہ ہے۔ اس لئے بیس رکعت تراویح کے ثبوت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ یہی راہ حق ہے اور اس کا چھوڑنا گمراہی ہے (المغنی ص 799 ج 1 بزیادہ)
تراویح کا وقت
سوال: تراویح کا وقت عشاء کے فرضوں سے پہلے ہے یا بعد میں؟ اگر کوئی شخص فرضوں سے پہلے تراویح پڑھ لے اور بعد میں عشاء کے فرض ادا کرلے تو کیا اس کی تراویح درست ہوجائیں گی، نیز تراویح کا وقت کب تک باقی رہتا ہے؟
جواب: نماز تراویح کا وقت عشاء کے فرضوں کے بعد شروع ہوتا ہے اور صبح صادق تک رہتا ہے۔ نماز عشاء سے پہلے اگر تراویح پڑھی جائیں گی تو اس کا شمار تراویح میں نہ ہوگا۔ فرضوں کے بعد تراویح دوبارہ پڑھنی ہوں گی (درمختار ص 473ج 1)
سوال: تراویح اور وتر سب پڑھ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ امام یا منفرد کو عشاء کے فرض میں کچھ سہو ہوگیا تھا جس کی وجہ سے عشاء نماز نہیں ہوئی تھی تو کیا صرف فرض لوٹائیں گے یا تراویح یا وتر سب دوبارہ پڑھنے ہوں گے؟
جواب: تراویح عشاء کے تابع ہیں جیسے اگر کوئی شخص عشاء سے پہلے تراویح پڑھ لے تو تراویح نہیں ہوں گی۔ اسی طرح اگر عشاء کے فرض فاسد ہوجائیں اور منفرد یا امام تراویح پڑھا چکا ہے تو فرضوں کے لوٹانے کے ساتھ تراویح بھی لوٹائی جائیں گی خواہ تراویح تمام پڑھ چکا ہو یا بعض البتہ وتر کے لوٹانے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ عشاء کے تابع نہیں ہیں (ہندیہ وکبیری)
مسئلہ: اگر بعد میں معلوم ہوا کہ کسی وجہ سے عشاء کے فرض صحیح نہیں ہوئے۔ مثلا امام نے بغیر وضو نماز پڑھائی یا کوئی رکن چھوڑ دیا فرضوں کے ساتھ تراویح کا بھی اعادہ کرنا چاہئے۔ اگرچہ یہاں وہ وجہ موجود نہ ہو (بحوالہ کبیری)
تراویح کی نیت
سوال: تراویح کی نیت کس طرح کرنی چاہئے؟
جواب: تراویح کی نیت یوں کرنی چاہئے ’’یااﷲ تیری  رضا کے لئے تراویح پڑھتا ہوں‘‘ یا ’’یااﷲ اس وقت کی سنت ادا کرتا ہوں‘‘ یا ’’رمضان المبارک کے قیام لیل کی نماز اداکرتا ہوں‘‘ یا امام کی اقتداء میں تراویح پڑھ رہا ہو تو اس طرح بھی نیت کرسکتا ہے ’’یااﷲ امام جو نماز پڑھ رہا ہے میں بھی وہی نماز ادا کرتا ہوں‘‘ ان میں سے جو بھی نیت کی جائے، تراویح ادا ہوجائیں گی (خانیہ)
مسئلہ: اگر کسی نے عشاء کی سنتیں نہیں پڑھی تھیں اور تراویح پڑھانے والے امام کے پیچھے سنت عشاء کی نیت کرکے اقتداء کی تو یہ جائز ہے (بحوالہ خانیہ)
مسئلہ: اگر امام تراویح کا دوسرا یا تیسرا شفعہ پڑھ رہا ہے اور کسی مقتدی نے اس کے پیچھے اپنے پہلے شفعہ کی نیت کی تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے (بحوالہ خانیہ)
مسئلہ:اگر یاد آیا کہ گزشتہ شب کوئی شفعہ تراویح کا فوت ہوگیا یا فاسد ہوگیا تھا تو آج اس کو جماعت کے ساتھ تراویح کی نیت سے قضا کرنا مکروہ ہے (بحوالہ خانیہ)
تراویح میں پورا قرآن کریم پڑھنا
سوال: تراویح میں پورا قرآن کریم پڑھنا افضل ہے یا سنت؟ واضح فرمائیں۔
جواب: ایک مرتبہ قرآن شریف ختم کرنا (پڑھ کر یا سن کر) سنت ہے۔ دوسری مرتبہ فضیلت ہے اور تین مرتبہ افضل ہے۔ لہذا اگر ہر رکعت میں تقریبا دس آیتیں پڑھی جائیں تو ایک مرتبہ یہ سہولت ختم ہوجائے گی اور متقدیوں کو بھی گرانی نہ ہوگی تاہم لوگوں کی سستی کی وجہ سے حتی الامکان سنت کو نہیں چھوڑنا چاہئے (درمختار خانیہ)
مسئلہ: جولوگ حافظ ہیں ان کے لئے فضیلت یہ ہے کہ مسجد سے واپس آکر بیس رکعت اور پڑھا کریں تاکہ دو مرتبہ ختم کرنے کی فضیلت حاصل ہوجائے (خانیہ)
مسئلہ: ہر عشرہ میں ایک مرتبہ ختم کرنا افضل ہے۔
مسئلہ: اگر مقتدی اس قدر ضعیف اور کاہل ہوں کہ ایک مرتبہ بھی پورا قرآن شریف نہ سن سکیں بلکہ اس کی وجہ سے جماعت چھوڑ دیں تو پھر جس قدر سننے پر وہ راضی ہوں اس قدر پڑھ لیا جائے یا الم تر کیف سے پڑھ لیا جائے (بحر) لیکن اس صورت میں ختم کی سنت کے ثواب سے محروم رہیں گے۔ (بحوالہ خانیہ)
مسئلہ: 27 ویں شب کو ختم کرنا مستحب ہے (بحرالرائق)
مسئلہ: اگر اپنی مسجد کا امام قرآن شریف ختم نہ کرے تو پھر کسی دوسری مسجد میں جہاں پر ختم ہو تراویح پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں (کبیری)
مسئلہ: اگر اپنی مسجد کا امام قرآن شریف غلط پڑھتا ہو تو دوسری مسجد میں تراویح پڑھنے میں کوئی حرج نہیں (فتاویٰ ہندیہ)
ایک یا تین یا سات راتوں میں ختم کرنا
سوال: آج کل بعض شہروں میں کسی جگہ ایک رات میں تراویح کے اندر قرآن ختم کیا جاتا ہے اور بعض جگہ تین راتوں میں اور بعض جگہ سات راتوں میں، اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر ایک رات میں یا تین یا سات راتوں میں تراویح کے اندر قرآن کریم قواعد تجوید کے مطابق صاف صاف اور بالکل صاف طریقہ سے پڑھا جائے۔ حروف نہ کاٹے جائیں اور صرف تعلمون یعلمون سنائی نہ دے بلکہ کلام پاک اچھی طرح سامعین کے کانوں میں آئے اور اور نمازی خوش دلی سے اس میں شریک ہوں تو اس طرح ختم کرنا جائز ہے۔ شرعا کچھ مضائقہ نہیں ہے لیکن اگر قرآن کریم صاف اور صحیح نہ پڑھا جائے، حروف کٹنے لگیں، سامعین کو سوائے یعلمون تعلمون کے کچھ سمجھ نہ آئے جیسا کہ بعض جگہ صورتحال اس طرح ہے تو پھر اس طرح پڑھنا درست نہیں ہے اس سے اجتناب کرنا لازم ہے۔
تراویح میں نابالغ بچے کی امامت
سوال: نابالغ بچہ کلام پاک کا حافظ ہے کیا وہ مردوں کو تراویح پڑھا سکتا ہے؟
جواب: مختار اور صحیح قول یہ ہے کہ نابالغ بچہ خواہ قریب البلوغ ہی کیوں نہ ہو، تراویح میں بالغوں کی امامت نہیں کراسکتا اور ان کو تراویح نہیں پڑھا سکتا (ہدایہ و درمختار)
مسئلہ: نابالغ کو تراویح کے لئے امام بنانا درست نہیں (کبیری) البتہ اگر وہ نابالغوں کی امامت کرے تو جائز ہے (بحوالہ خانیہ)
تراویح میں جماعت کا حکم
سوال: تراویح جماعت کے ساتھ مسجد میں ادا کرنا واجب ہے یا سنت؟ وضاحت فرمائیں نیز تراویح کی جماعت اگر گھر میں کرلی جائے تو اس میں کیا حرج ہے؟
جواب: تراویح مسجد میں باجماعت پڑھنا سنت ہے مگر سنت کفایہ ہے یعنی مسجد میں اگر تراویح کی جماعت نہ ہو اور تمام اہل محلہ تراویح کی جماعت کو چھوڑ دیں تو تمام اہل محلہ گنہ گار ہوں گے اور تارکین سنت بھی اور اگر بعض نے باجماعت مسجد میں اور بعض نے باجماعت گھر میں ادا کی تو ترک سنت کا گناہ تو نہ ہوگا مگر گھر میں تراویح پڑھنے والے مسجد کی فضیلت عظمیٰ اور جماعت مسجد کی فضیلت سے محروم رہیں گے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ تراویح کی جماعت سنت کفایہ نہیں بلکہ ہر ہر شخص پر جماعت سے تراویح پڑھنا مستقل سنت ہے۔ اگر کوئی شخص جماعت کو چھوڑ کر چاہے مسجد ہی میں تراویح اد اکرے پھر بھی ترک سنت کا گناہ ہوگا (شامی و کبیری)
مسئلہ: اکثر اہل محلہ نے تو تراویح جماعت سے پڑھی مگر اتفاقاً ایک دو شخص نے بغیر جماعت پڑھی بلکہ اپنے مکان میں تنہا پڑھی تب بھی سنت ادا ہوگئی (کبیری ص 384)
مسئلہ: گھر پر تراویح کی جماعت کرنے سے بھی جماعت کی فضیلت حاصل ہوجائے گی لیکن مسجد میں پڑھنے کا جو ستائیس درجہ ثواب ہے وہ نہیں ملے گا (کبیری ص 384)
مسئلہ: تراویح کی جماعت عشاء کی جماعت کے تابع ہے (لہذا عشاء کی جماعت سے پہلے جائز نہیں) اور جس مسجد میں عشاء کی جماعت نہیں ہوئی وہاں پر تراویح کو بھی جماعت سے پڑھنا درست نہیں (کبیری ص 391)
مسئلہ: ایک شخص تراویح پڑھ چکا امام بن کر یا مقتدی ہوکر۔ اب اسی مسجد میں اگر تراویح کی جماعت ہورہی ہو تو وہاں (بہ نیت نفل) شریک ہونا بلا کراہت جائز ہے۔ (کبیری ص 389)
مسئلہ: ایک امام کے پیچھے فرض اور دوسروں کے پیچھے تراویح اور وتر پڑھنا بھی جائز ہے (بحوالہ کبیری)
مسئلہ: کسی مسجد میں ایک مرتبہ تراویح کی جماعت ہوچکی تو دوسری مرتبہ اسی شب میں تراویح کی جماعت جائز نہیں لیکن تنہا تنہا پڑھنا درست ہے (بحرالرائق)
تراویح میں، ڈاڑھی منڈے کی امامت
سوال: بعض حفاظ ایسا کرتے ہیں کہ تمام سال ڈاڑھی منڈواتے یا کترواتے رہتے ہیں اور ماہ رمضان سے کچھ عرصہ پہلے داڑھی چھوڑ دیتے ہیں۔ رمضان تک کچھ ہلکی سی داڑھی نکل آتی ہے پھر لوگ انہیں تراویح پڑھانے کے لئے امام مقرر کرلیتے ہیں اور رمضان کے بعد یہ حفاظ حسب سابق دوبارہ داڑھی منڈوا یا کتر والیتے ہیں تو ان کے پیچھے تراویح پڑھنا کیسا ہے؟
جواب: درج ذیل حدیث سے داڑھی کا چھوڑنا اور زیادہ کرنا اور مونچھوں کا کتروانا کم کرنا ثابت ہے اور داڑھی جب کہ قبضہ سے کچھ کم ہو تو اس کا منڈوانا یا کتروانا شرعاً بالکل ناجائز ہے لہذا جو حفاظ فاسق ہیں (خواہ دوسری باتوں میں کتنے ہی نیک ہوں مگر ان باتوں سے یہ فسق ختم نہیں ہوسکتا) اور فاسق کے پیچھے تراویح پڑھنا مکروہ تحریمی ہے یعنی حرام کے قریب ہے اور ایسے شخص کو امام بنانا جائز نہیں ہے۔
ہر مسجد کی انتظامیہ کا فرض ہے کہ اچھی طرح دیکھ بھال کر تراویح کے لئے حافظ مقرر کرے۔ اس میں قرابت داری یا باہمی تعلقات کی رعایت کرکے فاسق کو امام مقرر کرنا جائز نہیں ہے جو انتظامیہ ایسا کرے گی وہ گناہ گار ہوگی اور لوگوں کی نمازیں خراب کرنے کا وبال بھی انہی پر ہوگا۔ لہذا تراویح کے لئے ایسا حافظ منتخب کریں جو ظاہراً بھی باشرع، متقی، پرہیزگار ہو۔