زکوٰۃ کی فضیلت اور مسائل

in Tahaffuz, July 2013, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

حدیث شریف: سرکار اعظمﷺ نے فرمایا جو مال برباد ہوتا ہے، وہ زکوٰۃ نہ دینے سے برباد ہوتا ہے اور فرمایا کہ زکوٰۃ دے کر اپنے مالوں کو قلعوں میں بند کرلواور اپنے بیماروں کا علاج صدقہ سے کرو اور بلا نازل ہونے پر دعا اور تضرع سے استعانت کرو اور فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے چار چیزیں فرض کی ہیں جو ان میں سے تین ادا کرے وہ اسے کچھ کام نہ دیں گے۔ جب تک پوری چاروں کو نہ بجالائے۔ وہ چار چیزیں یہ ہیں
٭ زکوٰۃ ٭ نماز ٭ روزہ ٭ حج
اور فرمایا جو زکوٰۃ نہ دے اس کی نماز قبول نہیں ہوگی (بحوالہ: طبرانی اوسط، ابو دائود، امام احمد، طبرانی کبیر)
مسئلہ: زکوٰۃ فرض ہے اس کا منکر کافر اور نہ دینے والا فاسق اور قتل کا مستحق اور ادا کرنے میں دیر کرنے والا گنہ گار ومردود الشہادۃ (عالمگیری)
مسئلہ: زکوٰۃ ہر عاقل و بالغ پر فرض ہے۔ نابالغ بچے پر زکوٰۃ فرض نہیں مثلا کسی کے والد کا انتقال ہوگیا نابالغ بچے کے حصے میں والد کے ترکے سے کوئی چیز آئے اور اسے محفوظ کرلیا۔ نابالغ بچے کے اس مال پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔
مسئلہ: عاقل اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ کوئی شخص ارب پتی ہے اس کا بینک بیلنس بھی ہے مگر وہ پاگل ہے مجنون ہے، ایسے شخص پر بھی زکوٰۃ فرض نہیں۔
مسئلہ: جس کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولے سونا ہو یا اتنی ہی رقم ہو اور ایک سال بیت گیا ہو، مقروض بھی نہ ہو، ایسے شخص پر زکوٰۃ کا دینا فرض ہے۔
مسئلہ:کل مال کا تخمینہ لگا کر اس پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ دی جائے یعنی ایک لاکھ روپے یا اس کی مالیت پر ڈھائی ہزار روپے زکوٰۃ دی جائے۔
مسئلہ: زکوٰۃ دیتے وقت نیت (دل کا ارادہ) شرط ہے جسے زکوٰۃ دی جارہی ہے اس کو یہ کہنا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ بلکہ اسے تحفہ، نذرانہ یا ہدیہ کہہ کر بھی دی جاسکتی ہے اور دل میں زکوٰۃ کی نیت کرلی جائے بلکہ اگر کوئی شخص سخت ضرورت مند زکوٰۃ کا مستحق بھی ہے لیکن وہ زکوٰۃ لینا نہیں چاہتا اور اسے زکوٰۃ کہہ کر دیں تو وہ نہیں لے گا تو اسے ادھار اور قرض کہہ کر دے دی جائے اور نیت زکوٰۃ کی ہو تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
مسئلہ: ایسا شخص جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی رقم اس کی حاجت اصلیہ سے زائد ہو اس کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی۔
مسئلہ: بدمذہب بے دین کو زکوٰۃ نہیںدی جائے گی۔
مسئلہ: سید اور ہاشمی کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔
مسئلہ: والد اور والدہ کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔
مسئلہ: داداد، دادی اور ان کے والدین چاہے کتنے ہی درجے اوپر ہوں، ان کوزکوٰۃ نہیں دے سکتے۔
مسئلہ: نانا، نانی اور ان کے والدین چاہے کتنے ہی درجے اوپر ہوں، ان کو بھی زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔
مسئلہ: بیٹا، بیٹی اور ان کی اولاد چاہے کتنے ہی درجے نیچے ہوں، کسی کو بھی زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔
مسئلہ: مسلمان، عاقل اور بالغ کو جو زکوٰۃ کا مستحق ہو، یونہی اس کے پاس اپنی حاجت اصلیہ کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی رقم نہ ہو، اس کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔
مسئلہ: خالو، خالہ اور ان کی اولاد کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔
مسئلہ: پھوپھا، پھوپھی اور ان کی اولاد کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔
مسئلہ: ماموں، ممانی اور ان کی اولاد کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔
مسئلہ: قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنے والے طالب علم کو بھی زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔
مسئلہ: مسافر اگرچہ مالدار ہو، لیکن سفر میں اس کے پاس پیسے نہیں ہیں تو ایسے شخص کو بقدر ضرورت زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔
مسئلہ: ایسا شخص جو مالک نصاب ہو لیکن اس نے اپنا مال کسی کو قرض دیا ہے اور خود مفلس ہوگیا تو ایسے شخص کو بقدر ضرورت زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔
مسئلہ: داماد اور بہو کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔
مسئلہ: وہ اشیاء جن کی انسان کو زندگی بسر کرنے کے لئے ضرورت ہو، ان پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ وہ چیزیں یہ ہیں۔
(1) رہنے کا مکان    (2) پہننے کے کپڑے
(3) گھر کے برتن    (4) بستر، مسہری (لحاف، کمبل، گدے وغیرہ)
(5) گھر کا فرنیچر    (6)قالین، دریاں وغیرہ
(7) فریج، ریفریجریٹر    (8) ایئرکنڈیشن
(9) کار (ایک سے زائد گاڑیاں بھی ہوں جیسے ایک بیٹے کی ایک بیوی کی ان پر بھی زکوٰۃ نہیں کہ آج کے دور میں یہ حاجت اصلیہ ہیں)
(10) سائیکل، موٹر سائیکل    (11) تجارت کے لئے دکان
(11) مل، فیکٹری (البتہ ان سے جو آمدنی حاصل ہوگی، اس پر زکوٰۃ ہے)
(13) کارخانے کی مشینری     (14) ہیرے ، قیمتی پتھر (اگر مال تجارت نہ ہوں)
(15) کارخانہ میں استعمال ہونے والے تمام اوزار
(16) کسی بھی شعبے کے کاریگر اور مستری کے ہنر اور کام کے اوزار
(17) بڑھئی، کار پینٹر کے اوزار   (18) پلمبر کے اوزار
(19) الیکٹریشن کے اوزار    (20)    موٹر مکینک کے اوزار
(21) مستری، راج کا کام کرنے والے اوزار
(22) رنگ کرنے کے برش وغیرہ    (23) سنار کا کام کرنے والے کے اوزار
(24) کاتب کی قلم روشنائی وغیرہ    (25) چھپائی کے پریس کی مشینیں
(26) استری، پنکھا، اور دیگر مشینری کی مرمت کرنے والے کے اوزار
(27) کمپوزنگ والے کے تمام کمپیوٹر،پرنٹر، اسکینر وغیرہ
(28) فوٹو اسٹیٹ والے کی فوٹو کاپی کی مشینیں
(29)ہوٹل والے کے برتن اور ٹیبل کرسیاں وغیرہ
(30) اہل علم کی کتابیں جنہیں پڑھا ہو یا پڑھ سکتا ہو یا حوالے وغیرہ کیلئے رکھی ہوں
(31) اپنی حفاظت کے لئے رکھے ہتھیار، پستول وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں
ان تمام اشیاء پر زکوٰۃ فرض نہیںجن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔
مسئلہ: جیسے ہی آپ زکوٰۃ نکالیں اسے مستحقین میں تقسیم کردیں اور دیتے وقت نیت شرط ہے، زکوٰۃ دیں تو مالک بنادیں ورنہ مثال کے طور پر کسی شخص نے زکوٰۃ نکالی اور مستحق تک نہیں پہنچائی اور مال چوری ہوگیا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی اور اس وقت ہوگی جب کسی کو اس کا مالک بنادیں۔
مسئلہ: آپ جارہے ہوں زکوٰۃ کے چار ہزار روپے آپ کے جیب میں ہیں خدانخواستہ جیب کٹ گئی یا چار ہزار روپے گر گئے، آپ نے سوچا کہ چلو زکوٰۃ نکال دیں گے ایسی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔
مسئلہ: آپ نے غریب کو دیکھ کر مال دے دیا، کل آپ کوخیال آیا کہ زکوٰۃ مجھ پر واجب ہے اب نیت کرلیتا ہوں یہ نیت نہیں ہوگی۔
نیت اس وقت درست ہوگی کہ آپ نے بغیر زکوٰۃ کی نیت کے غریب کو مال دے دیا ابھی وہ آپ کے سامنے سے نہیں گیا اور اسے خرچ نہ کیا تو اس کے جیب میں رقم ہونے پر بھی اگر آپ نیت کرلیں یہ نیت درست ہے۔
مسئلہ: ایک آدمی سالہا سال سے زکوٰۃ دیتا ہے، اسے یقین ہے کہ مالک نصاب ہوں، ظاہر ہے کہ جب سال ہوگا وہ اس اعتبار سے زکوٰۃ دے گا یہاں لوگوں کے ذہنوں میں ایک بہت بڑا ابہام یہ ہے کہ ایک شخص کو یکم رمضان کو سال پورا ہورہا ہے، تو وہ یکم رمضان کو زکوٰۃ نکالے گا تو یکم رمضان تک جتنی بھی رقم کہیں سے آئے، اس پر زکوٰۃ نکالنی ہوگی۔
ایسا نہیں ہے کہ زکوٰۃ نکالنے سے ایک دن پہلے ہمارے پاس مال آیا تو ہم اس کا شمار آئندہ سال کریں گے یا یہ رقم آئی ہے اس پر سال بیتے گا تو ہم زکوٰۃ نکالیں گے ایسا نہیں بلکہ سال پورا ہونے کے ایک دن پہلے سے صاحب نصاب چلے آرہے ہیں مثلا آپ پہلے سے صاحب نصاب ہیں آج شام میں آپ کا زکوٰۃ کا سال پورا ہوگیا۔ سال پورا ہونے سے دو تین گھنٹے پہلے یا سال پورا ہونے سے ایک یا دو دن پہلے آپ نے مکان فروخت کردیا اور ارادہ یہ ہے کہ دوسرا ایک اچھا مکان لیں گے اس کی رقم دس لاکھ روپے آپ کے پاس ہے تو اب آپ کو اس دس لاکھ روپے پر بھی زکوٰۃ دینی ہوگی۔ ایسا نہیں ہوگا کہ آپ اس رقم کی آئندہ سال زکوٰۃ دیں۔ مطلب یہ کہ زکوٰۃ کا سال مکمل ہونے سے دو گھنٹہ یا ایک دن پہلے جو رقم آئے گی، اس کی بھی اسی سال کی مد میں زکوٰۃ دیں گے۔
مسئلہ: ایک شخص سالہا سال سے صاحب نصاب چلا آرہا ہے اور زکوٰۃ اداکرتا ہے، اسی سال اس کا خدانخواستہ بڑا نقصان ہوگیا یا مال چوری ہوگیا۔ اب وہ چھ مہینے گزرنے کے بعد صاحب نصاب نہیں رہا۔ اب قدرتی ایک دو روز کے بعد اس کو بڑا فائدہ ہوا جس سے وہ دوبارہ صاحب نصاب ہوگیا۔ فتاویٰ عالمگیری، فتاویٰ شامی وغیرہ تمام کتب میں یہ مسئلہ موجود ہے کہ ایسا شخص نیا سال شمار نہیں کرے گا بلکہ پچھلے سال کے مطابق زکوٰۃ دے گا۔
مسئلہ: ایک شخص کو ساٹھ ہزار روپے ایک ساتھ کسی نے زکوٰۃ کے دیئے اور مستحق بھی تھا۔ اس کو دوبارہ زکوٰۃ نہیں دے سکتے کیونکہ اب وہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں رہا۔ بشرطیکہ اس نے اس رقم میں سے اتنا خرچ نہ کردیا ہو کہ نصاب بھی باقی نہ رہا ہو۔
مسئلہ: کسی غریب لڑکی کی شادی ہے اس کی شادی کا خرچہ ایک یا دو لاکھ ہے، ایسی صورت میں بعض لوگ ساٹھ ہزاریا ایک لاکھ کرکے لڑکی کو زکوٰۃ دیتے ہیں۔ اوپر مسئلے میں آپ کو سمجھایا گیا ہے کہ اگر ساٹھ ہزار اس کو مل گئے تو اب وہ مستحق نہ رہی لہذا اب زکوٰۃ اس کو نہیں دے سکتے۔
اس کا شرعی علاج یہ ہے کہ جس لڑکی کی شادی ہے اور اس کا والد مستحق ہے تو زکوٰۃ اس کے والد کو دے ، مالک لڑکی کو بنادے لہذا جب رقم پوری جمع ہوجائے تو ایک ساتھ لڑکی کی شادی پر خرچ کردی جائے، یہ زکوٰۃ کا صحیح طریقہ ہے۔
مسئلہ: ایک شخص کو آپ نے زکوٰۃ دی، زکوٰۃ دینے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ شخص مستحق نہیں ہے۔ ایسی صورت میں زکوٰۃ ادا ہوجائے گی کیونکہ اس کے گھر پر جاکر یہ کہنا کہ ہماری رقم واپس کرو، یہ ممکن نہیں لہذا زکوٰۃ ادا ہوجائے گی، گناہ اور عذاب زکوٰۃ لینے والے پر ہوگا۔ ایسا شخص آگ کے انگارے کھا رہا ہے۔
بینک اور زکوٰۃ کی کٹوتی
بینک میں شرعی حدود و قیود کا لحاظ نہیں رکھا جاتا اور نہ ہی زر اور سود میں تفریق کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اخبارات میں بھی آیا ہے کہ حکومت زکوٰۃ کی رقم میں خردبرد بھی کرتی ہے لہذا بینک سے زکواۃ نہ کٹوائیں۔ رمضان سے پہلے زکوٰۃ کٹوتی سے آپ اپنے آپ کو مستثنیٰ قرار دینے والا فارم پر کرلیں۔ سپریم کورٹ نے یہ سہولت اب حنفیوں کو بھی دے دی ہے (تفہیم المسائل)
مسئلہ: زکوٰۃ صدقات میں افضل یہ ہے کہ پہلے اپنے بھائیوں، بہنوں کو دے پھر ان کی اولاد کو پھر چچا اور پھوپھیوں کو پھر ان کی اولاد کو پھر ماموں اور خالہ کو، پھر ان کی اولاد کو پھر اپنے گائوں یا شہر کے رہنے والوں کو (جوہرہ، عالمگیری وغیرہ)