یادِ گیسو ذکر حق ہے آہ کر            دل میں پیدا لام ہوہی جائے گا

حل لغات:۔گیسو، لمبے لمبے بال، زلفیں۔ ذکر حق ، خدا کا ذکر۔ آہ ، نالہ وفغاں
شرح:۔حضورسرورِ عالمﷺ کے گیسوئے مبارکہ کو ’’لام‘‘سے تشبیہ دی گئی ہے یعنی حضور ﷺ کے گیسوؤں کی یاد کرنا گویا اللہ کو یاد کرنا ہے اور اللہ کی یاد میں آہ دل سے نکلتی ہے اور آہ اور دل کے درمیان اگر گیسو کے دونوں لام کا اضافہ کردیا جائے تو اللہ بن جاتاہے گویا حضورﷺ کے گیسو کے تصور میں آہ کے دل میں یعنی بیچ میں ذکر گیسو سے اسم جلالت اللہ پیدا ہوتاہے گویا کہ آہ کرنا اللہ کا نام لینا ہے۔
عشق ہوتو:۔امام احمد رضا قدس سرہ کی اس صنعت عاشقانہ کو وہی مانے گا جسے حضورﷺ سے عشق ہوگا اور جو اس دولت سے محروم ہے وہ تو صرف تفنن پر محمول کریگا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضور نبی پاکﷺ کا ہر تعلق دارین کی فلاح و کامیابی کا بے بہا سرمایہ ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا عشقِ رسول ﷺ ضرب المثل ہے امام احمد رضا قدس سرہ کے اس جملہ کی عملی تفسیر سیدنا خالد بن ولید (سیف اللہ)رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کارنامے ہیں جنہیں اتنی بڑی فتوحات نصیب ہوئی تو گیسوئے رسول ﷺ کی برکت سے یہی تصورتو تھا جو امام احمد رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پیش کیا۔
تعدادگیسوئے حبیبﷺ:۔حضورسرورِ عالمﷺ کے گیسواقدس کی تعداد بارہ لاکھ تیرہ ہزار کئی سو تھی جب سر مبارک ترشواتے تو تما م گیسوئے مبارک ترشواتے کبھی گیسوؤں کو رنگا نہیں تھا عمر مبارک کے آخری حصہ میں بال مبارک بھی سفید ہوئے ۔ یہ سر مبارک اور داڑھی مبارک کے بالوں کی مجموعی تعداد ہے کہ سر مبارک میں آپ تیل ڈالتے اور کبھی کنگھا کرتے اور جب انہیں سنوارتے تو ان کی خوشبو سے ساری فضاء معطر ہوجاتی۔
فائدہ:۔اس تعداد کو سامنے رکھ کر اس حدیث مبارک کو یاد کیجئے کہ آپ ﷺ نے بموقہ حج صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر تقسیم فرمائے۔(بخاری)
اس کے بعد انکار برائے انکار ہوتو مجبوری ہے ورنہ یقین کیجئے کہ وہ لاکھوں بال مبارک کہاں گئے اور یہ بھی ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے لے کرنجدی دور تک ہر زمانہ میں گیسوئے نبی پاک ﷺ کو اہل اسلام میں وہ پذیرائی رہی کہ بڑے بڑے بادشاہ کو نصیب نہ ہو بلکہ مسلمان جان کے نذرانے پیش کرتے، اپنی گھر کی جائیداد قربان کرڈالتے، معمولی سی بے ادبی پر کٹ مرتے ،جان سے عزیز تر گیسوئے رسول ﷺ کی حفاظت کرتے ،جس کے پاس ایک گیسوئے مبارکہ ہوتا وہ دنیا و مافیہا سے بڑھ کر دولت کا مالک سمجھا جاتا۔ گیسوئے مبارک کی زیارت کے لئے ایامِ مقررہ میں شادی کا سا سماں بندھ جاتاہجوم کی کیفیت کو دیکھ کر پتہ چلتا کہ کسی شہنشاہ کی رعایا زیارت کے لئے جمع ہورہی ہے لیکن نجدیت نے یکسر گیسوئے مبارک کے وجود کا انکار کردیا اور بے سند کی من گھڑت کہانی سے عوام کے دلوں میں وسوسے ڈال دیئے پھر انہیں تبرک سمجھنے پر شرک کا فتویٰ جڑدیا ادھر انگریز کے ذریعے ایسے تبرکات پر مختلف حربوں سے ختم کرانے کی کوشش کی لیکن مٹ گئے خود لیکن نہ مٹا نشان ان کا۔
معمولات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم:۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور ان کے بعد اہلِ حق کا طریقہ رہا کہ حضورسرورِ عالمﷺ کے موئے مبارک دھو کر جس بیمار کو پلاتے اس کو فوراً شفاء ہوتی ۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ٹوپی میں چند موئے مبارک حضورﷺ کے تھے وہ اسے پہن کر لڑائی میں جاتے اللہ تعالیٰ ان کو موئے مبارک کی برکت سے فتح عطا فرماتا۔
فتوحاتِ خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ:۔سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فتوحات اسلام میں ضرب المثل ہیں ان کی فتوحات کا اعتراف غیر مسلموں کو بھی ہے۔ صحابہ و تابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں اس کا عام چرچاتھا کہ جس جنگ میں حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ شریک ہونگے اس میں فتح یقینی ہے ان کی شجاعت و بہادری بسرو چشم لیکن انہیں اپنی شجاعت و بہادری پر ناز نہیں تھا بلکہ ان کا عقیدہ تھا کہ یہ تمام فتوحات حضور سرورِ عالم ﷺ کے گیسوئے پاک کی مرہونِ منت ہیں۔ چنانچہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ٹوپی مبارک میں رسول اللہﷺ کے گیسو مبارک تھے جس کے باعث آپ اپنی ٹوپی کا بطور خاص خیال رکھتے تھے اس لئے ایک جنگ کے موقع پر جب آپ کی ٹوپی مبارک گر گئی آپ کو شدید تشویش ہوئی اور ٹوپی کی تلاش میں آپ نے بہت کوشش فرمائی اس پر جب آپ کے ساتھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عین جنگ کے دوران ٹوپی کی تلاش میں آپ کے اہتمام پر اعتراض کیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا معاملہ صرف ٹوپی کا نہیں تھا بلکہ اس کی یہ اہمیت اس کے موئے مبارک پر مشتمل ہونے کے باعث تھی کہ میں نہ موئے مبارک کی برکت سے محروم رہوں اور نہ کسی مشرک کے ہاتھ آجانے کے باعث اس کی بے ادبی ہو۔(کتاب الشفاء ، جلد۲ صفحہ ۴۴ ملخصاً)

مزید تفصیل فقیر کی تصنیف ’’گیسوئے رسولﷺ‘‘میں پڑھئے ۔

یاد ابرو کرکے تڑپو بلبلو!        ٹکڑے ٹکڑے دام ہو ہی جائے گا

حل لغات:۔ابرو، بھنویں ۔ بلبلو، ایک مشہور پرندہ ہے جسے پھولوں کا عاشق سمجھا جاتاہے۔ اے بلبلو! مجازاً عاشق رسولﷺ ۔ دام ، جال ،پھندا۔
شرح:۔اے عاشقوں! اگر دنیاوی مصائب وآلام ، رنج و ملال کے پھندوں اور جالوں میں پھنسے ہوئے اور محبوب کی ملاقات کے لئے تمہارے آزادی ناممکن ہوچکی ہو تواس کی آسان ترکیب یہ ہے کہ محبوب ابروں کو یاد کرکے تڑپو ابروئے محبوب شمشیر براں کا کام کرے گا سارے پھندے اور تمام جال ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے اورمقصود حاصل ہوجائے گا۔
لطیفہ:۔بلبل ایک لطیف اور نازک مزاج پرندہ ہے جسے خوشبو محبوب ہے ۔ اعلیٰ حضرت نے عاشقانِ رسول ﷺ کو بلبل فرمایا ہے جو ان کی لطافت و نظافت طبعی کی طرف اشارہ ہے اور یہ واقعی حق ہے اس لئے کہ ہم نے تجربہ کیا ہے جس میں عشقِ رسول (ﷺ)ہے وہ طبعاً نازک و لطیف الطبع ہے اور جو عشقِ رسول ﷺ کی دولت سے محروم ہے وہ خشک اور مرجھایاہوا محسوس ہوتاہے تجربہ شاہد ہے۔
الحمدللّٰہ ہر سنی عاشقِ رسول ﷺ کو دولتِ عشق رسول ﷺ نصیب ہے اور دولتِ عشق نصیب ہوتی بھی ہے تو لطیف مزاج کو اور رسول اللہﷺ کا عشق و محبت عین اسلام ہے۔

لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہِ وَوَلَدِہِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ

(صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب حب الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، جلد۱ ،صفحہ ۲۴، حدیث۱۴)
(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب وجوب محبۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اکثر من، جلد۱ ،صفحہ ۱۵۶، حدیث ۶۳)
تم سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک مجھے زیادہ محبوب نہ بنالے اپنے والد اور اولاد اور تمام لوگوں سے۔
فائدہ:۔امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا

ومن علامات محبتہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن یلتذ محبہ بذکرہ الشریف ویطرب عند سماع اسمہ المنیف۔
(المواہب اللدنیۃ، جلد۲،صفحہ ۶۴۳، المکتبۃالتوفیقیۃ القاھرۃ ،مصر)
اور آپﷺ کی محبت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ کا محب آپ کے ذکر پاک سے روحانی لذت اور سرور وفرحت پاتاہے اور آپ کا نام سنتے ہی خوش ہوتاہے۔

نوٹ:۔ان اشعار کی شرح حضور فیض ملت کی کتاب ’’الحقائق فی الحدائق المعروف شرح حدائق بخشش جلد ۲‘‘سے لی گئی ہے۔