الحمدﷲ! رب العالمین عزوجل کا کروڑھا کروڑبڑ احسان عظیم، جس نے ہمیں ایمان کی دولت سے مالا مال کیا اور رحمت دوعالمﷺ کا امتی ہونے کا شرف عطاء فرمایا اور مزید انعام یہ ہے کہ مسلک حق اہلسنت و جماعت پر کاربند فرمایا اور دین و شریعت پر آزادانہ عمل کے لئے پیارا پاکستان عطا فرمایا۔ 23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان پیش کی گئی اور صرف 7 سالوں کے قلیل سفر کے بعد 14 اگست 1947ء کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر ظاہر ہوگیا۔
آج 2013ء میں ہم 66 واں یوم آزادی منانے جارہے ہیں۔ کیا آزادی کے گزرے ہوئے لمحات ہمیں بڑی آسانی سے میسر آگئے تھے؟ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان نامی ریاست برٹش گورنمنٹ نے تھالی میں سجاکر تحفتاً پیش کردی تھی؟ یا اس پاک سرزمین کے حصول کے لئے مسلمانوں نے اس سرزمین پاک کے عظیم قائد محمد علی جناح کے ساتھ بڑی بڑی قربانیاں دیں، ان تھک محنت اور عظیم جدوجہد کے ذریعے یہ ملک حاصل کیا۔
یقینا نظریہ پاکستان ایک بلند اور عظیم نظریئے کا نام ہے۔

نظریہ پاکستان باطل معبودوں کو ماننے والوں کے سامنے حقیقی معبود، اﷲ وحدہ لا شریک کی عظمت کو ماننے کا نام ہے۔
نظریہ پاکستان باطل لیڈروں کے مقابلے میں رسول ﷲﷺ کی خاتمیت پر ایمان رکھتے ہوئے آپﷺ کے ’’اسوہ‘‘ پر عمل کرنے کا نام ہے۔
نظریہ پاکستان ظالموں سے مظلوموں کے حقوق چھیننے کا نام ہے۔
نظریہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست کی تشکیل کا نام ہے۔
نظریہ پاکستان نظام عدل کو قائم کرنے کا نام ہے
نظریہ پاکستان آپس میں مساوات، اخوت و بھائی چارگی اور انسانی حقوق کی ادائیگی کا نام ہے۔
نظریہ پاکستان دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی اسی طرح حقوق دینے کا نام ہے جس طرح مسلمانوں کے حقوق ہیں۔
نظریہ پاکستان عورتوں کے حقوق ادا کرنے کا نام ہے۔

انسانی تاریخ میں ایسی ہجرت موجود ہی نہیں جس میں 20 لاکھ نفوس نے اپنی قربانی، کسی سرزمین کو حاصل کرنے میں پیش کی ہو۔ یہ سعادت بطفیل سرکار دوعالمﷺ صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی کے حصہ میں آئی ہے۔ یقینا ہمارا پیارا وطن اﷲ عزوجل اور سرکار دوعالمﷺ کی رضا و خوشنودی کے سبب ہی معرض وجود میں آیا۔ بقول ڈاکٹر صفدر محمود جوکہ جنگ اخبار کے کالم نگار ہیں، انہوں نے کئی مرتبہ اس کا حوالہ دیا ہے کہ جب قائداعظم محمد علی جناح دلبرداشتہ ہوکر ہندوستان چھوڑ کر انگلینڈ چلے گئے تو آپ کے خواب میں سرکار دوعالم، رحمت للعالمینﷺ تشریف لائے اور برصغیر میں جاری مسلمانوں کی تحریک کی قیادت کرنے کا حکم دیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے بعد جو تحریک چلی، اس میں یقینا اخلاص و سچائی تھی جس کے سبب پوری قوم نے قائداعظم محمد علی جناح کا ساتھ دیا، سوائے چند کانگریسی ملائوں کے اور خاص کر مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن بنانے کی تحریک میں دارالعلوم دیوبند بھی شامل نہیں ہوا۔
اسی بناء پر مفکر اسلام علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ نے فرمایا

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

1971ء میں جب پاکستان کے دو ٹکڑے ہوئے اور بنگال صوبہ علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا اور پاک فوج کو بڑی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تو جمعیت علمائے اسلام کے اس وقت کے سربراہ مفتی محمود نے کہا کہ ’’خدا کا شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ تھے‘‘
محترم قارئین! پاکستان بنانے کا جو خواب علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے دیکھا اور اس کی تعبیر قائداعظم محمد علی جناح اور کروڑوں مسلمانوں نے مکمل کی۔ بدقسمتی سے جیسا پاکستان اقبال اور قائد چاہتے تھے، وہ ہمیں آج تک نہ مل سکا۔ گزرے ہوئے 65 سالوں میں سوائے چند ایک کے، جتنے بھی حکمران آئے، انہوں نے اپنے لئے سوچا، پاکستان کے لئے کچھ نہ کیا۔ ورنہ اس ملک خداداد میں کسی چیز کی کمی نہیں۔ معاشی وسائل سے لے کر معدنی وسائل تک، زرعی وسائل سے لے کر صنعتی وسائل تک وافر خزانہ موجود ہے۔ اسی پاک سرزمین کو رب العالمین نے چاروں موسم عطا فرمائے۔ سمندر اور بندرگاہیں یہاں موجود ہیں۔ مٹی کا تیل، پیٹرول اور سونے کے ذخائر سے بھرے پہاڑ موجود ہیں۔ دنیا کا سب سے قیمتی ہیرا یہاں پایا جاتا ہے۔ ماربلز سے لبالب بھرے پہاڑ، دریا اور شاندار نہری سسٹم یہاں موجود ہے۔ الحمدﷲ رب العالمین کے فضل و کرم سے تمام کی تمام نعمتیں یہاں بدرجہ اتم موجود ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستانی قوم میں بہترین انٹلکچوئیل (ذہین) لوگوں کی کچھ کمی نہیں۔ سائنس دانوں سے لے کر ڈاکٹرز اور علماء و مفکرین سے لے کر بہترین پروفیسرز و اساتذہ یہاں موجود ہیں۔ بہترین وکلاء اور ججز قوم کی رہنمائی کے لئے ہمہ وقت موجود ہیں اور قوم کے لئے سب سے بڑا سرمایہ نوجوان ہوتے ہیں۔ یقینا سب کی خواہش یہی ہے کہ وہ پاکستان ہمیں واپس مل جائے جسے قائداعظم نے بنایا تھا۔
بس اگر یہاں کمی رہی تو مخلص حکمرانوں کی… کبھی آمر / ڈکٹیٹر پاکستان بچانے کے نام پر برسر اقتدار آئے تو کبھی نام نہاد جمہوری سیاست دان… درآنحالانکہ ہمارے ملک میں سچے، مخلص اور دیانتدار محب وطن افراد کی کچھ کمی نہیں ، لیکن کیا کہئے اس آمرانہ اور جمہوری طرز سیاست کا…؟
محترم قارئین!
جس وقت یہ سطور تحریر کی جارہی ہیں، انتخابات 2013ء کے لئے عبوری وزیراعظم کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ آنے والا وقت کیا گل کھلاتا ہے، یہ تو اﷲ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے…؟
اس تمہید کا جو مقصد ہے وہ یہ ہے کہ آج 65 سالوں کے بعد ہم سنی مسلمان جنہوں نے اقبال اور قائد کے ساتھ مل کر یہ سرزمین حاصل کی تھی، کہاں غائب ہیں…؟ ایسا نظر آرہا ہے کہ بین الاقوامی سیاست ہو یا ملکی سیاست ہم اقلیت میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ ورنہ دیکھ لیجئے… اپنے زعم میں جنہیں ہم اقلیت گردانتے تھے بظاہر وہ ملکی سیاست ہو یابین الاقوامی سیاست، چھائے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

لمحہ فکریہ ہے مسلک کے نام نہاد ٹھیکیداروں کیلئے

جنہیں اقلیتی فرقہ و مسلک سمجھا جاتا ہے، ان اقلیتوں نے مسالک کے نام پر اپنے اپنے ممالک بنالئے ہیں۔ ان کی اپنی اپنی ریاستیں، ان کے عقیدے و مسلک کی بنیاد پر قائم ہیں جہاں آپ اور ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ اس کے علاوہ اگر صرف اپنی سرزمین پاک کی بات کریں تو مجھے کہنے دیجئے کہ صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے اکثر حصے پر انہی اقلیتوں کا قبضہ ہے۔ یہاں تک کہ گزشتہ چند سالوں سے مسلسل اہلسنت و جماعت کے علماء و مشائخ کو چن چن کر شہید کیا جارہا ہے۔ مساجد، مزارات اور جامعات کو خودکش حملوں کے ذریعے تباہ کیا جارہا ہے۔ صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے علماء و مشائخ نقل مکانی پر مجبور کردیئے گئے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہم اکثریت کا زعم رکھتے ہیں، صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہونے والے مظالم کے خلاف ہم نے کیا طاقت (Power) دکھائی؟ علماء و مشائخ کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف کتنی منظم اور جامع پالیسی پر عمل درآمد کیا؟
جی جناب والا! کوئی نہیں، جی ہاں کوئی نہیں…؟
اس کے برخلاف ہمارے ملک کا اقلیتی فرقہ اپنی حیثیت اس طرح منواتا ہے کہ پورے صوبے کی جمہوری حکومت کا خاتمہ کرکے دم لیتا ہے۔ پورے پاکستان میں بیک وقت احتجاج! کیا ایسا منظم اور جامع احتجاج ہم کرسکتے ہیں؟ شاید ہم سوچ بھی نہیں سکتے اور اس پر اکثریت کا زعم خدا کی پناہ!
مان لیجئے! ہم منتشر ہوچکے ہیں… ہم بکھر چکے ہیں… ہم نے اپنے علیحدہ علیحدہ راستے منتخب کرلئے ہیں… دینی یا دنیاوی کون سا شعبہ ہے جہاں ہم متحد ہیں؟ چار چار افراد پر مشتمل سیاسی پارٹیاں…؟
ایماندارانہ تجزیہ کیا جائے تو پورے پاکستان سے ہم مسلک اہلسنت کے نام پر شاید ایک قومی اسمبلی کی نشست بھی حاصل نہ کرسکیں گے اور اگر یہ کہا جائے تو بھی بے جا نہ ہوگا کہ چاروں صوبوں میں ایک صوبائی اسمبلی کی نشست بھی ممکن نظر نہیں آرہی…؟
ایسا کیوں ہے…؟ یہ کیسے ہوگیا…؟ اور کیا اب کوئی صورت ایسی ہے جس سے دوبارہ ہم سنی مسلمان اپنے قدموں پر کھڑے ہوسکیں؟
محترم قارئین! ایسا کیوں ہے؟ اور کیسے ہوگیا؟ کا جواب یقینا ان مختصر سطور میں دیا ہی نہیں جاسکتا…؟ یہ تو دعوت غوروفکر ہے… رہا یہ کہ اب کیا کرنا چاہئے…؟ تو سب سے پہلے ترجیحی بنیادوں پر علماء و مشائخ کو مدعو کیا جائے اور ’’اہلسنت و جماعت کی ترجیحات‘‘ کا ازسر نو تعین کیا جائے۔ جس میں تعلیم، سیاست، معیشت، صحت اور فلاحی کاموں کے حوالے سے بحث کی جائے۔ ایک نیا پینل / بورڈ قائم کیا جائے جوکہ متفقہ اور تمام اختیارات کا حامل ہو جس میں ہر شعبے کے سنجیدہ اور اہل علماء کا تقرر کیا جائے۔ ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام کس طرح اور کون کرے گا…؟
یقینا ہمارے ہاں ایسے نامور علماء و مشائخ ضرور موجود ہیں جن پر تمام لوگوں کا اتفاق پایا جاتا ہے، اس کے علاوہ یہ کام ہماری دینی، فلاحی اور تبلیغی تنظیمات بھی باخوبی کرسکتی ہیں۔ بس سنجیدگی اور اخلاص سے اس کام کے آغاز کی ضرورت ہے اور اپنی سابقہ پوزیشن سے ایک قدم پیچھے آنے کی ضرورت ہے اور ایک دوسرے سے درگزر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ یقینا عاجزی و انکساری رب العالمین کو بے حد پسند ہے۔ تکبر صرف رب العالمین کو ہی زیب دیتا ہے۔ فقط صرف یہی ایک سبب ہے جو سب سے بڑا ناسور ہے جسے شیطان نے ہمارے درمیان فروغ دے دیا ہے۔ جبکہ وہ رب العالمین ہوتے ہوئے ہماری تمام غلطیاں معاف فرما رہا ہوتا ہے اور ہم اپنی پوزیشن سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ وہ رب العالمین ہوتے ہوئے اپنے مدمقابل باطل خدا بنانے والوں کو اپنی ’’صفت حلم‘‘ سے درگزر فرما رہا ہوتا ہے کہ یہ میری جانب لوٹ آئیں لیکن ہمارا اختلاف ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پتھر پر لکیر ہو جو کہ ختم نہیں ہوسکتا۔
خدارا! اسلام اور نظام مصطفیﷺ کے نفاذ اور تحفظ کے لئے اپنے ذاتی، جماعتی اور گروہی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر، عظیم مقاصد کے لئے متحد ہوجائیں تو ان شاء اﷲ یہ قوم مسلم اور پوری دنیا کے امن کے لئے شاندار کام ہوگا۔ ورنہ…؟ جو کچھ ہوچکا ہے اب اس سے بڑے امتحان اور آزمائش کے لئے تیار رہیں…؟
محترم قارئین کرام! ہمارے ہاں لسانی، علاقائی اور نسلی بنیادوں پر لاتعداد گروہ اور جماعتیں سرگرم عمل ہیں۔ یہ جماعتیں اپنے مخصوص گروہی مفادات میں اس قدر آگے بڑھ جاتی ہیں کہ بعض اوقات یہ قومی و ملی مفادات کو بھی قربان کردیتی ہیں۔
رائے دہندگان سے گزارش ہے کہ وہ انہی  افراد کو اپنا ووٹ دیں جن کے اندر کم از کم یہ تین خصائص موجود ہوں۔ ایک یہ کہ وہ بدعقیدہ نہ ہو، یعنی سواداعظم اہلسنت و جماعت سنی حنفی بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والا ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ ملک دشمن نہ ہو اور قومی مفاد اور ملی سرحدوں کی حفاظت کو اپنا فریضہ سمجھتا ہوں۔ تیسرے یہ کہ وہ سیاسی بصیرت اور نظم و نسق چلانے کی سمجھ بوجھ رکھتا ہے۔
اے میرے سنی بھائیو! ہمیں اب غفلت کی نیند سے بیدار ہونا ہوگا۔ ہمیں عشاقان رسول کو اسمبلی میں لانا ہوگا۔ نظام مصطفیﷺ کے نفاذ کی جدوجہد کو تیز کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے یہ موقع بھی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا تو پھر یاد رہے کہ مزیدپستی کی طرف دھکیل دیئے جائیں گے پھر ہمارا کوئی معاون نہ ہوگا۔