غزالیٔ زماں علیہ الرحمہ اور ابطالِ باطل واستیصالِ بدمذہبیت

in Tahaffuz, May-June 2013, مولانا محمد حسن علی رضوی بریلوی میلسی

غزالی زماں علامہ سید احمد سعید کاظمی امروہوی علیہ الرحمہ کی اسلام وسنیت اور فروغ علم دین کے لئے عظیم خدمات اور مسلسل مساعی اظہر من الشمس ہیں۔ وہ امروہہ ضلع مراد آباد کے موقر سادات کے علمی گھرانہ کی ممتاز علمی شخصیت تھے۔ ممدوح موصوف نے جہاں درس و تدریس و وعظ و تبلیغ کے ذریعہ اہلسنت اور دین حق، دین اسلام کی نمایاں خدمات انجام دیں، وہاں مذہب حق مذہب مہذب اہلسنت مسلک اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی بھی گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ ملتان شریف اگرچہ اولیاء اﷲ رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کا روحانی مرکز اور حضرت غوث بہاء الحق ذکریا سہروردی، سیدنا شاہ رکن عالم سہروردی، حضور سیدنا غوث موسیٰ پاک شہید قدست اسرارہم کا مسکن و مستقر تھا لیکن یہاں کوئی خالص مخلص ہادی مہدی متصلب و مستند سنی بریلوی عالم دین نہ تھا۔ سنیت کے نام پر سنی بن کر وہابیت نجدیت کو فروغ دینے والے حنفیت کا لبادہ اوڑھ کر عوام و خواص کو مغالطہ دینے والے بہت تھے۔ خانقاہی روایات کے حامل اس روحانی شہر اور مرکز میں سُنّی بریلوی عالم دین کی اشد ضرورت اور شدید حاجت تھی۔ اﷲ تعالیٰ نے یوپی سے غزالی زماں کو ابر رحمت بناکر بھیجا۔ آپ نے ابتداً نعمانیہ لاہور اور پھر اوکاڑہ میں مختصر عرصہ قیام فرمایا اور دینی خدمات سرانجام دیں اور پھر ملتان شریف میں نزول اجلال فرمایا۔ آپ ایسے ماحول میں تشریف لائے جبکہ یہاں احراری کانگریسی مکتب فکر کے دیوبندی امیر شریعت احرار اور اشرف علی تھانوی کے خلیفہ معتمد خیر محمد جالندھری خطیب احرار محمد علی جالندھری اور مقرر احرار شجاع آبادی اور جمعیت العلماء ہند ’’مدنی کانگریسی اجودھیاء باشی اور سیوہاروی کے جانشین قاسمی افکار‘‘ کے حامل موجود تھے۔ سنیت اور افکار سیدنا اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ  کی صحیح ترجمانی کرنے والا کوئی نہ تھا۔ ابتداً آپ کے برادر اکبر استاد محترم و شیخ طریقت مرشد برحق عارف حقیقت نازش سنیت علامہ قاری سید محمد خلیل الکاظمی محدث امروہوی علیہ الرحمہ بھی تشریف لے آئے۔ یہ بزرگوار قیام پاکستان سے پہلے اور بعد دارالعلوم مظہر اسلام بریلی شریف میں مستقل ممتحن رہے۔ جب تک حضور محدث اعظم حضرت قبلہ شیخ الحدیث علامہ ابوالفضل محمد سردار احمد صاحب قدس سرہ العزیز مظہر اسلام بریلی شریف کے صدر المدرسین و شیخ الحدیث رہے، باقاعدہ حضرت محدث امروہوی علیہ الرحمہ دورہ حدیث شریف کے طلباء کے امتحان لینے کے لئے تشریف لاتے رہے اور پابندی کے ساتھ بریلی شریف کے صدر المدرسین و شیخ الحدیث رہے۔ باقاعدہ حضرت محدث امروہوی علیہ الرحمہ دورہ حدیث شریف کے طلباء کے امتحان لینے کے لئے تشریف لاتے رہے اور پابندی کے ساتھ بریلی شریف کے عرس قادری رضوی میں آستانہ عالیہ رضویہ بریلی شریف پر تشریف لاتے رہے اور شہزادۂ و جانشین اعلیٰ حضرت شیخ الفقہاء امام العلماء حضرت قبلہ مفتی اعظم سجادہ نشین بریلی شریف کے مہمان ہوئے۔ حضرت غزالی زماں علیہ الرحمہ آپ کے ہمراہ ہوتے تھے۔ حضرت کا اسلوب حسن عقیدت ایسا دل آویز و روح پرور تھا کہ امروہہ سے ٹرین کے ذریعہ بریلی شریف جنکشن ریلوے اسٹیشن پر اترتے اور محلہ سوداگراں اور مظہر اسلام بہاری پور ڈھال تک پیدل چل کر تشریف لے جاتے، جب مولوی خلیل انبیٹھوی نے حسام الحرمین کے نام نہاد جواب کے طور پر جعل سازی اور فریب کاری کا مجموعہ ’’المہند‘‘ نامی رسالہ شائع کیا تو شیر بیشہ اہلسنت مظہر اعلیٰ حضرت مولانا محمد حشمت علی خاں صاحب قدس سرہ نے اس کے رد ابطال میں رادالمہند اور ’’الصوارم الہندیہ‘‘ شائع فرمائی، جس میں برصغیر پاک و ہند کے جملہ صوبہ جات کے اکابر علماء آئمہ و فقہاء اہلسنت کی تصدیقات شامل کیں تو اس میں امروہہ سے حضرت قبلہ علامہ سید محمد خلیل الکاظمی محدث امروہوی اور حضرت غزالی زماں قدس سرہما کی تصدیقات بھی شامل کیں اور ہر دو حضرات نے حسام الحرمین کی تائید و توثیق و تصدیق فرمائی (ص 75، 74، الصوارم)
ایک بار سیدنا مجدد اعظم سرکار اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ  کے عرس قادری رضوی کے موقع پر غزالی زماں تقریر کررہے تھے۔ سیدنا حضور مفتی اعظم شہزادہ اعلیٰ حضرت اپنے دولت کدہ پر رضوی دارالافتاء پر بیٹھے ہوئے تقریر سن رہے تھے۔ فرمایا

’’امروہہ کے چھوٹے سید صاحب تقریر کررہے ہیں، بہت عمدہ طرز استدلال ہے، بہت خوب بیان و کلام ہے‘‘

ملتان شریف میں جلوہ آرائی اور مستقل سکونت کے بعد اہلسنت کی درخشاں دینی درسگاہ انوارالعلوم کا قیام عمل میں آیا۔ ابتداً دورہ حدیث شریف کے اسباق حضرت محدث امروہوی علیہ الرحمہ نے پڑھائے پھر حضرت غزالی زماں اور حضرت محدث امروہوی قدس سرہما دورۂ حدیث شریف کی کتب دونوں حضرات پڑھاتے رہے۔ مدرسہ انوارالعلوم کا قیام اہلسنت کے لئے نعمت سے کم نہ تھا۔ انوارالعلوم کے افتتاح کے موقع پر بریلی شریف سے شہزادہ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم مولانا شاہ مصطفیٰ رضا نوری رضوی قدس سرہ اور سیدی سندی حضرت قبلہ محدث اعظم پاکستان علامہ ابوالفضل محمد سردار احمد علیہ الرحمہ صدر المدرسین و شیخ الحدیث بریلی شریف کو خصوصی طورپر دعوت افتتاح دی گئی۔ ان دونوں حضرات کا قیام درسگاہ حضرت غوث موسیٰ پاک شہید علیہ الرحمہ کے صدر دروازہ میں عین سامنے چہارہ میں تھا۔ جہاں آج کل شربت و فالودہ وغیرہ کی دکان ہے۔ حضرت غزالی زماں کی شبانہ روز کی مسلسل مساعی اور محنت شاقہ سے یہ اجلاس افتتاح اس قدر کامیاب ہوا ، پورے جنوبی پنجاب میں اس کا عام شہرہ ہوا۔ اہلسنت کی حقانیت وصداقت کا ڈنکا بج گیا۔ انوار العلوم ملتان غزالی زماں کی علمی یادگار ہے، جہاں سے سینکڑوں علماء کرام فارغ التحصیل ہوکر اندرون اور بیرون ملک دینی اور مسلکی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انوارالعلوم میں حضرت علامہ قاری سید محمد خلیل الکاظمی محدث امروہوی، غزالی زماں علامہ کاظمی صاحب، مولانا مفتی امید علی گیاوی، مولانا مفتی مسعود علی صاحب علی گڑھی، علامہ مفتی عبدالحفیظ قادری مفتی آگرہ، مولانا غلام رسول رضوی نوری، مولانا محمد شریف رضوی، مولانا منظور احمد فیضی وغیرہم جیسے عبقری مدرسین و اساطین علم درس و تدریس کی خدمت سرانجام دے چکے ہیں۔ انوارالعلوم کے مقتدر فضلا ہیں۔ مولانا منظور احمد پٹیالوی، مولانا منظور احمد فیضی، مولانا منظور احمد میاں چنوں، مولانا صاحزادہ محمود الحسن، مولانا حافظ پیر بخش بلوچ چشتی، مولانا کاظم القادری، مفتی غلام مصطفیٰ رضوی، مولانا خدا بخش اظہر شجاعبادی، مولانا عبدالقادر صاحب جلال پوری، مولانا حسن الدین، مولانا مفتی سعادت علی قادری، مولاناشجاعت علی قادری، مولانا محمد حسن حقانی، مولانا غلام سرور قادری، مولانا مشتاق احمد چشتی، مولانا مفتی محمد اقبال رضوی سعیدی، مولانا عبدالحکیم صاحب شجاعبادی، مولانا قادر بخش حسین آبادی وغیرم جیسے کثیر علماء شامل ہیں جو نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
غزالی زماں علامہ کاظمی صاحب علیہ الرحمہ نے جمعیت العلماء پاکستان کے قیام میں اہم کردار ادا کیا اور غازی کشمیر علامہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری علیہ الرحمہ کی صدارت کے عرصہ میں مرکزی ناظم اعلیٰ رہے۔ اس دوران مسٹر مودودی صاحب سے اچھرہ تشریف لے جاکر ان کے عقائد و افکار اور اسلامی طرز حکومت پر علمی مکالمہ فرماکر مودودی صاحب کو ساکت کیا اور مودودیت کے رد میں ’’آئینہ مودودیت‘‘، ’’خطرہ کی گھنٹی‘‘ اور ’’مکالمہ کاظمی و مودودی‘‘ ارقام فرمائیں۔ بانی مدرسہ دیوبند نانوتوی صاحب نے ختم نبوت کے جدید معنی اختیار کئے تو علامہ کاظمی علیہ الرحمہ نے نانوتوی کے افکار کے رد میں التبشیر برد تخذیر ارقام فرمائی۔
مخالفین اہلسنت نے جب حضور اقدس سید عالم سرکار دوعالمﷺ کے ظل اور سایہ کے اثبات کے متعلق غوغا آرائی کی پمفلٹ اور رسائل شائع کئے اور مدیر ’’تجلی‘‘ دیوبند عامر عثمانی نے ظل نمبر شائع کیا تو علامہ کاظمی علیہ الرحمہ نے اس کے رد میں ایک فاضلانہ کتاب نفی الظل والفی تحریر فرمائی جو اپنے عنوان پر حرف آخر ہے اور مخالف محو سکوت ہیں، جواب الجواب سے عاجز و بے بس ہیں۔ ملتان کے دیوبندی ماہنامہ رسالہ ’’الصدیق‘‘ میں حدیث مشورہ پر سیدنا امام اہلسنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ کی تحقیقات علیہ کا مذاق اڑایا گیا اور استہزاء کیا۔ علامہ کاظمی علیہ الرحمہ نے مسلک تحقیق اعلیٰ حضرت کی مدافعت و دفاع میں کتاب ’’حدیث استشارہ‘‘ تصنیف فرمائی۔ دیوبندی جریدہ الصدیق آج تک لب باندھے دم سادھے بیٹھا ہے اور زبان و قلم پر مہر سکوت لگ گئی۔ مسئلہ تکفیر اور سنی بریلوی، دیوبندی وہابی اختلافات پر علامہ کاظمی نے ایک فیصلہ کن اہم کتاب ’’الحق المبین‘‘ تصنیف فرمائی جو صلح کل گول مول اتحادی قسم مولویوں کے لئے تازیانہ عبرت ہے۔ دیت کے مسئلہ پر جب مسٹر طاہر القادری نے اپنی آوارگیٔ فکر اور تجدد پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ذاتی و انفرادی تحقیق ناحق کا مظاہرہ کیا تو غزالی زماں نے ’’اسلام میں عورت کی دیت‘‘ نامی مدلل ومتحقق کتاب تصنیف فرمائی جس میں نام لئے اور ذاتی شخصی تخاطب کئے بغیر مسٹر ڈاکٹر پروفیسر کینیڈا برانڈ خود ساختہ شیخ الاسلام کو منکر اجماع اور سواداعظم اہلسنت سے خروج ضال قرار دیا جس کا خود ساختہ جعلی شیخ الاسلام کوئی جواب نہ دے سکا۔ بقول ماسٹر حاجی محمد شبیر سعیدی علامہ کاظمی علیہ الرحمہ سے مسئلہ دیت پر بحث کے لئے انوارالعلوم ملتان آیا تو غزالی زماں علیہ الرحمہ سے کہنے لگا، وہ کتاب لاؤ۔ یہ کتاب لائو، وہ کتاب نکالو، یہ کتاب نکالو، بقول ماسٹر محمد شبیر سعیدی علامہ کاظمی نے فرمایا، اس کا خاتمہ ایمان پر نہیں ہوگا۔ علامہ کاظمی علیہ الرحمہ نے اپنی حیات ظاہری میں نہ کبھی طاہر القادری کو انوار العلوم کے جلسہ میں خطاب کے لئے بلایا، نہ کبھی علامہ کاظمی کبھی خود منہاج القرآن میں گئے اور یہ کہنا بدترین فریب و فراڈ ہے کہ مسٹر طاہر القادری انوار العلوم کا فاضل اور غزالی زماں کا شاگرد ہے۔ سراسر کذب قبیح اور افتراء صریح ہے۔ بطور طالب علم و شاگرد ایک دن بھی انوارالعلوم میں نہیں پڑھا۔ ان کے حواریوں کے بقول ۱۹۷۹ء میں علامہ کاظمی سے اجازت روایت کی سند حاصل کی‘‘ (مختلف پمفلٹ و رسائل فرقہ طاہریہ منہاجیہ)
اگر وہ شاگرد ہوتا بھی تو کیاتھا کیا گمراہی و ضلالت سے پہلے شیطان مردود و ابلیس لعین معلم الملکوت نہیں تھا؟ جب مسٹر ڈاکٹر پروفیسر ہر بدمذہب ہر باطل فرقہ کے آئمہ کی اقتداء میں نمازیں ضائع کرنے اور گستاخانہ کفر عبارات میں حسام الحرمین کے فتاویٰ سے انحراف کرنے لگے۔ دیت کے مسئلہ میں ضال اور سواداعظم سے خروج قرار پائے تو علامہ کاظمی علیہ الرحمہ کی سند واجازت اور شاگردی کچھ کام نہ آئے گی اور حضرت غزالی زماں علیہ الرحمہ کا نام نامی استعمال کرنا محض اپنے مفاد اور سنی علماء و عوام کو مغالطہ دینے کے مترادف ہے۔ اگر مسٹر ڈاکٹر پروفیسر علامہ کاظمی کی سند اور اجازت یا شاگردی کے دعویٰ میں سچا ہے تو کاظمی صاحب کی طرح حسام الحرمین، الصوارم الہندیہ اور علامہ کاظمی کی کتاب الحق المبین پر دستخط کردے، جن کے اقتداء میں مسٹر ڈاکٹر پروفیسر صاحب نمازیں برباد کرتے ہیں اور جائز سمجھتے ہیں۔ ان کے متعلق حضرت غزالی زماں علیہ الرحمہ کا فتویٰ مبارکہ بدیں الفاظ پاس موجود و محفوظ ہیں… ’’ان کی خود نماز نہیں ہوتی تو ان کی اقتداء میں بھی کسی کی نماز نہیں ہوتی… الخ (بلفظہ وبعینہ) اور یہ بھی واضح کردوں کہ مسٹر ڈاکٹر بالفرض سیدی حضور محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ یا مجدد دین و ملت سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا بھی براہ راست شاگرد و مرید ہوتا تو موجودہ حالت و کیفیت میں محدث اعظم اور اعلیٰ حضرت کی سند اور اجازت اور شاگردی اس کے کام نہ آتی اور قابل قدر نہ ہوتا کیونکہ ہم تو بفضلہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کنعان اور حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے بیٹے یزید پلید کو بھی نہیں مانتے اور کوئی ہمارے موقف کو غلط اور معاصرت پر مبنی سمجھتا ہے تو وہ مسٹر ڈاکٹر پرفیسر سے حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ اور الحق المبین اور التبشیر بر تحذیر پر دستخط کرادے اور دیت کے مسئلہ میں علامہ کاظمی کی تصنیف و فتاویٰ پر دستخط کرادے اور لکھوادے فلاں فلاں غیر سنی بدمذہب بدعقیدہ کے اقتداء میں نماز جائز نہیں، ہم اپنی غلطی کا اعتراف کرلیں گے ہمیں کچھ ضد و عناد نہیں۔ راقم الحروف نے یہ اضافی وضاحت اس لئے کردی کوئی بھی جدید فتنہ وفرقہ کا بانی شیخ الاسلام بن کر غزالی زماں علیہ الرحمہ کے نام سے دھوکہ اور مغالطہ نہ دے۔ علامہ کاظمی علیہ الرحمہ جس طرح تصنیف و تالیف میں بدطولیٰ اور مہارت نامہ رکھتے تھے، اسی طرح حسن خطابت میں بہتا ہوا دریا نہیں ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھے۔ مذہب حق اہلسنت اور مسلک اعلیٰ حضرت کی بے دریغ بے دغدغہ ترجمانی فرماتے، کم و بیش ان کے پچاس جلسوں میں ساتھ رہا۔ چھ سات بار خود میری دعوت پر تشریف لائے۔ مدرسہ مصباح العلوم کے سنگ بنیاد پر بھی بحیثیت ناظم اعلیٰ فقیر راقم الحروف نے دعوت دی۔ میلسی کے چار پانچ مضافاتی جلسوں میں میری دعوت پر تشریف لائے۔ احقائق حق اور ابطال باطل سے کبھی صرف نظر و درگزر نہ فرمایا۔ غالبا 1957-58ء کے عرصہ کی بات ہوگی۔ وزیراعظم چوہدری محمد علی کے دور میں 23 مارچ قرارداد پاکستان کے حوالہ سے سرکاری سطح پر قلعہ کہنہ پر ایک جلسہ ہوا جس میں سرکاری سطح و انتظامیہ کی ایماء پر تمام مکاتیب فکر کے علماء کو مدعو کیا (بلایا) گیا تھا، جس میں خیر المدارس کے بانی اور مولوی اشرفعلی تھانوی کے خلفیہ مولوی خیر محمد جالندھری اور مشہور دیوبندی احراری مقرر و خطیب محمد علی جالندھری اور مودودی جماعت سندھ کے امیر سلطان احمد اور امین حسن اصلاحی اور غیر مقلدین کے سرکردہ اکابر علماء بھی خطاب کررہے تھے لیکن علامہ کاظمی علیہ الرحمہ کا خطاب اور پرجوش بیان بہتا ہوا سمندر تھا۔ ’’اسلامی قانون کیا ہے، میرے آقا کی مقدس ادائوں کا نام ہے‘‘ جوش خطاب سے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اسپیکر سے چنگاریاں نکل رہی ہیں۔ دوسرے حضرات آپ کے سامنے طفل مکتب نظر آتے تھے، سب دم بخود تھے۔ اسی عرصہ کی بات ہے کہ ایک بار سنی بریلوی دیوبندی وہابی اختلاف کے باعث کافی انتشار ہوا۔ ان دنوں چوک بازار کی مسجد پھول ہٹ کی امامت و خطابت پر بھی شدید اختلاف ہوا۔ دونوں مکاتب فکر کے علماء بلکہ خود علامہ کاظمی صاحب کو بھی مچلکہ ضمانت دینا پڑا۔ اس دوران بھی حسین آگاہی میں انتظامیہ کی طرف سے سرکاری سطح پر ایک مشترکہ جلسہ بلایا گیا۔ سبھی مکاتیب فکر کے علماء تھے، ایک دیوبندی مقرر مولوی محمد علی جالندھری نے دوران تقریر مچل کر کہا ’’میں لوہے کا لٹھ دیوبندی ہوں‘‘ علامہ کاظمی صاحب نے اپنی جوابی تقریر میں کہا ’’معلوم ہونا چاہئے لوہا پگھل جاتا ہے… الحمدﷲ میں پتھر کی طرح سخت بریلوی ہوں، پتھر نہیں پگھلتا، لوہا پگھل جاتا ہے‘‘ مسلک اعلیٰ حضرت پر استقامت اور پابندی کے لئے برملا فرمایا کرتے تھے ’’وہ میرا مرید نہیں ہاں وہ میرا مرید نہیں جو مسلک اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی پابندی نہیں کرتا‘‘ اور فرمایا ’’میرا مسلک مسلک اعلیٰ حضرت ہے، ہم کیا ہیں، جو کچھ ہیں وہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ہیں‘‘ ایک بار علامہ خدا بخش اظہر علیہ الرحمہ نے عرض کیا: حضور ہم اعلیٰ حضرت کے غلام ہیں، اعلیٰ حضرت کے خدام ونیاز مند ہیں مگر اعلیٰ حضرت کے مقلد تو نہیں ہیں۔ اس پر علامہ کاظمی صاحب نے علامہ اظہر کے دونوں کان پکڑ لئے اور فرمایا ’’مولانا ہم دنیائے عشق و محبت میں اعلیٰ حضرت کے مقلد ہیں، مقلد ہیں‘‘
امام اہلسنت اعلیٰ حضرت کی تحقیقات عالیہ پر حضرت غزالی زماں علیہ الرحمہ کو ایسا غیر متزلزل وثوق و اعتماد تھا۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کے معاندین و معترضین کے جاہلانہ و معاندانہ اعتراضات و اشکالات کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں ’’الحمدﷲ اہل علم نے دیکھ لیا کہ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجدد ملت قدس سرہ العزیز علم و فضل کا وہ بحر ذخار ہیں جس کے ساحل تک بھی منکرین کی رسائی نہیں (حدیث استشارہ ص 8)
’’منکرین و معترضین کا امام اہلسنت اعلیٰ حضرت مجدد ملت علیہ الرحمہ کی شان اقدس میں ناشائستہ کلمات کہنا… پھبتیاں اڑانا تو یہ کوئی نئی بات نہیں، یہ لوگ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی تصانیف جلیلہ پر اپنی لاعلمی کی وجہ سے ہمیشہ مذاق اڑاتے اور منہ کی کھاتے رہے ہیں… ’’الصدیق ملتان‘‘ کا مضمون اعلیٰ حضرت کے خلاف اور اس کا دندان شکن جواب… پڑھ چکے ہوں گے۔ اس سے اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کی جلالت علمی اور منکرین کی بے مائیگی و لاعلمی کا انہیں بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا… اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی وسعت علم کو پانا تو درکنار اس کا سمجھنا اور اندازہ لگانا بھی ان لوگوں کے لئے آسان نہیں‘‘ (ملخصاً ظل النبی ص 142)

’’امام اہلسنت مجدد ملت حضور پرنور اعلیٰ حضرت بریلوی علیہ الرحمہ کے رسالہ مبارکہ نفی الفیٔ انار بنورہ کل شی پر وارد کئے ہوئے جملہ اعتراضات ھباء ومنشوراً ہوگئے اور یہ حقیقت آفتاب سے زیادہ روشن ہوگئی کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی تصانیف جلیلہ کی پھبتیاں اڑانا اور اس پر اعتراضات کرنا گویا سورج کا منہ چڑانا اور چاند پر تھوکنا ہے جس کا انجام ذلت اور ندامت کے سوا کچھ نہیں‘‘

(ظل النبی ص 202,201 از: غزالی زماں علامہ کاظمی علیہ الرحمہ)
حضرت غزالی زماں علیہ الرحمہ کی تاریخ ولادت 1322ھ / 1913ء ہے جبکہ تاریخ وصال 25 رمضان المبارک 1406ھ / 4 جون 1986ء ہے۔ آپ کا ملتان شریف عیدگاہ میں مزار مرجع خلائق ہے۔