(حضرت نظام الدین اولیاء (سلسلہ وار

in Tahaffuz, May-June 2013, خان آصف

’’سید! آئندہ سے تم شاگردوں کی عام قطار میں نہیں بیٹھوگے۔ تمہارے لئے میں نے اپنا یہ حجرہ وقف کردیا ہے‘‘
مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ کا یہ حجرہ کسی شہنشاہ کے دربار سے بھی زیادہ محترم تھا۔ آپ بڑے سے بڑے امیر کو بھی اس حجرے میں داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔ مولانا علیہ الرحمہ کے اس حجرے میں صرف دو شاگردوں حضرت قطب الدین فاقلہ علیہ الرحمہ اور حضرت برہان الدین عبدالباقی علیہ الرحمہ کو علم سیکھنے کا شرف حاصل تھا۔ تیسرے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ تھے جن کے لئے استاد گرامی کی نظر کرم مخصوص تھی۔
پھر وہ وقت بھی آیا کہ مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو اپنے برابر بٹھاتے۔ کبھی یوں بھی ہوا کہ مولانا اپنی مسند خاص پر شاگرد کو بیٹھنے کا حکم دیتے۔
اس موقع پر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نہایت عاجزی کے ساتھ عرض کرتے

’’یہ مقام ادب ہے میں ہرگز اس جگہ نہیں بیٹھوں گا‘‘

’’سید! یہ میرا حکم ہے‘‘

مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ فرماتے

’’اور استاد کا حکم ہی سب کچھ ہے‘‘

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ مجبور ہوکر مسند استاد پر بیٹھ جاتے مگر اس دوران آپ شدید اضطراب میں مبتلا رہتے۔
مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ ایک عالم باعمل تھے۔ مولانا کے علم اور کردار کی اثر انگیزی کا یہ حال تھا کہ عام انسانوں سے لے کر فرمانروائے وقت تک، سب کے سب آپ کے حلقہ اثر میں شامل تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے دست قدرت نے اہل شہر کو زنجیر پہنا کر مولانا کے آستانہ عالیہ پر کھڑا کردیا ہے۔ سلطان غیاث الدین بلبن جیسا باجبروت شہنشاہ بھی مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ کے نیاز مندوں میں شامل تھا۔ اس نے آپ کو ’’شمس الملک‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ اگرچہ مولانا شمس الدین کے لئے یہ خطاب باعث افتخار نہیں تھا لیکن غیاث الدین بلبن کی بے پناہ عقیدے کے سبب آپ نے یہ خطاب اور ایک اہم سرکاری عہدہ قبول کرلیا تھا۔
عام اندازہ ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے مولانا شمس الدین خوارزمی علیہ الرحمہ سے کم و بیش دوسال تک مختلف علوم حاصل کئے۔ اس دوران آپ نے عربی زبان میں مہارت حاصل کرلی تھی اور شعر و ادب کے رموز و نکات بھی آپ پر منکشف ہوگئے تھے۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے حافظے کا یہ عالم تھا کہ آپ نے ’’مقامات حریری‘‘ کے چالیس مقالے حفظ کئے۔ یہ عربی زبان کی ایک بے مثال اور مشکل ترین کتاب ہے۔ ’’مقامات حریری‘‘ کی عبارت اس قدر مسجع اور مقفی ہے کہ غیر عرب کے لئے اس کا پڑھنا ہی ایک کار دشوار ہے مگر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو اﷲ نے وہ ذہن بیدار عطا کیا تھا کہ مختصر سے وقت میں سینکڑوں صفحات یاد کرلئے۔ پھر جب آپ کسی مجلس میں ’’مقامات حریری‘‘ کا کوئی حوالہ پیش کرتے تو سننے والوں کو یوں محسوس ہوتا جیسے آپ کی زبان مبارک سے ایک دریا جاری ہے۔ واضح رہے کہ دوسرے طالب علم اس کتاب کے حوالے سے صرف مشکل الفاظ یاد کرتے تھے مگر یہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہعلیہ الرحمہ کی بلند ہمتی تھی کہ آپ نے ایک منفرد کارنامہ انجام دی۔
پھر اٹھارہ سال کی عمر میں کوئی شخص ایسا نہ تھا جو حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو کسی بحث یا مناظرے میں شکست دے۔ نتیجتاً آپ جس محفل میں جاتے، حاضرین بے ساختہ پکار اٹھتے۔
’’مولانا نظام ’’بحاث شکن‘‘ آگئے‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو ’’محفل شکن‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔

٭…٭…٭

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے دوسرے استاد مولانا کمال الدین زاہد علیہ الرحمہ تھے جن سے آپ نے علم حدیث حاصل کیا۔ مولانا کمال الدین علیہ الرحمہ کا وصف امتیازی یہ تھا کہ آپ دنیوی علوم کے ساتھ مذہبی علوم میں بھی مہارت رکھتے تھے… لیکن جس چیز نے آپ کو زیادہ محترم بنایا وہ رسالت مآبﷺ کا عشق تھا۔ اسی عشق کے زیر اثر مولانا کمال الدین زاہد علیہ الرحمہ نے علم حدیث حاصل کیا اور دنیا سے بے نیاز ہوگئے۔
اگرچہ مولانا کمال الدین علیہ الرحمہ ایک گوشہ نشین بزرگ تھے لیکن آپ کے کردار اور علم کی خوشبو دربار شاہی تک پہنچ گئی۔ سلطان غیاث الدین بلبن نے آپ کے زہد و تقویٰ کے بارے میں سنا اور ملاقات کا شوق ظاہر کرتے ہوئے ایک خط تحریر کیا

’’اگر آپ کسی دن دربار شاہی کو رونق بخشیں تو میں اسے اپنی سعادت سمجھوں گا‘‘

دوسرے دن مولانا کمال الدین زاہد علیہ الرحمہ دربار سلطانی میںاس طرح تشریف لائے جیسے وہ کسی فرمانروا کا محل نہیں، کوئی عام گزرگاہ ہو۔ مولانا کے چہرے پر بے زاری کے آثار صاف نمایاں تھے مگر آپ نے سلطان کے احترام میں کوئی کمی نہیں کی۔ غیاث الدین بلبن ایک علم دوست حکمران تھا۔ مولانا کمال ادلین زاہد علیہ الرحمہ بھی اسی خوبی کے باعث ادب و  احترام سے پیش آئے اور مناسب الفاظ میں سلطان کی مزاج پرسی کی
غیاث الدین بلن مولانا کے انداز گفتگو سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے اس مرد پرہیزگار کے بارے میں جیسا سنا تھا، ویسا ہی اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ کچھ دیر تک فرمانروائے ہند مولانا سے رسمی بات چیت کرتا رہا۔ پھر اس نے نیاز مندانہ لہجے میں اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا

’’میں چاہتا ہوں کہ آپ ہماری امامت قبول فرمالیں‘‘

’’اس سے آپ کو کیا حاصل ہوگا؟‘‘

مولانا کمال الدین زاہد علیہ الرحمہ نے والی ہندوستان سے پوچھا

’’آپ جیسے متقی انسان کی امامت کے طفیل ہماری نمازیں بھی قبول ہوجائیں گی‘‘

سلطان غیاث الدین بلبن نے کہا

’’سلطان؟ آپ کے حسن نظر نے اس فقیر کے دامن کو نہ جانے کن کن نعمتوں سے بھرا ہوا دیکھا۔ حالانکہ یہ فقیر اپنی حالت کو خود ہی بہتر جانتا ہے‘‘

مولانا کمال الدین زاہد علیہ الرحمہ نے فرمایا

’’غور سے دیکھئے۔ یہاں کچھ نہیں ہے۔ دامن بھی خالی ہے اور ہاتھ بھی خالی ہیں جو انسان اتنا تنگ دست ہو، وہ کسی کو کیا دے سکتا ہے؟‘‘

مولانا کمال الدین زاہد علیہ الرحمہ نے اس طرح اپنی ذات کی نفی کردی تھی کہ حاضرین دربار حیران رہ گئے۔

’’آپ انکسار سے کام لے رہے ہیں‘‘

سلطان غیاث الدین بلبن نے دوبارہ درخواست کی

’’ہرگز نہیں؟‘‘

مولانا کمال الدین زاہد علیہ الرحمہ نے فرمایا

’’لے دے کر میرے پاس ایک نماز ہی تو رہ گئی ہے۔ سلطان چاہتے ہیں کہ وہ بھی مجھ سے چھین لی جائے۔ آخر فرمانروائے ہند کے پاس کسی شے کی کمی ہے؟ میں اپنے امیر مملکت سے کوئی طلب نہیں رکھتا۔ سوائے اس کے کہ میری نماز میرے پاس رہنے دی جائے‘‘

یہ کہہ کر مولانا کمال الدین زاہد علیہ الرحمہ تشریف لے گئے۔ سلطان غیاث الدین بلبن اور حاضرین دربار حیرت و سکوت کے عالم میں انہیں واپس جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔
یہی وہ مرد جلیل ہیں جن سے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے علم حدیث حاصل کی۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ دو سال تک مولانا کمال الدین زاہد علیہ الرحمہ کی بارگاہ علم میں حاضر ہوتے رہے۔
اس دوران حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اپنے ساتھیوں سے فرمایا کرتے تھے

’’میں زیادہ دنوں تک تمہارے درمیان نہیں رہوں گا‘‘
’’تم کیا کہنا چاہتے ہو مولانا محفل شکن؟‘‘

ساتھی سوال کرتے۔
’’میں تو تمہاری مجلسوں میں ایک مہمان کی حیثیت رکھتا ہوں‘‘

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے۔

’’مہمان کو ایک دن جانا ہی ہوتا ہے‘‘
’’ہمارے درمیان سے اٹھ کر کہاں جاؤگے؟‘‘

ساتھی اداس لہجے میں پوچھا

’’یہ تو میں خود بھی نہیں جانتا کہ کہاں جاؤں گا؟‘‘

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے

’’کیا علم کی دنیا سے اکتا گئے ہو مولانا بحاث شکن؟‘‘

دوست پوچھتے۔

’’کیا دہلی سے اس لئے چلے جائو گے کہ اب یہاں تم سے بحث کرنے والا کوئی نہیں‘‘

’’علم تو مقصود حیات ہے مگر پھر بھی مجھے ایک تشنگی محسوس ہوتی ہے‘‘

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے… مگر خود آپ بھی اس بے چینی کی وجہ جاننے سے قاصر تھے۔ یہ کیسی پیاس تھی اور کیسی طلب؟ حضرت نظام الدین ایک عجیب ذہنی کشمکش کا شکار تھے۔
اکثر تنہائی میں حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کو یاد کیا کرتے تھے۔ اگرچہ اس مرد بزرگ کو آنکھ سے نہیں دیکھا تھا لیکن دل پر شیخ کی یادیں نقش تھیں۔ اس سلسلے میں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے تھے۔
’’اس وقت میری عمر بارہ سال تھی اور میں حضرت نظام علاء الدین اصولی‘‘ سے تعلیم حاصل کررہا تھا۔ ایک دن ایک شخص ابوبکر قوال استاد گرامی کے مکتب میں حاضر ہوا اور مولانا سے عرض کرنے لگا

’’حضرت! پچھلے دنوں ملتان جانے کا اتفاق ہوا۔ حضرت شیخ بہاء الدین ذکریا علیہ الرحمہ کی بہت شہرت سنی تھی۔ شوق دید ان کی خانقاہ تک لے گیا۔ بڑی شان والے بزرگ ہیں۔ شیخ کے فیض روحانی کا یہ اثر ہے کہ ان کی کنزیں بھی چکی پیستے وقت ذکر الٰہی کرتی رہتی ہیں‘‘

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ابوبکر قوال نے نہایت پرجوش لہجے میں حضرت شیخ بہاء الدین ذکریا ملتانی علیہ الرحمہ کے اوصاف بیان کئے تھے مگر میرے دل پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔ پھر ابوبکر قوال اپنے سفر اجودھن کا حال سنانے لگا۔

’’کچھ دنوں ملتان میں قیام کرنے کے بعد اجودھن پہنچا اور حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ شیخ کی ریاضت کا یہ اثر ہے کہ اجودھن کے درودیوار تک سے نور برستا ہوا محسوس ہوتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کی روحانیت نے پورے ہندوستان کو مسخر کرلیا ہے‘‘

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کا ذکر سنتے ہی مجھے احساس ہوا کہ میری پوری شخصیت حضرت شیخ علیہ الرحمہ کے زیر اثر ہے اور کسی نادیدہ طاقت نے میرے دل ودماغ کو بھی تسخیر کرلیاہے۔

باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں