تفسیر سورۃ الہمزہ

سورۃ الہمزہ مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں نو آیات ہیں
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
اﷲ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ہے)
’’خرابی ہے اس کے لئے جو لوگوں کے منہ پر عیب کرے، پیٹھ پیچھے بدی کرے۔ جس نے مال جوڑا اور گن گن کر رکھا۔ کیا یہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ رکھے گا؟ ہرگز نہیں۔ ضرور وہ روندنے والی میں پھینکا جائے گا۔ وہ جو دلوں پر چڑھ جائے گی، بے شک وہ ان پر بند کردی جائے گی لمبے لمبے ستونوں میں‘‘
(ترجمۂ کنزالایمان از اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ)
لفظی ترجمہ

imgn1

ربط و مناسبت

سورۃ العصر میں بیان ہوا کہ ہر انسان نقصان اور خسارے میں ہے۔ سوائے ان کے جن میں مذکورہ چار اوصاف ہوں۔ جبکہ اس سورت میں شدید نقصان والوں کے چار عیب بیان کئے گئے ہیں۔ عیب جوئی، غیبت، مال کی حرص اور طویل امیدیں۔
سورۃ العصر میں مذکور تھا کہ مصطفی کریمﷺ کا زمانہ گواہ ہے کہ مذکورہ چار اوصاف نہ اپنانے والے نقصان میں ہیں اور ایسا ہی ہوا۔ اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ جو کافریہ سمجھتے تھے کہ ان کا مال انہیں ہمیشہ رکھے گا، رسول معظمﷺ ہی کا زمانہ گواہ ہے کہ وہ لوگ مرکر ناکام و نامراد اور جہنمی ہوگئے۔
سابقہ سورت میں چار اوصاف نہ اپنانے والے ہر انسان کے لئے خسارے اور نقصان کا ذکر تھا جبکہ اس سورت میں خسارہ پانے والے ایک شخص کا بطور مثال تذکرہ ہے۔ گویا یہ سورت، سورۃ العصر کے مضمون کی تشریح ہے۔

شان نزول

بعض مفسرین کے نزدیک یہ سورت ان کفار مکہ کی مذمت میں نازل ہوئی جو رسول محتشمﷺ کو طعنے دیتے، آپﷺ کی عیب جوئی کرتے اور دیگر مسلمانوں کی عیب جوئی اور غیبت کرنا ان کا معمول تھا۔ ان کافروں میں ولید بن مغیرہ، اخنس بن شریق اور امیہ بن خلف شامل ہیں۔ دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ اس سورت میں بیان کردہ وعید ہر اس شخص کے لئے ہے جو عیب جوئی اور طعنہ زنی کرے۔

ویل لکل ہمزۃ لمزۃ

’’ویل‘‘ کے معنی خرابی اور ہلاکت کے ہیں۔ ’’ہمزۃ‘‘ کا معنی ہے ’’کسی شخص کو اس کے سامنے برا کہنے والا، بہت زیادہ طعنے دینے والا‘‘ اور ’’لمزۃ‘‘ کا معنی ہے ’’بہت زیادہ عیب جوئی کرنے والا، کسی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی کرنے والا‘‘
حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کا ارشاد ہے ’’یہ دونوں الفاظ ہم معنی ہیں۔ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو چغلیاں کرتے ہیں، دوستوں میں جدائی ڈالتے ہیں اور بے عیب لوگوں کی عیب جوئی کرتے ہیں‘‘
حضرت مقاتل علیہ الرحمہ کا قول ہے ’’ہمزۃ‘‘ کے معنی سامنے برائی کرنے والا اور ’’المزۃ‘‘ کے معنی پیٹھ پیچھے برائی کرنے والا ہے۔
اگرچہ اور بھی کئی اقوال ہیں لیکن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ اور اکثر مترجمین نے مذکورہ بالا اقوال ہی کو ترجمہ میں اختیار کیا ہے۔
طعنہ زنی اور غیبت و عیب جوئی کی مذمت میں رب تعالیٰ کا ارشاد ہے

یاایھا الذین امنوا لایسخر قوم من قوم عیسٰی ان یکونا خیراً منہم ولا نسآء من نسآء عسیٰ ان یکن خیراً منہن ولا تلمزوا انفسکم ولا تنابزوا بالالقاب، بئس الاسم الفسوق بعد الایمان ومن لم یتب فاؤلٰئک ہم الظٰلمون o یاایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیراً من الظن انً بعض الظن اثم ولا تجسسوا ولا یغتب بعضکم بعضا ایحب احدکم ان یاکل لحم اخیہ میتاً فکر ہتموہ واتقوا اﷲ ان اﷲ تواب رحیمo

’’اے ایمان والو! نہ مرد مردوں سے ہنسیں (یعنی مذاق نہ اڑائیں) عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں عورتوں سے، دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں، اور آپس میں طعنہ نہ کرو، اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو۔ کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا، اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔
اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بے شک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈو، اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں سے کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے، تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا اور اﷲ سے ڈرو، بے شک اﷲ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے‘‘ (الحجرات 12,11، کنزالایمان)
طعنہ زنی ہر صورت میں گناہ ہے۔ خواہ زبان سے ہو یا ہاتھ یا آنکھ کے اشارے سے۔ کسی کے سامنے طعنہ زنی اور عیب جوئی کرنے میں اس کی تذلیل بھی ہے اور دل آزاری بھی۔ آقا و مولیٰﷺ کا ارشاد ہے

اﷲ تعالیٰ کے بندوں میں بدترین لوگ وہ ہیں جو چغل خوری کرتے ہیں۔ دوستوں کے درمیان جدائی اور فساد ڈالتے ہیں اور بے عیب لوگوں میں عیب ڈھونڈتے ہیں (مشکوٰۃ)

غیبت کو حدیث شریف میں زنا سے بدتر قرار دیا گیا ہے۔ نور مجسم رحمت عالمﷺ نے فرمایا

غیبت یہ ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں اس کے متعلق وہ بات کہو جو اسے بری لگے۔ کسی نے عرض کی، اگر وہ برائی اس میں موجود ہو تو کیا اس کو بھی غیبت کہا جائے گا؟ فرمایا: ہاں! جبھی تو وہ غیبت ہے اور اگر تم ایسی بات کہو جو اس میں موجود نہ ہو تویہ بہتان ہے ( جو اور بڑا گناہ ہے) (مسلم)
غیبت، عیب جوئی اور طعنہ زنی اسلامی معاشرے میں بگاڑ کا بڑا سبب ہیں۔ اسی لئے رسول معظمﷺ نے ایمان والوں کو ان کبیرہ گناہوں سے بچنے کی بارہا تاکید فرمائی۔ آپ کا فرمان عالیشان ہے۔
’’بدگمانی سے بچو، بدگمانی بدترین جھوٹ ہے۔ نہ کسی کی کمزوریاں ڈھونڈو اور نہ لوگوں کی عیب جوئی کرو۔ نہ ایک دوسرے سے حسد کرو اور نہ آپس میں بغض رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے لاتعلق رہو۔ اے اﷲ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ‘‘
ایک اور موقع پر فرمایا

مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے۔ پھر آقا و مولیٰﷺ نے تین بار اپنے سینے کی طرف اشارہ کرکے فرمایا۔ تقویٰ یہاں ہے۔ پھر فرمایا: انسان کے لئے یہ برائی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی ہر چیز حرام ہے۔ اس کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت (مسلم)

الذی جمع مالا وعددہ

ارشاد ہوا ’’جس نے مال جوڑا اور گن گن کر رکھا‘‘ اس آیت میں کافروں کی تیسری بری خصلت کا ذکر ہے کہ وہ مال جمع کرنے کی حرص میں مبتلا تھے۔
اسلامی معاشرے کے اہم اوصاف میں باہم محبت و اخلاص سے پیش آنا اور ضرورت میں ایک دوسرے کی مدد کرنا خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کے برخلاف غیبت و عیب جوئی اور حرص و بخل معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کردیتے ہیں۔
ان آیات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کافروں میں موجود مذکورہ برائیوں کا سبب دراصل یہی تھا کہ وہ مالدار تھے، اسی لئے وہ دولت کے نشہ میں خود کو برتر اور دوسروں کو حقیر سمجھتے او ران پر زبان طعن دراز کرتے تھے۔ مال و دولت کا نشہ انسان کو متکبر بنادیتا ہے۔ خود کو بڑا سمجھنا اور دوسروں کو حقیر خیال کرنا تکبر ہی کا حصہ ہے۔
آپ دیکھ لیجئے، کبھی کسی مفلس نے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔ نمرود وشداد ہوں یا فرعون وقارون، ابوجہل و ابولہب ہوں یا ولید بن مغیرہ و امیہ بن خلف، سب امیر و کبیر یا حاکم و رئیس تھے۔ اس لئے مال و دولت اور طاقت و اقتدار کے نشہ میں حق کا انکار کرتے رہے اور ان کا تکبر انہیں لے ڈوبا۔ کسی کے مال نے اسے زندگی نہیں دی اور نہ ہی کسی کا مال اس کے ساتھ قبر میں گیا، پھر ایسی فانی و ناپائیدار چیز پر تکبر کیسا؟
جمع مالا سے ایسے مال پرست لوگوں کی یہ ذہنیت واضح ہوتی ہے کہ وہ مالدار ہونے کے باوجود بہت کنجوس ہوتے ہیں۔ مال گن گن کر رکھتے ہیں مگر اسے غریب لوگوں کی بھلائی کے لئے خرچ کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔ گن گن کر رکھنے کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ وہ صبح و شام مال جمع کرنے کی فکر میں رہتے ہیں اور ہر جائز و ناجائز طریقے سے مال جمع کرتے ہیں۔
مال سے مراد صرف روپیہ پیسہ نہیں ہوتا بلکہ مال سے مراد دنیا کا سارا مال و اسباب ہے۔ یہ بات سورۃ العادیات اور سورۃ التکاثر کی تشریح میں بیان ہوچکی کہ مال بذات خود کوئی بری چیز نہیں ہے۔ اس لئے مال کا جائز طریقوں سے کمانا اور مال کو جمع کرنا کوئی مذموم بات نہیں ہے بشرطیکہ قرآن و سنت میں مذکور مال کے حقوق ادا کئے جائیں اور اس سے ایک دوسرے پر برتری جتانا مقصود نہ ہو۔ نیز مال کے حصول میں منہمک ہوکر بندہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے حبیب کی فرمانبرداری سے غافل نہ ہوجائے۔
خسارا اور نقصان یہ ہے کہ مال و اسباب جمع کرنے کو ہی زندگی کا مقصود اور مطلوب بنالیا جائے اور مال کی محبت میں برف کی طرح پگھلتی ہوئی زندگی کو ضائع کردیا جائے۔ ایسے شخص کو حدیث شریف میں ’’مال کا بندہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
آقا و مولیٰﷺ نے فرمایا

’’دینار و درہم (یعنی مال و دولت) کے بندے ہلاک ہوجائیں کیونکہ یہ چیزیں اگر انہیں مل جاتی ہیں تو راضی ہوجاتے ہیں اور اگر نہ ملیں تو ناراض رہتے ہیں‘‘ (بخاری)
ایک اور حدیث شریف میں ارشاد ہوا

’’دنیا مردار ہے اور اس کے طالب کتے‘‘

اگرچہ کوا بھی مردار کھاتا ہے لیکن دنیا کو مردار اور اس کے طالب کو کتے سے تشبیہ اس لئے دی گئی کہ دنیا پرستوں میں بھی وہی صفات پائی جاتی ہیں جو مردار کھانے والے کتوں میں پائی جاتی ہیں۔
آپ دیکھ لیجئے کہ کتا مردار اکیلے ہی کھاتا ہے، خواہ وہ گائے وغیرہ بڑا جانور ہی کیوں نہ ہو بلکہ جب کوئی اور کتا اس کے ساتھ شریک ہونا چاہے تو وہ فورا اس پر غرانا اور بھونکنا شروع کردیتا ہے۔ یہی حال دنیا پرست کا ہے۔ وہ ہرگز نہیں چاہتا کہ کوئی اور اس کی دنیا میں حصہ دار بنے، جبکہ کوا مردار دیکھتے ہی کائیں کائیں کرکے اپنی برادری جمع کرلیتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ کوے کی خصلت یہ ہے کہ وہ دن ہی میں کھاتا ہے، رات میں نہیں، جبکہ کتا مردار کو دن رات کھاتا ہے۔ آپ دیکھ لیجئے کہ مال و دولت کمانے کی ہوس دنیا پرست پر ایسی سوار ہوتی ہے کہ رات دن کماتا ہے، نہ دن کو سکون نہ رات کو آرام، ہر وقت دنیا جمع کرنے کی فکر اس پر مسلط رہتی ہے۔
تیسری بات یہ کہ کتا مرے ہوئے کتے کو بھی کھالیتا ہے یعنی اپنے مردار بھائی کو بھی نہیں چھوڑتا جبکہ کوا مردہ کوے کو نہیں کھاتا۔ دنیا پرست کا حال دیکھ لیجئے۔ وہ بھی اپنے بھائیوں سے حسد کرتا ہے اور دنیا کمانے کی خاطر وہ مسلمان بھائیوں کو تو عموماً اور بعض اوقات سگے بھائیوں کو بھی دھوکہ دینے سے باز نہیں رہتا۔

یحسب ان مالہ اخلدہ

پھر ارشاد ہوا ’’کیا یہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ رکھے گا؟‘‘ یعنی جو مال جمع کرتا ہے اور اسے بار بار گن کر خوش ہوتا ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ مال اس کے پاس رہے گا تو اسے موت نہیں آئے گی۔ یا مطلب یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال کبھی ختم نہیں ہوگا، ہمیشہ اس کے پاس رہے گا۔ ہرگز نہیں۔
اگرچہ ہر آدمی جانتا ہے کہ ایک دن موت آنی ہے اور یہ مال پھر اس کے ساتھ نہیں رہے گا، پھر بھی وہ مال ایسے جمع کرتا ہے کہ گویا اس نے کبھی مرنا ہی نہیں۔ دراصل یہ انسان کی لمبی امیدوں اور موت سے اس کے غافل رہنے کی طرف اشارہ ہے۔
بعض مفسرین کا قول ہے، اس آیت میں یہ بتانا مقصود ہے کہ حقیقت میں دائمی زندگی عطا کرنے والا مال نہیں بلکہ ایمان اور عمل صالح ہے۔ قرآن کریم بتاتا ہے کہ آخرت کی فلاح انہی کے لئے ہے جوآخرت کا نفع چاہتے ہیں۔

من کان یرید حرث الاخرۃ نزد لہ فی حرثہ ومن کان یرید حرث الدنیا نؤتہ منہا ومالہ فی الاخرۃ من نصیب (الشوریٰ 20)
’’جو آخرت کی کھیتی چاہے، ہم اس کے لئے اس کی کھیتی بڑھائیں، اور جو دنیا کی کھیتی چاہے، ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں‘‘
حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ

آقا ومولیٰﷺ نے خطوط کے ذریعے ایک مربع شکل بنائی اوراس کے درمیان ایک لمبی لکیر کھینچی جو اس مربع سے کچھ باہر نکل گئی۔ پھر اس درمیانی لکیر کے دائیں بائیں کچھ چھوٹے خطوط کھینچے اور فرمایایہ درمیانی لکیر انسان ہے اور مربع کی شکل اس کی موت ہے جس نے اسے گھیرا ہوا ہے۔ یہ باہر کو نکلا ہوا خط اس کی آرزو ہے، اور یہ چھوٹے خطوط اس کے مصائب و امراض ہیں۔ اگر وہ ایک مصیبت سے بچتا ہے تو دوسری آجاتی ہے اور دوسری سے بچتا ہے تو تیسری آجاتی ہے۔ (اس کی آرزو ختم نہیں ہوتی کہ اسے موت آجاتی ہے)
حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ

غیب بتانے والے آقاﷺ نے کچھ خطوط کھینچے اور فرمایا

یہ انسان کی امید اور یہ اس کی موت ہے۔ وہ ان کے (یعنی امیدوں) کے درمیان ہی پھنسا رہتا ہے کہ قریبی خط سے اسے موت آجاتی ہے (بخاری)
آقا و مولیٰﷺ کا یہ ارشاد ہے

جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھتی ہے اسی قدر اس کی دو چیزیں بڑھتی جاتی ہیں یعنی مال کی محبت اور لمبی عمر کی خواہش (بخاری)
لمبی امیدں میں گرفتار ہونا اور دنیاوی لذتوں میں غرق ہوکر آخرت کو بھلا دینا مسلمان کی شان کے لائق نہیں۔ کافروں کے طرز زندگی کے متعلق ارشاد ہوا۔

ذرہم یاکلوا ویتمتعوا ویلہہم الامل (الحجر 3)

’’انہیں چھوڑو کہ کھائیں اور برتیں، اور امید انہیں کھیل میں ڈالے رکھے‘‘
حضرت مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایالمبی امیدیں آخرت کو بھلاتی ہیں اور خواہشات کی پیروی حق سے روکتی ہے (خزائن العرفان)
آپ کا یہ بھی حکمت بھرا ارشاد ہے۔ دنیا پیٹھ پھیر کر چلی جانے والی اور آخرت ضرور پیش آنے والی ہے۔ ان دونوں کے بیٹے ہیں۔ تمہیں چاہئے کہ آخرت کے بیٹے بنو، دنیا کے بیٹے نہ بن جانا کیونکہ آج عمل ہے مگر حساب نہیں لیکن  کل حساب ہوگا مگر عمل نہیں ہوگا (بخاری)
مال پرستوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے شیطان کے تین طریقے ہیں۔
شیطان کہتا ہے کہ تین باتیں ایسی ہیں جن کی بناء پر مالدار مجھ سے بچ نہیں سکتا۔ وہ ناجائز طور پر مال حاصل کرتا ہے، اسے غلط کاموں میں خرچ کرتا ہے اور میں اس کے دل میں مال کی ایسی محبت ڈال دیتا ہوں کہ وہ مال کے حقوق ادا نہیں کرتا۔
ناجائز مال کے حصول میں چوری، سود، رشوت، خیانت، جوا، دھوکہ وغیرہ آگئے۔ غلط مال میں شراب خوری، عیاشی، رقص و سرور اور فضول خرچی کی تمام صورتیں شامل ہوگئیں اور مال کے حقوق ادا نہ کرنے سے مراد زکوٰۃ و صدقات نہ دینا اور دینی و فلاحی امور میں خرچ نہ کرنا ہے۔ یہ سب شیطانی کام ہیں۔

کلا لینبذن فی الحطمۃ

’’ہرگز نہیں۔ ضرور وہ روندنے والی میں پھینکا جائے گا‘‘ (کنزالایمان)
رب تعالیٰ نے دنیا اور مال جمع کرنے کی حرص و ہوس میں مستغرق غافل شخص کی غلط روش کی مذمت سخت انداز میں فرمائی۔ کلا ہرگز نہیں۔ اس کی فکر اور سوچ باطل ہے۔ اس کا مال اسے حیات جاوداں دے گا نہ ہی اسے جہنم کے عذاب سے بچائے گا۔ بلکہ اسے کسی حقیر و ناکارہ چیز کی طرح اٹھا کر ’’حطمۃ‘‘ میں پھینک دیا جائے گا۔
’’نبذ‘‘ کے معنی ہیں کسی چیز کو حقیر سمجھتے ہوئے پھینک دینا اور ’’حطمۃ‘‘ کے معنی ہیں جو روند ڈالے، کچل دے اور پیس کر ریزہ ریزہ کردے
اب مفہوم یہ ہوگاکہ اس غافل و متکبر اور مال پرست کو جو مال و دولت کی وجہ سے خود کو معزز و برتر سمجھتا تھا اور لوگوں کی عیب جوئی، طعنہ زنی اور غیبت کرکے ان کی عزت نفس مجروح کرتا تھا، قیامت میں اس کو حقارت و ذلت کے ساتھ اٹھا کر ایسی آگ میں پھینک دیا جائے گا جو اس کو روند ڈالے گی اور چورا چورا کردے گی۔ یہ آگ دنیا کی آگ کی مانند نہیں بلکہ یہ اﷲ تعالیٰ قہار و جبار کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔
غیب بتانے والے آقا و مولیٰﷺ نے ارشاد فرمایا

جہنم کی آگ کو ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا۔ یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی، پھر اسے ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی، پھر اسے مزید ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا، یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی۔ پس اب وہ سیاہ اندھیری ہے (ترمذی)
یہ بھی فرمایا

تمہاری دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترہواں حصہ ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی۔ یارسول اﷲﷺ یہ آگ ہی (عذاب کے لئے) کافی تھی۔ فرمایا جہنم کی آگ تمہاری آگ سے انہتر درجہ زیادہ سخت گرم ہے (بخاری، مسلم)

فاما من طغیٰ o واثر الحیوٰۃ الدنیا o فان الجحیم ہی الماویٰ o واماً من خاف مقام ربہ ونہی النفس عن الہویٰ o فانً الجنۃ ہی الماویٰ o
’’تو وہ جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تو بے شک جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا تو بے شک جنت ہی ٹھکانا ہے‘‘ (النٰزعٰت 41-37، کنزالایمان)
آقائے دوجہاں نور مجسمﷺ کا یہ فرمان ذیشان بھی مشعل راہ بنایئے۔
’’اے لوگو! انتہائی کوشش کے ذریعے جنت کے طالب بنو اور انتہائی کوشش کے ساتھ دوزخ سے بچنے کی فکر کرو۔ کیونکہ جنت ایسی چیز ہے جس کا چاہنے والا سو نہیں سکتا اور آگ بھی ایسی چیز ہے جس سے بھاگنے والا غافل نہیں ہوسکتا۔ آخرت ناخوشگوار چیزوں سے گھیر دی گئی ہے اور دنیا لذتوں اور خواہشوں میں گھری ہوئی ہے۔ پس دنیا کی لذتیں اور خواہشیں تم کو آخرت سے غافل نہ کردیں‘‘ (طبرانی)

التی تطلع علی الافئدۃ

اس آگ کی پہلی صفت یہ بیان ہوئی کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی ہے۔ اور اب دوسری صفت یہ بیان ہوئی کہ وہ دلوں پر چڑھ جائے گی۔
دل کا ذکر کرنے کی پہلی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی آگ جب انسانی جسم کو لگتی ہے تو دل تک پہنچنے سے پہلے اس کی موت واقع ہوجاتی ہے اور دوزخ میں چونکہ موت نہیں آنی۔ اس لئے یہ آگ دل تک زندگی کی حالت میں پہنچے گی اور دل کے جلنے کی اذیت انسان زندہ حالت میں محسوس کرے گا۔
حضور اکرمﷺ کا ارشاد ہے: جہنم کی آگ جہنمیوںکو کھائے گی یہاں تک کہ جب دل تک پہنچے گی تو رک جائے گی پھر جہنمی اسی طرح ہوجائے گا جس طرح پہلے تھا۔ پھر آگ جلانا شروع کرے گی، جب دل تک پہنچے گی تو پھر پہلے والا معاملہ ہوگا۔
دل کا ذکر کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ بدن میں یہ سب سے لطیف جزو ہے اور سب سے زیادہ شدید درد اسی میں ہوتا ہے۔ اور تیسری وجہ یہ ہے کہ باطل عقائد اور برے اعمال کا سرچشمہ دل ہی ہے۔ قرآن کریم میں ہے۔
فی قلوبہم مرض (البقرۃ 10) ان کے دلوں میں بیماری ہے۔
فانہا لاتعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور
’’تو یہ کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں‘‘ (الحج 46، کنزالایمان)
مال کی حرص و ہوس، بخل تکبر، دوسروں کو حقیر سمجھنا، یہ سب دل ہی کے امراض ہیں۔ اسی لئے جنم کی آگ دلوں پر چڑھ جائے گی۔ عذاب کی شدت سے وہ موت چاہیں گے مگر موت نہ آئے گی۔
فی عمد ممددۃ
ارشاد ہوا ’’بے شک وہ (آگ) ان پر بند کردی جائے گی لمبے لمبے ستونوں میں‘‘
مفسرین فرماتے ہیں ان منکروں کو ’’حطمۃ‘‘ میں ڈالا جائے گا تو آگ انہیں ہر طرف سے گھیر لے گی اور پھر جہنم کے اس طبقہ کے دروازے کو لوہے کے ستونوں سے بند کردیاجائے گا تاکہ یہ کبھی باہر نہ آسکیں اور آگ ہمیشہ انہیں جلاتی رہے۔
حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔ جب دوزخ میں وہ دوزخی رہ جائیں گے جنہوں نے ہمیشہ اس میں رہنا ہے تو انہیں لوہے کے تابوتوں میں بند کرکے ان میںلوہے کی کیلیں ٹھونک دی جائیں گی پھر ان تابوتوں کو دوسرے آہنی صندقوں میں بند کرکے دوزخ کے سب سے نچلے درجے میں پھینک دیا جائے گا اور کوئی کسی دوسرے کے عذاب کو نہیں دیکھ سکے گا۔
بعض کا قول ہے کہ حطمۃ میں آگ کے شعلے لمبے لمبے ستونوں کی طرح بلندہوں گے اور یہ تعداد میں اس قدر زیادہ ہوں گے کہ ان پر بند دروازے کی مثل ہوجائیں گے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ انہیں آگ کے لمبے لمبے ستونوں سے باندھ دیا جائے گا۔ نہ آگ ہلکی ہوگی اور نہ وہ عذاب سے بھاگ سکیں گے۔ فرمان الٰہی ہے۔

انہ من یات ربہ مجرماً فان لہ جہنم لایموت فیہا ولا یحییٰ

’’بے شک جو اپنے رب کے حضور مجرم ہوکر آئے تو ضرور اس کے لئے جہنم ہے جس میں نہ مرے نہ جئے‘‘  ( طٰہٰ 74، کنزالایمان)