عقیدۂ تثلیث علم ودانش کی عدالت میں

in Tahaffuz, May-June 2013, محمد اسماعیل بدایونی

جج:۔اہل علم :۔دانشور:۔

وکیل استغاثہ :۔پادری
وکیل صفائی :۔وکیل اسلام
استغاثہ:عقیدہ تثلیث از روئے عقل درست ہے اہل اسلام کاعقیدہ تثلیث کے خلاف ہوناخلافِ عقل ہے۔
وکیل استغاثہ :۔پادری :۔آج کی اس مجلس علم ودانش میں اہل دانش کے سامنے میں یہ استغاثہ لے کرحاضر خدمت ہواہوںکہ عقیدہ تثلیث(باپ،بیٹا،روح القدوس) ازروئے عقل ودانش درست اور عقل سے مطابقت رکھتاہے۔اہل اسلام عقیدہ تثلیث کے خلاف باتیں توکرناجانتے ہیں لیکن علم کی سر زمین پردلائل کی جنگ لڑناان کے بس سے باہر ہے۔
لہذاآج کی اس عدالت میں میری درخواست ہے کہ یاتو علماء اسلام عقیدہ تثلیث کابطلان ثابت کریں یاپھر تثلیث کے عقیدے کوتسلیم کرلیں۔
وکیل صفائی :۔پادری صاحب خوب بہت خوب کیابات ہے جناب کی عقیدہ تثلیث اور وہ بھی عقل کے مطابق یعنی ایک تین اور تین ایک کانظریہ وہ بھی عقل کے مطابق؟
کیابات ہے۔
جناب جج صاحب!دنیابھر کے ماہرینِ حساب کوجمع کرلیجئے ۔اور پوچھیں یہ تین ایک اور ایک تین کاحسابی فلسفہ کس طرح ثابت ہوتاہے۔
جناب عالی!ممکن ہے کہ حساب کے ہندسے ختم ہوجائیں ،کلیات دم توڑدیں مگراس سوال کاجواب دنیاکے ماہرین حسابیات کے لیے ناممکن ہے۔
پادری!جب عقل میں شعور کے دیپ نہ جل رہے ہوں توکھوپڑی میں رکھے ہوئے دماغ کوبھوسے کاڈھیر توکہاجاسکتا ہے لیکن دانش وفکر کامنبع نہیں۔
وکیل صفائی!واہ پادری صاحب واہ کیاکہنے ہیںآپ کے دلائل کے ترکش میں تیر نہیںاور طنزوتنقیص کی بمبارمنٹ پادری صاحب! یہ عقل ودانش کی عدالت ہے۔دلائل کے ہتھیاروں سے اپنے موقف کی وضاحت کیجئے۔
پادری صاحب!محترم جج صاحب! میں عقل ودانش کے چراغ اس معزز عدالت میںضرور روشن کروںگااس سے پہلے کے میں عقلی دلائل عدالت کے سامنے رکھوںعقیدہ تثلیث کوواضح کرنے کی اجازت چاہوںگا۔
جج!جی اجازت ہے۔
وکیل صفائی!جناب جج صاحب میں عدالت سے استدعاکروںگاکہ پادری صاحب عقیدہ تثلیث کواپنی چکنی چپڑی باتوںمیں بیان کرنے کے بجائے اپنے مذہبی رہنمائی کی کتب سے ثابت کریں۔
پادری!جی ہاںضرور!ضرور!
ہمارے معزز پادری ولیم اوشے اور پادری پیٹر گیگن نے ایک کتاب لکھی ہے ۔کاتھولک الہیات اُس میں وہ عقیدہ تثلیث کوبیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
ہم خداوند یسوع مسیح کی تعلیم میں یہ امر دریافت کرسکتے ہیں کہ خداایک ہے مگر اس میں تین اشخاص پائے جاتے ہیں یعنی باپ،بیٹااور روح القدس ۔عہد جدید میں اس امر کی شہادتیں موجود ہیں اور کلیسیا نے بعد میں اسی کی بدولت عقیدہ تثلیث کوتشکیل دیا۔یہ ایک ایساعقیدہ ہے جسے تمام کاتھولک مسیحیوںکومانناچاہئے ۔کلیسیا نے اس عقیدے کے بارے میں تعلیم دیتے ہوئے اسے ان اصطلاحوںمیں بیان کیاہے کہ خداایک ہے ۔خدامیں صرف ایک فطرت ہے خدامیں تین اقنوم ہیں یعنی باپ ،بیٹااور روح القدس ۔اگرچہ یہ وصفی اعتبار سے ایک دوسرے سے الگ سہی مگر وہ ہرلحاظ سے مساوی ہیں۔تمام بڑی کلیسیائیں ایمان کے اس عقیدہ پر متفق ہیں اور اس ایمان کااقرارکرتی ہیں۔
(کاتھولک الہیات صفحہ90)
وکیل صفائی!پادری صاحب کیامیں اس کتاب کودیکھ سکتاہوں۔
پادری!جی ہاںضرور وکیل صاحب ضرور۔
وکیل صفائی !(کچھ دیر مطالعہ کرنے کے بعد)جناب جج صاحب!اسی کتاب میں مزید آگے لکھاہے۔
عقیدہ تثلیث کے بارے میں پائی جانے والی تعلیم کو ایمان کابھید کہاجاتاہے ۔یہ ایمان کی ایک ایسی سچائی ہے جس کی لامحدود گہرائیوںکوہمارے ذہن دریافت کرنے سے قاصر ہیں ۔جب تک خداخود اس سچائی کوہم پر منکشف نہیں کرتا۔مسیح خداوند کی آمد سے پہلے ایمان کی یہ سچائی کسی کومعلوم نہ تھی ۔
(کاتھولک الہیات صفحہ90,91)
جناب جج صاحب!اس عبارت سے معلوم ہواکہ عقیدہ تثلیث جو مسیحیت کا بنیادی عقیدہ ہے یسوع مسیح کی آمد کے بعد ہی منظر عام پر آیااور اس کے ساتھ یہ بھی معلوم ہواکہ اگر مسیحیت ہی حق کی علامت ہے تو قبل از مسیح تمام لوگ کفر کی تاریکی میں زندگی بسر کرتے رہے۔
پادری صاحب!جی وکیل صاحب یسوع مسیح ہی انسانیت کے نجات دہندہ بن کر آئے ۔
وکیل صفائی ! جناب جج صاحب!مسیحیت کے ایک بہت بڑے عالم ایف ایس خیراللہ تثلیث کے عقیدے کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔
اگر اس عقیدے کو عہد عتیق کے توحید پرستی کے پس منظر میں دیکھاجائے توکفر نظر آتاہے اور کٹریہودی یہی نظریہ رکھتے تھے۔
اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ گویاخالق خداخود اپنی مخلوق بن گیا۔جوپہلی نظر ہی میں متضاد معلوم ہوتاہے ۔
پس سوال یہ پیداہوتاہے کہ یوحنارسول کویہ عجیب بیان لکھنے کی تحریک کیسے ہوئی؟ابتدائی کلیسیا کایہ ایمان کے ناصرت کے یسوع مجسم خداہیں کہاں سے ابھرا؟
(قاموس الکتاب صفحہ235)
جناب جج صاحب!ایف ایس خیراللہ ایک غیر ضروری اجمالی بحث کے بعد مزید آگے لکھتے ہیں۔
اگرچہ مجسم کی اصطلاح بعد میں اخذ کی گئی توبھی کلیسیا اپنی ابتداء ہی سے اس پر ایمان رکھتی تھی۔
(ایضاً)
جناب عالی ! مسیحیت ہی کے ان نامور قلم کاروں کے یہ مضمون بتارہے ہین کے تثلیث کا عقیدہ بعد میں معرض وجود میں آیا
پادری!میں اس بحث کے بجائے کے کب وجود میں آیا اور کب  نہیں یہ کہنا چاہوں گا کہ آج کی اس عدالت میں علم ودانش کے امام مسندانصاف پربراجمان ہیں۔
جناب جج صاحب!وکیل صفائی نہ جانے عدالت کوکس بھول بھلیوںمیں لے جاناچاہتے ہیں تثلیث کے حوالے سے چند عقلی دلائل آج کی اس عدالت کے سامنے رکھناچاہوںگا۔
پادری وکیل صفائی سے پوچھتے ہوئے۔۔۔
وکیل صفائی یہ میرے ہاتھ میں کیاہے؟
وکیل صفائی!یہ آپ کے ہاتھ میں کتاب ہے۔
پادری!(کتاب کی موٹائی کی طرف اشارہ کرکے پوچھتاہے)
یہ کیاہے؟
وکیل صفائی!یہ کتاب کی موٹائی ہے۔
پادری!(کتاب کی چوڑائی کی طرف اشارہ کرکے پوچھتاہے)
یہ کیاہے؟
وکیل صفائی!جناب یہ کتاب کی چوڑائی ہے۔
پادری!(کتاب کی لمبائی کی طرف اشارہ کرکے پوچھتاہے)
یہ کیاہے؟
وکیل صفائی!یہ لمبائی ہے۔
پادری!جج صاحب !لمبائی،چوڑائی ،موٹائی۔تین ہوگئے اور یہ ایک کتاب ایک تین اور تین ایک کافلسفہ سمجھ آگیاہوگالیکن میں آج کی اس عدالت میں دلائل کے ڈھیر لگادیناچاہتاہوں۔
جج صاحب!آپ نے انڈہ دیکھاہے انڈے میں سفیدی بھی ہے اور زردی بھی اور چھلکابھی۔
تین ایک اور ایک تین کافلسفہ یہاں بھی کارفرماہے ۔
جج صاحب!آپ نے سورج کودیکھاہے سورج میں روشنی بھی ہے ،توانائی بھی اور تپش بھی۔
یہاں بھی روشنی،توانائی اور تپش اور سورج تین ایک اور ایک تین کافلسفہ یہاںبھی کارفرماہے۔
آئیے اب میں خالصتافلسفے کی زبان میں عقیدہ تثلیث کی ایک اور عقلی دلیل اس عدالت کے سامنے پیش کروں۔
انسان کے پاس دماغ ہے جواس کے پاس علم کاایک آلہ ہے۔عام طور سے یہ ہوتاہے کہ عالم ،معلوم اور آلہ علم تین علیحدہ علیحدہ اور مختلف چیزیں ہیں۔
اگر آپ کوزید کے وجود کاعلم ہے توآپ عالم
زید معلوم ہوا۔
اور جس سے یعنی دماغ سے آپ نے جوعلم حاصل کیایہ آلہ علم ہے۔
اس کواس طرح سے سمجھئے۔
(۱)عالم (جس نے جانا)۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ
(۲)معلوم(جس کوجانا)۔۔۔۔۔۔۔۔۔زید
(۳)آلۂ علم (جس کے ذریعہ جانا)۔۔۔۔دماغ
لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کے دماغ کوخود اپنے وجود کاعلم بھی ہوتاہے اس صورت میں عالم بھی دماغ ہے معلوم بھی دماغ ہے اور آلہ علم بھی وہ خود ہی ہے اس لیے دماغ کواپناعلم خود اپنے ذریعے حاصل ہواہے اب اگر ہم دیکھیں تومعاملہ کچھ یوں ہوگا۔
(۱)عالم (جس نے جانا)۔۔۔۔۔۔۔۔۔دماغ
(۲)معلوم(جس کوجانا)۔۔۔۔۔۔۔۔۔دماغ
(۳)آلۂ علم (جس کے ذریعہ جانا)۔۔۔۔دماغ
اے اہل علم ودانش !آپ نے دیکھاکہ عالم ،معلوم اور آلہ علم جوکہ الگ الگ چیزیں تھیں ایک بن گئیں تین ایک اور ایک تین کافلسفہ امید ہے کہ آپ کی سمجھ آگیاہوگا۔
وکیل صفائی!آپ کی اس دانستہ یاغیر دانستہ ذہنی فریب کاری پرآپ کے پیروکار تویقیناعش عش کراٹھیں ہوں گے لیکن عقل ودانش اس عدالت میں رسوائی کے بعد غش کھاکر گرپڑی ہے۔
پادری صاحب !آپ نے جومثال پیش کی ہے اس کی تثلیث اعتباری ہے حقیقی نہیں۔
جب کہ مسیحیت میں عقیدہ تثلیث حقیقی ہے اعتباری نہیں۔
دوسری بات یہ کہ پادری صاحب دماغ ایک وجود ہے اُس کی صفات توتین کیاتین سے بھی زیادہ ہوسکتی ہیں لیکن وجود توایک ہی ہے۔
آپ کے یہاں خداایک الگ وجود ،یسوع ایک الگ وجود اور روح القدوس ایک الگ وجود ہے۔
پادری!ہماراتویہی عقیدہ ہے میں اس پرمزید بحث نہیں کرناچاہتا۔
جناب اعلیٰ !آج کی اس عدالت میں تین نئے عیسائی ہونے والے لوگوں کے واقعہ بیان کرتاچلوں۔اس واقعہ کواظہار الحق رحمۃ اللہ کیرانوی نے نقل کیاہے ۔
کسی بستی میں تین آدمی رہاکرتے تھے عیسائی مشنری نے انہیں عورت اور دولت کے جال میں جکڑ کرعیسائی کرلیااور انہیں تربیت کے لیے ایک عیسائی پادری کے پاس بٹھادیاگیاتاکہ وہ مسیحیت کے بنیادی عقائد سیکھ سکیں ۔
یہ تینوں آدمی اسی پادری کی خانقاہ میں رہاکرتے تھے اور مسیحیت کامطالعہ کرتے تھے۔
ایک روز پادری کادوست ملاقات کرنے کے لیے پادری کے پاس آیااور پوچھاکہ فادر!سناہے کہ تین اشخاص نے مسیحیت کوقبول کیاہے اور تم آج ک ان کی تربیت کررہے ہو۔
پادری نے کہاہاںبالکل۔
دوست نے پوچھاتوتم انہیں مسیحیت کابنیادی اور مشکل ترین عقیدہ تثلیث بھی سکھایاکہ نہیں؟
پادری نے کہاکہ کیوں نہیں؟
اور تینوںاشخاص کوبلابھیجاتاکہ اپنے دوست کواپنے کارنامے سے آگاہ کرسکے۔
جب تینوںاشخاص آگئے توپادری نے ایک سے پوچھابتاؤ عقیدہ تثلیث کیاہے؟
تواُس شخص نے کہافادر آپ نے مجھے بتایاخداتین ہیں ایک آسمان میں،دوسراکنواری مریم کے پیٹ سے پیداہونے والااور تیسرا وہ جوکبوتر کی شکل میں دوسرے خداپر تیس سال کی عمر می نازل ہوا۔
پادری کواس پربہت غصہ آیااُس نے اس کویہ کہہ کرہتادیاکہ یہ مجہول ہے۔
پھر دوسرے کوبلایااُس سے بھی یہی سوال کیا۔
اُس نے کہافادر آپ نے مجھے عقیدہ تثلیث کی تعلیم یوںدی ہے کہ خداتین ہیں جن میں سے ایک کو سولی دے دی گئی اب دو خداباقی رہ گئے ہیں اس کوبھی پادری نے باہر نکال دیا۔
پھر پادری نے تیسرے شخص کوبلایایہ شخص ان تینوںمیں تیز اور ذہین تھااور اس کوعقائد ونظریات زبانی یاد کرنے کابھی بہت شوق تھا۔
پادری نے اس سے پوچھاکہ تم عقیدہ تثلیث کوبیان کرو۔
اُس نے کہافادر!جوکچھ آپ نے مجھے سکھایااُس کوبخوبی یاد کرلیاہے اور خدائے مسیح کی برکت سے خوب سمجھ گیاہوں۔
پادری اور پادری کادوست اُس شخص کی تمہید سن کر بہت خوش ہوئے ۔
اب اُس نے آگے گفتگو اس طرح شروع کی۔
ایک تین ہے اور تین ایک ہیں جن میں سے ایک کوسولی دی گئی اور وہ مرگیااور بوجہ اٹھاد سب کے سب مرگئے اور اب کوئی خداباقی نہ رہاورنہ اتحاد کی نفی لازم آئے گی۔

عدالت میں قہقہہ کی آواز۔
جج!عدالت کااحترام ملحوظ رکھاجائے

وکیل صفائی!جناب عالی!آج کی اس عدالت میں ثابت ہوگیاکہ تثلیث کاعقیدہ بے بنیاد ،باطل اور شرک پر مبنی ہے اور شرک کی مذمت توبائبل نے بھی کی ہے۔
پادری!بے شک شرک کی مذمت بائبل نے بھی کی ہے مگراس الزام کی زد میں صرف مسٰحیت ہی کیوں؟اسلام کیوں نہیں ان کے یہاں بھی شرک کامعاملہ بڑے زوروںاور شوروں سے جاری ہے۔
وکیل صفائی!جناب پادری صاحب!اپنے موقف کی کھل کروضاحت کیجئے۔
پادری!
ہم خستہ تنوںسے محتسبحو کیامال منال کا پوچھتے ہو
جوعمر سے ہم نے بھر پایاسب سامنے لائے دیتے ہیں
دامن میں ہے مشتِ خاک جگر ،ساغر میں ہے خونِ حسرتِ مَے
لوہم نے دامن جھاڑدیا،لوجام اُلٹائے دیتے ہیں۔
اے مسندِ علم ودانش پربراجمان منصفو!
دیکھویہ مسلمانوںکی معتبراور مقدس کتاب قرآن مجید فرقان حمید ہے۔
اس کتاب کے پارہ نمبر 17سورہ حج کی آیت نمبر65ملاحظہ کیجئے۔

إِنَّ اللَّہَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَّحِیْم
(پ17سورہ حج آیت65)

بے شک اللہ تعالیٰ لوگوںکے ساتھ بڑاہی مہربانی فرمانے والاہمیشہ رحم کرنے والاہے
اس آیت میں صفت بیان کی گئی اللہ تبارک وتعالیٰ کی کہ وہ رؤف بھی ہے اور رحیم بھی۔
اور جب ہم پارہ نمبر11سورہ توبہ آیت128کامطالعہ کرتے ہیں تودرج ذیل درس ہمیں دیاجاتاہے۔

لَقَدْ جَاء کُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْْکُم بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَؤُوفٌ رَّحِیْم
(پ11سورہ توبہ آیت128)

بے شک تشریف لایاتمہارے پاس ایک برگذیدہ رسول تم میں سے گراں گزرتاہے اس پرتمہارامشقت میں پڑنابہت ہی خواہش مند ہے تمہاری بھلائی کامومنوںکے ساتھ بڑی مہربانی فرمانے والابہت رحم فرمانے والاہے ۔
اس آیت میں رؤف ورحیم کی سفت نبی کریم ﷺکے لیے بیان کی گئی ۔
کیاخدااور نبی کی صفات ایک تین سے شرک فی الصفات لازم نہیں آئے گا؟
جناب جج صاحب!دلائل کے انبار لگاسکتاہوں میں ایسی کئی مثالیں پیش کرسکتاہوں ۔
دوسری مثال :۔قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی صفت شھید کویوں بیان کرتاہے۔

یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللَّہُ جَمِیْعاً فَیُنَبِّئُہُم بِمَا عَمِلُوا أَحْصَاہُ اللَّہُ وَنَسُوہُ وَاللَّہُ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ شَہِیْد
(پ28سورہ مجادلہ آیت 6)

جس روز اللہ تعالیٰ ان سب کوزندہ کرے گاجوکچھ انہوں نے کیاتھاللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کوگن رکھاہے اور وہ بھُلا چکے اور اللہ تعالیٰ ہرچیز پرنگہبان وگواہ ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت شھید کاتذکرہ موجودہےاور قرآن پاک کی ایک اور آیت میں پیغمبراسلام کی صفت شھید یوںمذکور ہے۔

وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْْکُمْ شَہِیْداً
(پ2سورہ بقرہ آیت143)

اور یہ رسول تمہارے نگہبان اور گواہ ہیں۔
کیایہ اسلام شرک فی الصفات کی تعلیم نہیں دے رہاہے؟
آئیے اور میدان علم میں ایک قدم اور آگے بڑھیے۔
قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی صفت بیان کرتے ہوئے کہتاہے۔

اللہ نور السموات والارض
اللہ زمین آسمان کانور ہے۔

اور پیغمبراسلام کوبھی اسی صفتِ نور سے متصف کرتے ہوئے کہا۔

قَدْ جَاء کُم مِّنَ اللّہِ نُورٌ وَکِتَابٌ مُّبِیْن
(پ6سورہ مائدہ آیت15)

بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیااور روشن کتاب ۔
کیایہ شرک فی الصفات نہیں ۔
وکیل صاحب!دوسرے کی آنکھ میں توآپ کوتنکابھی نظرآگیااپنی آنکھ کاشہتیر نظرنہیں آیاآپ کو۔
وکیل صفائی!آپ کی بحث صلیبیت کی شاخِ فکر پر پھوٹنے والی کوئی نئی کونپل نہیں بلکہ پرانی سُنڈی ہے۔

فکرودانش کوچٹ کرجانے والی پرانی دیمک

جناب جج صاحب!میں آج کی اس عدالت میں اسلام کے نظریہ توحید پردرض ذیل مقالہ داخل دفتر کرنا چاہتاہوں تاکہ اہل علم ودانش کی عدالت درست سمت میں فیصلہ کرسکے
شرک کیاہے؟اور معرفت توحید کیاہے؟
جناب عالی!ہرشئے اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔۔۔دن کااندازہ رات کے بغیر نہیں ہوسکتا۔۔۔اندھیرے کے بغیر روشنی کاادراک ممکن نہیں۔۔۔موت کے بغیر زندگی کاعرفان نہیں ہوسکتا۔۔۔
اسی طرح جب شرک کاصحیح علم نہ ہومعرفتِ توحید بھی نصیب نہیں ہوسکتی۔
شرک کی تین اقسام :
شرک کی تین قسمیں ہیں۔
(۱)شرک فی الذات(ذات میںشریک)
(۲)شرک فی العبادات(عبادت میں شریک)
(۳)شرک فی الصفات(صفات میں شریک)
(۱)شرک فی الذات (ذات میں شریک)
اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور ذات یاشخصیت کوبھی خالق ‘مالک یارب مانے تو یہ شرک فی الذات کہلائے گا۔
(۲)شرک فی العبادت(عبادت میں شریک)
یہ شرک کی دوسری قسم ہے یعنی کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کوعبادت کے لائق تصور کرتاہوتویہ شرک فی العبادت ہے ۔
اب یہاں ایک سوال پیداہوتاہے کہ
عبادت کیاہے؟
لغت وتفسیر کی تمام کتابوںکوکھنگال ڈالیں آپ کو اس کے معنی یہی ملیں گے ’’حددرجہ کی عاجزی وانکساری‘‘اور اس تعریف کی رو سے عبادت کانقطہ عروج سجدہ قرار پائے گا۔
اب یہاں ایک سوال اور پیداہوتاہے کہ کیاحالت نماز میں صرف سجدہ ہی عبادت ہے؟نہیں اس کاتصور بھی نہیں کیاجساکتا۔حالت نماز میں تمام حرکات وسکنات عبادت ہیں ہاتھ باندھ کرکھڑے ہونا۔۔۔رکوع اور رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑکرکھڑے ہونا۔۔۔سجدہ اور اس کے بعد التحیات میں دوزانوہوکر بیٹھناپھر دائیں بائیں گردن کوسلام کے لیے پھیرناسب کی سب حرکات وسکنات عبادت ہیں۔
اب اگر یہ سب چیزیں عبادت ہی توپھر بتائیے اگرکوئی شخص اپنے استاد یااپنے والد کی آمدپرکھڑاہوجائے یاپھر اپنے استاد یامرشد کے سامنے دوزانوہوکربیٹھ جائے توکیایہ کہنادرست ہوگا کہ اس نے اپنے والد]استاد یامرشد کی عبادت کی۔۔۔اور ان کواپنامعبود بنالیا۔
نہیں۔۔۔۔ہرگز نہیں
پھر بتائیے اگر یہی حرکات وسکنات نماز میں ہوتو اسے عبادت بنادیتی ہیں ‘کھڑاہونا(ہاتھ باندھ کر‘ہاتھ چھوڑکر)دوزانوبیٹھنا۔۔۔لیکن یہی حرکات وسکنات نمازکے علاوہ ہوںتوان حرکات وسکنات کوکوئی بھی شخص عبادت نہیں کہے گا۔۔۔کیایہ حرکات وسکنات کرنے والے شرک فی العبادت کے زمرے میں شامل ہوں گے ؟۔۔۔نہیں
کیااس کوہم عبادت میں شرک کہہ سکتے ہیں؟۔۔۔نہیں

لیکن کیوں؟
آخر یہ تمام افعال‘یہ تمام حرکات وسکنات یہ تمام امور‘اگرنماز میں ہوںتوعبادت اور نماز سے باہر ہوںتوعبادت تصور نہیں کئے جاتے۔

آخرکیوں؟
اس لئے کہ جس ذات کے لیے ‘جس کے سامنے یہ تمام افعال انجام دے رہے ہیں‘اس کے متعلق آپ کاعقیدہ کیاہے؟
اگرآپ اس کواللہ اور معبود جانتے ہیں اور اس کواللہ سمجھ کرتمام افعال اور حرکات وسکنات انجام دیتے ہیں تویہ اعمال عبادت کہلائیں گے۔
اگریہ حرکات وسکنات اس کے لیے ہوں جس کونہ آپ خداجانتے ہیں نہ خداکابیٹااور نہ خداکی بیوی ‘نہ معبود تصور کرتے ہیں بلکہ اللہ کابندہ اور عبد سمجھتے ہیں تویہ افعال وحرکات وسکنات عبادت نہیںکہلائیں گے ۔ہاں ہم اس کواحترام وتعظیم اور ادب کہہ سکتے ہیں۔ہاں!یہاںاتناجان لیجئے کہ ہمارے نبی کی شریعت میں ہمارے دین میں سجدہ تعظیمی حرام ہے ۔
اس بحث کے بعد اب یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کے علاوہ کوئی اور ذات ایسی ہے اور نہ ہوسکتی ہے جس کی عبادت کی جائے یااس کی عبادت عقلاً یاشرعاًدرست ہو۔اس کانہ کوئی ہمسفر تھانہ کوئی ہے اور نہ ہوگا۔وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گااور نہ وہ کسی کاباپ ہے اور نہ کسی کابیٹا۔اس کے علاوہ کوئی نہیں جس کی پرستش کی جائے ۔۔۔وہی معبود حقیقی ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
(۳)شرک فی الصفات(صفات میں شریک)
یہ شرک کی تیسری قسم ہے اللہ تعالیٰ کی جیسی صفات کسی مخلوق یاغیر اللہ میں مانی جائے یہ شرک فی الصفات ہے۔
مثلاً اللہ تعالیٰ کی صفات حیات‘سماعت ‘بصارت‘علم وغیرہ اور انہی صفات کواگرکسی بندے کے لیے ثابت کریں تویہ شرک فی الصفات ہوجائے گا کیونکہ اللہ اور بندے کی صفات ایک جیسی ہوہی نہیں سکتیں۔
لیکن یہاں ایک سوال پیداہوتاہے کہ
اگرہم مخلوق میں صفت حیات‘صفت سماعت‘صفت بصارت جانیں توکیاشرک قرارپائے گا؟
ذراسوچئے!
اگرہم غیراللہ کوذی علم جانیں انہیں عالم یاعلامہ گردانیں توکیاشرک فی الصفات کہلائے گا؟
اللہ تعالیٰ کی صفت سماعت وبصارت کوقرآن نے یوں بیان کیا۔

وان اللہ سمیع بصیر (پ۱۷سورہ حج آیت۶۱)
اور بے شک اللہ سننے اور دیکھنے والاہے۔
اور حضرت انسان کوبھی اس صفت سے متصف کرتے ہوئے فرمایا
فجعلناہ سمیعابصیرا(پ۲۹سورہ دہر آیت۲)
ہم نے انسان کوسمیع وبصیر بنایا
گویاقرآن اللہ اور غیر اللہ دونوںکوسمیع وبصیر کہہ رہاہے ۔معاذاللہ کیاقرآن شرک فی الصفات کاحکم دے رہاہے؟
ہرگز نہیں۔۔۔۔فرق مندرجہ ذیل ہے۔

اللہ تعالیٰ کی سماعت وبصارت

۱۔اللہ تعالیٰ کی سماعت وبصارت ذاتی ہے۔
۲۔اللہ تعالیٰ کی صفات سماعت وبصارت ہمیشہ سے ہے۔
۳۔اللہ کی صفات قدیم ہیں۔
۴۔اللہ تعالیٰ کی یہ صفات مستقل بالذات اور باقی ہیں۔
۵۔اللہ کی یہ صفات لامحدودunlimitedہیں لامتناہی ہیںجس کہ انتہانہیں اور لامحدود جن کی کوئی حد نہیں۔

بندوں کی سماعت وبصارت

۱۔بندوں کی یہ صفات عطائی ہیں۔
۲۔بندوں کی یہ صفات اللہ تعالیٰ کے دینے سے ہیں۔
۳۔بندوںمیں یہ صفات عارضی اور فانی ہیں۔
۴۔بندوں کی یہ صفات محدودLimitedہیں۔
احباب من!
جوسماعت وبصارت ہم اللہ کے لیے مانتے ہیں وہ سماعت وبصارت ہم ہرگز کسی انسان کے لئے نہیں مانتے اور نہ کسی مخلوق کے لیے جائز مانتے ہیں ۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفت حیات ذاتی وقدیم ہے ایسی صفت حیات ہم ماسوائے اللہ کے کسی غیر اللہ کے لئے نہیں مانتے ۔

اللہ تعالیٰ حیات دینے والاہے۔
ہم حیات پانے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی حیات باقی ہے۔
بندوںکی حیات فانی ہے۔
اللہ کی حیات ذاتی وقدیم ہے۔
بندوںکی حیات عطائی ہے۔

بس اللہ تعالیٰ اور بندوں کی صفات میں ذاتی وعطائی ۔۔۔محدود ولامحدود۔۔۔متناہی اور لامتناہی ۔۔۔باقی وفانی کافرق کرتے جائیے شرک خودبخود ختم ہوجائے گا۔
جناب عالی!مجھے اُمید ہے کہ میرے پاس اس اجمالی مقالے نے حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں کردی ہوگی۔
پادری !جناب عالی!مقدمہ ابھی ختم نہیںہوابحث ابھی سمٹی نہیں ہے میںاس موضوع پربحث کے لیے ایک نیامقدمہ درج کراناچاہتاہوں۔
جس میں پیغمبراسلام کی صفات اور خداوند تعالیٰ کی صفات پر ایک جاندار بحث کروںگا۔
جج ! آپ کومقدمہ درج کرانے کی اجازت ہے۔
وکیل صفائی!

نہیں نگاہ میں منزل توجستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر توآرزو ہی سہی
کسی طرح توجمے نرم میکدے والو
نہیں جوبادۂ ساغر توپاؤ ہوہی سہی

جی ضرور اہل علم ودانش کواگلے مقدمے کاانتظار رہے گا۔