حضورﷺ ہمیں معاف فرما دیں

in Tahaffuz, May-June 2013, متفرقا ت, محمد عباس

یا رسول اﷲﷺ!
آپ ماں سے زیادہ مہربان ہیں…
آپ باپ سے زیادہ شفیق ہیں…
آپ ہمارے لئے راتوں کے پچھلے پہر اٹھتے رہے…
آپ کے مبارک ہاتھ ہمارے لئے دعائوں کے لئے بلند ہوتے رہے…
آپ کے پاکیزہ لبوں سے ہمارے لئے دعائوں کے پھول برستے رہے…
آپ کی مقدس آنکھوں سے ہمارے لئے آنسوئوں کے جھڑیاں لگتی رہیں …
زندگی کے ہر موقع پر آپ نے ہمیں یاد رکھا… حتی کہ وقت وصال بھی آپ کو ہماری فکر دامن گیر تھی…!!!
حضورﷺ! کل جب حشر کا میدان ہوگا… ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہوگا… انسان بھوک پیاس اور خوف سے بے حال ہوں گے…
جب ماں بچے کو دیکھ کر بھاگ جائے گی…
جب باپ بیٹے کو دیکھ کر راہ فرار اختیار کر جائے گا…
جب جگری یار آنکھ چرا کر دوڑ جائیں گے…
جب خدام و نوکر ٹکا سا جواب دے دیں گے…
جب دنیاوی رشتے دار کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ پھوٹ جائیں گے…
حضورﷺ! اس وقت آپ ہماری محبت میں بے چینی سے حشر کے میدان میں بے قرار ہوں گے…
کبھی میزان پر اپنے سامنے ہمارے اعمال کا وزن کروا رہے ہوں گے…
کبھی پل صراط پر ہمیں پل صراط پار کروارہے ہوں گے…
کبھی حوض کوثر پر کھڑے اپنے پیاسے امتیوں کو جام کوثر پلا رہے ہوں گے۔
آپ کی مہمان نوازی کا یہ عالم ہوگا کہ آپ کے حوض کوثر کے جام آسمان کے ستاروں کے برابر ہوں گے … اور جو آپ کے حوض کوثر سے ایک جام پی لے گا، اسے پھر میدان حشر میں پیاس نہ لگے گی…
حضورﷺ! جب میدان حشر میں سارے نبی علیہم السلام ’’نفسی نفسی‘‘ کہہ رہے ہوں گے… اس وقت آپ ’’امتی امتی‘‘ پکار رہے ہوں گے…
حضورﷺ! اس وقت آپ کے جھنڈے تلے ہی ہمیں پناہ ملے گی…
حضورﷺ! آپ ہمارے لئے سحاب کرم ہیں…
حضورﷺ! آپ کی ذات ہمیں اﷲ تعالیٰ کے عذاب سے بچائے ہوئے ہے …
حضورﷺ! اگر اﷲ تعالیٰ کو آپ کی ذات اقدس کا لحاظ نہ ہوتا… تو ہم پر پتھروں کی بارش ہوتی…
ہم پر آسمان سے آگ کی بارش ہوتی…
بپھری ہوئی آندھیاں پٹخا پٹخا کر مارتیں…
ہولناک زلزلے ہمارے پاپی وجودوں کو تہہ زمین میں لے جاتے…
سیلاب ہمیں کوڑے کرکٹ کی طرح بہا لے جاتے … اور ہماری پھولی ہوئی بدبودار لاشیں عبرت کی تاریخ بن جاتیں…
ہماری فصلیں برباد کردی جاتیں… اور ہم پر بھوک اور قحط کے عذاب ٹوٹ پڑتے…
ہماری شکلیں مسخ کردی جاتیں…
ہم پر قوم عاد و ثمود کی تاریخ دہرائی جاتی…
حضورﷺ! ہم صرف آپ کی وجہ سے اور آپ کے گنبد خضرا کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں…
کسی عاشق صادق نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ کا عذاب آج بھی آتا ہے… لیکن گنبد خضرا کی وجہ سے واپس چلا جاتا ہے…
حضورﷺ! ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے، وہ آپ کی ذات کا صدقہ ہے…
حضورﷺ! ہم انگریزوں کے غلام تھے اور ذلیل و رسوا تھے… خاب و خاسر تھے… اور بے وقعت و بے قدر تھے… ہماری قوم نے مل کر… آپ کی ذات کا وسیلہ دے کر اﷲ تعالیٰ سے دعا کی…
اے اﷲ! ’’تو ہمیں زمین کا ایک ٹکڑا دے دے… ہم اس زمین پر تیرے پیارے
نبی حضرت خاتم النبیینﷺ کے لائے ہوئے دین کی حکومت قائم کریں گے… اس کے آسمانوں تلے تیرے حبیب تاجدار ختم نبوت حضرت محمدﷺ کی شریعت کا ڈنکا بجے گا…
باقی سامنے والے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں
اس کی عدالتوں میں قرآن و سنت سے فیصلے ہوں گے… اس دھرتی پر تیرے اور تیرے حبیبﷺ کے گستاخ کے لئے کوئی جگہ نہ ہوگی‘‘
حضورﷺ! اﷲ تعالیٰ نے بحرمت خاتم النبیینﷺ ہماری دعا سن لی… ہماری گردن سے غلامی کے پٹے اتر گئے… رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں میں ہمیں پاکستان کا تحفہ مل گیا… ہم غلامی کی بدبودار فضا سے آزادی کی باد نسیم کے جھونکوں میں آگئے۔
لیکن… حضور! ہم نے اﷲ تعالیٰ سے اور آپ سے بدعہدی کی… مکاری کی… عیاری کی…!!!
ہم نے آپ کے دین کو پاکستان میں نافذ نہ کیا… اسلام روتا رہا… ہم بدمست رہے… دین کراہتا رہا… لیکن ہمارے کان بے سماعت بن گئے… ہم نے ختم نبوت کے باغیوں کو اعلیٰ عہدوں پر بٹھایا… ان کے ہاتھوں میں زمام اقتدار دی… پاکستان میں آپ کی ختم نبوت کا مذاق اڑایا گیا… باغیان ختم نبوت کا تحفظ عطا کی گئی…آپ کے قرآن میں قطع و برید کی گئی… آپ کی نبوت کے متوازی قادیانی نبوت چلانے کی ناپاک جسارت کی گئی… اس ظلم عظیم پر احتجاج کرنے والوں کو حوالہ زنداں کیا گیا… منکرین ختم نبوت کے خلاف نعرہ جہاد بلند کرنے والوں کی زبان بند کی گئی… ان پر ہولناک تشدد کیا گیا… معاشرے میں انہیں مجرم گردانا گیا…
حضورﷺ! ہمیں معاف کردیں…
ہم پرنم آنکھوں سے درخواست کرتے ہیں…
ہم ہاتھ باندھ کر عرض کرتے ہیں…
ہم آنسوئوں کی زبان میں معافی مانگتے ہیں…
حضورﷺ! یہ سارے جرائم بدمعاش حکمرانوں کے ٹولوں نے کئے ہیں… عوام تو آج بھی آپ کے غلام ہیں… ان کے دل آپ کی محبت میں دھڑکتے ہیں… وہ آج بھی آپ کی عزت و ناموس پر سوجان سے قربان ہیں…
حضورﷺ! یہ عوام ہی تھے جنہوں نے 1953ء میں تحریک ختم نبوت میں آپ کے تاج ختم نبوت کو دس ہزار شہیدوں کی سلامی پیش کی تھی… دو لاکھ سے زائد حوالہ زنداں ہوگئے تھے… آپ کے عشاق قیدیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی… کہ جیلیں کم پڑگئیں… اور آپ ظالم حکمرانوں کو کھلے میدانوں میں باڑیں لگا کر عارضی جیلیں لگانا پڑیں…
حضورﷺ! یہ آپ کے ہی غلام تھے… جنہوں نے 1974ء کی تحریک ختم نبوت چلا کرقادیانیوں کو پاکستان کی پارلیمنٹ کے ذریعے بھی کافر قرار دلوایا…
حضورﷺ! آج بھی آپ کے عاشق پوری دنیا میں سارقان ختم نبوت قادیانیوں سے برسرپیکار ہیں… آپ کی ختم نبوت کے پرچم کو پوری قوت سے بلند کئے ہوئے ہیں… اور اس راہ عشق میں آنے والی ہر تکلیف کو خوش دلی سے برداشت کررہے ہیں…
حضورﷺ! ان شہیدوں کے صدقے… ان غازیوں کے صدقے… ان مجاہدوں کے صدقے… حضور! ہمیں معاف کردیں… ہماری طرف نظر کرم سے دیکھ لیں…
حضورﷺ! اگر آپ کا دامن… ہاتھوں سے چھوٹ گیا… تو پھر ہم کہیں کے بھی نہیں… دنیا میں ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں… ہم خارش زدہ کتے سے زیادہ بے وقعت… اور غلیظ نالیوں سے رینگنے والے کیڑوں سے زیادہ بے قدر ہوجائیں گے…
حضورﷺ! اگر آپ نے اپنی نظر رحمت پھیر لی… تو دنیا و آخرت کے سارے عذاب ہم پر ٹوٹ پڑیں گے…
حضورﷺ! ہمیں معاف کردیں…
آپ کو اپنی رحمتہ للعالمینی کا واسطہ…
آپ کو مجاہد اعظم ختم نبوت سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کا واسطہ…
آپ کو تحریک ختم نبوت کے پہلے شہید حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اﷲ عنہ کا واسطہ…
آپ کو جنگ یمامہ کے شہیدوں کا واسطہ…
حضورﷺ! ہمیں معاف کردیں…  حضورﷺ! ہمیں معاف کردیں…