بچوں کی تربیت میں والدین کی ذمہ داریاں

in Tahaffuz, May-June 2013, متفرقا ت, محمد عثمان یوسف ، لاہور

جیسے شریعت نے والدین کے کچھ حقوق مقرر کئے ہیں کہ جن کا خیال رکھنا اور پورا کرنا اولاد پر واجب ہے،ویسے ہی اولاد کے کے لئے کچھ حقوق بیان فرمائے ہیں جن کا اہتمام والدین پر فرض ہے اور ان میں کوتاہی یا سستی دراصل اولاد کے ساتھ خیانت کے زمرے میں آتی ہے۔ والدین چونکہ  اولاد کی تعلیم و تربیت کے ذمہ دار ہیں۔ اس لئے بچوں کے حقوق کا تحفظ ہر لحاظ سے کرنا ہوگا ورنہ ناقص تربیت اور لاپرواہی کی پاداش میں جہاں نئی نسل کا مستقبل تباہ و برباد ہوگا وہاں والدین پروردگار عالم کے حضور ایک مجرم کی حیثیت سے پیش ہوں گے اور اس کی گرفت سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ ہمارے ہاں عام طور پر بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کی نگہداشت میں جن کوتاہیوں کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ان میں سے بعض کا ذکر ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔

بے جا سختی

بعض والدین اپنے بچوں پر بے جا سختی کرتے ہیں اور ان کو معمولی بات پر بھی سخت سزا یا شدید ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچوں کے تمام جذبات و احساسات مرجاتے ہیں۔ ان کی صلاحیتیں دم توڑ جاتی ہیں اور گھر کو جیل خانہ تصور کرنے لگ جاتے ہیں۔ ایسے بچے والدین سے نفرت کرتے ہیں اور ان سے دور رہنے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں۔ بعض والدین تو اس قدر سخت مزاج ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ انتہائی قدم اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ چند سال قبل سعودی عرب کے ایک عربی روزنامہ میں ایسے ہی والد کا ظالمانہ رویہ پڑھنے کو ملا۔ کسی سعودی نے نئی لینڈ کروزر خریدی، چند دنوں کے بعد اپنی فیملی کو پکنک پر لے گیا۔ اس دوران اس کے سب سے چھوٹے بچے نے جس کی عمر بمشکل ساڑھے تین یا چار سال تھی، گاڑی کی سیٹ کو چھری سے پھاڑ ڈالا۔ باپ یہ دیکھ کر آگ بگولا ہوگیا اور بچے کو شدید مارا۔ پکنک کا پروگرام ختم کیا اور گھر آکر بچے کو چھت والے پنکھے کے ساتھ لٹکا دیا۔ اتنی سخت سزا دینے کے بعد بھی اس کا غصہ ختم نہیں ہوا اور اس نے کئی گھنٹوں تک بچے کو اسی حالت میں رکھا۔ ماں بے چاری منت سماجت کرتی رہی مگر اس بدبخت نے ایک نہ سنی۔ جب اس نے بچے کو اتارا و اس کے دونوں بازو کام کرنا چھوڑ چکے تھے۔ بچے کو اسپتال لایاگیا۔ ڈاکٹر نے کہا بچے کے دونوں ہاتھ شل ہوچکے ہیں اور انہیں کاٹنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ عین اس وقت جب آپریشن تھیٹر میں بچے کا آپریشن ہورہا تھا۔ باپ اسی پنکھے کے ساتھ رسی باندھ کر جھول گیا اور یوں ہنستا بستا گھر ماتم کدہ میں تبدیل ہوگیا۔
ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے جو بڑوں کی عزت نہ کرے، چھوٹوں پر شفقت نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔

بچوں کو مناسب وقت نہ دینا

آج کل اکثر والدین نے مادیت پرستی کو اس قدر اپنے دل و دماغ پر سوار کررکھا ہے کہ ان کے پاس اپنی اولاد کے لئے بھی وقت نہیں ہے اور دن رات اسی فکر میں سرگرداں ہیں کہ کس طرح دنیاوی اسباب ووسائل کا دائرہ کار وسیع سے وسیع تر کیا جائے۔ ایسے والدین کے بچے احساس محرومی کے بوجھ تلے دفن ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو تپے ہوئے صحرا میں محسوس کرتے ہیں، جہاں دور دور تک کہیں سایہ نظر نہیں آتا۔ دنیا کمانا اور روزی کے اسباب اختیار کرنا ہر انسان کے لئے ضروری ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی ذمہ داریوںکو بھی پس پشت ڈال دے۔ بقول شاعر
ہوئے اس قدر مہذب کہ

کبھی منہ نہ دیکھا گھر کاکٹی عمر ہوٹلوں میں، مرے اسپتال جاکر

اولاد میں فرق

بعض والدین اپنی اولاد کے ساتھ یکساں سلوک کا اہتمام نہیں کرتے۔ وہ بڑے بچے کو چھوٹوں پر یا لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ جس بچے کے ساتھ زیادہ شفقت اور پیار کا رویہ رکھا جائے اور دوسروں کی حق تلفی کرکے اسے اہمیت دی جائے گی وہ ضدی، ہٹ دھرم اور خودسر بن جائے گا جبکہ بقیہ بچے احساس کمتری کاشکار ہوکر والدین کے خلاف سوچنے پر مجبور ہوں گے۔ کتب حدیث میں ایک واقعہ مذکور ہے۔ ایک آدمی آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرنے لگا کہ میں نے اپنے (بڑے) بچے کو ایک غلام تحفہ میں دیا ہے۔ آپ اس کے گواہ بن جائیں۔ آپﷺ نے فرمایا کیا تیرے اور بھی بچے ہیں۔ اس نے عرض کی جی ہاں، آپﷺ نے فرمایا، کیا تونے ان کو بھی اسی طرح کا تحفہ دیا ہے؟ عرض کرنے لگا نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا، کیا تو چاہتا ہے کہ وہ سب تیری خدمت یکساں انداز میں کریں؟ عرض کرنے لگا جی ہاں، فرمایا پھر ان کو بھی ہدیہ دو اور ایسا نہ کرو اور فرمایا کیا تو مجھے ظلم وجور پر گواہ بنانا چاہتا ہے؟
حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔ اب تو خدا کے فضل و کرم سے ایسا لٹریچر دستیاب ہے جو خالص کتاب و سنت پر مبنی ہے اور تعصب مذہبی سے کوسوں دور ہے۔ مثلا سیرت کی کتاب ضیاء النبی، تبیان القرآن، حدیث کی مترجم کتب، فقہ، اوصل فقہ الغرض ہر موضوع پر بہتر سے بہترین کتب اسلامی دستیاب ہیں۔

بچوں کے زیر استعمال اور زیر مطالعہ چیزوں سے بے خبر ہونا

بعض والدین کبھی بھی اس بات کی طرف توجہ دینے کی کوشش نہیں کرتے کہ ان کے بچے کون سی کتب پڑھ رہے ہیں۔ کس قسم کا لٹریچر ان کے زیر مطالعہ ہے۔ وہ کون سی چیزیں اپنے استعمال میں رکھتے ہیں۔ کن آلات اور کن چیزوں سے کھیلتے ہیں۔ ان کی سرگرمیاں کیا ہیں؟ ان کی سوچ کے دھارے کس سمت بہہ رہے ہیں۔ ایسے والدین اپنی ذمہ داری کو پس پشت ڈالنے والے ہیں اور امانت میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔

بڑوں سے بدتمیزی پر خوش ہونا

بعض والدین اس قدر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ اگر ان کا چھوٹا بچہ بڑوں کے ساتھ بدتمیزی، اونچی آواز یا ان سے بداخلاقی سے پیش آئے تو وہ بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کا بچہ انتہائی جرأت مند ہے اور بڑوں سے بات میں جھجک محسوس نہیں کرتا۔ یہ درحقیقت بہت بڑی غلطی ہے۔ بڑوں کی عزت کرنا اور ان سے شرم کرنا اچھی چیز ہے۔ حدیث شریف میں ایک واقعہ کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ ایک نوجوان اپنے چھوٹے بھائی کو بعض باتوں میں شرمانے اور حیاء کرنے پر ملامت کررہا تھا کہ آپﷺ نے فرمایا

’’اس کو چھوڑ دو، حیاء ایمان کا حصہ ہے‘‘

بچوں کو نوکروں اور خادماؤں کے سپرد کردینا

بعض والدین اپنے بچوں کو نوکروں، خادمائوں اور ڈرائیوروں کے سپرد کرکے اپنی ذمہ داری سے عہدہ براں ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ ان لوگوں کا تعاون حاصل کرنا بعض دفعہ مجبوری ہوسکتا ہے مگر بچوں کو اپنی محبت سے محروم کردینا عقلمندی نہیں۔ جو حقیقی پیار، محبت، مودت، عاطفیت اور شفقت ماں باپ کی آغوش میں اولاد کو مل سکتی ہے، وہ پرائے ہاتھوں میں کہاں ہے؟ والدین کو چاہئے کہ بچوں کا خود خیال رکھیں اور مجبوری کے وقت نوکروں اور خادماؤں سے مدد لیں۔

بچوں کے سامنے استاد کو برا بھلا کہنا

’’مار نہیں پیار‘‘ کا زہریلا بورڈ تو سرکاری اسکولوں کی عمارتوں پر آویزاں ہے ہی مگر بعض والدین استاد کی ڈانٹ ڈپٹ کے ردعمل میں بچوں کے سامنے ہی استاد کو برا بھلا کہنا شروع کردیتے ہیں۔ اس سے جہاں استاد کا وقار مجروح ہوتا ہے وہیں بچوں کے دل سے استاد کا خوف اور اس کا احترام ختم ہوجاتا ہے۔ اگر استاد نے کہیں پر بے جا سختی سے کام لیا ہو تو اسے الگ بیٹھ کر سمجھائیں اور اس سے تنہائی میں تبادلہ خیال کریں۔ بچوں کے سامنے ایسا ہرگز نہ کریں۔

بچوں کے سامنے لڑائی جھگڑا

بعض والدین بچوں کے سامنے لڑائی جھگڑے کے نقصانات کو پس پشت ڈال کر چھوٹی چھوٹی بات پر انحصار شروع کردیتے ہیں، والدین کی لڑائی اور کثرت نزاع بچوں کے سامنے ایک دوسرے کی توہین اور ایک دوسرے کے ساتھ سخت جملوں کا تبادلہ کرتے ہیں تو بچے پریشان اور فرار ہوجاتے ہیں۔ اگر والدین بچوں کے سامنے مسلسل لڑتے ہیں اور آئے روز ایک دوسرے سے کشیدگی پیدا کرتے ہیںتو بچے بھی چڑچڑے اور بداخلاق بن جاتے ہیں۔

جدت پسندی

آج کل ترقی، روشن خیالی اور جدت کے نام پر جو زہر نئی نسل کے ذہنوں میں اتارا جارہا ہے، اس کے خوفناک نتائج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں مگر حقیقت کا ادراک کرنے کے لئے تیار نہیں۔ آج اگر بچوں سے یہ سوال کیا جائے کہ اداکاروں، کھلاڑیوں، فن کاروں کے نام بتائیں تو جھٹ سے ایک لمبی فہرست تیار کردیں گے۔ ایک دفعہ دوران سفر ڈرائیور نے بس میں لگا ویڈیو آن کیا۔ ابھی انڈین فلم کا ٹریلر پردہ اسکرین پر ظاہر ہی ہوا تھا، پچھلی سیٹ پر بیٹھا والد اپنے ساڑھے تین سالہ بچے سے پوچھتا ہے کہ بیٹا جلدی سے بتائو کون سی فلم ہے؟ بچے نے جھٹ سے بتادیا۔ اس باپ کی زبان سے نکلا ’’شاباش‘ اور میں سوچ رہا تھا کہ ہم کیسے مسلمان ہیں؟
ایک حدیث شریف کے مفہوم کے مطابق ایک عورت اپنے چار محرم رشتہ داروں کو اس لئے جہنم میں لے جانے کا سبب بنے گی کہ وہ مالک کائنات سے کہے گی کہ یہ دنیا داری کے معاملات میں مجھے ڈانٹتے اور غصے کا اظہار کرتے تھے مگر دینی امور سے اعراض پر کبھی بھی انہوں نے مجھے سرزنش نہیں کی اور وہ چار لوگ باپ، بیٹا، خاوند اور بھائی ہیں۔

بچوں کے سامنے غیر شرعی افعال کرنا

بعض والدین بچوں کے سامنے غیر شرعی افعال کا ارتکاب کرتے ہیں مثلا تمباکو نوشی، فلم بینی، سماع موسیقی اور گالی گلوچ اور اس کے باوجود بچوں کو ایسی باتوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں یہ تو ایسے ہی ہے کہ آپ اپنے بچوں کو کنویں میں دھکا دیں اور کہیں بیٹا دھیان رکھنا کہیں تمہارے کپڑے گیلے نہ ہوجائیں۔

نماز کی پابندی نہ کروانا

ایک حدیث شریف کے مفہوم کے مطابق جب بچہ سات سال کا ہوجائے تو اسے نماز کی ترغیب دی جائے اور جب دس سال کا ہوجائے تو اگر پھر بھی نماز کا عادی نہ بنے تو اس پر سختی کی جائے اور یعنی اس کے والدین کو چاہئے کہ وہ اسے سختی کے ساتھ نماز کا پابند بنائیں کیونکہ یہ ان کی ذمہ داری ہے۔
الغرض بچے مالک کائنات کی انتہائی خوبصورت اور بہترین نعمت ہیں جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ یہ بات تو ان سے پوچھی جائے جن کو اﷲ تعالیٰ نے اس نعمت عظمیٰ سے محروم رکھا ہے۔ اس نعمت کی قدر کرنا اور ان کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کرنا والدین کا فرض ہے۔
تمام والدین کو آپﷺ کا یہ فرمان یاد رکھنا چاہئے

’’تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے جس سے اس کے ماتحت افراد کے متعلق سوال کیاجائے گا۔ بادشاہ اپنی رعایا کا ذمہ دار ہے۔ اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔ آدمی اپنے گھر کا ذمہ دار ہے۔ اس سے اس کے اہل وعیال کے بارے میں سوال کیا جائے گا اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی ذمہ دار ہے اس سے سوال ہوگا اور خادم اپنے مالک کے مال و دولت کا ذمہ دار ہے اس سے اس کے متعلق سوال ہوگا‘‘ (بخاری شریف)

پروردگار عالم نے ارشاد فرمایا

’’اے ایمان والو! اپنے آپ اور اپنے اہل عیال کو جہنم کی آگ سے بچائو۔ وہ آگ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں۔ اس پر بڑے سخت فرشتے مقرر ہیں۔ وہ اﷲ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے‘‘ (التحریم: 6)

یاد رہے اولاد کی صحیح تربیت والدین کے لئے صدقہ جاریہ اورذخیرہ آخرت ہے۔