سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالی عنہ کی حکمرانی اور سیاسی خصوصیات

in Tahaffuz, May-June 2013, شخصیات, مولانا جمیل احمد چنہ، جامعہ غوثیہ سکھر

رحمت عالمﷺ نے غزوہ تبوک میں جسے غزوہ عسرت بھی کہتے ہیں، جوکہ رجب 9 ہجری میں پیش آیا، جہاد فی سبیل اﷲ کے لئے وسائل کی کمی اور قلت کے پیش نظر صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین سے چندہ کی اپیل کی۔ ہر صحابی نے اپنی طاقت کے مطابق اس غزوہ کے لئے مالی تعاون کیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اس وقت میرے پاس بہت مال تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر ابوبکر رضی اﷲ عنہ سے بڑھ سکتا ہوں تو وہ یہی موقع ہے چنانچہ میں گھر گیا اور اپنا نصف مال لاکر آنحضرتﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔ رسول اﷲﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: عمر! اپنے اہل وعیال کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو؟میں نے عرض کیا اے اﷲ کے رسولﷺ! نصف مال آپ کی خدمت اقدس میں پیش کردیا ہے اور نصف مال اپنے اہل وعیال کے لئے چھوڑ آیا ہوں۔ ازاں بعد حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ تشریف لائے۔ آپ پیشہ کے اعتبار سے رب کے ایک کامیاب اور مالدار تاجر تھے لیکن آپ نے اپنی ساری دولت مظلوموں کی داد رسی اور اسلام کی سربلندی کے لئے وقف کردی۔ بالخصوص اس موقع پر حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے ایثار و توکل کا ایک ایسا نمونہ پیش کیا جس کی مثالیں شاذ ہی ملتی ہیں۔ آپ نے اپنا کل اثاثہ لاکر حبیب خداﷺ کے قدموں میں ڈھیر کردیا۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا ابوبکر! اپنے اہل وعیال کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو؟ جناب صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا

اﷲ اور اس کے رسولﷺ کو چھوڑ آیا ہوں

علامہ اقبال نے آپ کے اس قول کو شعر میں کتنا خوب نظم کیا ہے

پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول بس

حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا

کسی قوم کے لئے مناسب نہیں کہ ان میں ابوبکر ہو اور ان کی امامت کوئی دوسرا کرے

حضرت سلیمان بن یسار رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا اچھے خصائل تین سو ساٹھ ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے عرض کی یارسول اﷲﷺ! ان میں سے مجھ میں کوئی خصلت موجود ہے؟ فرمایا

اے ابوبکر! مبارک ہو، تم میں وہ سب اچھی خصلتیں موجود ہیں

حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰﷺ نے فرمایا میری امت پر واجب ہے کہ

وہ ابوبکر کا شکریہ ادا کرے اور ان سے محبت کرتی رہے۔

حضرت حفصہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے آقا ومولیٰﷺ سے عرض کی آپ نے اپنی علالت کے ایام میں حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ  کو امام بنایا تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا

نہیں! میں نے نہیں بنایا تھا بلکہ اﷲ تعالیٰ نے بنایا تھا

حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا ارشاد ہے کہ

اگر تمام اہل زمین کا ایمان ایک پلڑے میں اور سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ کا ایمان دوسرے پلڑے میں رکھ کر وزن کیا جائے تو سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے ایمان کا پلڑا بھاری رہے گا۔

حضرت عمر رضی اﷲ عنہ پاس حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کا ذکر ہوا تو وہ روپڑے اور فرمایا میں چاہتا ہوں کہ میرے سارے اعمال ان کے ایک دن کے اعمال جیسے یا ان کی ایک رات کے اعمال جیسے ہوتے۔ پس رات تو وہ رات ہے جب وہ رسول اﷲﷺ کے ساتھ غار کی طرف چلے۔ جب غار تک پہنچے تو عرض گزار ہوئے۔ خدا کی قسم! آپ اس میں داخل نہیں ہوں گے جب تک میں اس میں داخل نہ ہوجاؤں کیونکہ اگر اس میں کوئی چیز ہے تو اس کی تکلیف آپ کی جگہ مجھے پہنچے۔ پھر وہ داخل ہوئے اور غار کو صاف کیا۔ اس کی ایک جانب سوراخ تھے تو اپنی ازار کو پھاڑ کر انہیں بند کیا۔ دو سوراخ باقی رہ گئے تو انہیں اپنی ایڑھیوں سے روک لیا۔ پھر رسول اﷲﷺ کی بارگاہ میں عرض گزار ہوئے کہ تشریف لے آیئے۔ رسول اﷲﷺ اندر داخل ہوئے اور ان کی گود میں سر مبارک رکھ کر سو گئے۔ پس ایک سوراخ میں سے سانپ نے جناب صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کے پیر میں ڈنگ مارا۔ آپ نے اس ڈر سے حرکت نہ کی کہ آقا ومولیٰﷺ بیدار ہوجائیں گے۔ لیکن ان کے آنسو رسول اﷲﷺ کے نورانی چہرے پر گر پڑے۔ فرمایا کہ ابوبکر! کیا بات ہے؟ عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے ڈنگ مارا گیا ہے۔ چنانچہ رسول اﷲﷺ نے لعاب دہن لگادیا تو ان کی تکلیف جاتی رہی۔ پھر اس زہر نے عود کیا اور وہی آپ کی وفات کا سبب بنا۔
حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے لوگوں سے پوچھا۔ یہ بتاؤ کہ سب سے زیادہ بہادر کون؟ لوگوں نے عرض کی آپ۔ سیدنا علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا نہیں۔ سب سے زیادہ بہادر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہیں۔ سنو! جنگ بدر میں ہم نے رسول کریمﷺ کے لئے ایک سائبان بنایا تھا۔ ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس سائبان کے نیچے حضور کے ساتھ کون رہے گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی مشرک آقا ومولیٰﷺ پر حملہ کردے۔ خدا کی قسم! ہم میں سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھا تھا کہ سیدنا ابوبکر رضی اﷲ عنہ ہاتھ میں برہنہ تلوار لئے ہوئے حضورﷺ کے پاس کھڑے ہوگئے اور پھر کسی مشرک کو آپ کے پاس آنے کی جرأت نہ ہوسکی۔ اگر کوئی ناپاک ارادے سے قریب بھی آیا تو آپ فورا اس پر ٹوٹ پڑے۔ اس لئے آپ ہی سب سے زیادہ بہادر تھے۔
’’جامع ترمذی‘‘ میں امام ترمذی اور ’’تاریخ الخلفاء‘‘ میں امام سیوطی حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا یہ قول ارقام فرماتے ہیں کہ

ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہم سب کے سردار اور ہم سب سے بہتر۔ رسول اﷲﷺ کوہم سب سے زیادہ پیارے تھے۔

علم و فضل کے اعتبار سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ بڑے جامع الکمالات تھے۔ تفسیر، حدیث، علم تفسیر، علم الانساب، شعر و سخن، حکایت، ایام العرب، تقریر و خطابت اور فن تحریر و کتابت میں آپ کو مہارت حاصل تھی۔ آپ انبیاء کے بعد تمام انسانوں میں افضل البشر ہیں۔ آپ سے 142 احادیث مروی ہیں۔

حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کا شمار ان صحابہ میں ہوتا ہے جنہیں سارا قرآن یاد کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ آپ سفر و حضر ہر موقع پر آنحضرتﷺ کے ساتھ رہتے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ آیات قرآنی کے اسباب و نزول اور فحوائے کلام کو فوراًسمجھ لیتے۔ فہم قرآنی میں انہیں دوسرے صحابہ پر فوقیت حاصل تھی۔ قرآن عظیم سے شغف کا یہ عالم تھا کہ قرآن کی تلاوت کرتے تو ان کی عجیب وغریب کیفیت ہوتی۔ ایسی رقت طاری ہوجاتی کہ سننے والا متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا۔ غرضیکہ علم اور بالخصوص دینی علم ہی وہ جوہر خاص ہے جو قیادت کو جلا بخشتا ہے۔ حق و صداقت، خیروشر، نیک وبد اور نفع و نقصان کی تمیز سکھاتاہے۔ آج امت مسلمہ کی بدنصیبی یہ ہے کہ اس کی قیادت علم کی صفت سے عاری اور جاہل ہے۔ بی اے کی ڈگری اور وہ بھی جعلی ڈگری کو معیار علم قرار دے دیا گیا ہے۔ جاہل اور بے دین قیادت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج مسلمان ہر خطے میں کفر کے ہاتھوں ظلم اور ذلت و نکبت کا شکار ہیں۔

جناب صدیق اکبر کی فقہی بصیرت و فقہی مقام

صدر اول میں جہاں جہاد کا جذبہ تھا، وہیں اجتہاد کا بھی رواج تھا۔ لہذا صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم میں مجتہدین صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی ایک بڑی جماعت تھی جنہوں نے انقطاع وحی کے بعد جدید مسائل میں امت مسلمہ کی اجتہاد ہی سے رہنمائی فرمائی۔ انہی میں ایک جناب صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ ہیں جن کی اجتہادی صلاحیت اور استنباط کی استعداد اسی وقت آشکار ہوئی۔ جب آپ نے مانعین زکوٰۃ سے قتال کا حکم صادر فرمایا۔ جبکہ دیگر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا موقف اس کے برخلاف تھا۔ صحابہ نے عرض کیا کہ کلمہ گو سے کیسے مقاتلہ کیا جائے گا۔ جبکہ آپﷺ نے ان کے خون کو معصوم اور ان کے اموال کو محفوظ شمار کیا ہے۔ اس پر آپ رضی اﷲ عنہ  نے فرمایا: کلمہ کے حقوق میں سے ایک حق جس طرح نماز ہے اسی طرح زکوٰۃ بھی ہے۔ جس نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا، یقینا میں اس سے مقاتلہ کروں گا۔ پھر جناب ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے استدلال پر دیگر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو بھی شرح صدر ہوا اور اسی کو راجح قرار دیتے ہوئے اس پر عمل کیا (الفصول فی الاصول)
ابو اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ نے لکھا کہ مانعین زکوٰۃ کے تئیں آپ رضی اﷲ عنہ کا موقف اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہما کا اس رائے کی جانب رجوع کرلینا صحت استدلال و اصابت رائے کی دلیل ہے (تاریخ الخلفاء)
آپ کے صحت اجتہاد اور اصابت رائے کی تصدیق آپﷺ نے بھی فرمائی ہے۔ جب حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ کو یمن روانہ کیا جارہا تھا تو کئی صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے آپﷺ نے یہ مشورہ کیا کہ کن کو یمن روانہ کیا جائے؟ ان صحابہ رضی اﷲ عنہم میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ اور زبیر رضی اﷲ عنہم موجود تھے۔ ہر ایک نے اپنی اپنی رائے پیش کی۔ اس کے بعد آپﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ حضرت معاذ رضی اﷲ عنہ نے جواباً کہا کہ مجھے حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کی رائے زیادہ پسند ہے۔ اس موقع پر آپﷺ نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ آسمان پر اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ ابوبکر رضی اﷲ عنہ غلطی کرجائیں (تاریخ الخلفاء)
آپ کی فقہی بصیرت کا اندازہ ابن عمر رضی اﷲ عنہ کے اس قول سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ آپﷺ کے زمانے میں کون فتویٰ دیا کرتے تھے؟ ابن عمر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہ ان دونوں کے علاوہ میں نہیں جانتا ۔

(اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، تاریخ الخلفاء)

اسامہ بن زید کے لشکر کی روانگی

جب آپ مسند خلافت پر فائز ہوئے اس وقت مرکز خلافت اندرونی اور بیرونی خطرات میں گھرا ہوا تھا۔ اسی دوران اسامہ بن زید کے لشکر کی دوبارہ روانگی کاسوال سامنے آیا جو آپﷺ کی علالت اور وصال کی خبر سن کر واپس آگیا تھا۔ مدینے کے حالات سے صحابہ میں تشویش تھی۔ صحابہ نے مشورہ دیا کہ ملک میں امن وامان کی بحالی اور مدینہ کے تحفظ تک یہ فیصلہ موخر کردیا جائے۔ جناب صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے اس موقع پر تاریخ جواب دیا۔ آپ نے فرمایاجس لشکر کو رسول اکرمﷺ نے آراستہ کیا ہے، میں اسے روک نہیں سکتا۔ جسے رسول اﷲﷺ نے مقرر کیا۔ میں کون ہوں اسے معزول کرنے والا۔ اس موقع پر آپ نے صحابہ سے جو الفاظ فرمائے وہ آپ کی دینی، ملی، ایمانی، روحانی غیرت و حمیت، عشق ابوبکر کی جان ہے۔ اگر مجھ کو یہ گمان ہوتا  ہے کہ درندے مجھے اٹھالے جائیں گے تب بھی اﷲ کے رسولﷺ کے حکم کی تعمیل میں اسامہ کے لشکر کو ضرور بھیجتا۔ خواہ بستیوں میں سوائے میرے ایک نفس بھی باقی نہ رہتا تو بھی میں روانگی کا حکم دیتا۔
آپ انتہائی پرسوز دل اور بے نظیر صفات کے مالک تھے۔ جب مرتدین کے ہاتھوں اسلام اپنے نازک ترین دور سے گزر رہا تھا۔ صرف جناب صدیق اکبر کی شخصیت تھی جس نے مسلمانوں کو تباہی کے غار میں گرنے سے بچایا۔ ایرانی اور رومی فوج کو شکست سے دوچار کرکے عظیم الشان سلطنت کی بنیاد رکھی۔ جس کے اثرات آج تک اقوام عالم کے دلوں سے محو نہیں ہوسکے۔ اعلائے کلمۃ الحق اور اسلام کی سربلندی کی خاطر آپ بڑے سے بڑا خطرہ قبول کرنے کے لئے تیار ہوجاتے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی مدت خلافت سوا دو برس ہے اور اس قلیل مدت میں آپ نے جو عظیم الشان کارنامے انجام دیئے۔ ان کی مثال تاریخ اسلام میں مشکل ہی سے ملے گی۔ ان کا حال پڑھ کر انسان ورطہ حیرت میں غرق ہوجاتا ہے۔ انہیں اپنے دور خلافت کا بیشتر حصہ اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے نمٹنے میں صرف کرنا پڑا۔ لیکن اس کے باوجود وہ ملکی نظم و نسق سے غافل نہیں رہے، فی الحقیقت انہوں نے اپنی قوت ایمانی، تدبر اور فراست اور عزم و ہمت کی بدولت نوزائیدہ خلافت اسلامیہ کو اتنی مستحکم بنیادوں پر قائم کردیا جس پر ان کے اولوالعزم جانشین حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ایک عظیم الشان تعمیر کردی۔
غرضیکہ سیدنا ابوبکر صدیق کی قائدانہ صفات و خصوصیات تھیں کہ وصال نبویﷺ کے بعد اسلام اور ملت کو درپیش داخلی و خارجی فتنوں اور خوف و خطر کے پرآشوب حالات سے نکالا اور دوبارہ اس شان و شوکت سے اسلام کو مقررہ شاہراہ پر گامزن کیا کہ وقت کی دو بڑی استعماری طاقتیں روم و ایران مسلمانوں کے قدموں میں ڈھیر ہوگئیں اور مملکت اسلامیہ امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بن گئی۔
جناب ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ چونکہ آنحضرتﷺ کی صحبت و معیت میں آغاز بعثت سے لے کر آخری لمحہ حیات تک جلوت و خلوت میں، سفروحضر میں، رزم اور بزم میں ہر جگہ اور ہر موقع پر برابر ساتھ رہے۔ اس معیت نے آپ کے سینہ میں قربانی، استقامت و عزیمت اور شجاعت و بہادری کے وہ جوہر پیدا کردیئے، جو قائدانہ صلاحیت کا خاصہ ہیں۔ آج امت مسلمہ خصوصا ملت اسلامیہ پاکستان جس بحران کاشکار ہے، اس کی وجہ قیادت کا فقدان ہے۔ آج بھی ریاستی، سیاسی، عسکری، تحریکی اور ہر سطح کی قیادت جناب رسول اﷲﷺ کے اسوہ سے رہنمائی حاصل کرکے صدیقی قیادت کے اوصاف پیدا کرسکتی ہے۔
جب آپ رضی اﷲ عنہ نے عنان خلافت ہاتھ میں لی تو اس وقت مسلمانوں کے دلوں پر خوف و خطر طاری تھا اور مایوسی و بددلی محیط تھی۔ لیکن حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے حیرت انگیز اولوالعزمی سے تمام فتنوں اور شورشوں کا قلع قمع کرڈالا اور یوں اسلام کا قافلہ شان و شوکت سے دوبارہ اپنے راستے پر گامزن ہوگیا۔
جناب ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی سیرت و شخصیت اور آپ کی بے مثال قیادت کا ایک جوہر خوف خدا اور ورع و تقویٰ بھی تھا، خدا کا خوف… خدا کے وجود کی یاد دلاتا ہے۔ ہر طرح کی برائیوں سے روکتا ہے اور خدا کے حضور جواب دہی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ آپ کے ورع وپرہیز گاری (خشیت الٰہی اور خوف خدا) کا حال یہ تھا کہ لاعلمی میں بھی کبھی ناجائز اور حرام اپنے پیٹ میں نہ جانے دیا۔
ایک دفعہ ایسا ہی کھانا غلام نے لاعلمی میں کھلا دیا تو حلق میں انگلی ڈال کر جو کھایا تھا، وہ سب قے کردیا۔ تقویٰ، خشیت اور خوف کی یہی وہ صفات ہیں جو قیادت کو اپنی تجوریاں بھرنے، قومی خزانے کی لوٹ مار اور بدعنوانی سے پاک رکھتی ہیں اور قوم و ملت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ لیکن اگر قیادت سے خوف خدا ختم ہوجائے تو وہ قومی اثاثوں اور خزانوں کو مال مفت سمجھ کر کرپشن اور بدعنوانیوں کی سیاہ تاریخ رقم کرتی ہے۔

سادگی، عاجزی، تواضع اور توکل علی اﷲ قیادت کی ایسی صفات و خصوصیات ہیں، جو دنیا اور اس کی لذتوں، آسائشات و تعیشات اور جھوٹی شان و شوکت اور اس کے حصول کے لئے ہوس زر سے بچاتی ہیں۔
آپ کی غذا نہایت سادہ اور اخراجات کے لئے جو رقم مقرر تھی۔ اس میں معمولی طعام سے زیادہ کی فراہمی کی گنجائش نہ تھی۔ چنانچہ ایک مرتبہ ان کی اہلیہ محترمہ نے حلوہ کھانے کی خواہش کی تو انہیں یہ کہہ کر منع کردیا کہ روزینہ خلافت میںاتنی کمائی کہاں کہ حلوہ پکایا جاسکے۔ ان کی زوجہ محترمہ نے روزمرہ کے اخراجات میں سے بچا کر ایک نہایت قلیل رقم بچائی تاکہ اس سے حلوہ پکایا جاسکے۔ لیکن جب جناب صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے بچت کی رقم لے کر بیت المال میں جمع کرادی اور یہ جان کر کہ مقررہ وظیفہ سے کم رقم میں بھی گزارا ہوسکتا ہے، وظیفہ کی رقم کم کردی۔

جناب ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو ایک مرتبہ پیاس لگی، لوگوں نے شہد ملا کرپانی پیش کیا، وہ پیالہ ہاتھ میں لیتے ہی زارزار رونے لگے۔ پاس بیٹھے لوگوں کو بھی آپ کے رونے پر رونا آگیا۔ جب رونا تھم گیا تو دوبارہ آپ پر رقت طاری ہوگئی اور پھر بے ساختہ روئے۔ لوگوں نے آپ سے رونے کا سبب دریافت کیا تو فرمایا۔ ایک مرتبہ میں جناب رسول اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ دیکھا کہ آپ کسی چیز کو دور ہو… دور ہو، کہہ کر اپنے سامنے سے ہٹا رہے ہیں۔ جب آپ نے ایسا دوسری بار کیا تو میں نے پوچھا: اے اﷲ کے رسول! آپ کس چیز کو اپنے سامنے سے ہٹا رہے ہیں۔ حالانکہ میں تو کوئی چیز نہیں دیکھ رہا ہوں۔ جناب رسول اﷲﷺ نے فرمایا: یہ دنیا تھی جو اپنے تمام تر حسن و جمال کے ساتھ مجسم میرے روبرو آئی تھی۔ میں نے اسے ہٹایا تو وہ بولی: آپ تو مجھے اپنے سامنے سے ہٹا رہے ہیں مگر آپ کے بعد لوگ ایسا نہ کرسکیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ اس وقت یہی واقعہ مجھے یاد آگیا اور بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور یہ خوف ہوا کہ کہیں دنیا مجھ سے چمٹ نہ جائے۔
آج ہم دنیا سے چمٹ گئے بلکہ دنیا میں غرق ہوگئے ہیں۔ حکمرانوں کا حال انتہائی قابل رحم ہے۔ وہ دنیا اور دنیا داری میں اتنے مصروف و مشغول ہیں کہ دنیا پر لپک رہے ہیں اور دنیا سمیٹنے میں غریب کا نوالہ اور تن کے کپڑے اتارنے کے درپے ہیں۔ یہ دنیاکتنے دن کی ہے؟ قیادت اور حکمرانوں کی یہ دنیاداری ہی ہے جس نے انسانیت کو عذاب میں مبتلا کردیا ہے۔ اگر قیادت و حکمران دنیا کے بارے میں اﷲ کے رسولﷺ اور خلیفۃ الرسول جناب ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے اسوہ کی پیروی اختیار کریں تو دنیا پر مسلط خوف و افلاس کا عذاب ٹل جائے۔

جناب ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حفاظت دین وصال نبویﷺ کے وقت مسلمانوں کی جذباتی کیفیت اور فتنہ ارتداد میں جس قائدانہ بصیرت کا مظاہرہ کیا، اس کے نتیجے میں آپ نے دین اسلام کو گمراہی اور بداعتقادی سے بچالیا۔ جمع قرآن، تدوین و حفاظت قرآن کے لئے آپ کی خدمات امت مسلمہ پر احسان عظیم ہے۔ ملکی نظم و نسق اور جہاد کا تسلسل مملکت اسلامیہ کے توسیع واستحکام کے لئے آپ کا شاندار کارنامہ ہے۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ کی ہزاروں برکتیں ہوں اس مقدس اور پاک باز انسان پر، جس نے اپنی ساری عمر رسول اﷲﷺ کی رفاقت اور اسلام کی اشاعت میں صرف کردی۔ دین کی راہ میں عدیم المثال استقامت کا ثبوت دیا۔ اﷲ عزاسمہ کی راہ میں اپنا ایک ایک پیسہ خوش دلی سے خرچ کردیا۔ باوجود راہ میں سنگ گراں حائل ہونے کے پائے استقلال میں خفیف سی بھی جنبش پیدا نہ ہونے دی اور اسلام کی کشتی کو خوفناک طوفانوں اور مہیب چٹانوں سے صحیح سلامت نکالا۔

7 جمادی الثانی 13ھ کو حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے غسل کیا۔ اس دن سردی بہت زیادہ تھی، جس کی وجہ سے بخار ہوگیا۔ 15 دن مسلسل بخار رہا۔ 22جمادی الثانی 13ھ بروز دوشنبہ مغرب اور عشاء کے درمیان انتقال کیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور حجرہ عائشہ رضی اﷲ عنہا میں رسول اﷲﷺ کے پہلو میں مدفن ہوئے۔ وفات کے وقت عمر 63 سال تھی۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے آپ کی وفات پر ارشاد فرمایا: آج خلافت نبوت کا انقطاع ہوگیا۔ (تاریخ دمشق الکبیر، ابن عساکر، 436/ 30)
آپ نے دو سال تین ماہ خلافت ادا فرما کر بے شمار عظیم کارنامے انجام دیئے۔ عدل و انصاف آپ کا معمول تھا، امت مسلمہ کو عظیم فتنہ و فساد سے نجات دی، مانعین زکوٰۃ کا قلع قمع کیا۔ شعائر اسلام کو زندہ کیا۔ جھوٹے مدعیان نبوت کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے رحلت سے قبل اکابرین صحابہ کے مشورے کے بعد عمر رضی اﷲ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کردیا۔
حضرت عبداﷲ بن عباس فرماتے ہیں جب جناب ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کے کرتے پر تیرہ پیوند لگے ہوئے تھے۔ ایام علالت کے آخری دنوں میں حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کو وصیت کی کہ انہیں پرانے کپڑوں میں کفن دیا جائے کیونکہ نئے کپڑوں کی ضرورت مُردوں کو نہیں زندہ کو ہے۔
اﷲ تبارک و تعالیٰ آپ پر کروڑوں رحمتیں فرمائے اور ہمیں صدیق اکبر، فاروق اعظم اور خالد سیف اﷲ جیسے صف شکن، اولوالعزم اور پہاڑوں کی مانند مستقبل مزاج حکمران عطا فرمائے۔